Sliderملی مسائل

آہ…اے بابری مسجد

ابے بابری مسجد عدالت نے یہ تسلیم کیا کہ مندر توڑ کر مسجد نہیں بنائی گئی۔ پھر مسجد کیوں توڑی گئی؟

مولانا محب اللہ قاسمی

اے بابری مسجد ہم مسلمانوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ تیری جگہ بحال ہو اور حسب سابق پھر سے اسی مقام پر مسجد کی تعمیر ہو کہ مسجد کی زمین تا قیامت مسجد کی رہتی ہے۔ اس جگہ مندر تو دور کوئی اور تعمیر بھی ممکن نہیں۔

مگر اے خدا یہ تیرے باغی بندے جو تیری قدرت کو نہیں جانتے اور اپنی معمولی قوت پر مغرور ہیں، پہلے مسجد توڑی، اس وقت بھی مسلمانوں نے اس کی بازیابی کے لئے بڑی قربانیاں پیش کیں اور اب مسجد توڑنے والے ظالموں نے عدالتی طور پر بھی ہم سے یہ زمین چھین لی ہے۔ مقدمہ بابری مسجد متنازعہ زمین کے حق ملکیت کا تھا نہ کہ زمین کے بدلین کا۔ پھر بدلے میں پانچ ایکڑ زمین کا فیصلہ کیوں؟ مسلمانوں نے مسجد کی زمین کا حقِ ملکیت کے لیے قانونی لڑائی لڑی تھی، نہ کہ اس کے بدلے کوئی سودا۔ اس لیے وہ مسجد کی زمین کے بدلے پانچ تو کیا پانچ سو ایکڑ بھی زمین آخر کیوں لے۔

ابے بابری مسجد عدالت نے یہ تسلیم کیا کہ مندر توڑ کر مسجد نہیں بنائی گئی۔ پھر مسجد کیوں توڑی گئی؟ اور اب وہ زمین مسجد توڑنے والوں کو مندر کے لیے کیوں دی جا رہی ہے۔ یہ فیصلہ ہو سکتا ہے مگرانصاف نہیں؟ جسے تاریخ میں یہ درج کیا جائے گا کہ مندر توڑ کر بابری مسجد نہیں بنائی گئی مگر مسجد توڑنے کے بعد اسی جگہ مندر بنانے کا فیصلہ ہوا۔ اس لیے اے بابری مسجد ہم نے مسجد کو بت خانہ کے لیے نہیں دیا ہے۔ عدالت کے فیصلے کو تسلیم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ورنہ اب بھی ہمارے دلوں میں وہ زمین، مسجد کی تھی، مسجد کی ہے اور تا قیامت مسجد ہی کی رہے گی۔ اے اللہ تیرا گھر جسے شہید کر دیا گیا اور اس کی زمین کا یہ معاملہ اب تیرے ہی حوالے ہے۔

یا اللہ ہماری آنکھیں اشکبار ہیں۔ دل مضطرب ہے، ہمارے گناہوں کو معاف کرنا اور ان ظالموں سے دنیا ہی میں ظلم کا عبرتناک حساب لینا، انھیں کیفرکردار تک پہنچانا۔ یہ ہماری دعا ہے، التجا ہے۔

حسبنا اللہ و نعم الوکیل

نعم المولی و نعم النصیر

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button