Sliderجہان خواتین

آن لائن تجارت مواقع اور امکانات برائے خواتین

خان مبشرہ فردوس

اورنگ آباد

سوشل میڈیا کے ذریعہ کس طرح مختلف کام انجام دئیے جاسکتے ہیں یہ سوال اکثر طالبات پوچھتی ہیں ۔

اب تک اکثر والدین سے گفتگو کے دوران یہ احساس ہوا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ سوشل میڈیا میں فیسبک ایپ, ٹیوٹر یا, انسٹا گرام, چیٹ ان, کورا, اسکائپ وغیرہ پر بچوں کے بگڑنے کے امکانات زیادہ ہیں ۔اس لیے کبھی خیال نہیں گزرا کہ ایسی تحریر لکھیں جس میں بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کی ترغیب ملے ۔والدین اپنے بچوں کے لیے اگر بچنا درست سمجھتے ہوں تو بچنا ہی بہتر ہے ۔

تاہم لاک ڈاون کے دوران ہم دیکھ رہے ہیں سوشل میڈیا سوشل ڈسٹینسنگ کے دوران بھی ایک رول پلے کررہا ہے اور تعلیمی نقصان سے بچنے کے لیے حکومت, تعلیمی ادارے, وارچوول کلاس روم

ڈجیٹل ذرائع سے تدریس کے حق میں ہیں اور آن لائن تدریس ہی بہتر آپشن بن گیا ہے ۔اور تقریبا ہر طالب علم کو ڈوائس استعمال کی اجازت مل چکی ہے ۔

ایسے ماحول میں پیرنٹنگ کے تقاضے بھی بڑھ جائیں گے وہیں چھوٹے بچوں کے لیے اس پر ان شاء اللہ آئندہ علحیدہ مضمون میں بات ہوگی , تاہم 14 سال سے زیادہ عمر کے طالبہ و طالبات کے لیے ذمہ داری بنتی ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ کچھ تعمیری پہلوؤں پر روشنی ڈالی جائے ۔ اس میں صرف اپنے ذاتی تجربات ہی شئیر کیے جائیں گے ۔

تعمیر دراصل سلیم الطبع فطرت کی علامت ہے ہر حال, ہر صورت میں تعمیری پہلو کا غالب رہنا ایمانی جز ہے ۔

تخریب دراصل شر ہی ہے اور اس شر سے محفوظ بندہ اس وقت ہوگا جب اسے احساس ہو کہ میرا رب یہاں بھی موجود ہے میرے دل کی خیال کی بھی نگرانی کررہا ہے ۔

اب یہ درست موقع ہے کہ ہم بات کریں سوشل میڈیا کے ذریعہ ہم کس طرح اپنی بات دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں, کس طرح سوشل میڈیا سے جڑ کر بزنس کرسکتے ہیں یا کسی بھی پروفشینز سے جڑ سکتے ہیں ۔ کچھ اپنے تجربات اس لحاظ سے شئیر کرنا چاہتی ہوں تاکہ سوال پوچھنے والی طالبات کو رہنمائی مل سکے ۔یہاں ہم گفتگو کریں گے بحیثیت داعی, بحیثیت تاجر, بحیثیت صارف اور بحیثیت پروفیشنل معلم, یا بحثیت ٹیکنشین, اور گفتگو ہوگی صرف خواتین اور طالبات کے لیے

خواتین سے خطاب کے دوران محترم امیر جماعت سید سعادت اللہ حسینی صاحب نے بہت عمدہ بات کہی تھی کہ

” ہم چاہتے ہیں ہماری خواتین مختلف فیلڈ میں آئیں وہی وہ بیک آفس چلائیں, ۔۔ایک وژن تھا جو ایک جملے میں دیا گیا تھا, کیا ہوتا ہے بیک آفس آپ ذرا گوگل کر کے دیکھیے,

خواتین داعی کی حیثیت رکھتی ہوں تو, اپنا فکری مواد ویب ڈزائینگ, ویب مارکٹنگ, ویب بزنس, ٹیلی, ڈیٹا ارینجنگ وغیرہ آن لائن بینکنگ کے کام گھر میں بیٹھ کر انجام دیں ۔۔فری لاونسر کے ذریعہ کسی پروجیکٹ, ٹرانسلیشن, سکرپٹ رائیٹنگ, بک پبلشنگ آرٹیکل پبلشنگ, بلاگ ڈزائینگ کے کام  لے کر انجام دے سکتی ہیں

بزنس میں مزاج کے شعبے کو چن کر آن۔لائنگ سیلنگ کے میدان میں آسکتی ہیں ۔اپنے مزاج کام کرسکتی ہیں خواتین یا طالبات اگر کچھ وقت لگا کر آن لائن مارکٹنگ یا ویب ڈزائینگ کے کورسیز کرلے Gruskool چھ ماہ میں پوری توجہ اور مہارت کے ساتھ سیکھ لیں, اگر باضابطہ کچھ کرنا چاہتی ہوں تو ۔

فری ویڈیوز اور ٹیٹوریل آپ کو اس مقصد کے مل جائیں گے کسی بھی کورس کو جوائن کرنے سے پہلے بہتر طریقہ یہی ہے کہ ہم فری ٹیٹوریل یوتیوب سے لے کر پہلے اپنے مزاج کا پتہ کرلیں ۔

کسی بھی فیلڈ میں آپ آنا چاہتے ہیں ۔

جیسے خواتین کے لیے جو شعبے جنہیں میں راست نہ صرف جانتی ہوں بلکہ میرے فیسبک کلوزڈ گروپ کی خواتین ان شعبوں سے جڑ کر کام انجام دے رہی ہیں میں انہی شعبوں کا ذکر کروں گی آپ اپنی دلچسپی چیک کریں اور انہی پر توجہ دیں ۔اپنی دلچسی کو چیک کرنے کے بعد آپ

ڈیجیٹل مارکیٹنگ۔

آن لائن سیل اسٹریٹیجی، فیس بک پیج فری لاونسگ, پبلشنگ، یو ٹیوب چینل اینڈ ارننگ، مارکٹنگ تھرو واٹس اپ

ویب ڈزائینگ
اینمیشن, کرئیٹو اسکل ۔

کنٹینٹ ڈیولپمینٹ
ڈاکیومینٹری میکنگ، سولو پرفامنس، کنٹینٹ کرافٹنگ، اسٹوری ٹیلنگ،اسٹوری رائٹنگ ، کریٹیو

اسے بہت آسانی سے آپ آن لائن کورس کے ذریعہ سیکھ سکتے ہیں بلکہ ۔۔۔معز صاحب آجکل سکھا بھی رہے ہیں ۔اپنے مضمون کے آخر میں کچھ لنک اور کچھ گروپس کی جانب رہنمائی کرتے ہوئے ہم بات ختم کریں گے

ہر چیز جو بندہ کرنا چاہتا ہے اس پر اسے وقت لگانا ہوتا ہے ۔

نئی نصابی کتاب میں اردو زبان کے ذریعہ آپ پروفیشن سے کیسے جڑیں اس پر معلومات دی گئی ہے ۔کتاب کا پی ڈی ایف موجود ہوتو آپ آخری تین اسباق پر نظر ڈالیے آسانی کے لیے یہاں کچھ ذکر کئے دیتے ہیں ۔

افسانہ ۔۔ناول ۔۔ بلاگ اور اخباری کالمز, اردو کے اشتہارات, کسی موضوع پر ایپ بناکر, ویڈیو ایڈٹنگ, پروف ریڈنگ, ویب پیج ڈزائنگ, وائس اوور, سکرپٹ راٹینگ, , یہ تمام شعبے کمانے کے لیے مارکٹ میں موجود ہے ۔

کیسے یہ سمجھیے شاید سمجھانے میں کامیاب ہوجاؤں ۔ اس احساس سے نکلیں کہ آپ کو زبان سکھنا صرف ایگزام مارکس کے لیے لینا ہے, ہر گزرتا لمحہ آپ کو اپنی زبان جس میں کام کرنا ہے انگلش اردو, ھندی مراٹھی اس کے ساتھ مکمل ایمانداری ہو ۔۔

انہماک فورم ہے inhemak
عالمی ادب کے اردو تراجم سے جڑیں یہ بھی اچھا فورم ہے ۔
فیسبک پر فری میں آپ کی فکشن کی صلاحیت کو نہ صرف ابھارتا ہے آپ کے معاشی مسائل کی رہنمائی بھی کرتا ہے ۔

وائس اوور سکل کے لیے ” لہجہ” پر جائیں وہ میرے وائس اوور کے استاد ہیں کام چیک کریں انکا کسی طرح تلفظ, اوزان پر کام کیا ہے ۔ اسی طرح نثر کے میدان رموزواوقاف کے ساتھ قراة پر کام کیا ہے ۔

وائس اوور پر کام کریں فری لاونسر پر آپ کو اوڈیشن کے بعد, ڈائیلاگ وائس اوور, یا آوئڈیو بک ریڈنگ وائس اوور کا کام مل سکتا ہے

۔۔یا شعری قرات پر وائس اوور کام مل سکتا ہے ۔

وائس اوور کے حوالے سے کام کسی لینے کی محتاجی کو چھوڑیں غور کریں ۔۔یا پلے سٹور پر جاکر سرچ کریں انگلش اور دیگر زبانوں میں آپ کو آوڈیو بک مکمل ناول کی ریڈنگ مل جائے گی ۔
بچے کے ادب سے لیکر سائنس بکس بھی
جو بچے مسابقتی امتحان کی تیاری کررہے ہوں ٹف سٹڈی کرکے تھک جاتے ہیں وہ آوڈیو بک سنتے ہیں ۔
مغربی دنیا کے ضعیف افراد یا مصروف افراد آوڈیو بک سننے کو ترجیح دیتے ہیں کار ڈروئوینگ کرتے ہوئے بھی لوگ آوڈیو بک کو ترجیح دیتے ہیں ۔

اب غور کریں کہ آپ نے تلفظ اور ادائیگی کا پر کچھ محنت کی ہو تو کتنا عمدہ ہے کہ آپ بک ریڈنگ کرتے ہوئے یوٹیوب چینل بنالیں ۔۔یا اپنا فکری مواد پر آوڈیو بک بنالیں ۔ یا ادبی مطالعے کے ناول کو اپ آوڈیو میں ڈھال یہ خواتین کے لیے مشورہ ہے کہ وہ یہ کام سکرین ویڈیو سے بھی انجام دے سکتی ہیں ۔

یا آپ معیاری کام کے ساتھ اپنا یوٹیوب ذاتی چینل چلاسکتے ہیں ۔ آپ کو چینل رن کرنے کے لیے اسکی تیکنیک یوز کرنی ہوتی ہے ۔

تراجم, , آپ ترجمے کی مہارت کے زریعہ عالمی ادب کے تراجم پر کام کریں اسکے فورم پر لوگ تائیلنٹ ہنٹ اور سرچ کے پرواگرام کے تحت تلاش کرتے رہتے ہیں ۔

سکرپٹ رائیٹنگ ۔۔۔کسی کے ناول پر سکریپ رائٹنگ میں مہارت پیدا کریں تو اردو ڈرامے یا ھندی ڈرامے کی سکرپ رائٹنگ پر کام کرسکتے ہیں ۔زبان پر گرفت چاہیے ۔

آپ اخباری کالم بلاگ رائیٹر بلاگر ہیں تو کورا نے کمرشیلائز کرنا ہےکالم لکھ کر, فیسبک یا سوشل سائیڈ یوز کرتے ہوئے آپ اپنے سوشل کاونٹیکٹ بڑھارہے ہوتے ہیں ۔

لیکن زبان پر گرفت لازم ہے ۔

تحقیقاتی مضامین آپ اردو میں لکھتے ہوں تو خود ھندوستان میں نیادور, اردو دنیا, بچوں دنیا , فکر و تحقیق, ایوان اردو, میں مضامین بھجواکردیکھیے ۔۔۔معیار زبان کا اعلی ہو شرط ہے

افسانے اور افسانچے میں مہارت ہو تو آپ غیر ملکی اردو میگزین سے ربط میں آئیں گے جو آپ کو نہ صرف کے آفر دیں گے آپ اس سے جڑیں فائدے آپ خود دیکھیں گے ۔ باقاعدہ انکم کا ذریعہ بنایا ہے بعض خواتین نے ۔

ایک مثال دے کر سمجھاتے ہیں

ہم لوگ خواتین کا فیسبک پر کلوزڈ گروپ چلاتے ہیں۔۔۔اس میں پوری دنیا سے ہزاروں خواتین ہزاروں ۔۔۔وہاں کاونسلنگ, مشاورت, بچوں کی تربیت, خاندانی مسائل اور بزنس سے متعلق پوسٹ لگاتی ہیں خواتین باہم ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں ہر ایک ایکدوسرے کو سوشل میڈیا کی سرگرمی سے ہی جانتا ہے ۔

دو ہفتہ پہلے ایک خاتون نے جو بہت قریبی دوست نے پوسٹ لگا کر کہا کہ

روزانہ اپنے بچے کو قران کی تفسیر پڑھاتی ہوں اور وہ سمجھ کر سوالات پوچھتا ہے اس سے اندازا کیا کہ میں بچوں کو قران کی تفسیر سٹوری سٹائل میں بہتر سمجھا سکتی ہوں ۔ سوچ رہی ہوں گوگل میٹ پر لاک ڈاون میں یہ سرگرمی شروع کروں ۔ اس کے بعد دودن کے اندر 200 بچوں کو والدین نے 2000 روپیے پرمنتھ پر بچوں کو آن لائن قران تفسیر کے لیے ان رول کروایا ۔

کمنٹ میں بیشتر خواتین نے کہا ہمارے بچوں کو سکھائیے اس پوسٹ کے ساتھ ہی جو ایڈمیشن ہوئے ہیں آپ اسکی فہرست کا سکرین شاٹ لگا کر دکھاؤں گی فی بچہ دوہزار روپیے کے ساتھ وہ کلاس ہفتہ میں دودن ہورہی ہے آپ اندازا کیجیے تین ماہ میں کلاس ختم ہوجائے گی اور پیرینٹس ہر ماہ کے دوہزار فیس پے کریں گے ۔اسے کہتے ہیں مہارت, اور سوشل کاونٹیکٹ کی اھمیت ۔

کینڈا سے کچھ خواتین قران پڑھاتی ہیں بچوں کو 1000 روپیے مہینہ اور بے شمار بچے آن لائن کلاس لے کر حفظ بھی کررہے ہیں ۔ہم اگر اس طرح کرنا چاہیں تو محنت بھی ہے اور اس محنت کا معاوضہ بھی ساتھ ساتھ ثواب بھی ۔

آج کل ہوم اسکولنگ کے کنسپٹ زور پکڑا ہوا ہے باہر ملک رہنے والے بچوں کے لیے آن لائن تدریس والدین اپنی نگرانی میں کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں ۔اس طرح معلم یا معلمہ گھر میں رہ کر بھی اس پر غور کرسکتی ہیں ۔

اسی فیسبک پر ” علم العروض, افسانہ نویسی کی کلاسیز ۔۔فیس کے ساتھ آپ کو مل جائے گی ” اس پر خواتین جو اس میدان کی ہوں غور کیجیے ۔

اگر علمی میدان میں آپ نہیں آسکتے تو تجارت کے میدان فلپ کارٹ, امیزون, علی بابا جیسی سائیٹ پر ماکٹنگ یا اسپاونسر بزنس کی دنیا میں قدیم رکھیں ۔۔فیسبک پر ہی کلوزڈ گروپ میں اس لڑکی کو جانتی ہوں جس نے مارکٹنگ اور آڈر بکنگ کے ذریعہ سے مستقل کمارہی ہے ۔

۔تاکہ گھر میں رہتے ہوئے کیسے وہ اپنے مشن میں ممدو و معاون بن سکتی ہیں ۔

سب سے پہلے ہم اپنا ذاتی نظام الاوقات بنالیں اور طے کریں کتنا وقت میں لگائیں اور ہماری حیثیت کیا ہوگی ۔

بحیثیت صارف ۔۔آپ خواتین کے کلوزڈ گروہس میں جس میں صرف خواتین ہو کسی پروڈکٹ پر پوسٹ لگا کر مشاورت کرلیں ۔

مائیکرو فائنس پر آپ کام کرتے ہوئے آپ اپنے گروپس میں مرچ, مسالے, ہوم میڈ چیزیں متعارف کروائیں اور اپس کی بنی چیزوں کو ترجیح دیں ۔

ہمیشہ غور کریں کہ ہم ہر دو طرح کسی کے کام بھی ائیں
آکل خواتین کپڑا, جویلری لا کر سیل کررہی ہیں
یہ بھی ٹھیک ہے اگر وہ بہتر سمجھتی ہیں تو ۔ ساتھ ہی یاد رکھیں فرسٹ ہینڈ بزنس آپ کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے ہوم میڈ چیزیں , جیسے چاکلیٹ, کیک, بسکٹس, پاپڑ, اچار, مرچ مسالے یہ بناکر سیل کرنا یہ بزنس آپ کو زیادہ استحکام بخشتے ہیں ۔۔۔کپڑا جب آپ لاکر بیچتے ہیں تب آپ صرف ڈبل نفع کماکر بڑے تاجر کا بھلا کررہے اپنے صارف سے کوئی محبت کا پہلو نہیں ۔۔
تجارت میں رزق کے ستر دروازے ” بلاشبہ ایسا ہی ہے لیکن بزنس کے

Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button