Sliderاسلامی تحقیقاتقرآنیات

احمدیوں کی تفاسیر کا تنقیدی جائزہ

دور حاضر میں قرآنیات پر کام باطل فرقوں میں سب سے زیادہ جماعت احمدیہ نے کیا ہے۔

ڈاکٹر محمد عمران

(اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ علوم اسلامی، یونی ورسٹی آف بہاول پور، پاکستان)

جماعت ِاحمدیہ (قادیانیت) کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی (۱۸۳۵ء۔ ۱۹۰۸ء) تھے۔ مئی ۱۹۰۸ء میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کے پہلے جا نشین خلیفہ حکیم نورالدین بھیروی (۲۸۴۱ء۔ ۱۹۱۴ء) ہوئے۔ ان کے انتقال کے بعد خلافت پر شدید اختلاف برپا ہوا، جس کی وجہ سے جماعت ِاحمدیہ دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ جماعت احمدیہ ربوہ کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود احمد (۱۸۸۹ء۔ ۱۹۶۵ء) اور جماعت احمدیہ لاہور کے سربراہ محمد علی (۱۹۷۴ء۔ ۱۹۵۱ء) تھے۔

بانی جماعت احمدیہ نے اپنے باطل عقائد و نظریات کو پھیلانے کے لیے تفسیر قرآن کا بھی سہارا لیا اور اس کے لیے سلف ِ صالحین سے ہٹ کر ایک نیا تفسیری منہج پیش کیا۔ اس سلسلے میں انھوں نے لکھا ہے:

’’تفسیر بالقرآن، تفسیر القرآن بالحدیث، تفسیر القرآن باقوال الصحابہ، خود اپنا نفس مطہر لے کر قرآن میں غور کرنا، لغت ِعربیہ، روحانی سلسلہ کے سمجھنے کے لیے سلسلۂ جسمانی ہے، کیوں کہ خدا تعالیٰ کے دونوں سلسلوں میں بکلّی تطابق ہے اور وحی ولایت اور مکاشفات محدثین ہیں اور یہ معیار گویا تمام معیاروں پر حاوی ہے۔ کیوں کہ صاحب وحی محدثیت اپنے نبی متبوع کا پورا ہم رنگ ہوتا ہے اور بغیر نبوت اور تجدید احکام کے وہ سب باتیں اس کو دی جاتی ہیں جو نبی کو دی جاتیں ہیں اور اس پر یقینی طور پر سچی تعلیم ظاہر کی جاتی ہے اور نہ صرف اس پر اس قدر، بلکہ اس پر وہ سب امور بطور انعام و اکرام کے وارد ہو تے ہیں۔ سو اس کا بیان محض اٹکلی نہیں ہوتا، بلکہ وہ دیکھ کر کہتا ہے اور سن کر بولتا ہے اور یہ راہ اس امت کے لیے کھلی ہے‘‘۔ ۱؎

ان اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے جماعت احمدیہ کے مفسرین نے قرآن کو سلفِ صالحین سے ہٹ کر ایک نئے انداز میں پیش کیا ہے۔ احمدیوں کی جانب سے تفسیر قرآن پر جو کام ہوا ہے، اس کی تفصیل آئندہ سطور میں پیش کی جارہی ہے:

۱۔ تفسیر (مرزا غلام احمد قادیانی)

مرزا غلام احمد نے اپنے متعلق لکھا ہے: ’’ میں چاہتا ہوں کہ ایک تفسیربھی  تیار کر کے اوراس کا انگریزی میں ترجمہ کر کے ان کے پاس بھیجی جائے۔ میں اس بات کو صاف صاف بیان کر نے سے رہ نہیں سکتا کہ یہ میرا کام ہے،دوسرے سے ہرگز ایسا نہیں ہوگا‘‘۔ ۲؎

مگر مرزا غلام احمد اپنی زندگی میں قرآن مجید کی مکمل تفسیر نہیں لکھ سکے۔ بعد میں ان کے مختلف اقوال کو لے کر قرآن مجید کی مکمل تفسیر ان کے نام منسوب کر دی گئی۔ اس تفسیر میں اقوال کی بہت زیادہ تکرار پائی جاتی ہے۔ مرزا صاحب کی اس تفسیر کو پڑھنا انتہائی خشک مشغلہ ہے، کیوں کہ اس میں نہ تو اقوال میں ربط ہے اور نہ کوئی علمی رنگ پایا جاتا ہے۔

مرزا غلام احمد نے اپنی زندگی میں سورۂ فاتحہ کی تین تفسیریں لکھیں : کرامات الصادقین اور اعجاز المسیح: یہ دونوں عربی زبان میں ہیں اور براہین احمد یہ میں سورۂ فاتحہ کی اردو زبان میں تفسیر ہے۔ اب ان تینوں تفاسیر کو مرزا غلام احمد کی طرف منسوب تفسیر میں جمع کر دیا گیا ہے۔

یہ تفسیر مکمل نہیں ہے۔ اس میں بہت سی قرآنی آیات کی تفسیر کو مرزا غلام احمد کے اقوال نہ ملنے کی وجہ سے نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ ابتداء میں ادارۃ المصنفین ربوہ نے اس تفسیر کو آٹھ جلدوں میں شائع کیا تھا۔ بعد میں ناظر نشر و اشاعت قادیان نے ان آٹھ جلدوں کو تین جلدوں میں شائع کیا ہے۔اس تفسیر میں درج ذیل منہج اختیار کیا گیا ہے:

۱۔ قرآن کا عربی متن لکھنے کے بعد اس کا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔

۲۔ تفسیر آیات میں کوئی ربط نہیں پایا جاتا۔

۳۔ مرزا غلام احمد کے دور کے حالات کے مطابق اس کی وضاحت کرنے کی بھر پور کوشش کی گئی ہے۔

۴۔ جماعت احمدیہ کے نظریات اور عقائد کو ثابت کرنے کے لیے آیات میں تحریفات کی گئی ہیں۔

۵۔ مخالفین کی باتوں کا رد کیا گیا ہے۔ مرزا غلام احمد کی اتباع میں ہی تمام لوگوں کی کام یابی سمجھی گئی ہے۔ اس کے لیے قرآنی آیات و احادیث مبارکہ کے غلط مفہوم پہنائے گئے ہیں۔

اس تفسیر میں مرزا غلام احمد کے اقوال اور الہامات کی بھر مار ہے۔کتب سابقہ کے حوالے کثرت سے آئے ہیں۔ غیر مسلم مفکرین کا بھی کثرت سے حوالہ دیا گیا ہے۔ انداز تفسیر کو سمجھنے کے لیے درج ذیل مثالیں کافی ہوں گی۔

آیت  فَقُلْنَا لَہُمْ کُونُواْ قِرَدَۃً خَاسِئِیْن (البقرۃ: ۶۵) کی تشریح میں مرزا غلام احمد لکھتے ہیں : ’’ خدا تعالیٰ نے نافرمان یہودیوں کے قصے میں فرمایا کہ وہ بندر بن گئے اور سور بن گئے۔ سو یہ بات تو نہیں تھی کہ وہ حقیقت میں تناسخ کے طور پر بندر ہو گئے تھے، بلکہ اصل حقیقت یہی تھی کہ بندروں اور خنزیروں کی طرح نفسانی جذبات ان میں پیدا ہو گئے تھے‘‘۔ ۳؎

آیت لاَ إِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْنِ(البقرۃ: ۲۵۶) کی تشریح میں مرزا غلام احمد قادیانی اپنے معجزات کو آں حضرت ﷺ کے معجزات قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں :

کسی نبی سے اس قدر معجزات ظاہر نہیں ہوئے جس قدر ہمارے نبی ﷺ سے۔ کیوں کہ پہلے نبیوں کے معجزات ان کے مرنے کے ساتھ ہی مر گئے، مگر ہمارے نبی ﷺ کے معجزات اب تک ظہور میں آرہے ہیں اور قیامت تک ظاہر ہوتے رہیں گے۔ جو کچھ میری تائید میں ظاہرہوتا ہے، دراصل وہ سب آں حضرت ﷺ کے معجزات ہیں۔ ۴؎

آیت وَإِنَّا عَلَی ذَہَابٍ بِہِ لَقَادِرُون (المومنون: ۱۸) کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’’ یہ وہ زمانہ ہے جو اس عاجز پر کشفی طور پر ظاہر ہوا، جو کمال طغیان اس کا اس میں ہجری میں شروع ہوگا جو آیت وَإِنَّا عَلَی ذَہَابٍ بِہِ لَقَادِرُون میں بہ حساب جمل مخفی ہے، یعنی ۱۲۷۴ھ‘‘۔ ۵؎

اس تشریح میں مرزا غلام احمد نے اپنی جماعت کا مشہور نظریۂ قرآن ثابت کیا ہے، یعنی ۱۸۵۷ء میں قرآن مجید اس دنیا سے اٹھا لیا گیا، پھر دوبارہ اس پر قرآن مجید کا نزول ہوا۔ حالاں کہ قرآن کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے۔ (الحجر:۹) اس لیے قرآن میں آج تک کوئی ردو بدل نہیں ہوا اور نہ قیامت تک ہوگا۔ اگر کسی نے قرآنی تعلیمات کو ختم کرنے کی کوشش کی تو وہ ناکام ہوا۔ اس لیے مرزا غلام احمد کا یہ کہنا کہ قرآن دنیا سے اٹھا لیا گیا تھا، مہمل بات ہے۔

۲۔ حقائق الفرقان (حکیم نور الدین بھیروی)

قادیانیت میں جو مقام و مرتبہ مرزا غلام احمد کو حاصل ہے، تقریباً وہی حکیم نور الدین بھیروی کو بھی حاصل ہے، بلکہ بعض اہل نظر کے مطابق حکیم نور الدین قادیانی سلسلہ میں دماغ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس تحریک کے احیاء کا سہرا انہی کے سر جاتا ہے۔

یہ تفسیر چار جلدوں میں ہے۔ اس میں حکیم نور الدین کے مختلف اقوال کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اس میں ربط ِ مضامین کا بہت زیادہ فقدان پایا جاتا ہے۔ ہر جلد کے آخر میں مضامین، اسماء اور مقامات کو حروف تہجی کی ترتیب سے بیان کیا گیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ انھوں نے جن الفاظ کی لغوی وضاحت کی ہے، جلد کے آخر میں ان کو بھی حروفِ تہجی کی ترتیب سے درج کر دیا ہے، تاکہ تلاش کرنے میں آسانی ہو۔ جلد اول کے شروع میں علوم القرآن سے بھی بحث کی گئی ہے۔

اس تفسیر میں ہر سورہ کی ابتدا میں اس کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے، اس کے بعد بعض آیات کا ترجمہ کیا گیا ہے اور بعض کا ترجمہ کیے بغیر ہی تشریح کردی گئی ہے۔ تشریح میں حکیم صاحب نے زیادہ تر اپنی آراء اور مشاہدات بیان کیے ہیں۔

تفسیر میں مرزا غلام احمد کے اقوال اور الہامات کو کثرت سے پیش کیا گیا ہے۔ اسی طرح حکیم نور الدین کے الہامات کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ اکثر جگہ حکیم صاحب یہ کہتے ہیں کہ مجھے خدا نے اس کا مفہوم بتایا ہے۔ اس تفسیر میں سلف صالحین کی تفاسیر سے بالکل استفادہ نہیں کیا گیا ہے۔

آیت وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْساً(البقرۃ: ۷۲) میں جو واقعہ بیان کیا گیا ہے، حکیم نور الدین نے اس کی عجیب و غریب تشریح کی ہے۔ لکھا ہے کہ : ’’ ایک یہودی عورت نے ایک مسلم عورت کو مار دیا تھا۔ قریب المرگ حالت میں وہ بتا گئی کہ میرا قاتل کون ہے؟  پس حکم ہوا کہ اس کو مار دو‘‘۔ ۶؎

حکیم نور الدین نے یہاں دو باتوں کا انکار کیا ہے: ایک تو یہ کہ قتل مرد کا ہوا تھا، جب کہ انھوں نے عورت کو مقتول بتایا ہے۔ دوسرا یہ کہ اللہ کے حکم سے گائے کے گوشت کو اس لاش کے ساتھ لگایا گیا تو وہ زندہ ہوا تھا اور قاتل کا نام خود ہی بتا دیا تھا۔

۳۔ اوضح القرآن مسمی بہ تفسیر احمدی (مولوی میر محمد سعید)

قادیانیوں میں سب سے پہلے مولوی میر محمد سعید کو تفسیر لکھنے کا اعزاز حاصل ہے۔ ان کے حالات زندگی کا علم نہیں۔ اس تفسیر کے دو حصے ہیں۔ حصۂ اول    ترجمۂ قرآن پر مشتمل ہے۔ ساتھ ہی کہیں کہیں بعض الفاظ کی تشریح بھی موجود ہے۔ حصۂ دوم میں آیات کی تشریح اس انداز میں کی گئی ہے کہ ہر سورہ میں لفظ ’ت‘ کے بعد مضمون نمبر لکھ کر قرآنی آیت کی تشریح کی گئی ہے۔ یہ تفسیر ۱۹۱۵ء میں مکتبہ مرتضائی آگرہ سے شائع ہوئی تھی۔ حصہ اول میں ۲۶۳ صفحات اور حصہ دوم میں ۱۹۶ صفحات ہیں۔ اس تفسیر میں پورے قرآن کے ۲۶۰۶ جملوں کی تشریح کی گئی ہے۔

مولوی میر محمد سعید نے اس تفسیر میں قرآنی آیات کے اہم جملوں کی وضاحت کی ہے۔ وہ سب سے پہلے تمہید میں سورہ کا تعارف کراتے ہیں، اس کے بعد آیت کا کوئی ٹکڑا لکھ کر اس کی مختصر سی وضاحت کرتے ہیں۔ اس میں مضمون نمبر اور آگے آیت ِ قرآنی کا ٹکڑا درج کر کے اپنے انداز میں چند سطروں میں تشریح کرتے ہیں، جس میں لغات، اشعار اور مرزا غلام احمد اور حکیم نور الدین بھیروی کا کثرت سے حوالہ دیتے ہیں۔ فقہ کے معاملے میں اس تفسیر میں حنفی مسلک کو ترجیح دی گئی ہے اور شیعہ حضرات کا کثرت سے رد کیا گیا ہے۔

اس تفسیر میں لغات میں سے مفردات القرآن اور لسان العرب سے استفادہ کیا گیا ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی اور حکیم نور الدین بھیروی کے بھی حوالے دیے گئے ہیں۔ مولوی محمد سعید نے آیت  ثُمَّ بَعَثْنٰکُم مِّن بَعْدِ مَوْتِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُون (البقرۃ: ۵۶) کا یہ ترجمہ کیا ہے: ’’پھر اس موت کی حالت سے تم کو ہم نے اٹھا کھڑا کیا، تاکہ تم شکر گزار بن جائو‘‘۔ حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ ’’ صاعقہ سے غشی ہو گئی تھی، حالت ِ موت کو پہنچ گئے تھے، دوبارہ زندگی ہوئی‘‘۔ ۷؎

 آیت وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِہِ الرُّسُل( آل عمران: ۱۳۷) کا یہ ترجمہ کیا ہے: ’’اور نہیں ہے محمدؐ مگر ایک رسول، اس سے پہلے سب رسول مر چکے‘‘۔ ۸؎

اس آیت میں لفظ ’خلت‘ کا معنی ’مر چکے‘ کیا گیا ہے، جو کسی لغت سے ثابت نہیں اور نہ آج تک کسی مفسر نے اس آیت سے یہ مراد لیا ہے۔ ’خلا‘ کے مادے سے قرآن کریم میں متعدد الفاظ آئے ہیں : وَإِذَا خَلاَ بَعْضُہُمْ إِلَیَ بَعْض (البقرۃ: ۷۶) وَإِذَا خَلَوْاْ عَضُّواْ عَلَیْْکُمُ الأَنَامِلَ مِنَ الْغَیْْظ(آل عمران: ۱۱۹) قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِکُمْ سُنَنٌ(آل عمران: ۱۳۷)۔ کسی آیت میں اس کا ترجمہ موت سے نہیں کیا گیا ہے۔ قادیانی مترجمین ِ قرآن نے بھی ان کا ترجمہ موت سے نہیں کیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آل عمران آیت ۱۳۷ میں بھی لفظ ’خلت‘ کا معنی موت نہیں ہوگا۔ محض حضرت عیسی ؑ کی وفات کو ثابت کرنے کے لیے میر محمد سعید نے غلط ترجمہ کیا ہے۔

میر صاحب آیت  وَبِالآخِرَۃِ ہُمْ یُوقِنُون (البقرۃ: ۴) کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’ وہ پچھلی آنے والی پر بھی یقین رکھتے ہیں، جو فیضِ محمد سے مالامال ہیں بسلسلۂ کلام نزول وحی میں ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ وہ پہلی کی نازل کر دہ وحی اور الہاموں پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور جو خاتم النبیین پر اتری اس پر بھی اور جو اس کے کامل متبعین اور خدّاموں پر آئی اور تا قیام قیامت آتی رہے گی، اس پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ اور وہ غیر مقلد یا وہابی یا برہمنوں و آریہ نہیں ہیں۔ ۹؎

۴۔ حسن بیان (مولوی غلام حسن نیازی۱۸۵۲ء۔ ۱۹۴۳ء)

۱۹۱۴ء میں جب احمدیوں میں اختلاف ہوا تو نیازی صاحب لاہوری گروپ میں شامل ہو گئے تھے۔ ان کی یہ تفسیر بھی لاہوری گروپ کے عقائد و نظریات کو مدّ نظر رکھ کر لکھی گئی ہے، لیکن آخر عمر میں وہ محمد علی لاہوری سے اختلاف کرتے ہوئے جماعت احمدیہ ربوہ میں شامل ہو گئے تھے اور وفات کے بعد ان کی تدفین بھی قادیان میں ہوئی۔

یہ تفسیر ایک جلد میں ہے اور اس میں مختصر انداز میں پورے قرآن کی تفسیر کی  گئی ہے۔ اس کی وجہِ تالیف کے متعلق مؤلف لکھتے ہیں : ’’خواجہ کمال الدین (۰ ۷ ۸ ۱ ء۔ ۱۹۳۲ء) کی فرمائش پر میں نے ابتدا میں قرآن مجید کا ترجمہ لکھا تھا۔ بعد میں میری خواہش تھی کہ اس کی تفسیر بھی خواجہ صاحب کی نگرانی میں کروں، لیکن ان کی مصروفیات کی بنیاد پر یہ حسرت پوری نہ ہو سکی۔ لیکن خواجہ صاحب کی وفات کے بعد اللہ نے یہ بات میرے دل میں ڈالی کہ میں جدید انکشافات ِ زمانہ کو مد نظر رکھ کر ایک مختصر تفسیر اللہ کی اعانت سے لکھوں، جس سے علماء اور غیر علماء اپنی اپنی حیثیت کے مطابق استفادہ کرسکیں، جس میں خواجہ مرحوم کے بلند خیالات کا کچھ رنگ پایا جائے۔ چنانچہ ان مقاصدکو مد نظر رکھ کر میں نے یہ تفسیر لکھی، جس کا نام اردو زبان میں ترجمہ و مختصر مطالب قرآن موسوم بہ ’ حسن بیان‘ رکھا‘‘۔ ۱۰؎

اس تفسیر کی ابتدا میں تمہید کے بعد مطالب کی ایک مختصر سی فہرست دی گئی ہے۔ ان مطالب پر نمبر ڈال دیے گئے ہیں، جن کی مدد سے تفسیر میں حوالوں کو تلاش کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اس تفسیر کے کل صفحات ۶۵۴ ہیں۔

اس تفسیر کی خصوصیات درج ذیل ہیں :

۱۔ آسان انداز میں با محاورہ ترجمہ کیا گیا ہے۔

۲۔ ہر سورہ کا مختصر انداز میں تعارف کرایا گیا ہے۔

۳۔ اگر کہیں اختلاف ہو تو اس کو بیان کر کے مؤلف نے اپنی رائے دی ہے۔

۴۔ جہاں آیت کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہو وہاں ترجمے کے اندر حوالہ نمبر دے کر نیچے اس کی تشریح کی گئی ہے۔

۵۔ کہیں کہیں مشکل الفاظ کی بھی تشریح موجود ہے۔

۶۔ مولوی غلام حسن نیازی نے یہ تفسیر بالکل مختصر انداز میں لکھی ہے اور اس میں حوالوں کا اہتمام نہیں کیا گیا ہے۔ مصادر و مراجع  کے بارے میں عبد اللہ جان نیازی نے لکھا ہے: ’’ مولانا نے عام مفسرین کی طرح کسی لفظ کے معنی بیان کرنے میں لسان العرب، قاموس، تاج العروس وغیرہ لغتوں کے حوالے نہیں دیے ہیں اور نہ سابقہ مفسرین کی تفسیروں سے حوالہ جات دے کر اپنی تفسیر کے حجم کو زیادہ کیا ہے، بلکہ ان سب کے مطالعے کے بعد اپنی تحقیقات کو آسان فہم اور بامحاورہ ترجمہ اور تفسیر کی شکل دی ہے‘‘۔ ۱۱؎

اس تفسیر میں بہت سی آیات کے جمہور مفسرین سے ہٹ کر نئے معانی پہنائے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر آیت حَتّٰی إِذَا أَتَوْا عَلَی وَادِیْ النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَۃٌ یٰٓأ یُّہَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاکِنَکُم (النمل: ۱۸) میں تمام مترجمین نے ’نملۃ‘ کا ترجمہ ’چیونٹی‘ اور نمل کا ترجمہ ’چیونٹیاں ‘ کیا ہے، لیکن مولوی نیازی نے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے:

’’یہاں تک کہ جب وادی نمل (نملہ قوم کا علاقہ ہے) میں پہنچے تو قوم نملہ کی ایک عورت نے کہا :اے قوم نملہ! اپنے گھروں میں گھس جائو‘‘۔ ۱۲؎

اسی طرح لفظ ’طیر‘ کا ترجمہ پرندہ کیا جاتا ہے، لیکن انھوں نے اسے ایک قوم کا نام بنا دیا ہے اور آیت یَا جِبَالُ أَوِّبِیْ مَعَہُ وَالطَّیْْر (سبا : ۱۲) کا یہ ترجمہ کیا ہے:

’’اے پہاڑوں پر رہنے والو! اس کے ساتھ تم بھی اللہ کی طرف رجوع کرو اور قوم طیر کو بھی یہی حکم دیا‘‘۔ ۱۳؎

۵۔ تفسیر انوار القرآن (ڈاکٹر بشارت احمد) (۱۸۷۶ء۔ ۱۹۴۳ء)

ڈاکٹر بشارت احمد ۱۹۱۴ء میں اختلافات کے بعد محمد علی لاہوری کے ساتھ لاہور آگئے تھے۔ یہ تفسیر دو حصوں پر مشتمل ہے۔ حصۂ دوم سورۂ الذاریات سے شروع ہو کر سورۂ حدید تک ہے اور حصۂ اول سورۂ نبا سے لے کر سورۂ الناس تک ہے۔ اس تفسیر کو انجمن اشاعت اسلام لاہور نے شائع کیا ہے۔

ڈاکٹر صاحب سب سے پہلے سورہ کا تعارف کراتے ہیں اور اس کے مضامین کو مختصر انداز میں بیان کرتے ہیں، اس کے بعد قرآنی متن کو درج کرکے اس کا ترجمہ کرتے ہیں، پھر اس حصے کی تشریح کرتے ہیں۔

قرآنی آیات کی تشریح وہ زیادہ تر سائنسی انداز میں کرتے ہیں۔ مرزا غلام احمد کے اقوال اور الہامات کو بھی بیان کرتے ہیں۔ انھوں نے کہیں کہیں راغب اصفہانی کا بھی حوالہ دیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب معراج جسمانی کا انکار کرتے ہیں۔ چنانچہ آیت مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَی (النجم: ۱۱) کی تشریح میں لکھتے ہیں : ’’ معراج ایک عظیم الشان کشف روحانی تھا، جس میں درحقیقت آپ کو مدارجِ قربِ الٰہیہ کا نظارہ دکھا دیا گیا تھا۔ اگر جسم آسمان پر جاتا اور وہ جسمانی آنکھوں سے وہ سب کچھ دیکھتا تو پھر ان آنکھوں سے دیکھنے کا ذکر ہوتا، مگر یہاں تو جو کچھ دیکھا دل نے دیکھا اور دل کا دیکھنا جسمانی آنکھوں سے نہیں ہوتا‘‘۔ ۱۴؎

اسی طرح ڈاکٹر صاحب حضرت صالح  ؑکی اونٹنی کے معجزانہ طور پر ظہور کا انکار کرتے ہیں۔ آیت اِنَّا مُرْسِلُوالنَّاقَۃِ فِتْنَۃً لَّہُمْ فَارْتَقِبْہُمْ وَاصْطَبِر(القمر: ۲۷) کی تفسیر میں لکھتے ہیں : ’’اکثر مفسرین نے جو یہ لکھا ہے کہ یہ اونٹنی پہاڑ میں سے نکلی تھی اور نر و مادہ سے پیدا نہ تھی، یہ محض افسانہ ہے، جس کی کوئی اصل نہیں۔ ان کی نگاہ میں معجزہ اور نشان یہی ہوتا تھا کہ کوئی عجیب بات ہمیں نظر آجائے، جس کے سمجھنے سے عقل انسانی عاجز ہو۔ پس یہ قصہ گھڑ لیا گیا‘‘۔ ۱۵؎

۶۔ بیان القرآن (محمد علی لاہوری)

مرزا غلام احمد نے اپنے ایک الہام میں محمد علی لاہوری کی تفسیر کا ذکر کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے: ’’ پھر بعد میں اس کی ایک کتاب مجھ کو دی گئی، جس کی نسبت یہ بتایا گیا کہ یہ تفسیر قرآن ہے، جس کو علی نے تالیف کیا اور اب علی وہ تفسیر تجھ کو دیتا ہے‘‘۔ ۱۶؎

ابتدا میں محمد علی کے درس قرآن کے نوٹ روزانہ اخبارات میں شائع ہو ئے۔ سورۂ فاتحہ تا سورۂ الناس کا ترجمہ اور تفسیری نوٹ ’نکات القرآن‘ کے نام سے چار حصوں میں طبع ہوئے۔ پھر بیان القرآن کی اشاعت ایک ایک پارہ کر کے شروع ہوئی۔ ابتدائی چھ سات پارے اسی طرح چھپے، لیکن بعد میں یہ کتاب جلدوں کی صورت میں شائع ہونے لگی۔ بیان القرآن جلد اول ۱۹۲۲ء میں، جلد دوم ۱۹۲۳ء میں اور جلد سوم ۱۹۲۴ء میں انجمن اشاعت اسلام لاہور نے شائع کی۔ ابتدا میں سورہ کے حساب سے مضامین کی فہرست دی گئی تھی۔ حوالہ جات میں کتابوں کے مخفف نام دیے گئے ہیں، جیسے ’ت‘ سے تاج العروس اور ’ث‘ سے ابن کثیر وغیرہ۔

محمد علی لاہوری پہلے متن قرآنی لکھ کر اس کا ترجمہ کرتے ہیں، پھر سورہ کی فضیلت بیان کرتے ہیں، ان کا خلاصہ درج کرتے ہیں، پھر الفاظ کی لغوی تشریح کرنے کے بعد آیت کی وضاحت کرتے ہیں۔ اس تفسیر میں تین چیزوں کا خاص خیال رکھا گیا ہے: (۱) آیات میں باہمی تعلق، جہاں جہاں ضرورت تھی، حواشی میں بیان کر دیا ہے۔ (۲) ہر سورت کے رکوعات میں باہمی تعلق۔ (۳) سورتوں میں باہمی تعلق۔ اس کے علاوہ ہر رکوع کا خلاصہ بھی دیا گیا ہے۔

محمد علی نے دیگر قادیانیوں کے مقابلے میں اپنی تفسیر کو علمی رنگ دیا ہے۔ انھوں نے سلف صالحین سے خوب استفادہ کیاہے اور اپنی ہر بات کا حوالہ دیا ہے۔ لیکن افسوس کہ انھوں نے اپنے مسلک کو ترجیح دیتے ہوئے اکثر جگہوں پر اپنی رائے یا قول مرجوح کو بیان کیا ہے۔ انھوں نے تفسیر ابن جریر، تفسیر ابن کثیر، تفسیر کبیر امام رازی، تفسیر البحر المحیط، تفسیر بیضاوی، تفسیر کشاف، تفسیر فتح البیان اور لغات میں سے مفردات راغب اور لسان العرب سے خوب استفادہ کیا ہے۔

محمد علی لاہوری کی تفسیر میں بہت سی باتیں جمہور مفسرین سے ہٹی ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر وہ آیت  وَإِذْ أَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّور( البقرۃ: ۶۳) کی تشریح لکھتے ہوئے لکھتے ہیں :’’ وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّورکے معنی یہ نہیں ہیں کہ پہاڑ کو اپنی جگہ سے اٹھا کر اونچا کیا، بلکہ یہ ہے کہ تم نیچے تھے اور پہاڑ تمہارے اوپر اٹھا ہوا تھا۔۔۔ اس آیت کے یہ معنی بیان کرنا کہ بنی اسرائیل کے سروں پر پہاڑ کو لا کر معلق کر دیا گیا تھا کہ اگر تم ان احکام کو نہ مانو تو ابھی پہاڑ تمھارے سروں پر آپڑے گا، قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف ہے۔لاَ إِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْنِ۔جب انسان کو حکم ہے کہ دین میں جبر نہ کرے تو خدا کا جبر کرنا کیا معنیٰ، علاوہ ازیں اس جبر کا تو یہی جواب بنی اسرائیل کی طرف سے کافی ہے کہ ہم نے اقرار کوئی نہیں کیا، ڈرا کر اقرار لیا گیا‘‘۔ ۱۷؎

سورۂ ہود کی آیات ۱۰۶۔۱۰۷ یہ ہیں : فَأَمَّا الَّذِیْنَ شَقُواْ فَفِیْ النَّارِ لَہُمْ فِیْہَا زَفِیْرٌ وَشَہِیْقٌ۔خَالِدِیْنَ فِیْہَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالأَرْضُ إِلاَّ مَا شَاء  رَبُّکَ إِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْد‘‘۔ ان کی تفسیر میں انھوں نے جہنم کے دائمی ہونے کا انکار کیا ہے۔ لکھا ہے: ’’اہل شقاوت دوزخ میں ہمیشہ نہیں رہیں گے، کیوں کہ  مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْض کے بعد إِلاَّ مَا شَاء  رَبُّکَ، إِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْد ہے، جس میں استثناء موجود ہے اور لفظ فعاّل مبالغہ کا صیغہ ہے‘‘۔ ۱۸؎

یہ بات صحیح ہے کہ ان آیات میں عذاب ِ الٰہی سے استثناء موجود ہے، مگر اس استثناء میں کفار و مشرکین داخل نہیں۔ قرآن میں ایسی بہت سی آیات ہیں جو کفار و مشرکین کے دائمی جہنمی ہونے پر دلالت کر تی ہیں۔ مثال کے طور یہ پر آیت ملاحظہ ہو:  إِنَّہُ مَن یُشْرِکْ بِاللّہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ  (المائدۃ: ۷۲)

۷۔ تفسیر کبیر (مرزا بشیر الدین محمود احمد)

مرزا بشیر الدین نے اپنے ابتدائی دور میں قرآن کی ا شاعت کے لیے احمدی علماء کی ایک کمیٹی بنائی تھی، جس کے ذمے یہ کام تھا کہ و ہ قرآن کا ترجمہ و تشریح کر کے شائع کرے۔ اس کمیٹی کی تیار کر دہ پہلے پارے کی تفسیر شائع ہوئی تھی، لیکن اب وہ نایاب ہے۔اس کا ایک نسخہ خلافت لائبریری، چناب نگر میں موجود ہے۔ اس تفسیر کا انداز تفسیر کبیر کی طرح ہے۔ یہ بات بھی تحقیق طلب ہے کہ تفسیر کبیر مرزا بشیر الدین کی ہے یا نہیں ؟

مرزا بشیر الدین سب سے پہلے سورت کا تعارف کراتے ہیں اور اس کے متعلق واقعات کو بیان کرتے ہیں، پھر اس سورہ کے مضامین کو بیان کرتے ہیں۔ اس کے بعد قرآن مجید کا متن لکھ کر آگے اس کا ترجمہ کرتے ہیں اور جس آیت کی وضاحت کرنی ہو اس کا نمبر دے کر نیچے اس کی وضاحت کرتے ہیں۔ سب سے پہلے لغوی وضاحت کرتے ہیں، پھر اس آیت کے مضامین کو بیان کرتے ہیں۔ اس تفسیر میں لغات میں سے مفردات امام راغب اور لسان العرب سے، سابقہ آسمانی کتابوں سے اور مستشرقین کے اقوال سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ اس تفسیر سے ترجمہ کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں :

آیت فَلَمَّا أَن جَاء  الْبَشِیْرُ أَلْقٰہُ عَلَی وَجْہِہِ فَارْتَدَّ بَصِیْراً (یوسف: ۹۶) کا یہ ترجمہ کیا ہے:’’ پس جو نہی کہ (یوسف مل جانے کی) بشارت دینے والا(شخص حضرت یعقوبؑ کے پاس )آیا اس نے اس (کرتے) کو اس کے سامنے رکھ دیا، وہ صاحب بصیرت ہو گیا‘‘۔ ۱۹؎ اس ترجمے سے ظاہر ہوا کہ مرزا بشیر احمد نے آیت کو اس کے اصل معنیٰ سے پھیر دیا ہے۔

سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت سُبْحٰنَ الَّذِیْ أَسْرَی بِعَبْدِہِ لَیْْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی الْمَسْجِدِ الأَقْصٰی۔۔۔۔ کا انھوں نے یہ ترجمہ کیا ہے: ’’پاک (ذات اور صفات) ہے وہ (خدا) جو رات کے وقت اپنے بندے کو (اس) حرمت والی مسجد سے (اس) دور والی مسجد تک لے گیا جس کے ارد گرد کو (بھی) ہم نے برکت دی ہے‘‘۔ ۲۰؎

اس آیت میں ’مسجد اقصیٰ‘کا ترجمہ ’دوروالی مسجد‘ کر کے اسے ’مسجد نبوی‘ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس طرح معراج میں اللہ کے رسول ﷺ کے جسمانی سفر کاا نکار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ آیت  وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلآئِکَۃِ اسْجُدُواْ۔۔ (بنی اسرائیل: ۶۱) کا یہ ترجمہ کیا گیا ہے: ’’ اور (اس وقت کو بھی یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں کو کہا تھا (کہ) تم آدم کے ساتھ (ساتھ) سجدہ کرو تو انھوں نے (اس حکم کے مطابق) سجدہ کیا، مگر ابلیس (نے نہ کیا)۔ ‘‘۲۱؎

اس طرح قوسین میں اضافہ کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ فرشتوں کو حکم آدم کو سجدہ کرنے کا نہیں دیا گیا تھا، بلکہ انھیں حکم آدم کے ساتھ اللہ کو سجدہ کرنے کا تھا۔ دیکھا جائے تو یہ آیت کی معنوی تحریف ہے۔

۸۔ تفسیر صغیر (مرزا بشیر الدین محمود احمد)

مرزا بشیر الدین محمود احمد نے پہلے قرآن کے ترجمے کے ساتھ ہی تشریحی نوٹ تیار کیے تھے، لیکن جب اس پر اعتراضات کیے گئے تو انھوں نے ان تشریحی نوٹس کو نیچے حاشیے میں کر دیا۔ تفسیر صغیر کا پہلا ایڈیشن ۱۹۹۷ء میں شائع ہوا ہے۔ یہ ایک جلد میں ہے اور اس کے کل صفحات آٹھ سو باون(۸۵۲)ہیں۔ ابتدا میں مضامین کو حروف تہجی کے اعتبار سے انڈیکس کی صورت میں لکھا گیا ہے، جو کہ سو (۱۰۰) صفحات پر مشتمل ہے۔

تفسیر صغیر میں ابتداء میں قرآنی آیت کو بیان کر کے ترجمہ کیا گیا ہے، اس کے بعد مشکل مقامات کی وضاحت حاشیہ میں مختصر انداز میں کی گئی ہے۔ لغات اور عربی محاورات کے ساتھ تفسیر بالرائے مذموم کی صورت اختیار کی گئی ہے۔ بعض آیات کی تفسیر میں معتدل اقوال تھے، مفسرین نے ان اقوال میں سے بعض کو راجح، بعض کو مرجوح اور بعض کو بالکل ناقابل توجہ قرار دیا ہے۔ مرزا محمود احمد نے مرجوح اور ساقط الاعتبار قسم کے اقوال کو چن چن کر تفسیر صغیر میں جمع کیا ہے۔ اس طرح حضرت انبیاء ؑ کے بہت سے معجزات کا انکار کیا ہے اور ان کی مختلف تاویلیں کی ہیں۔

مرزا بشیر الدین محمود نے بہت سی آیات کے غلط معانی بیان کیے ہیں۔ مثال کے طور پر آیت  وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰئِکَۃِ اسْجُدُواْلِادَمَ۔۔۔(البقرۃ: ۳۴) کا یہ ترجمہ کیا ہے: ’’ اور (اس وقت کو بھی یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کی فرما ن برداری کرو، اس پر انھوں نے تو فرماں برداری کی، مگر ابلیس (نے نہ کی۔ اس) نے انکار کیا‘‘۔ اور حاشیہ میں لکھا ہے: ’’ آدم کی پیدائش کی وجہ سے خدا تعالیٰ کو سجدہ کرو، یہ مراد نہیں کہ آدم کو سجدہ کرو‘‘۔ ۲۲؎

اسی طرح آیت  عَلِمَ اللّہُ أَنَّکُمْ کُنتُمْ تَخْتانُونَ أَنفُسَکُمْ۔ ۔(البقرۃ: ۱۸۷) کا یہ ترجمہ کیا ہے: ’’ اللہ کو معلوم ہے کہ تم اپنے نفسوں کی حق تلفی کرتے ہو، اس لیے اس نے تم پر فضل سے توجہ کی اور تمہاری (اس حالت کی) اصلاح کر دی‘‘۔ ۲۳؎

انھوں نے  تَخْتانُونَ أَنفُسَکُم  کے معنی میں تحریف کی ہے۔ اس کا صحیح معنی ہے ’خیانت کرنا‘، لیکن مرزا محمود نے اس کا معنیٰ کر دیا حق تلفی کرنا۔

اسی طرح آیت  یَا مَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّکِ وَاسْجُدِیْ وَارْکَعِیْ مَعَ الرَّاکِعِیْن (آل عمران: ۴۳) کا یہ ترجمہ کیا ہے: ’’ اے مریم ! تو تو اپنے رب کی فرماں بردار بن اور سجدہ کر اور صرف موحدانہ پرستش کرنے والوں کے ساتھ مل کر موحدانہ پرستش کر‘‘۔ پھر حاشیہ میں لکھا ہے: ’’ عربی میں ’رکع‘ کے معنی توحید کے مطابق عبادت کرنے کے ہیں، اس لیے یہ ترجمہ کیا گیا ہے کہ موحدانہ پرستش کر ‘‘۔ ۲۴؎

مرزا محمود نے اس آیت کے اندر ’رکع‘ کے معنی میں تحریف کی ہے۔ اس کے لفظی معنیٰ ہیں ’جھکنا‘۔ اسی طرح اس کا استعمال تواضع کے معنیٰ میں ہوتا ہے۔ اس بنا پر اس کا معنیٰ موحدانہ پرستش کرنا سراسر غلط ہے۔

۹۔ تفسیر سورۂ بنی اسرائیل (مولوی عبد اللطیف بہاول پوری)(۱۸۹۵ء۔۷۷ ۱۹ء)

یہ قرآن مجید کی سورۂ بنی اسرائیل کی تفسیر ہے۔ عبد اللطیف بہاول پوری نے اس کو اپنی ہائی اسکول کی مدتِ ملازمت کے دوران لکھاتھا۔ اس میں وہ کھل کر آیات مبارکہ کا مصداق مرزا غلام احمد اور جماعت احمدیہ کو قرار نہیں دیتے، لیکن یہ بات ثابت کرنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں کہ مرزا غلام احمد مہدی موعود ہیں اور وہی موجودہ حالات میں مسلمانوں کو نجات دلا سکتے ہیں۔

عبد اللطیف بہاول پوری نے آیات ِ قرآنی میں جا بجا تحریف کی ہے۔ چنانچہ سورہ ٔبنی اسرائیل کی پہلی آیت  سُبْحَانَ الَّذِیْ أَسْرَی۔ ۔۔ کی تشریح میں لکھتے ہیں :  ’’فرقان حمید کا قاعدہ ہے کہ جہاں کہیں اس میں اسراء باللیل کا ذکر آتا ہے وہاں اس سے مراد ہجرت ہوتی ہے۔ پس اس اصول کے مطابق یہاں أَسْرَی بِعَبْدِہکے ضمن میں آں حضرت ﷺ کی ہجرت کی طرف اشارہ ہے اور اس میں یہ پیش گوئی ہے کہ یہی ہجرت آپ ؐ کے آئندہ دور عروج و اقبال کے لیے شان دار معراج ہوگی‘‘۔ ۲۵؎

ایک اور جگہ ’مقام محمود‘ کی غلط تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’ مقام محمود کے سات ادوارِ ارتقاء ہیں : چھ تو آں حضرت ﷺ کی زندگی میں ہو گئے، لیکن اس کا ساتواں دور، جس میں مقام ِمحمود کی تجلیات کا کامل ظہور ہوگا، وہ مسیح موعود مرزا غلام احمد کی شکل میں ہوا ہے۔ اس وقت حضر ت مسیح موعود پر ایک طرف تو یہ وحی بالفاظ قرآنی  عَسَی أَن یَبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَاماً مَّحْمُودا ہو کر سابقہ وعدہ کی یاد تازہ کرتی ہے تو دوسری طرف آپ کو یہ الہام ہوا کہ  اَرَادَ اللّہ أَن یَبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَاماً مَّحْمُودا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وحی سابقہ میں جس وعدہ کی توقع تھی اس کے وقوع کا زمانہ یہی ہے۔ آپ کو اس موعود مقام پر کھڑا کر کے عظیم الشان فتوحات کا وعدہ دیا جاتا ہے اور اس کے لیے آپ کو ایک مدعو بیٹے مثیل فاروق فضل عمر محمود کی بشارت دی جاتی ہے‘‘۔ ۲۶؎

یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ بہاول پوری نے قرآنی آیات میں کتنی بڑی تحریف کی ہے، اس کا مصداق مرزا غلام احمد کو قرار دیا ہے، ’مقام محمود‘ کا غلط مفہوم بیان کر کے آں حضرت ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی ہے اور مرزا بشیر الدین محمود احمد کو خوش کرنے کے لیے اس کی پیدا ئش کو بھی وحی سے ثابت کیا ہے۔

۱۰۔ تفسیر سورۂ کہف۔ (مولوی عبد اللطیف بہاول پوری)

اس تفسیر کا کا عربی نام اقامۃ الزحف لاظہار أنباء سورۃ الکہف‘‘ہے۔ اس میں عبد اللطیف بہاول پوری نے کہف و رقیم سے قادیان و ربوہ مراد لے کر پوری سورت کو آں حضرت ﷺ کی طرح مرزا غلام احمد اور خلیفۂ ثانی مرزا بشیر الدین احمد کو بھی اس کا مصداق ٹھہرایا ہے۔

اس سورہ کی تشریح میں بہاول پوری نے اپنی جماعت کی فضیلت اور قرآن کے نزولِ ثانی کو ثابت کرتے ہوئے بڑے عجیب انداز میں لکھا ہے: ’’ عالم گیر جنگ کی صورت میں ۱۹۱۴ء سے ۱۹۱۸ء تک عذابِ الٰہی کا کوڑا مغربی اقوام پر پڑ کر انھیں بیدار کرنے والا تھا۔ سورت کی پہلی آیت میں اس کی پیشین گوئی مخفی تھی۔ اس کے اعداد ۱۹۱۸ ہیں، جو جنگ کے خاتمے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ اس جنگ کے بعد احمدیہ مشن ان ممالک میں جلد ہی پھیلنے شروع ہو گئے‘‘۔ ۲۷؎  اس کے بعد قرآن کے نزول ثانی کو ثابت کرتے ہوئے لکھتا ہے : ’’ لَم یَجعَل لَہ عِوَجاً:یہاں ’لم یجعل لہ‘کا لفظ رکھا گیا ہے، ’لا یجعل‘ نہیں فرمایا، جس سے قرآن حکیم کے نزولِ ثانی کے عہد کی طرف اشارہ ہے۔ ۲۸؎

۱۱۔ تفسیر سورۂ یٰسین(مولوی عبد اللطیف بہاول پوری)

اس تفسیر کا دوسرا نام ہے: ’’ مشاہدات عین الیقین بأنباء سورۃ یٰسین‘‘۔ اس میں عبد اللطیف بہاول پوری نے ہر آیت کا مصداق مرزا غلام احمد اور اس کے خلفاء کو قرار دیا ہے۔ یہ تفسیر جماعت کے خلیفۂ ثالث کے دور میں لکھی گئی۔ معنوی تحریف کی ایک مثال یہ ہے کہ آیت تَنزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْم۔ (یٰس ٓ: ۴) کا یہ ترجمہ کیا ہے: ’’تیرا نزول (دوبارہ بھی) خدائے عزیز و رحیم کی طرف سے ہے‘‘۔ ۲۹؎

اسی طرح آیت وَجَائَ  مِنْ أَقْصَی الْمَدِیْنَۃِ رَجُلٌ یَسْعَی۔۔۔(یٰس ٓ: ۲۰) کی تشریح میں لکھا ہے کہ : ’’ یہاں ’رجل‘ سے مراد مردِ فارس حضرت مسیح موعودؑ ہیں اور  ’ اقصی المدینۃ‘ سے مراد قادیان ہے‘‘۔ ۳۰؎

۱۲۔ تفسیر سورۂ القیامۃ و الدھر (مولوی عبد اللطیف بہاول پوری)

اس تفسیر کا عربی نام ’ نشید الثقلین علی تنشیط تفسیر السورتین‘ ہے۔ یہ تفسیر ضیاء الاسلام پریس ربوہ سے شائع ہوئی تھی۔ اس میں بہاول پوری نے قرآن مجید کے متعدد بیانات کو مرزا غلام احمد اور جماعت احمدیہ پر چسپاں کیا ہے۔مثال کے طور پر سورۂ الدھرکی ابتدائی دو آیات یہ ہیں :ہَلْ أَتٰی عَلَی الْإِنسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّہْرِ لَمْ یَکُن شَیْْئاً مَّذْکُوراً۔ إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَۃٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِیْہِ فَجَعَلْنٰہُ سَمِیْعاً بَصِیْراً۔ إِنَّا ہَدَیْْنٰہُ السَّبِیْلَ إِمَّا شَاکِراً وَإِمَّا کَفُوراً۔ اس کاترجمہ عبد اللطیف بہاول پوری نے یہ کیا ہے:

’’کیا اس انسان (کامل) پر وہ گھڑی آگئی ہے کہ اسے بے حقیقت قرار دیا جاتا ہے اور اس کے کاموں کو کوئی یاد نہیں کرتا۔ (گھبرائو نہیں ) ہم نے اس انسان کو بھی پیدا کیا ہے (جو ان بہتان تراشوں کا خوب مقابلہ کرے گا) ایسے نطفے سے جس میں مختلف (خاندانوں کی) ملاوٹ ہے، ہم اس کی آزمائش کریں گے۔ پھر ہم اس کو سمیع و بصیر بنائیں گے‘‘۔ ۳۱؎

پھر آیات کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’اس آیت میں لفظ ’انسان‘ کو دو دفعہ دہرایا گیا ہے، ورنہ بہ ظاہر چاہیے تو یوں تھا کہ دوسری ضمیر پر اکتفا کیا جاتا کہ فصاحت و بلاغت کلام کا یہی تقاضا ہے، مگر ضمیر کی جگہ لفظ ’انسان‘ کو دہرانا ایک خاص حکمت اور مصلحت کے ماتحت ہے، جس میں موجودہ زمانے کے متعلق عظیم الشان پیش گوئی کی طرف اشارہ ہے، جس کا انکشاف عصر حاضر میں ہونا ہی مناسب تھا۔۔پس پیش گوئی کے لحاظ سے پہلے انسان سے آں حضرت ﷺ کی ذات اقدس مراد ہے اور دوسرے میں آپ کے غلام، بروزِ اکمل، مہدی موعود، مسیح موعود، موعود اقوام عالم کی طرف اشارہ ہے۔ چوں کہ ان ہر دو انسانوں کی شخصیت اور مراتب میں بہت بڑا فرق اور امتیاز تھا، اس لیے دوسرے کو پہلے سے جدا رکھا اور ضمیر پر اکتفا نہ کیا‘‘۔ ۳۲؎

۱۳۔ The Holy Quran

مرزا بشیر الدین کی طرف سے بنائی ہوئی ٹیم نے ۱۹۵۴ء میں اس تفسیر کو مکمل کیا۔ اس کی پانچ جلدیں ہیں، جن کے کل صفحات دو ہزار نو سو سترہ(۲۹۱۷) ہیں۔ اس کا پورا نام یہ ہے: The Holy Quran with English Translation and Commentary ہے۔ اس میں تشریح کے اندر عربی کی اصلی عبارت کو عربی میں ہی لکھا گیا ہے۔ اسے پڑھنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ یہ تفسیر مرزا بشیر الدین کی تفسیر کبیر کو مد نظر رکھ کر لکھی گئی ہے۔

اس تفسیر میں سب سے پہلے سورہ کا تعارف کرایا گیا ہے، اس کے بعد متن قرآنی لکھ کر اس کا ترجمہ کیا گیا ہے، پھر تشریح کی گئی ہے۔ اس تفسیر میں مفردات اما م راغب، لسان العرب اور تفاسیر میں تفسیربیضاوی، تفسیر رازی اور تفسیر ابن کثیر کو مد نظر رکھا گیا ہے، لیکن زیادہ تر انحصار آسمانی کتب اور اپنی رائے پر رکھا گیا ہے۔

اس میں بہت سی تحریفات پائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر سورۂ الکوثر میں لفظ ’الکوثر‘ کے متعلق لکھا ہے:الکوثر So the promised messiah may be   refered to in this verse.  ۳۳؎

اسی طرح سورۂ ’ لہب‘ میں ’وَامرَأتُہ حَمَّا لَۃ الحَطَب‘ کی تفسیر میں لکھا ہے:

The verse may also apply to people in western democracies or in the communist bloc who spread columnies and false accuasation against Islam and urge their leaders to break its power. ۳۴؎

۱۴۔ The holy Quran short commentry  ملک فرید (م۱۹۷۷ء)

یہ قرآن مجید کی مختصر انداز میں انگریزی زبان میں تفسیر ہے۔ اس کا پہلا ایڈیشن ۱۹۶۹ء میں شائع ہوا۔ اس کے کل صفحات ایک ہزار چار سو نو(۱۴۰۹) ہیں۔ آخر میں عربی الفاظ کا انڈیکس بھی دیا گیا ہے۔ یہ تفسیر جماعت احمدیہ کی طرف سے پانچ جلدوں پر مشتمل تفسیر کا خلاصہ ہے اور مرزا بشیر الدین احمد کے تفسیری اقوال کو    مدّنظر رکھ کر لکھی گئی ہے۔ اس تفسیر میں تین ہزار چار سو چوہتر (۳۴۷۴) مقامات کی تفسیر کی گئی ہے۔ اس کا مکمل نام یہ ہے:

The Holy Quran: Arabic Text with English Translation and Short Commentary

ملک غلام فرید سب سے پہلے سورہ کا تعارف کراتے ہیں۔ اس کے بعد عربی متن لکھ کر آگے انگریزی میں ترجمہ کرتے ہیں۔ آخر میں اس کی وضاحت کرتے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے پہلے لغات کی وضاحت کرتے ہیں، پھر اس آیت کی تشریح کرتے ہیں۔ اس تفسیر میں عربی کے اصلی الفاظ کو تشریح میں نہیں لکھا گیا ہے۔

ملک غلام فیصل نے لکھا ہے کہ ’’ میں نے تفسیر میں سب سے پہلے قرآن سے استفادہ کیا ہے، اس کے بعد مستند کتبِ احادیث (الجامع للبخاری، الجامع لمسلم) سے، پھر مستند کتبِ لغات(مفردات امام راغب، لسان العرب) سے اور آخر میں تاریخی کتب سے استفادہ کیا ہے‘‘۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک غلام فریدان مصادر سے استفادہ کر کے آخر میں اپنی رائے بیان کرتے ہیں اور اس کو باقی دلائل پر فوقیت دیتے ہیں۔

اس تفسیر میں بہت سے انحرافات پائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر آیت :   وَیَقْتُلُونَ النَّبِیِّیْنَ بِغَیْْرِ الْحَق(البقرۃ: ۶۱) کا ترجمہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے:And sought to play the prophets unjustly.۔ اور حاشیہ میں لکھا ہے: To Attamp or intend to Kill۔اس طرح قتل کو ’ارادۂ قتل‘ کے معنیٰ سے بدل دیا گیا ہے۔

اسی طرح آیت وَآخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوا بِہِمْ وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْم (الجمعۃ: ۳) کی تشریح میں رسول اللہ ﷺ کی بعثت ِثانیہ‘ کے نام پر مسیح موعود کی آمد کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ لکھا ہے:

The reference in the verse and in a well known saying of the Holy Prophet is to the second advant of the Holy prophet himself in the person of the promised messiah in the latter days. Thus the Quran and the Hadith both agree that the present verse refers to the Second Advant of the Holy Prophet in the person                                of the prmised messiah   ۳۶؎.

۱۵۔ قرآن مجید: ترجمہ مع تفسیر (پیر صلاح الدین م ۱۹۹۳ء)

اس تفسیر میں سورتوں اور آیات کے ربط کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے۔ یہ تفسیر چار جلدوں میں ہے۔ پہلی جلد کی ابتدا میں قرآنی اصطلاحات اور جنت و دوزخ اور حروفِ مقطعات کے بارے میں جماعت احمدیہ کے نظریات کو بیان کیا گیا ہے۔

پیر صلاح الدین ابتدا میں سورہ کی تمام آیات کا آپس میں ربط بیان کرتے ہیں، اس کے بعد قرآنی آیت کا متن لکھ کر اس کا ترجمہ کرتے ہیں، پھر لغوی بحث کرکے اس کی تفسیر کرتے ہیں۔

اس تفسیر میں روح البیان، تفسیر رازی، تفسیر بیضاوی، کتب سماوی سابقہ اور لغات میں سے تاج العروس اور غریب القرآن کے علاوہ حکیم نور الدین بھیروی کے اقوال کثرت سے پیش کیے گئے ہیں۔

اس تفسیر میں بھی جا بجا قادیانی افکار و نظریات ملتے ہیں۔ مثلاً آیت: وَآخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوا بِہِمْ (الجمعۃ: ۳) کا یہ ترجمہ کیا ہے: ’’ اور وہ اس رسول کو ان دوسرے لوگوں میں بھی بھیجے گا، جو صحابہ میں سے ہوں گے، لیکن مکان اور زمان کے اعتبار سے ان سے جدا ہوں گے‘‘۔ ۳۷؎

آیت وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَت(التکویر: ۱۰) میں ’وحوش‘ کا ترجمہ ’وحشی قومیں ‘ کیا ہے: ’’ جب وحشی قوموں کو اکٹھا کیا جائے گا‘‘۔ ۳۸؎؎ جب کہ مفسرین نے عام طور پر اس کا ترجمہ ’وحشی جانور‘ کیا ہے۔

آیت حَتَّی مَطْلَعِ الْفَجْرِ (القدر: ۵) کی تفسیر میں آں حضرت ﷺ کی بعثتِ ثانیہ کو ثابت کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’ ابجد کے اعتبار سے اس کے ۱۲۸۲؍ عدد بنتے ہیں، گویا ۱۲۸۲؍ برس کے بعد ایک نیا دن نمو دار ہوگا، یعنی آں حضرت محمد ﷺ ایک نئی شان میں ظاہر ہوں گے‘‘۔ ۳۹؎

۱۶۔ قرآن مجید (مرزا طاہر احمد) (۱۹۲۸ء۔ ۲۰۰۳ء)

یہ تفسیر ایک جلد میں ہے۔ اس میں ترجمۂ قرآن کے ساتھ مختصراً تشریح کی گئی ہے۔ اس کے کل صفحات بارہ سو اکتیس(۱۲۳۱ )ہیں۔ آخر میں مضامین، اسماء، مقامات اور کتابیات کا انڈیکس حروف تہجی کے اعتبار سے دیا گیا ہے۔

مرزا طاہر احمد ابتدا میں سورت کا تعارف کراتے ہیں اور اس کے بعد قرآنی متن لکھ کر ترجمہ کرتے ہیں۔ کہیں کہیں حاشیہ میں مختصر وضاحت بھی کر دیتے ہیں۔ مشکل الفاظ کی وضاحت میں مفردات امام راغب سے استفادہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنی رائے سے تشریح کرتے ہیں اور کہیں کہیں مرزا غلام احمد کے اقوال کو بھی بہ طور دلیل پیش کرتے ہیں۔

اس تفسیر میں بھی بہت سے مقامات پر آیات کی بے جا تاویلیں کی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر آیت  فَقَالَ لَہُمُ اللّہُ مُوتُواْ ثُمَّ أَحْیَاہُمْ  (البقرۃ: ۲۴۳) کا یہ ترجمہ کیا ہے: ’’ تو اللہ نے ان سے کہا : تم موت قبول کرو اور پھر (اس طرح) انھیں زندہ کر دیا‘‘۔۴۰؎ اور حاشیہ میں لکھا ہے: ’’مُوتُوا سے مراد جسمانی موت نہیں ہے، کیوں کہ خود کشی حرام ہے۔ اس سے مراد اپنے نفسانی جذبات پر موت وارد کرنا ہے‘‘۔ ۴۱؎

آیت فَأَمَاتَہُ اللّہُ مِائَۃَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَہُ (البقرۃ: ۲۵۹) کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’ اس آیت کریمہ سے مراد صرف یہ ہے کہ ایک رات کی نیند میں اسے آئندہ سو سال کے دوران رو نما ہونے والے واقعات دکھلا دیے گئے، مگر جب اس کی آنکھ کھلی تو اللہ نے اسے فرمایا: دیکھا، تیرا گدھا بھی اسی طرح موجود ہے اور تیرا کھانا بھی ترو تازہ ہے، جیسا کہ رات کو رکھا گیا تھا۔۴۲؎

مرزا طاہر احمد اپنے داد مرز اغلام احمد کی نبوت کا قائل تھا۔ چنانچہ اپنی تفسیر میں وہ بعض مقامات پر اس بات کا ثبوت قرآنی آیات سے پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ چنانچہ سورۂ جمعہ کی آیت وَآخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوا بِہِمْ(الجمعۃ: ۳) کی تفسیر میں لکھتا ہے: ’’ ان میں اسی رسول کی بعثت کا ذکر ہے جس کا گزشتہ آیت میں ذکر ہوا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جس رسول کا آغاز میں ذکر ہے وہ دوبارہ خود مبعوث نہیں ہوگا، بلکہ اس کا کوئی ’ظل‘ مبعوث فرمایا جائے گا، جو شرعی نبی نہیں ہوگا۔ ۴۳؎

مزید اگلی آیت ذٰلِکَ فَضْلُ اللَّہِ یُؤْتِیْہِ مَن یَشَاء( الجمعۃ:۴) کی تشریح میں لکھا ہے: ’’اس سے مراد آپؐ کی بعثت ثانیہ ہے، جو آپ کی غلامی میں ظاہر ہونے والے ایک امتی نبی کی صورت میں ہوگی‘‘۔ ۴۴؎

سورۂ فجر کی تفسیر میں اس عقیدے پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے:’’ آں حضرت ﷺ کے بیان کے مطابق ایک غیر تشریعی امتی نبی کو ظاہر ہونا تھا۔ یہ زمانہ چودھویں صدی ہجری کے آغاز تک پھیلا ہوا ہے، جس میں مسیح موعود کا ظہور ہوا۔ ۴۵؎

۱۷۔ مخزن المعارف (پیر معین الدین) (۱۹۲۵ء۔ ۲۰۰۶ء)

یہ تفسیر ایک جلد میں ہے۔ اس میں سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کی تفسیر کی گئی ہے۔ اس کے کل پانچ سو گیارہ (۵۱۱) صفحات ہیں۔ سورۂ فاتحہ کی تفسیر میں ’بسم اللہ‘ کے مستقل آیتِ قرآنی ہونے پر دلائل دیے گئے ہیں۔ پیر معین الدین ابتدا میں سورہ کا تعارف اور اس کے مضامین کا خلاصہ بیان کرتے ہیں۔ آخر میں آیتِ قرآنی کی وضاحت دیگر قرآنی آیات، لغات اور مرزا غلام احمد اور حکیم نور الدین کے اقوال و ’الہامات‘ سے کرتے ہیں۔

اس تفسیر میں تفسیر ابن کثیر اور تفسیر بیضاوی او ر لغت میں المنجد کے حوالے دیے گئے ہیں۔ اس میں قادیانی نظریات کے حوالے جابہ جا موجود ہیں۔ مثال کے طور پر سورۂ فاتحہ میں لفظ ’حمد‘ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’جس طرح خدا تعالیٰ نے آپؐ کو پیدا کیا، آپ بھی اپنی روحانی توجہ اور قوت قدسیہ سے کوئی محمد اور احمد پیدا کریں، یعنی آپ کی تربیت اور قوتِ قدسیہ کے اثرات سے آپؐ کے غلاموں میں سے کوئی شخص ایک اعتبار سے احمد ہو اور ایک اعتبار سے محمد ہو، یعنی خدا تعالیٰ اس کا محمد ہو تو وہ خدا کا احمد ہو اور وہ خدا کا محمد ہو تو خدا اس کا احمد ہو۔ اسی طرح آں حضرت ﷺ کی نسبت سے بھی اس کے دو نام ہوں۔ یعنی آپؐ ہوں تو احمد (یعنی آپ کی سچی تعریف کرنے والا) اور وہ محمد ہے تو آپؐ احمد ( یعنی اس کی سچی تعریف کرنے ولا) ہوں۔ تاہم جس طرح سب سے پہلے محمد اور احمد یعنی خدا اور آں حضرتؐ کے مقام میں فرق ہے، اسی طرح آں حضرت محمد ﷺ اور اس موعود علیہ السلام کے مقام میں بھی فرق ہو۔ آں حضرتؐ کا مقام آقا اور استاد کا ہو اور اس کا غلام اور شاگرد کا‘‘۔ ۴۶؎

آیت ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ( الصف: ۹) کی تفسیر میں انتہائی دجل و فریب سے کام لیتے ہوئے لکھا ہے : ’’ اس آیت کے مطابق حضرت مسیح موعود کا زمانہ مقرر کیا گیا، جن کا ایک الہامی نام دائود بھی ہے۔ مگر دائود علیہ السلام کو دنیوی اور دینی دونوں بادشاہتیں دی گئی تھی، جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو صرف آسمانی یعنی دینی بادشاہت دی گئی۔ پھر حضرت دائود علیہ السلام نے اپنے زمانے کے جالوت کو خود قتل کیا، مگر مہدی موعود ؑ کے زمانے کے جالوت یعنی دجال کی شکست کی بنیاد تو آپؐ کے ہاتھ سے رکھی گئی، لیکن اس کا پورا استیصال آپ کے کسی خلیفہ کے وقت پر اٹھایا گیا‘‘۔ ۴۷؎

۱۸۔ مناہل العرفان (کفیلہ خانم)

یہ تفسیر تین جلدوں میں ہے۔ اس میں جماعت احمدیہ کے خلیفۂ رابع مرزا طاہر احمد کے ترجمۃ القرآن کلاسس سے استفادہ کیا گیا ہے۔ قرآن کا اردو ترجمہ میر محمد اسحاق کے ترجمۂ قرآن سے لیا گیا ہے۔یہ تفسیر کفیلہ خانم نے ۲۰۰۷ء میں مکمل کی تھی۔

کفیلہ خانم ابتدا میں سورتوں کا مختصر تعارف کراتی ہیں، قرآنی متن لکھ کر ترجمہ کرتی ہیں، اس کے بعد لغات کو حل کر کے اس کی تشریح کرتی ہیں، اگر کہیں حدیث لکھنی ہو تو صرف ترجمے پر اکتفا کرتی ہیں۔ اس میں مرزا غلام احمد اور ان کے خلفاء کے اقوال کو ترجیح دی گئی ہے، دوسری تفاسیر کو ثانوی حیثیت دی گئی ہے۔

دیگر قادیانی تفاسیر کی طرح اس تفسیر میں بھی بہت سے تفردات اور انحرافات پائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر کفیلہ خانم سورۂ البقرۃ، آیت ۲۵۲ کی تشریح میں طالوت اور حضرت دائود کو ایک ہی شخص قرار دیتے ہوئے لکھتی ہیں : ’’جالوت ایک سرکش گروہ تھا، جس نے بنی اسرائیل کا ناطقہ بند کر رکھا تھا اور ملک میں فساد مچاتا پھرتا تھا۔ طالوت نے انھیں اللہ کے حکم سے شکست دی۔ جب جالوت کو شکست دے کر حکومت و نبوت سے نوازے گئے تو اپنے ذاتی نام دائود علیہ السلام سے پکارے گئے۔‘‘ ۴۸؎

کفیلہ خانم مرزا غلام احمد کے مسیح اور مہدی کے دعویٰ کو سچا ثابت کرنے کے لیے حدیث نبویؐ کا غلط مفہوم بیان کرتی ہیں : ’ ولا المہدی الا عیسی ابن مریم۔ ’’ یعنی عیسی ؑ کے سوا کوئی مہدی (یعنی ہدایت دینے والا) نہیں ‘‘، گویا ایک ہی وجود کے دو نام ہیں ‘‘۔ ۴۹؎

سورۂ لہب کی تفسیر میں لکھتی ہیں : ’ ’آخری زمانے میں دوبارہ محمد عربیﷺ کی روح (ظلّی طور پر ) دنیا میں آئے گی اور خدا کی نصرت اور اس کے فضل کو جذب کرے گی اور ملائکہ کی فوجیں آسمان سے اتر کر کم زور کو طاقت ور اور سلطنتوں کا وارث بنا دیں گی۔ ۵۰؎

خلاصۂ کلام

دور حاضر میں قرآنیات پر کام باطل فرقوں میں سب سے زیادہ جماعت احمدیہ نے کیا ہے۔ اس کا مقصد جماعت کے باطل عقائد و نظریات کو قرآن سے ثابت کر کے  کم زورایمان والوں کو گم راہ کرنا ہے۔ اس لیے اہل علم کو چاہیے کہ جہاں فتنۂ قادیانیت کے خلاف وہ علمی خدمات انجام دے رہے ہیں، وہیں اس جماعت کی طرف سے قرآنیات پر جس انداز میں کام ہو ا ہے یا ہو رہا ہے، اس کا بھی تنقیدی جائزہ لیں، تاکہ  کم زور ایمان والوں کو اس فتنے سے محفوظ رکھا جا سکے۔

حواشی و مراجع

۱۔  قادیانی غلام احمد، مرزا، برکات الدعاء (نظارت اشاعت، ربوہ) ص ۱۶۔۱۸

۲۔ قادیانی غلام احمد، مرزا، روحانی خزائن (نظارت اشاعت، ربوہ)۳؍ ۵۱۸۔

۳۔ قادیانی غلام احمد، مرزا، تفسیر (ادار ۃالمصنفین، ربوہ) ۱؍ ۵۳۹۔

۴۔ حوالہ سابق، ۱؍ ۴۱۵

۵۔حوالہ سابق،۶؍ ۴۱۵

۶۔  بھیروی، نور الدین، حکیم، حقائق الفرقان (ضیاء الاسلام پریس، ربوہ) ۱؍ ۱۷۴۔

۷۔ میر محمد سعید، مولوی، اوضح القرآن، مسمی بہ تفسیر احمدی (مطبع مرتضائی پریس، آگرہ، ۱۹۱۵ء) حصہ اول، ص۴۔

۸۔ حوالہ سابق، حصہ اول، ص ۳۱۔

۹۔  حوالہ سابق، حصہ دوم، ص ۵۔

۱۰۔ نیازی، غلام حسن، حسن بیان، تمہید (برانچ کیپٹل کوآپریٹیو پریس)۔

۱۱۔  نیازی، عبد اللہ جان و حسن خیل، حیات حسن (طبع: اول ۱۹۶۰ء) ص : ۵۴۔

۱۲۔ حوالہ سابق، ص ۳۸۸۔

۱۳۔ حوالہ سابق، ص ۳۸۹۔

۱۴۔ بشارت احمد، ڈاکٹر، انوار القرآن (انجمن اشاعت اسلام لاہور) حصہ دوم، ص ۱۲۲

۱۵۔ حوالہ سابق، حصہ دوم، ص:۲۰۳

۱۶۔ قادیانی، غلام احمد، مرزا، تذکرہ ( نظارت نشرو اشاعت، ربوہ) ص ۲۱۔۲۲

۱۷۔ لاہوری، محمد علی، بیان القرآن (احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور) ص۴۷

۱۸۔ حوالہ سابق، ص: ۶۶۷

۱۹۔ بشیر الدین محمود احمد، مرزا، تفسیر کبیر (نظارت نشرو اشاعت، قادیان) ۳؍ ۳۵۷۔

۲۰۔ حوالہ سابق، ۴؍ ۲۷۹۔

۲۱۔ حوالہ سابق، ۴؍ ۳۵۵۔

۲۲۔  بشیر الدین محمود احمد، مرزا، تفسیر صغیر (اسلامک انٹر نیشنل بلیشر لمیٹیڈ، ۱۹۹۰ء) ص۱۲۔

۲۳۔ حوالہ سابق، ص ۴۰۔۴۱

۲۴۔ حوالہ سابق، ص ۸۵۔

۲۵۔  بہاول پوری، عبد اللطیف، تفسیر سورۂ بنی اسرائیل (ضیاء الاسلام پریس، ربوہ) ص ۱۹۔۲۰۔

۲۶۔  حوالہ سابق، ص ۲۴۲۔۲۴۵۔

۲۷۔  بہاول پوری، عبد اللطیف تفسیر، سورۂ کہف (ضیاء الاسلام پریس، ربوہ) ص۶۔

۲۸۔  حوالہ سابق، ص۷۔

۲۹۔  بہاول پوری، عبد اللطیف، تفسیر سورۂ یٰس ٓ، (ضیاء الاسلام پریس، ربوہ) ص ۱۰۔

۳۰۔  حوالہ سابق، ص ۴۵۔۵۹۔

۳۱۔  بہاول پوری، عبد اللطیف، تفسیر سورۂ القیامۃ و الدھر، (ضیاء الاسلام پریس، ربوہ) ص ۲۶

۳۲۔ حوالہ سابق، ص ۲۷۔

۳۳۔ The Holy Quran,Islam International publication limited,        19541,/135

۳۴۔   Ibid,5:2906

۳۵۔ Malik Gulam farid, The Holy Quran Short commentary,  Islam international publication limited 2002, P 35

۳۶۔  Ibid,p: 1136.1137

۳۷۔  صلاح الدین، پیر، قرآن مجید: ترجمہ مع تفسیر (قرآن پبلیکیشنز، اسلام آباد) ۴؍ ۲۵۸۳۔

۳۸۔  حوالہ سابق، ۴؍۲۷۶۳

۳۹۔حوالہ سابق، ۴؍۲۸۴۰

۴۰۔   مرزا طاہر احمد، قرآن مجید (نظارت اشاعت، ربوہ) ص ۶۴

۴۱۔   حوالہ سابق

۴۲۔ حوالہ سابق، ص۶۹

۴۳۔  حوالہ سابق، ص ۱۰۲۹

۴۴۔ حوالہ سابق، ص۱۰۳۰

۴۵۔   حوالہ سابق،ص ۱۱۶۷

۴۶۔ معین الدین، پیر، مخزن معارف، ص ۲۷

۴۷۔   حوالہ سابق، ص ۴۵۰

۴۸۔ کفیلہ خانم، مناہل العرفان،۱؍۲۸۵۔ ۲۸۷

 ۴۹۔   حوالہ سابق، ۲؍۵۳۴

۵۰۔ حوالہ سابق، ۳؍ ۱۲۹۳۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button