Sliderجہان خواتین

آج کی بہو یہ کہتی ہے۔۔۔۔۔

  حضرت ام سلمہ کہتی ہے کہ رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس عورت نے اس حالت میں وفات پائی کہ اس کا شوہر اس کے اخلاق سے راضی تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگی(ترمذی )

آج کی بہو یہ کہتی ہے۔۔۔۔۔

فیروزہ تسبیح

بے شک اللہ کی مقدس کتاب قرآن مجید کو گر سمجھ کر پڑھا اور سنا جائے تو سمجھ میں یہ آتا ہے کہ قرآن کی ہدایتوں کا ایک سب سے بڑا حصہ اس کا مجموعی حصہ ایک گھر اور خاندان سے ہی متعلق ہے اور ایک گھر اور اس گھر کے لوگوں سے ہی اس حسین و جمیل مگر قدم قدم پر امتحان لیتی اس دنیا کا نظام اللہ سبحانہ و تعالٰی کی جانب سے عمل میں لایا گیا ہے.
قرآن کریم میں جہاں اللہ سبحانہ و تعالٰی نے یہ کہا ہے کہ "ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو. ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہونچ جائے تو انہیں اف تک نا کہو. نا انہیں جھڑکی دو، بلکہ ان کے ساتھ شائستگی اور تمیز سے بات کرو”(سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر 23) تو اس حکم کو آج کے زیادہ سے زیادہ مسلمان بیٹے پڑھ کر اور سن کر ان سنا اور ان پڑھا ہوا کر دیتے ہیں. وجہ یہ بھی ہے کہ قیامت کے رونما ہونے والے  آثار میں ایک آثار یہ بھی ہے کہ شوہر اپنی بیوی کی اطا عت کرے گا. جب کہ اللہ کا حکم یہ ہے کہ بیوی اپنے خاوند کی اطاعت کرے. مجھے یہ لکھنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں ہو رہی ہے کہ آج کئ زیادہ تعداد میں بیٹے بعد شادی کے اپنے والدین کے تعلق سے غیر ذمہ دار، لا تعلق اور نا فرمان ہو جاتے ہیں. میں یہ نہیں کہتی کہ بیٹے شادی کے بعد پوری طرح اپنے والدین کے ہی ہو کر رہیں . نہیں ہر گز نہیں بیوی کے سارے حقوق کو ایک خاوند نے ادا کرنا ہی ہے اس کے اخراجات اور اس کی ہر جائز ضرورتوں کو پورا کرنے کا حکم اللہ نے خاوند کے ذمہ دے رکھا ہے. صرف اخراجات کا ذمہ ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ حسن سلوک، محبت اور خلوص سے پیش آنے کا حکم بھی  اللہ نے ہر شوہر کو دیا ہے. پر ساتھ ساتھ اپنے والدین  سے بھی فرمانبرداری کا حکم اللہ نے جو اولاد کو عطا کیا ہے اس  فرض سے بھی کسی بھی اولاد کو لا پرواہ نہیں ہونا ہے پر بہت افسوس کی بات ہے کہ ماں باپ اپنے پانچ بیٹوں کو ایک ساتھ مساوی پیار دے کر ان کی پرورش کرتے ہیں، ان کی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کا خیال رکھتے ہیں پر وہی بیٹے اپنا گھر بس جانے بعد اپنے ماں باپ کو پانچ قسطوں میں بانٹ لیتے ہیں.  یوں بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ اگر دو بیٹے ہیں تو ماں ایک بیٹے کے پاس تو والد دوسرے بیٹے کے پاس، یعنی دونوں کو ان دنوں میں الگ کیا جاتا ہے جن دنوں میں دونوں کو ایک دوسرے کے سہارے کی از حد ضرورت ہوتی ہے. یا تو یوں بھی کہ چھ مہینے ایک بیٹے کے پاس تو چھ مہینے دوسرے بیٹے کے پاس، اگر 6 مہینے میں چند دن بھی والدین کسی بیٹے کے پاس زیادہ رہ لیں تو بہو ساس سسر کو  کہہ کر سناتی ہے کہ” اس بار آپ ہمارے یہاں اتنے دن زیادہ رہ لیے ہیں” . کیا دور آیا ہے، جو والدین اپنے بچوں کے سکھ کے لئے ایک ایک پیسہ جوڑ کو گھر بناتے ہیں وہی بیٹے اپنا گھر بس جانے بعد ان ہی ماں باپ کو یہ تک سکھ نہیں دے سکتے کہ وہ اپنی مرضی سے جہاں چاہے اور جتنا عرصہ چاہے رہ لیں بلکہ بیٹے اپنی بیویوں کو صحیح مان کران کی ہاں میں ملاتے ہیں اور اپنے والدین کا دل ایسے توڑ دیتے ہیں جیسے وہ عمر کے ساتھ بے حس ہو گئے ہو اور آج تو زیادہ تر گھرانوں میں ایک بات بہوؤں اور بیٹوں کی زبانی یہ بھی سننے کو ملتی ہے  کہ اللہ نے کسی بھی بہو کو یہ حکم نہیں دیا ہے کہ وہ اپنے ساس و سسر کی خدمت کرے.  بے شک یہ بات درست ہے جہاں تک میں نے قرآن کو سمجھا اور جانا ہے مجھے یہ کہی نظر نہیں آیا کہ کہی ایسا لکھا ہو کہ  بہو نے ساس سسسر کی خدمت کرنا چاہیے . پر یہ بات جب کوئی بیٹا یا بہو کہتے ہیں تو مجھے انسانی وہ فطرت ضرور یاد آتی ہے کہ جو بندے اخلاقی اور دینی تعلیم سے بے نیاز ہوتے ہیں اور کوئی لاکھ قرآن کے احکامات ان کو یاد دلاے پر ڈھیٹ بندے نا فرمانی سے باز نہیں آتے ان کی  فطرت یہ ہوتی ہے کہ جہاں ان کے فائدے کی کوئی بات سامنے آتی ہے تو وہ اسے فوراً ایسے اپنا لیتے ہیں کہ چلو یہ اچھا ہوا ہم جو کر رہے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں وہ اسی کے مطابق ہے. بندہ دینی تعلیم سے دوری کی وجہ سے صرف سنی سنائی باتوں کو اپنا کر اور دہرا کر مذید گمراہی کی جانب مائل ہو جاتا ہے اور اپنی من مانی کرتا ہیں جیسے کہ یہ کہ  اللہ نے کہی بھی لکھا نہیں ہے کہ بہو نے اپنے ساس سسر کی خدمت کرنا یعنی ان کا خیال رکھنا ضروری ہے.
میں یہاں ایک بات پر روشنی ڈالنا اور اسے واضح کرنا ضروری سمجھتی ہوں کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ ساس سسر کی خدمت کا سوال ہی کیوں آتا ہے؟ اور یہ سوال صرف بھارت میں ہی کیوں آتا ہے؟ یقیناً ایک بھارت ہی  ہے جہاں کی پرمپرا (تہذیب ) کے مطابق بیٹا جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی ماں باپ 40 کی عمر میں ہی بوڑھے  ہو جاتے ہیں زیادہ تر ماں یہ کہنے لگتی ہے کہ "اب بہو آنی چاہیے مجھ سے تو کجھ ہوتا نہیں ہے” . جب کہ جاپان اور چین جیسے ممالک کا دورہ کیا جاے تو پتہ چلے گا کہ وہاں کے لوگ مرتے دم تک ذہنی اور جسمانی طور پر بوڑھے نہیں ہوتے ہیں . وہاں 80 سال کا آدمی بھی لگن اور جستجو سے کام کرتا ہے اور دوسرے پر ڈپینڈ رہنا اپنی کمزوری اور ذلالت سمجھتا ہے. غور کرنے لائق بات ہے کہ کتنی خود اعتمادی اور عزم ہے ان کی سوچ میں.
پر ہمارے بھارتی تہذیب کے لوگوں کو دوسروں پر منحصر رہنے کا مرض ہے اور یہ مرض ہی ساری برائیوں، اور تباہیوں کی جڑ ہے. جسے اکھاڑ باہر پھینکنا ہو گا تو ہی معاملہ درست ہو سکتا ہے. بہو گھر آتے ہی ماں جوانی میں بوڑھی ہو جاتی ہے اور بہو ساس کے آرام دہ زندگی پر جلنے اور کڑھنے لگتی ہے. اب ساس کو بھی چاہیے کہ اپنی ذمہ داریوں کو جہاں تک ہو سکے خود نبھاے اسی طرح جس طرح بہو کے آنے کے پہلے نبھا رہی تھی، تاکہ وہ بہو بھی یہ محسوس نا کرے کہ وہ سسرال کسی ڈیوٹی کو نبھانے لائ گئ ہے. اب ہوتا یوں ہے کہ ساس سسر نند دیور ان سبھی کے آرام دہ چہروں کو دیکھ  نئ نویلی آنے والی نازک اندام بہو جو اگر نرم مزاج ہو تو وہ گھبرا جاتی ہے پھر اسے ایک ہی سہارا نظر آتا ہے، اپنا شو ہر، جس سے وہ اپنے آنسوؤں کے ساتھ اپنے دل کی رواداد پیش کرتی جاتی ہے اور جو تنک مزاج ہوتی ہے وہ سیدھے سیدھے ایسے آرام دہ چہروں کو سبق سکھانے کے گر اپناتی ہے اور اپنے خاوند کے ذہن میں گھر والوں کے خلاف زہر انڈلنے لگتی ہے. کہنے کا مطلب یہ ہے کہ نرم مزاج سیدھی سادھی بہو بھی زندگی بھر اپنے سسرال کے لوگوں سے نبھا سکتی ہے گر سسرال والے بھی اپنی ذمے داریوں کو سمجھے تو. اور تنک مزاج بہو بھی کسی طرح اپنے سسرال کو اپنا سکتی ہے اگر سسرال والے اسے مو قع  دے تو. ضرورت ہے تو خود کی غلطیوں کو سمجھنے کی، خو د کی ذمہ داریوں کو نبھانے کی. اب یہاں ایک قسم یہ بھی ہوتی ہے کہ ساس اچھی ہوتی ہے، ذمہ دار ہوتی ہے، اپنی بہو کے گھر آنے سے یوں محسوس کرتی ہے گویا اس کے دو ہاتھ کے چار ہاتھ ہو گئے ہو "اب ہم دونوں مل کر گھر کو مذید خوبصورت بناے گے” ، یہ اس اچھی ساس کی خواہش ہوتی ہے، پر ہوتا یوں ہے کہ بہو خود کی اپنی زندگی جینے کی خواہشمند ہوتی ہے، اسے اپنی زندگی میں کسی کی مداخلت پسند نہیں ہوتی اور اپنی اس فطرت کے مطابق سسرال میں قدم رکھتے ہی وہ اسی سوچ اور پلاننگ میں محو نظر آتی ہے کہ کس طرح اپنے شوہر کے ساتھ اپنی خود کی الگ زندگی جی جائے، جہاں صرف وہ اور اس کا خاوند رہے اور کوئی نہیں. الگ زندگی جینے کی طلب گار اس بہو کی یہ طلب روز بروز بڑھتی ہی جاتی ہے اور گھر کا ماحول خوش گوار ہونے کے با وجود وہ اپنے شوہر کو ورغلانے میں کامیاب ہو ہی جاتی ہے.
اسلامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ بات درست ہے کہ جب کوئی کسی لڑکی سے نکاح کرتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی بیوی کے لئے پہلے ایک گھر ایک مکان کا انتظام کرلے گر گھر بنانے کی طاقت نہیں ہے تو جس گھر میں وہ سبھی کے ساتھ اکٹھے رہتا ہیں اس گھر میں کوئی ایک کمرہ وہ اپنے بیوی کے لئے ایسا منتخب کر لے جسے بیوی اپنا سمجھے جہاں وہ اپنے آرام و  آسائش کا سامان سجا سکے. پر جو لڑکی بیاہ کر گھر آتے ہی اپنے خوش مزاج ساس سسر اور گھر کے دیگر افراد کو ایک کھٹکنے والا کانٹا سمجھ کر صرف اپنے ذاتی مفاد اور لالچ کے لئے اس گھر کے بیٹے کو، ماں باپ کے جگر کے ٹکرے کو ان سے الگ کرنا چاہے، صرف اپنی خواہشوں کی لالچ میں تو وہ سراسر غلط ہے اور بے شک خود غرضی اور فتنہ میں شامل ہے. ایسی بہویں ہی آج سنی سنائی اس بات کا بھی بھر پور فائدہ اٹھا کر اپنے خاوند کو ورغلانے میں کامیاب نظر آ رہی ہیں کہ اپنے ساس سسر کی خدمت کرنا اسلام میں کہی لکھا ہوا نہیں ہےاور بہوؤں کے ساتھ اس طرح کے جملے اب بیٹے بھی کہنے لگے ہیں اور اپنی بیوی کے ساتھ ماں باپ سے الگ رہ رہے ہیں. میرے مشاہدے کے مطابق ایسا کہنے والے بیشتر بیٹوں اور بہوؤں کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ قراں میں کیا لکھا ہے اور جو یہ اللہ کا واسطہ دے کر بولتے ہیں کہ ساس سسر کو سنبھالنے کی ان کی خدمت کرنے کی بات اللہ نے کہی پر کہی ہی نہیں ہے یا اسلام میں یہ ثابت نہیں ہے، یہ بات بھی وہ سنی سنائی ہی کہتے ہیں اور بے شک خود کی نجات اور  دلی تسلی کے لئے کہتے ہیں. دوسرے سارے اللہ کے کہے احکامات ان کو پتہ نہیں ہوتے بس ان کے مزاج کے مطابق جو انہون نے سنا وہ کہہ دیا، پر نادانوں کا ایمان مضبوط ہوتا تو وہ یہ بات جان لیتے کہ اللہ نے یہ بھی نہیں کہا ہے کہ ساس سسر کو تنہا کر دو، یا انہیں مرتا چھوڑ دو، یا انہیں بڑھاپے میں گھر سے بے گھر کر کے آشرم میں ڈال دو. ان کے سینے میں بھی دل ہے جو اپنے لختِ جگر کے لئے دھڑکتا ہے، انہون نے بڑے چاؤ اور لاڈ پیار سے اپنے بچوں کو پالا پوسا ہے، ان کے لئے رات آنکھوں میں کاٹی ہے، ایک ایک پیسہ جوڑ ان کے مستقبل کو سنوارا ہے، اللہ سے ان کی ترقی اور کامیابی کی دعائیں مانگی ہیں. ایسے اللہ کی جانب سے بنے سہارے کو اگر بے سہارا کر کے آشرم میں ڈال آونگے، ان کے جذبات اور اجساسات کا جیتے جی قتل کر دونگے تو کیا تم بھی زندگی کا سکھ پا سکونگے؟ ہر گز نہیں.  نادانوں اللہ نے اگر بہوؤں کو کہا نہیں ہے کہ وہ اپنے ساس سسر کا خیال رکھے، تو اللہ نے اولاد کو تو حکم دیا ہی ہے نا کہ مان باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرے، ان میں سے کوئی ایک تمہارے سامنے بوڑھا ہو جائے تو انہیں اف تک نا کرے اور ان سے تمیز سے پیش آے تو پھر اللہ کے اس احکام کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جب کہ یہ اللہ کا حکم قرآن میں اولاد کے لئے صاف طور پر واضع کیا گیا ہے اور یہ تو کہی لکھی ہوئی بات ہی نہیں ہے کہ ساس سسر کی خدمت کی جاے یا نہیں کی جاے جس کا صرف اپنی نجات کے لئے فائدہ اٹھایا جارہا ہے. ہا اگر بہو کا کوئی فرض بنتا نہیں کہ وہ اپنے خاوند کے ماں باپ کا خیال رکھے تو پھر اللہ کے حکم کے مطابق بیٹے کا جو فرض بنتا  ہے کہ وہ اپنے والدین کا خیال رکھے، تو اسے تو اس کے والدین سے جدا نا کرو، بلکہ انہیں ان کا فرض یاد دلاؤ کہ وہ اپنے والدین کو وقت دے، ان کا خیال رکھے. اور جو نا فرمان بیٹے اپنی بیوی کا دیا ہوا پاٹ پڑھتے ہیں یا خود بھی اپنے والدین کے احسانات، پیار محبت اور مہربانیوں کو نظر انداز کر کے ان سے نجات چاہتے ہیں وہ سن لے اللہ نے کسی صورت ماں باپ کو چھوڑنے کا حکم تمہیں نہیں دیا ہے بلکہ اللہ نے تو تمہیں ان کی خدمت کا حکم دیا ہے. تم اگر دیار غیر میں ہو اپنی اور گھر والوں کی روٹی روزی کے لئے، تو تم یہ کہہ کر اپنے والدین سے نجات اور چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے کہ ہم تو پر دیش میں ہے اور اللہ نے بہو کو کہا ہی نہیں ہے کہ وہ ہمارے والدین کی یعنی اپنے ساس سسر کی خدمت کرے، ایسا ہے تو اپنے والدین کی خدمت کے لئے ان کے بڑھاپے کی بیساکھی بن کر تم خود آجاو ورنہ شاید ہی تمہیں  اپنے والدین کو دکھ دینے کے اس سنگین جرم سے نجات  مل سکے. اس بات کو ذہن نشیں کر لو کہ آج تمہارا ہے تو کل تمہارے بیٹے کا بھی تو ہو گا.
بے شک اللہ کی مقدس کتاب قرآن مجید پڑھنے والوں کے لئے ایک بھر پور اور مکمل ہدایت کی کتاب ہے. جس میں  ہمارے لئے ہماری روز مرہ زندگی کے ہر مسل و مسائل کا حل موجود  ہے ضرورت ہے تو اسے صرف سمجھ کر پڑھنے کی یہ ہدایت کی مقدس کتاب بندے کو مساوات اور اجتماعات کا پیغام دیتی ہے اور سب سے بڑھ کر انسانیت کا درس دیتی ہے. اور یہ ہی اللہ نے اپنے سمجھدار بندے کو نشانی دی ہے کہ وہ ہر کام سمجھداری اور انسانیت سے کرے. اگر یہ کہی درج نہیں ہے کہ اپنے خاوند کے ماں باپ کی خدمت کی جائے تو انسانیت کے درس کو اپنا کر  ہر بہو  اپنے ساس سسر کا ضرور خیال رکھ سکتی ہے جس طرح وہ اپنے ماں باپ کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی اسی طرح اگر وہ انسانیت کے درس کی مقدس کتاب قرآن مجید کو پڑھ لے تو وہ اپنے ساس سسر کی تکلیف میں بھی ان کو اپنا بھر پور تعاون اپنی خدمت ضرور دے گی.اس طرح وہ دوگنا ثواب حاصل کر لے گی ایک انسانیت کے ناطے اپنے ساس سسر کی خدمت کرنے کا، دوسرے شوہر کو خوش کرنے کا.  حضرت ام سلمہ کہتی ہے کہ رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس عورت نے اس حالت میں وفات پائی کہ اس کا شوہر اس کے اخلاق سے راضی تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگی(ترمذی )
اور یہ بھی تو سچ ہے کہ انسان جو بوتا ہے وہی تو پاتا  ہے.
*

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button