Uncategorized

 ادبی سرقہ

 عمارہ فردوس

جالنہ 

      معلمہ انڈر اسٹینڈ قران اکیڈمی

           ابھی کچھ دنوں پہلےسوشل میڈیا  پر محترم ایاز احمد اصلاحی صاحب کی ایک تحریر بعنوان”۔سرقہ فکری افلاس و علمی خیانت کی علامت“  نظروں سے گذری ۔۔۔تحریر اتنی موثر اور حقاٸق سے بھر پور تھیں کہ پڑھتے وقت بہت مزا آیا ۔۔۔واقعی ایسی تحریریں اب تو قال قال ہی نظر آتی ہیں لیکن اصلاح و تربیت کا دروازہ اسطرح کھولدیتی ہیں جس سے سیکڑوں لوگ داخل ہوجاٸیں ۔۔۔۔کاش موصوف کی یہ تحریر صفحات پر منتقل ہوکر کسی جریدہ کا حصہ بنتی توادبی سرقہ کی اس بیماری میں ملوث سیکڑوں فنکار کو خود اپنی قلم و روشناٸ میسر آجاتی  موصوف نے اپنی اس تحریر میں بعض شعرا۶ کی علمی بددیانتی کو بہت منفرد انداز میں رقم کیا لیکن ساتھ ہی نثری پگڈنڈیوں پر جو سارقین ملتے ہیں اس پر بھی سیر حاصل بحث ہوتی تو یہ مزا دوبالا ہوجاتا بحرحال سرقہ کی اس بیماری نے اب سوشل میڈیا کے ذریعہ وباٸ صورت اختیار کرلی ہے اور اس مرض میں اب ہر خاص و عام کے ملوث ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے ۔مجھے  اس لفظ سے مربوط اپنے بچپن کا ایک واقعہ یاد آتا ہے ۔

یہ لفظ اسوقت سنا تھاجب نہ ادب کیا ہوتا ہے معلوم تھا اور نہ ہی سرقہ، اس زمانہ میں ہماری کتابوں کی دنیا ہلال ،اچھا ساتھی ، پیام تعلیم  امنگ اور شاہین سیریز  تک محدود تھی،  ایک دن اپنی امی جان مرحومہ(  حور جہاں انجم صاحبہ) کی زبان سے سنا کہ وہ کسی کوڈانٹ رہی ہیں کہ تم نے حجاب میں شاٸع شدہ میرا  افسانہ اپنے نام سے اخبار میں شاٸع کیوں کروایا؟ ۔۔۔امی جسکو ڈانٹ رہی تھیں وہ جواب میں کہنے لگے کہ باجی معاف کرییے گامجھے مضامین لکھنے کا شوق ہے اور لکھنا نہیں آتا اسلیے  یہ غلطی کر بیٹھا ہوں اور میں نے سوچا کہ کٸ سال پہلے جو چیز حجاب میں شاٸع ہوچکی ہو وہ میں اپنے نام سے دوبارہ شاٸع کروادوں تو  باجی کیا کہے گی بھلا؟ ( واضح رہےکہ جو ماٸل خیر آبادی ؒ کی زیر ادارت نکلنے والے حجاب میں” سراب “ کے عنوان سے شاٸع ہوچکا تھا  )۔امی نے ڈانٹتے اور کچھ سمجھاتے ہوۓ کہا کہ یہ ”ادبی سرقہ“ ہے اور اسطرح کی غلطی دوبارہ نہ ہو ۔۔اسکےبعد ہم نے اپنے والدین  سےجو سوالات کیے تو انھوں نے یہ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا کہ تم لوگ ابھی بچے ہو بلکہ ہمارے ہر سوال کا جواب دیکر سمجھایا کہ ادبی سرقہ کیا ہوتا ہے اسکے  دنیاوی و اخروی نقصانات کیا کیا ہیں اور  کسطرح یہ حرکت انسانی فکر کو وسعت بخشنے کے بجاۓ گھٌن لگادیتی ہیں اور اظہار خیال چاہے ٹوٹے پھوٹےانداز میں ہی کیوں نہ ہو   خود اپنی تحریر کردہ ہو ورنہ ہماری صلاحیتیں محدود ہوجاتی ہیں۔اور ایک بات اس سلسلہ میں جو بہت  اہم ہے کہ اپنی تحریر میں کسی کی ایک سطر بھی کہیں سے لیں تو صاحب تحریر کا نام  اور کتاب کا حوالہ ضرور دینا چاہیے اس بیش بہا سرمایہ کی چوری ناقابل تلافی ہے جسکو کبھی زوال نہیں ہے۔۔یہ ادبی سرمایہ تو انسان کے مرنے کے بعد بھی کٸ گھرانوں خاندانوں اور نسلوں کو مالدار کرجاتا ہے ۔۔۔ہمارے والدین نے  الحمداللہ اسطرح  اس پہلو کو بھی ہماری تربیت کا حصہ ہی سمجھا جسکا تعلق خالصتاً ادب سے ہیں ۔

    آج سوشل میڈیا کے اٹھتے ہوۓ طوفان تمیز۔، اور بلا تمیز کہنے میں بھی مجھے کوٸ تأمل نہ ہوگا کہ لکھنے اور سب سے پڑھوانے کا یہ عظیم کام ہر کس و ناکس نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے ۔۔۔اور کسی کی تحریرپر اپنا نام چسپاں کردینا تو کچھ زیادہ ہی سہل ہے ۔اور اس سے زیادہ آسان شاید تھوڑی کٹنگ ۔۔۔۔۔تھوڑی پیسٹنگ ۔۔۔۔اور تھوڑی تراش خراش کے بعد نیا روپ دیدینا بھی کچھ مشکل نہیں رہا ہے اور کتابِ رخ (فیس بک) جس کی دنیا سے مکھوٹا تیار مل جاتا ہے پھر کیا ہے اسکو لیکر دوسری جگہ اپنے چہرے پر لگادیں   اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ کسی تحریکی ہستی کی تقاریر کے ویڈیوز کو سنکر اسے مختصر تبدیلیوں کے ساتھ نوٹ کرکے اپنا نام آخر میں لکھ چھوڑیں۔کیا کہا جاۓ ایسی بد دیانتی پر  ؟؟   ۔بس یہ سمجھیں کہ ۔۔بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق ۔۔۔۔یہ ادب اور اس پر جانفشانی آگ کا دریا ہی کہاں رہا ہے کہ ہم بلا تردّد کہہ سکیں کہ

یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجے

اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

ادب کے اس دریا کے بڑے بڑے غواص اپنی آنکھوں میں رت جگوں کی سرخی لیے اس میں غوطہ زن ہوتے تھے تب جاکر ایک شاہکار تخلیق انسانیت کو سیراب کرتی تھی ۔۔۔ ذرا سوچیے تو کیوں قحط الرجال سے ہم دوچار ہوگیےہیں۔کیونکر ہم میں مولانا مودودی ؒاور حسن البنا شہید ؒ سید قطب شہید ؒ  خرم مراد نعیم صدیقی اور  علامہ اقبالؒ اور نجانے آسمانِ علم و ادب  کے ایسے بے شمار ستارے اب عنقا ہیں ۔۔۔۔۔ہاں ہم اس بات کے بھی قاٸل ضرور ہیں کہ اب بھی ایسی مایہ ناز فکر ساز ہستیاں اس مبارک کاز سے جڑی ہوٸ ہیں لیکن آٹے میں نمک کے برابر۔۔۔اس سوشل میڈیا کے اٹھتے ہوۓ طوفان نے تو نٸ نسلوں سے اس قیمتی متاع علم و ادب کی قدر ہی چھین لی ہے جس سے قومیں ہر زمانے میں ترقی کے منازل طے  کرتی رہیں۔۔۔تربیت کے یہ چھوٹے لیکن قیمتی نکتے بھی والدین اب بچوں سے کہاں بتاتے ہیں ۔ اب تو طریقہ تربیت بھی ٹیکنیکی انداز اختیار کر چکا ہے ۔ اور واٹس ایپ یونیورسٹیوں کی فراغت ہی والدین کو باغ باغ کیے دیتی ہیں کیا بعید کے آگے چل کر والدین اپنے ان نوخیز شگوفوں کو  سند بھی خود دے دیں ۔

      دراصل صفحہ و قرطاس سے ہر مسلمان کا رشتہ جڑا ہوتا ہے اور ہونا چاہیے یہ نبیوں کی سنت ہے۔یہ نبوت کا اولین درس ہے ۔میری اس تحریر کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ اسے کوٸ انجام نہ دیں اور نہ ہی میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ اس کام کو مخصوص لوگ ہی کرتے رہیں بلکہ اس سلسلہ میں سب سے اہم نکتہ یہ ھیکہ در حقیقت ہماری فکر کی پختگی مطالعہ کی وسعتوں سے وابستہ ہیں اور جب علم و ادب کی چاشنی ہمارے اندر رچ بس جاۓ مطالعہ قران و حدیث اور اصلاحی و تحریکی کتب جب ہمارا اوڑھنا بچھونا ہوجا ۓ ۔تب خود بخود ہمارے ہاتھ اپنی فکر کو ڈھالنے اور منتقل کرنے کیلیے بے چین ہوجایں گے ۔

Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button