فکرونظر

آزمائش :رفعتوں کی پہلی منزل

آزمائشیں امت مسلمہ کو دنیا میں عزت و وقار ، عظمت و سربلندی عطا کرتی ہے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور عنایتوں کا حقدار بناتی ہے۔

شاہ مدثر،عمرکھیڑ

(ایڈیٹر افکارِنو)

 

آزمائش و ابتلاء کے حوالے سے ایک ہمت افزا تحریر

آزمائش بندہ مؤمن کا نصیب ہوتی ہے۔۔۔۔

آزمائش کامیابی کی بنیاد ہے۔۔۔

آزمائش رفعتوں کی پہلی منزل ہے۔۔۔۔

آزمائشیں امت مسلمہ کو دنیا میں عزت و وقار ، عظمت و سربلندی عطا کرتی ہے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور عنایتوں کا حقدار بناتی ہے۔کوئی بھی بندہ مؤمن ایسا نہیں جو اس دنیا میں دو حالتوں سے نہ گزرتا ہو۔ یا تو اسے نعمتوں اور خوشیوں سے نوازا جاتا ہے یا نعمتیں چھین کر مشکلات اور آزمائشوں کے
حوالےکردیاجاتاہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں واضح کرچکا ہے کہ وہ مؤمنوں کو آزمائشوں میں ڈالتا رہے گا۔ کبھی خوشی ملے گی کبھی غم ملے گا،کبھی کاروبار کا نقصان ہوگا،کبھی قید اور جیل سے گزرنا ہوگا تو کبھی جان راہ خدا میں لٹانی ہوگی۔ جو لوگ آزمائشوں پر صبر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرما دیتا ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑا اجر ہے۔ ارشاد ربانی ہے: *’’اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے ( دشمنوں کے مقابلہ میں کمزور معیشت) سے ، اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا دو صبر کرنے والوں (ثابت قدم رہنے والوں) کوکہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں: ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ، یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمت ہے، اور یہی لوگ صحیح راہ پر ہیں۔‘‘ (البقرہ 157-155)۔

 تاریخ گواہ ہے کہ امت مسلمہ کے فرزندوں کی ہر دور میں آزمائش لی گئی ہے۔ عزت ملنے سے پہلے اور مقام بلند ہونے سے پہلے ضرور بندہ مؤمن کا امتحان لیا جاتا کہ وہ اپنے دعوے میں کتنا سچا ہے؟ کتنا ثابت قدم ہیں؟ کتنا اپنے مقاصد کے حصول کےلئے پختہ ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ مصیبتیں ، تکلیفیں ، سختیاں اور جیل کی صعوبتیں دیکھ کر پھرجانے والا ہو ؟؟ کہیں ہمت اور حوصلہ ہار جانے والا تو نہیں؟ کہیں باطل اور ظالم حکومت سے ڈر کر منافقت والی زندگی اختیار کرنے والا تو نہیں؟ یہ پیمانہ ہے کہ آزمائش کے بعد کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے۔حالانکہ سچا مومن ہرحال میں خوش رہتا ہے۔ خوشی ہو یا غم دونوں حالتوں میں اللہ تعالیٰ سے مومن قریب ہوتا ہے۔خیال رہے کہ راہ حق پر چلتے ہوئے مشکلات اور مصائب لازماً آئیں گے، اگر مشکلات پیش نہ آئیں، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم جس راہ پر چل رہے ہیں، وہ صراط مستقیم نہیں ہے کوئی اور راستہ ہے۔امت مسلمہ کے چنندہ بندوں کو ایسے امتحانات سے ضرور گزرنا ہوتا ہے جن میں ان کے جذبۂ ایمانی اور ان کے صبر و شکر کی آزمائش ہوتی ہے اور اس طرح ہوتی ہے کہ جسم کمزور ہوجاتا ہے، پیروں میں آبلے پڑجاتے ہیں، دل دہل جاتے ہیں۔قوت برداشت ختم ہوجاتی ہے،اس قدر سخت آزمائش کہ وقت کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی زمانہ آزمائش میں پکار اٹھتے ہیں کہ کب آئے گی اللہ کی مدد؟یہ ایسا امتحان ہوتاہے کہ رسولوں کو بھی بظاہر حالات مایوسیوں میں گھیر لیتے ہیں۔ دراصل اسی وقت کامیابیوں کی بنیاد پڑتی ہے ، مسلسل کامیابیوں اورکامرانیوں کا دور شروع ہوتا ہے۔اللّٰہ تعالیٰ نے ہر زمانے میں اپنے محبوب بندوں کو شدید آزمائش میں ڈال کر ضرور جانچا ہے، ضرور پرکھا ہے، ضرور ان کی آزمائش کی ہے۔اور اس امتحان میں جو بھی ثابت قدم رہے، اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی رحمتوں کا خصوصی نزول فرمایا اور انہیں دوسروں سے ممتاز کردیا۔قوموں کی صفوں میں انہیں عزت و وقار اور عظمت و سربلندی سے نوازا۔ آج بھی آزمائش کی سختیوں کو جھیلنے والے نوجوان زندہ ہیں،اللہ تعالیٰ کے محبوب اور مقرب بندے ہیں۔جو ہندوستان کی جیلوں میں کئی سالوں سے قید و بند صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔قید کی صعوبتیں ان کے ایمان و یقین کو کمزور نہ کرسکی۔ وہ صبر و استقامت کو تھامے ہوئے ہیں۔ مضبوط ارادوں کے مالک ہے۔باعزم اور حوصلہ مند زندگی کے شیدائی ہے۔ کچھ وہ ہیں جو اپنی آزمائش کی مدت پوری کرچکے ہیں اور کچھ بھائی آج بھی آزمائش کے مرحلوں سے گذر رہے ہیں۔
کچھ بھائی ان راہوں میں جام شہادت نوش فرما چکے ہیں اور کچھ اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں۔
اسی تناظر میں مولانا عامر عثمانی کہ وہ اشعار یاد آتے ہیں.

عشق کے مراحل میں وہ بھی وقت آتا ہے
آفتیں برستی ہیں دل سکون پاتا ہے
آزمائشیں اے دل سخت ہی سہی لیکن
یہ نصیب کیا کم ہے کوئی آزماتا ہے

 آج ہماری صورتحال اس سے کچھ الگ ہے، آج ہم حوصلہ شکن ہیں، ذرا سی آزمائش آتے دیکھ کر ہمت اور حوصلہ چھوڑ دیتے ہیں۔ دشمن کی قوت کو دیکھ کر مغلوب ہوجاتے ہیں۔ نہ ہم میں وہ استقامت رہی ، نہ وہ حوصلہ رہا، نہ وہ عزم رہا، نہ ارادوں میں پختگی رہی۔بلکہ ہم نے ہر گام پہ اغیار کا ساتھ دیا ان کی سازشوں کا شکار ہوئے، دشمن کے سب ہتھکنڈے ہم پر کار گر ثابت ہوئے اور وہ ہماری قوت و طاقت کو بہالے گئے۔ آج ان حالات میں ہم سے تو وہ لوگ بہتر ہے جو آزمائش کا شکار ہوئے لیکن راہ حق پر ڈٹے رہے۔کسی بھی طرح کا ظلم انہیں اسلام سے پھیر نہ سکا۔ وہ جسمانی اور ذہنی تکلیفوں کو برداشت کرتے رہے اور اللہ کی کبیرائی کا اعلان بھی کرتے رہے۔ یہی لوگ اصل راہ پر ہے ۔اور آخرت میں یہی سرخرو ہوں گے۔۔۔

جو یقین کی راہ پر چل پڑے انہیں منزلوں نے پناہ دی

جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا وہ قدم قدم پر بہک گئے.

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button