Sliderمسلم دنیاملی مسائل

اب اسلام کے قلعے بھی محفوظ نہیں!

ہماری ندوہ کی انتظامیہ سے بھی گزارش ہے کہ وہ نظام میں کوئی لچک نہ دکھائے اور سارے ملازمین کے ساتھ یکساں رویہ اختیار کرے

محمد شاہد خان ندوی

(دوحہ قطر)

ہم اس وقت مسائل کے انبوہ سے گھرے ہوئے ہیں اور واقعہ یہ ہے کہ جب کوئی انسان سخت حالات سے دوچار ہوتا ہے تو عین اسی وقت وہ مزید مصائب کے سیل رواں میں گھِرتا چلاجاتا ہے وہ ایک بند باندھتا نہیں کہ دوسرا ٹوٹ جاتا ہے، ہمارے یہ مسائل داخلی بھی ہیں اور خارجی بھی اور ہر مسئلہ اپنے سے بڑا حل چاہتا ہے لیکن حل کی جانب پیش قدمی کے بجائے ہمارے پاؤں دلدل میں دھنستے جارہے ہیں۔

یقینا یہ دجل وفریب اور فتنوں کا ایک ایسا دور ہے کہ جہاں برائی پہلے سے زیادہ منھ پھٹ ہوگئی ہے اور نیکی پر کپکپاہٹ طاری ہے، سچ اور جھوٹ ایک دوسرے سے مدغم ہو گئے ہیں، نیک نیتی اور روشن ضمیری مفادات کی بھینٹ چڑھ چکی ہے، دلوں میں محببتوں کے بجائے کدورتوں نے جگہ لے لی ہے اور ہر شخص اپنے نام اور اپنی ذات میں گم ہے۔

ابھی ہم NRC سٹیزن شپ، آرٹیکل 370 اور بابری مسجد مقدمہ (جس کی سماعت سپریم کورٹ میں روز بروز جاری ہے) جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہی تھے کہ ایک اور نئے فتنے نے سر اٹھا لیا اس بار یہ نیا فتنہ ندوۃ العلماء لکھنؤ سے اٹھا ہے، مجھے نہیں معلوم کہ یہ مسئلہ گردش حالات کا طبعی نتیجہ ہے یا اہم مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے اسے عمدا اچھالا گیا ہے۔

ایک افسردگی کا عالم ہے دل بیزار ہے، میں ایک مدت سے اس طرح کے موضوعات پر قلم اٹھانے سے گریزاں تھا لیکن جب دیکھا کہ اندھیرا بڑھ رہا ہے اور بجلی کا کڑکا صاف سنائی دے رہا ہے تو حالات وواقعات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا ضروری خیال کیا۔

حضرت مولانا علی میاں رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ مدرسے اسلام کا قلعہ ہیں جو دین اسلام کی حفاظت وصیانت کے لئے قائم کئے گئے ہیں، ان کا مقصد ہی اسلام کے محافظ اور شیدائی پیدا کرنا ہے لیکن اب ان قلعوں کی دیواریں کمزور پڑنے لگی ہیں ذرا سوچئے کہ اگر ان مدرسوں سے اسلام کے نقیب پیدا ہونے کے بجائے اس کے جسم پر خنجر زنی کرنے والے پیدا ہونے لگیں تو بھلا پھر مدرسوں کے قیام کا مقصد کیا رہ جاتا ہے؟

صحابہ کرام کی عظمت، شریعت میں ان کے مقام ومرتبہ، خلافت کی اہلیت خلفاء راشدین کی ترتیب اور مشاجرات صحابہ کے تعلق سے جمہور اہل سنت والجماعت کا جو مسلک ہے وہی مسلک ندوہ العلماء کا بھی رہا ہے لیکن ایک سال پیشتر مولانا سلمان حسینی صاحب نے اس سلسلہ میں ایک پرانی بحث کا نیا آغاز کردیا اور اپنے موقف میں ضرورت سے زیادہ شدت اختیار کرلی اور زور وشور سے اس کی تبلیغ کرنے لگے جو اہل سنت کے لئے کڑھن، اہل تشیع کے لیے مسرت اور اہل ندوہ کے لئے بدنامی کا باعث بننے لگا، مولانا کا یہ نقطہ نظر ذاتی دائرے سے نکل کر آگے بڑھنے لگا اور طلبہ دارالعلوم کو متاثر کرنے لگا جو کہ تشویش کی بات تھی، انھوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ اصول حدیث کی ایک مشہور کتاب , مقدمہ ابن صلاح , جو کہ برسوں سے داخل نصاب تھی اور جس کی تدریسی فرائض تقریبا چالیس سال مولانا ہی کے ذمہ تھے، مولانا نے اس کتاب کو بغیر انتظامیہ کی منظوری کے نصاب سے ہٹاکر اپنی کتاب ,تهذيب علوم الحديث , داخلِ نصاب کردی اور صحابی کی تعریف اور ان کی عدالت وثقاہت کے متعلق اپنے ذاتی خیالات کی طلبہ میں ترویج و تبلیغ کرنے لگے جس سے ظاہر ہے کہ طلبہ کا ذہن وہ نہیں بنتا جو اہل سنت کے مدارس کا مقصد ہے۔

سوال یہ ہے کہ کوئی بھی شخص خواہ وہ کتنا ہی قابل کیوں نہ ہو، کیا اسے ایسا کرنے کا حق حاصل ہے کہ وہ بغیر انتظامیہ کی منظوری کے اپنی من مانی کرے؟ اور کیا کسی بھی ادارے کے لئے یہ فعل قابل قبول ہوسکتا ہے؟ کیا اداروں کو اس طرح کے افعال پر اور اس طرح کے افکار کی ہمنوائی کرنے والوں کی سرزنش کا حق حاصل نہیں ہے؟یا پھر مولانا سلمان صاحب کو اداروں کے دستور سے بالا تر سمجھا جائے گا اور ان کی محاذ آرائی کو حق وباطل کی معرکہ آرائی سے تعبیر کیا جائے گا؟

مسئلہ کے چند پہلو

مولانا سلمان صاحب کی اس خلاف ورزی کے محاسبہ کے لئے مجلس انتظامیہ نے ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی، کمیٹی کی سفارشات پر مولانا سلمان صاحب سے اصول حدیث کا وہ گھنٹہ لے لیا گیا اور اس کتاب کے تدریس کی ذمہ داری ایک دوسرے استاذ کے سپرد کردی گئی، جس دن سے یہ کمیٹی تشکیل دی گئی اسی دن سے کمیٹی کے تمام ممبران مولانا اور ان کی آئی ٹی سیل کے نشانہ پر ہیں اور ان لوگوں پر طرح طرح کے جھوٹے الزامات عائد کئے جارہے ہیں، شاید مولانا کو یہ گمان ہو کہ ان میں سے کوئی بھی ان سے زیادہ قابل نہیں ہے، اور ان پستہ قدوں کی یہ مجال کہ وہ ان پر تادیبی کاروائی کریں؟

حد تو یہ ہے مورخہ 15 اکتوبر 2019 میں دوران درس طلبہ کے ہجوم کو خطاب کرتے ہوئے مولانا سلمان صاحب نے نہ صرف طلبہ کو بھڑکایا بلکہ ان تمام اساتذہ کرام کا طلبہ کے سامنے مذاق بنایا جب کہ اس کے برخلاف حالیہ بحران میں مجلس انتظامیہ اور ندوہ کے کسی بھی بڑے ذمہ دار کی طرف سے مولانا سلمان صاحب کے خلاف ایک لفظ بھی نامناسب استعمال نہیں کیا گیا۔

مولوی توحید عالم جو کہ مولانا کے فکری ہمنوا تھے جب ان کے خلاف کاروائی کی گئی تو مولانا سلمان صاحب نے شدید احتجاج کیا اور اپنے مطالبات کی ایک طویل فہرست جاری کی اور فہرست کے آخر میں لکھا کہ ان مطالبات پر اگر عمل کرلیا جائے تو میں سو فیصد ضمانت دیتا ہوں کہ ندوہ میں نہ کوئی انتشار ہوگا نہ ہنگامہ۔آخر اس کا مطلب کیا ہے؟ کیا یہ انتظامیہ کو کھلی دھمکی نہیں ہے؟

مولانا سلمان حسینی صاحب اور مولانا عتیق بستوی صاحب

حالیہ بحران میں ایک نام مولانا عتیق بستوی صاحب کا اچھا لا گیا ہے مولانا عتیق بستوی ندوہ کے ایک مؤقر استاذ ہیں ان سے بھی مولانا سلمان صاحب کی رقابت صحابہ کرام ہی کے موضوع کو لے کر ایک سال قبل شروع ہوئی ہے جب صحابہ کرام کے تعلق سے مولانا سلمان صاحب کا موقف سامنے آیا تو مولانا عتیق بستوی نے ان کے جواب میں بڑے سلیقے سے بغیر مولانا موصوف کا نام لئے ہوئے ایک کتاب لکھی جس کا نام تھا , صحابی کی تعریف اورصحابہ کے مقام ومرتبہ کے بارے میں غلط فہمیوں کا ازالہ , لیکن اس کے جواب میں مولانا سلمان صاحب نے ایک بیس صفحات کا رسالہ لکھا جس کا نام تھا , مولانا عتیق بستوی کے ازالہ کا ازالہ، اور اسے شوشل میڈیا پر وائرل کردیا اس رسالہ میں بعض ناشائستہ جملے لکھے، آپ انھیں خود بھی ملاحظہ کرلیں، مولانا نے عنوان قائم کیا ہے۔

شرم تم کو مگر نہیں آتی

رہ گئے مولوی عتیق بستوی جن کو دارالقضاء میں ہم نے رکھا تو وہ مفتی عتیق کے نام سے مشہور ہوگئے، ان کی تلبیسات، تدلیسات، دروغ بیانی، الزام تراشی اور بگڑے ہوئے مفتیوں کی تاویلات دیکھ کر حیران رہ گیا۔(بحوالہ: مفتی عتیق بستوی کے ازالہ کا ازالہ : صفحہ نمبر 4) مولانا دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ آپ کی ناصبیت آپ کے مضمون میں خوب جھلک رہی ہے، آپ کی طرح آپ کے جمہور میں بہت سے چھپے ناصبی ہیں (صفحہ نمبر 6)اس لئے یہ وہی پرانی رنجش ہے جو اس موقعہ پر ازسرنو ظاہر ہوئی ہے۔

مولانا سلمان حسینی صاحب اور مولانا عبدالعلیم فاروقی صاحب

مولانا عبدالعلیم فاروقی اہلسنت والجماعت کے امام مولانا عبدالشکور فاروقی کے وارث اور اس خاندان کے چشم وچراغ ہیں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین پر تبرّا پڑھنے والے رافضیوں کے خلاف برسر پیکار رہا ہے اور کئی دہائیوں سے لکھنؤ شوکت علی احاطہ میں مدح صحابہ کے عنوان پر پابندی کے ساتھ پروگرامز منعقد کررہا ہے۔ عبدالعلیم فاروقی صاحب نہ صرف مولانا سلمان صاحب کے ایک اچھے تحریکی ساتھی اور دوست تھے (جس کا اعتراف خود مولانا سلمان صاحب نے اپنے ایک رسالہ میں کیا ہے) بلکہ ان کے رشتہ دار بھی ہیں اور مولانا کئی دہائیوں سے پابندی کے ساتھ ان کے پروگرامز میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ وہ گزشتہ دو سالوں سے ندوہ کی مجلس انتظامیہ کے رکن ہیں ندوہ کی انتظامیہ کو کبھی ان سے کوئی شکایت نہیں رہی ہے اور ایک سال قبل تک تو مولانا سلمان صاحب کو بھی ان سے کوئی شکایت نہیں تھی لیکن سال گزشتہ جب مولانا سلمان صاحب نے صحابہ کرام کا موضوع اچھالا اور فاروقی صاحب نے ان کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان کی سرزنش کی تبھی سے اس رنجش کی ابتدا ہوئی ہے، ان کے خلاف اس محاذ آرائی سے کوئی خوش ہو نہ ہو لیکن شیعہ طبقہ ضرور خوشیوں کے شادیانے بجا رہا ہے، ویسے اطلاعا عرض ہے ابھی تین چارماہ قبل ایران کے دورے سے مولانا سلمان صاحب واپس آئے ہیں۔

مولانا سلمان حسینی صاحب اور مولانا محمدرابع حسنی صاحب

مولانا سلمان صاحب کی تعلیم وتربیت علم وفضل، شخصیت سازی میں حضرت مولانا علی میاں رحمۃ اللہ علیہ کا بڑا کردار رہا ہے، اور مولانا رابع صاحب کے مشوروں اور شفقتوں کو بھی بڑا دخل رہا ہے، اللہ تعالی نے انھیں جو بھی نیک نامی عطا فرمائی اور جو بھی فصل گل انھوں نے کاٹی وہ دراصل مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی مرہون منت ہے۔ حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ رشتے میں ان کے نانا اور مولانا رابع صاحب ان کے ماموں لگتے ہیں۔  حسنی خانوادہ اپنی رشتہ داریوں اور عزیز داریوں کو نبھانے میں اپنی مثال آپ ہے، وہ جلدی کبھی کسی کے خلاف لب کشا نہیں ہوتا اور حتی المقدور رشتوں کا پاس ولحاظ کرتا ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ مولانا سلمان صاحب مولانا رابع صاحب سے نہ جلدی ملاقات کرتے ہیں اور نہ ہی ان سے کوئی مشورہ لیتے ہیں، مہینوں بعد ابھی ایک ملاقات کی نوبت آئی بھی تو وہ سخت حالات میں سخت کلامی پر منتج ہوئی شاید مولانا سلمان صاحب کو اب کسی بڑے بزرگ کے مشوروں کی حاجت نہیں رہی۔

اکثر بحالت مجبوری ایک دوسرے کو خطوط لکھے جاتے ہیں، پچھلے چند مہینوں میں مولانا رابع صاحب نے انھیں دو مرتبہ خط لکھا اور دونوں مرتبہ مولانا سلمان صاحب نے انھیں کے خط پر اپنا جواب تحریر فرمادیا بالکل اسی طرح جس طرح کوئی بڑا آدمی کسی خورد کی درخواست پر نوٹ چڑھادیتا ہے یا کوئی کمنٹ لکھدیتا ہے۔ کیا یہ اپنے بزرگوں کی شان میں گستاخی نہیں ہے جب کہ ان میں اور مولانا رابع صاحب کی عمر میں تھوڑا موڑا تفاوت نہیں بلکہ پوری ایک نسل کا تفاوت ہے۔

مولانا رابع صاحب نےابھی پچھلے سال اپنے عزیز بھائی مولانا واضح رشید صاحب کو کھویا ہے، دونوں بھائیوں کے آپسی تعلق اور محبت سے دنیا واقف ہے ان کی وفات کا صدمہ مولانا رابع صاحب کے لئے غیر معمولی ہے ایسے حالات میں انھیں مزید صدمے پہونچانا کسی طرح مناسب نہیں ہے۔
پچھلے ایک سال میں کم از کم دوبار مولانا سلمان صاحب ان سے اپنی جگہ کسی اور کو ناظم بنانے کا مطالبہ کرچکے ہیں جب کہ مولانا رابع صاحب کی صحت اتنی خراب بھی نہیں کہ وہ ادارے کی ذمہ داریوں کو اٹھا نہ سکیں اور ابھی تک ندوہ میں یہ روایت قائم نہیں ہوئی ہے کہ کسی ایسے شخص کو کہ جس پر مجلس شوری کا اتفاق ہو اسے ہٹاکر کسی اور کو ناظم بنا دیا جائے اور ویسے بھی یہ کام مجلس شوری کا ہے۔ پھر آخر مولانا سلمان صاحب کو اتنی عجلت کیوں ہے؟

مولانا سلمان حسینی صاحب اور مولانا حمزہ حسنی صاحب

درس وتدریس اور انتظام وانصرام دو الگ الگ چیزیں ہیں، یہ ضروری نہیں کہ کوئی شخص علمی اعتبار سے لائق وفائق ہو تو وہ انتظام وانصرام میں بھی یکتاہو، مولانا مسعود علی ندوی اور مولانا عمران خان ندوی رحمہم اللہ نے اپنے پیچھے کوئی بڑا علمی ورثہ نہیں چھوڑا لیکن وہ دونوں بڑے اچھے منتظم تھے جس کا ہر شخص معترف ہے، انتظامی امور میں حمزہ حسنی صاحب مولانا رابع صاحب کے معاون ہیں اور پچھلے کئی سالوں سے وہ ندوہ کے معاملات دیکھتے ہیں ان کے آنے کے بعد سے بہت ساری مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں لیکن ابھی تک مجلس انتظامیہ کی طرف سے ان کے نظامت کا امیدوار بنائے جانے کا کوئی واضح اشارہ نہیں ملاہے۔ لیکن مولانا سلمان صاحب نے اپنی 15 اکتوبر 2019 کی تقریر میں طلبہ دارالعلوم کے سامنے تقریر کرتے ہوئے مولانا رابع صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو جعفر حسنی، بلال حسنی یا خلیل حسنی کو ناظم بنادیں مجھے کوئی اعتراض نہ ہوگا لیکن میں کسی نااہل کو ناظم بننے نہیں دوں گا۔

مولانا سلمان صاحب کے اس جملے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ حمزہ حسنی صاحب سے انھیں ذاتی رنجش ہے اور یہ سب کو معلوم ہے کہ ان دونوں کے درمیان برسوں سے گفتگو نہیں ہے۔ دراصل مولانا سلمان صاحب سیماب صفت انسان ہیں ان کی طبیعت میں بے انتہا جوش ہے وہ پوری زندگی جوشیلی تقریریں کرکے سرخیاں بٹورتے رہے ہیں، اکثر انتہائی جوش میں تقریر کرتے ہیں، زبان پھسلتی ہے اور پھر دوسرے دن رجوع بھی کرتے ہیں۔
یہاں بطور مثال چند واقعات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے۔ سب سے پہلے 1984 میں دلی میں ایس آئی ایم کی آل انڈیا کانفرنس میں ان کی تقریر کے سبب ہنگامہ برپا ہوا۔ 1991 یا 92 میں بارہ دری میں حضرت مولانا علی میاں صاحب کی موجودگی میں ان کی تقریر ہوئی جس میں مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان بھی موجود تھے مولانا سلمان صاحب نے رام ولاس پاسوان کے حوالے سے ایک ایسی بات کہدی کہ جس سے ہنگامہ پیدا ہونے کا خطرہ لاحق ہوگیا تھا حضرت مولانا علی میاں صاحب نے معاملہ کی نزاکت کو بھانپ لیا اور مولانا سلمان صاحب کو اشارہ کیا، اشارہ پاتے ہی فورا مولانا نے اپنے بیان کو درست کیا، ناچیز اس واقعہ کا چشم دید گواہ ہے۔

مسلم پرسنل لاء بورڈکے جے پور کے اجلاس میں ظفر سریش والا کو اپنے ساتھ لے گئے جس کی بنا پر بورڈ کے اجلاس میں ہنگامہ کھڑا ہوا
قرآن کریم کی نزولی تربیت کے تعلق سے مولانا کا موقف صرف ایک علمی نقطہ نظر کی حد تک محدود نہ رہا بلکہ مولانا نے اس ترتیب پر قرآن مجید کے نئے نسخے بھی چچپوا دئے۔ بابری مسجد اراضی کے سلسلہ میں 2018 میں بغیر مسلم پرسنل لاء بورڈ کی منظوری کے مولانا نے ڈبل شری سے گفت وشنید شروع کردی اور بذریعہ مفاہمت ہندؤں کے حق میں بابری مسجد کی اراضی سے دستبرداری کی وکالت کی جس سے ہندستانی مسلمانوں میں شدید ذہنی انتشار برپا ہوا اور بالآخر پینتیس سالوں کے بعد مسلم پرسنل لاء بورڈ سے مولانا سلمان صاحب کا اخراج عمل میں آیا۔ اخراج کے بعد انتقاما مولانا سلمان صاحب نے انڈیا ٹی وی پر مولانا سجاد نعمانی صاحب کی پول کھولنے کا کام کیا جو علماء کی رسوائی کا سبب بنا اور اب یہ ندوہ کا تازہ ترین ہنگامہ ہے جو اسوقت ہماری نظروں کے سامنے ہے۔

ہماری قوم پہلے ہی سے لہولہان ہے وہ مزید گھاؤ برداشت نہیں کرسکتی، کیا ہم نے حالات سے عبرت نہ حاصل کرنے کی قسم کھا رکھی ہے کیا انفرادی مفادات قومی مفادات سے بڑھ کر ہوگئے ہیں، کیا بے اصولیوں نے اصولوں کو پٹخنی دے دی ہے۔ دیوبند کے دو ٹکڑے ہوگئے، تبلیغی جماعت بھی دو حصوں میں بنٹ گئی۔ جمعیت بھی دو لخت ہوگئی کیا اتنا ناکافی تھا کہ اب ندوہ میں بھی فساد برپا کیا جارہا ہے۔ طلبہ کو سرعام بھڑکانا اپنے سوا سب کو ناصبی اور یزیدی سمجھنا اپنی جنگ میں اللہ اور اسکے رسول کو فریق بنالینا کون سا دین ہے؟

سب ترے سوا کافر آخر اس کا مطلب کیا
سر پھرا دے انساں کا ایسا خبط مذہب کیا

آخر یہ ہنگامہ آرائی کیوں ہے؟ یا تو مولانا خود کو نظام سے بالاتر سمجھتے ہیں یا پھر وہ اس نظام کو ہی باطل سمجھتے ہیں ورنہ اس خلاف ورزی کی کوئی وجہ نہیں تھی ! مولانا سلمان صاحب کو اللہ تعالی نے بڑی علمی صلاحیتوں سے نوازا ہے، ان کی ان صلاحیتوں کی ندوہ سے زیادہ ان کے مدرسے کے طلباء کو ضرورت ہے، ندوہ سے بڑے رقبہ پر ان کے پاس مدرسہ اور طبیہ کالج موجود ہے، مولانا اپنی توانائیاں اپنی مرضی سے وہاں جس طرح چاہیں صرف کرسکتے ہیں، لیکن خدا را ندوہ کو بخش دیں اسے فتنوں اور مسائل کی آماجگاہ نہ بنائیں۔

ہماری ندوہ کی انتظامیہ سے بھی گزارش ہے کہ وہ نظام میں کوئی لچک نہ دکھائے اور سارے ملازمین کے ساتھ یکساں رویہ اختیار کرے، ندوہ کے سارے اساتذہ وہاں کے ملازم ہیں اور سارے ملازمین کو ادارے کے اصو ل وضوابط کا پابند ہونا چاہئے، کئی اساتذہ اکثر سفر پر رہتے ہیں، کلاسوں میں غیر حاضر رہنے کی وجہ سے نصاب پورا نہیں کرپاتے یا پھر سال کے اخیر میں سرپٹ دوڑ لگواتے ہیں، ضروری ہے کہ ان سب بے ضابطگیوں پر لگام لگائی جائے کیونکہ نظام کے لچکدار رویہ ہی کی وجہ سے اس طرح کے مسائل جنم لیتے ہیں۔

آخر میں دعا ہے اللہ تعالی مادر علمی ہر طرح کے شر سے محفوظ رکھے آمین۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button