اسلامیات

ازدواجی رشتوں کی دھوپ چھاؤں

ازدواجی رشتوں کی دھوپ چھاؤں

(بضمن-ملک گیر مہم مضبوط خاندان مضبوط سماج)

عفیفہ مطیع الرحمن

ساکی ناکہ۔ممبئی

 کہتے ہیں کہ انسانی زندگی ایک تناور درخت کی مانند ہےجس سے جڑے تمام رشتے ہری بھری ٹہنیوں کی طرح ہوتے ہیں۔اگر ٹہنیاں سوکھ جائیں تو پورا کا پورا درخت ہی سوکھ جاتا ہے۔ لہذا زندگی کے اس درخت کو ہرا بھرا رکھنے کے لیے ان ٹہنیوں کو ہرا بھرا رکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر ان رشتوں میں ذرا سی بھی غلط فہمیاں جنم لینے لگیں تو یہ ساری کی ساری ٹہنیاں آہستہ آہستہ سوکھ کر ٹوٹ جاتی ہیں اور پھر ٹوٹ کر بکھرنے لگتی ہیں۔ ان ٹہنیوں کو بکھراؤ سے بچانے کے لیے وہی انسان جھکتا ہے جسے رشتوں کی قدر کرنی آتی ہے۔ درحقیقت تمام رشتے ہمارے احساسات سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں جو توجہ اور محبت چاہتے ہیں۔ رشتہ خواہ دوستی کا ہو یا پڑوسی کا ،گھریلو ہو یا خاندانی، تمام رشتوں کو اہمیت دینا، نبھانا اور ان کی قدر کرنا ہمارا اولین فریضہ ہے۔

             جو رشتے ہم سے جتنے زیادہ قریب ہوتے ہیں وہ اتنے ہی حساس اور نازک ہوتے ہیں۔ والدین، بھائی بہن ، بیوی بچے یہ سارے موتی کی وہ مالا ہیں جو ایک ہی دھاگے میں پروئے ہوئے ہوتے ہیں۔ اگر یہ کمزور ہو جائیں تو ان کے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور پھر یہ موتیاں دھاگے سے نکل کر ادھر ادھر بکھر جاتی ہیں۔ ایسی ہی مثال ان تمام رشتوں کی ہے جن کے درمیان ہم رہتے ہیں، ان کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ ان کے لئے بھی ہمیں اس دھاگے جیسا بننا پڑے گا جس نے موتیوں کو مالا کی شکل دے دی۔ ٹھیک اسی طرح محبت،اخلاص ،قربانی، وفاداری ،عزت اور توجہ سے ہم ان تمام رشتوں کو اپنے ساتھ جوڑ کر رکھ سکتے ہیں۔ اگر ہمارے رشتوں میں یہ ساری خصوصیات نہ ہوں تو پھر اس کمزور دھاگے کی مانند ہے جو کبھی بھی ٹوٹ کر تمام موتیوں کو بکھیر سکتی ہے۔ بدگمانی ایک ایسا سوراخ ہے جس میں انسان تمام عمر وضاحتوں کی اینٹ لگاتا رہتا ہے۔ پھر بھی وہ ان حسین اور خوبصورت رشتوں کو نہیں بچا پاتا ۔

               ان تمام رشتوں میں شوہر بیوی کا رشتہ بڑا ہی پیارا اور مقدس ہوتا ہے ۔بیوی کے لئے شوہر سے اورشوہر کے لئے بیوی سے اچھا کوئی دوست نہیں۔مخلوق کا خالق سے جو رشتہ ہے اس رشتے کے بعد جو دوسرا سب سے خوبصورت، سب سے زیادہ مضبوط رشتہ ہے وہ یہی شوہر اور بیوی کا رشتہ ہے ۔ دنیا میں ہر رشتہ سوتیلا ہو سکتا ہے ۔ سوتیلی ماں ہو سکتی ہے ہے، سوتیلا باپ ہو سکتا ہے، سوتیلے بہن بھائی ہو سکتے ہیں مگر سوتیلی بیوی نہیں ہو سکتی، سوتیلا شوہر نہیں ہو سکتا ۔ ازدواجی زندگی کی خوشحالی اور شیرینی میاں بیوی کے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے۔ اس خوبصورت رشتےکی بنیاد محبت پر ہی رکھی جا سکتی ہے۔ازواجی زندگی جو ایک مقدس عہد و پیمان سے شروع ہوتی ہے ہم انسانوں کے لئے خداوندعالم کی عظیم الشان نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔اکثر میاں بیوی ایک ہی غلطی کا شکار نظر آتے ہیں۔ اور وہ ہے تنقید ۔ نتیجتاً نگاہ خامیوں پر ہی مرکوزہو کر رہ جاتی ہے۔ حالانکہ ہر انسان میں جہاں خامیاں ہوتی ہیں وہیں خوبیاں بھی پائی جاتی ہیں ۔ لیکن شوہر یا بیوی دونوں ہی تنقیدی مزاج رکھنے کی وجہ سے ایک دوسرے کی خوبیوں کو دیکھ نہیں پاتے ۔

 میاں بیوی کا رشتہ انسانی رشتوں میں اپنی نوعیت کا واحد اور انوکھا رشتہ ہے جسےانسان خود ہی بنا بھی سکتا ہے اور خود ہی ختم بھی کر سکتا ہے۔ کسی اور انسانی رشتے کو نہ تو خود بنایا جا سکتا ہے اور نہ خود ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔ یہ رشتہ دنیا کا سب سے "پہلا رشتہ "بھی ہے کیونکہ آدم و حوا علیہم السلام کے مابین یہی رشتہ تھا اور یہ رشتہ "مرکزی رشتہ” بھی ہے۔ اسی مرکزی رشتہ کے سبب باقی تمام رشتے وجود میں آتے ہیں۔ یہ رشتہ تمام رشتوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ مضبوط اور سب سے زیادہ قریبی ہونے کے باوجود سب سے زیادہ نازک اور کمزور بھی ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے جو میاں بیوی اپنے رشتوں کو نہیں سنبھال پاتے وہ کانچ کی طرح ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں۔ دیگر تمام رشتوں کے درمیان ایک خاص "حد فاصل” ہوتا ہے۔ اسی فاصلے کی وجہ سے تمام رشتہ دار اپنے اپنے عیوب اور دیگر متنازع معاملات ایک دوسرے سے چھپا کر رکھ بھی سکتے ہیں اور جب خفا ہوں تو ایک دوسرے سے دور بھی ہوجاتے ہیں ۔ جبکہ شوہر بیوی کے درمیان کوئی پردہ اور کوئی فاصلہ نہیں ہوتا ۔ اس لئے ان کے درمیان جہاں محبتیں ہوتی ہیں وہیں اختلافات بھی جنم لیتے ہیں۔ یہی اختلافات اگر حد سے زیادہ بڑھ جائیں تو گھر کے سکون کو برباد کر دیتی ہیں۔

 عام طور پر شوہر بیوی میں تلخی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب وہ ایک دوسرے کے مزاج کی رعایت نہیں کرتے اور موقع ومحل کا خیال کئے بغیر ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنانے لگ جاتے ہیں۔اگر بیوی کا رویہ ہر وقت ناقدرانہ ہو تو وہ اپنے شوہر سے یہ توقع رکھنی چھوڑ دے کہ وہ آپ کے اچھے کاموں کو سراہیں گے اور آپ کا دل سےاحترام کریں گے۔ اسی طرح اگر آپ سوچتی ہیں کہ اپنے شوہر کو ان کی خامیاں بتائیں گی تو وہ اپنی اصلاح کرلیں گے تو شاید آپ غلطی پر ہیں۔ اس کا بہترین علاج یہ ہے کہ آپ اپنے شوہر کے روشن پہلو اور ان کی ذاتی خوبیوں اور اچھائیوں کو تلاش کرنے کی عادت ڈالیں۔ پھر آپ دیکھیں گی کہ آپ کے شوہر اپنی کمزوریوں اور خامیوں کو آہستہ آہستہ غیر محسوس طریقے سے خود ہی ترک کرنے لگیں گے۔ اگر آپ اپنے شوہر کے کسی عمل کو پسند کرتی ہیں تو اس کا اظہار بار بار کریں۔ یہ ایک طرح کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے جو اچھائیوں پر قائم رہنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ بلکہ انہیں مزید اچھے رویوں اور اچھی عادات اختیار کرنے کی تحریک دیتی ہیں۔

                        ٹھیک اسی طرح ایک اچھے شوہر کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہو”ایک اچھے شوہر کو اپنی بیوی کی خواہشات کا احترام کرنا چاہیے اور اسے آرام پہنچانے کی پوری کوشش کرنی چاہیے۔ بسا اوقات شوہر اپنی بیوی کی خواہشات کو ایک غیر ضروری کام سمجھتے ہوئے انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ایسا مت کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں مثال قائم کردی ۔ایک بار حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا رورہی تھیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ دریافت فرمائی تو صفیہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھےسست رفتار اونٹنی پر سوار کر دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے آنسو پونچھے، انہیں تسلی دی اور ایک تیز رفتار اونٹنی لا کردے دی۔

              ازدواجی زندگی کی خوبصورتی کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔ اگر دونوں میں سے کوئی ایک بیمار پڑ جائے تو دوسرا اس کی خدمت کرکے دلجوئی کرے۔ دونوں ایک دوسرے کے جذبات کا لحاظ کریں، ایک دوسرے کو وقت دیں ،ایک دوسرے پر اعتماد بھی کریں۔ ان کے رشتے کو جو چیز جلا بخشتی ہے وہ ان کا آپسی اعتماد ہے۔ اعتماد کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ شوہر اپنے گھر کے تمام انتظامی معاملات بیوی کے حوالے کر دیتا ہے۔ اور شوہر کو گھریلو بکھیڑوں سے بڑی حد تک نجات بھی مل جاتی ہے اورسکون و اطمینان کی زندگی بھی نصیب ہوجاتی ہے۔ جب دونوں اپنے اپنے فرائض کو خوش دلی سے ادا کریں گے تو ازدواجی زندگی بھی خوشگوار گزرے گی اور کبھی رنج و ملال کا ماحول پیدا نہیں ہوگا ۔

        الغرض شادی جہاں پاکیزہ زندگی کے حصول کا ذریعہ ہے وہیں اس کا اہم مقصد زندگی کو پرلطف اور خوشگوار بنانا بھی ہے۔ زندگی کی بعض مسرتیں اور راحتیں ایسی ہوتی ہیں جو ازدواجی بندھن سے جڑے بغیر حاصل نہیں ہوتیں۔ صرف شوہر یا صرف بیوی کی خواہش سے زندگی پرلطف نہیں ہوتی جب تک کہ باہمی کوشش اور جدوجہد نہ کی جائے۔ شوہر کا کام ہے کہ گھر سے باہر کے تمام امور کو بحسن و خوبی انجام دے اور بہتر معاش تلاش کرے۔ اپنی محنت سے اپنی بیوی اور بچوں کو راحت و آرام پہنچانے کے لئے فکرمند ہو ۔ بیوی کو بھی چاہیے کہ شوہر کی اطاعت وفرمانبرداری کے ساتھ اس کے مال و دولت کی حفاظت اور بچوں کی بہترین تربیت کرے۔ کیونکہ امور خانہ داری سے متعلق تمام تر امور کا ذمہ دار عورت کو ہی بنایا گیا ہے۔ اسی طرح بچوں کی ابتدائی اخلاقی تربیت بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ میاں بیوی کے آپسی اختلافات کے اثرات بچوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ ان کا ذہن ویسے ہی پروان چڑھتا ہے جیسے وہ اپنے والدین کو دیکھتے ہیں۔ ایسے والدین کی عظمت کبھی بھی بچوں کے دلوں میں نہیں رہتی ۔ اس لیے زوجین کو ہمیشہ آپس میں خوشگوار تعلقات استوار کرنے کی کوششیں کرنی چاہیے۔ اسلام نے خاص طور پر مردوں کو اپنے غیض وغضب پر قابو پانے کی تلقین کی ہے گنوار اور ناواقف لوگوں کی طرح ہر بات پر بیوی پر غصہ اور مار پیٹ سے دور رہنےکا حکم دیا گیا ہے ۔

         دنیا کے کسی بھی رشتے کے لئے تین چیزیں خوراک کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وقت، توجہ اور قربانی ۔ ہمارے اکثر رشتے اسی لیے ناکام ہوجاتے ہیں کہ ہم انہیں یہ تین چیزیں نہیں دے پاتے حالانکہ یہ کسی بھی رشتے کی پائیداری کے لئے بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر بنیاد کمزور ہو تو عمارت بھی کمزور ہوجاتی ہے۔ ہم اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ ہماری زندگی رشتوں کے گلدستو سے سجی ہوئی ہے ۔ ہر دکھ سکھ میں یہی رشتے ہماری قوت کا ذریعہ بنتے اور ہمیں حوصلہ بخشتے ہیں۔ اللہ کی اس نعمت پر ہمیں شکرگذاری کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ اگر ہم اپنے رشتوں کو تمام عمر خود سے جوڑ کر رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایثار و قربانی سےبھی کام لینے کی ضرورت ھے اور توجہ دینے کی بھی۔ ہر رشتہ کو پائیدار اور خوشگوار بنانے کایہی مجرب نسخہ ہے۔ بقول شاعر

  زندگی یوں بھی بہت کم ہے محبت کے لئے

  روٹھ کر وقت گنوانے کی ضرورت کیا ہے.

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button