شخصیات

استاد محترم پروفیسر محمد یٰسین مظہر صدیقی

کچھ یادیں،کچھ باتیں

ڈاکٹر محمد اسامہ

گیسٹ فیکلٹی،شعبہ اسلامک اسٹڈیز

جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی

ہر شخص کی زندگی میں بعض شخصیتیں یقینا ایسی ہوتی ہیں جن کے چلے جانے کا یقین کرنا اس کے لیے مشکل ترین لمحہ ہوتا ہے،کچھ ایسا ہی حال اس وقت میرا ہے اور مجھے اب بھی اس حقیقت کو تسلیم کرلینے میں تامل ہورہا ہے کہ میرے رہ نما،مربی اور مشفق استادِمحترم پروفیسر محمد یٰسین مظہر صدیقی سفرِ آخرت پر روانہ ہوچکے ہیں۔میں اپنی زندگی میں جن اساتذہ کرام سے متاثر ہوا اور ان سے کچھ سیکھنے اور حاصل کرنے کی کوشش کی ،اس میں استاد محترم یقینا سر فہرست ہیں۔ان سے میرا تعلق علی گڑھ مسلم یو نی ورسٹی میں دوران طالب علمی 2004 میں قائم ہوا جو اب تک استوار تھا۔یہ بھی تکلیف دہ اتفاق ہے کہ کل یعنی 14 ستمبر 2020کو میں نے اپنی کتاب ”مولانا صدرالدین اصلاحی-بعض فکری جہات کا مطالعہ“اپنے رفیق کار ڈاکٹر محمد مسیح اللہ کے ہاتھوں بھیجی تھی کہ اسے استاد محترم کی خدمت میں پیش کردینا لیکن کیا خبر تھی کہ اس سے پہلے ہی موت کا فرشتہ انہیں لینے آجائے گا۔(مدتوں رویا کریں گے جام وپیمانہ تجھے)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہر مسلمان کے لیے کامل نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے۔اس لیے آغازِ رسالت سے ہی اسے ضبطِ تحریر میں لانے کا کام شروع ہو چکا تھا اورعہد حاضر میںبھی سیرت طیبہ کے بے شمار گوشوں پر ائمہ سیرت اور محبّانِ سیرت کتابیں تصنیف کر رہے ہیں۔ان میں دورِ جدید کے امامِ سیرت،مشہور و معروف محقق استاد محترم پروفیسرمحمد یٰسین مظہر صدیقی (2020-1944)صفِ اول میں نظر آتے ہیں۔آپ کی دل چسپی کے موضوعات سیرت ،مغازی،قرآن، تاریخ،حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی اور اسلام اور مستشرقین وغیرہ تھے ۔مستند واقعات کی دریافت،حقائق پسندی،منفرد اندازِ تحقیق،دقیق مشاہدہ،جدیدو سائنٹفک انداز، جدید موضوعات،سیرت کے واقعات سے اہم نتائج اخذ کرلیناآپ کاخاصّہ ہیں۔ مرحوم کی فاضلانہ تحقیقی تصانیف،تراجم،مقالات اور خطبات کی تعداد پانچ سو سے زیادہ ہے لیکن ان میں مصادر سیرت نبوی،تاریخ تہذیب اسلامی،عہد نبوی کا نظام حکومت،عہد نبوی میں تنظیم اور ریاست،خلافت اموی خلافت راشدہ کے پس منظر میں،بنوہاشم اور بنو امیہ کے معاشرتی تعلقات،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خواتین-ایک سماجی مطالعہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی مائیں وغیرہ کو سیرت کی دنیا میں غیر معمولی مقام حاصل ہے۔
استاد محترم پروفیسر محمد یٰسین مظہر صدیقی کی درج بالا علمی خدمات سے قارئین کو محسوس ہوگا کہ وہ ایک بہت ہی سخت دل،سنجیدہ،کم گو اور اپنے آپ میں رہنے والے انسان ہوں گے،لیکن جو لوگ ان سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔وہ اپنے معاصرین کے درمیان سنجیدہ اور باوقار جب کہ نوجوانوں کے درمیان نوجوان نظر آتے تھے۔میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ شاید ہی کوئی ان کی مجلس میں بور یت محسوس کرتا ہوگا اور کسی کو بولنے کی ضرورت پڑتی ہوگی۔برجستہ فقرے،تفریحی باتیں،موقع و محل کے لحاظ سے پرلطف انداز میں مختلف واقعات اور قصے سنانا ان کی مجلس کی نمایاں خصوصیات تھیں۔
راقم الحروف کو دوران طالب علمی اور اس کے بعدمختلف قومی اور بین الاقوامی سیمیناروں میں استاد محترم کے ساتھ اپنا مقالہ پیش کرنے اوران سے مستفید ہونے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔سولہ سال کی طویل مدت میں استاد محترم کی ڈانٹ اور ڈپٹ کے علاوہ ان کی علمی رہ نمائی،حوصلہ افزائی،ظرافت اور بدلہ سخی کے مختلف واقعات ذہن میں محفوظ ہیں ،ان میں سے بعض کا ذکر کروں گا جن سے ان کی علمی رہ نمائی اورظرافت ولطافت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے :
انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز،نئی دہلی کی جانب سے دہلی کے ایک قومی سیمینار بہ عنوان ”علامہ حبیب الرحمان اعظمی:حیات و خدمات“ میں ،میں نے ان سے اپنے مقالے کے کچھ عربی الفاظ کے صحیح تلفظ پوچھے،انہوں نے ان کے جواب دیتے ہوئے فرمایا:”برخوردار!ایسے موقع پرجن الفاظ کی صحیح ادائیگی میں شک ہو تو وہاں مبہم سا پڑھتے ہوئے جلدی سے گذر جایا کرو کہ کسی کو سمجھ میں ہی نہیں آئے کہ کیا پڑھا ہے اور بعد میں کوئی ٹوکے تو کہو کہ جی!وہی تو پڑھا تھا۔“
٭استاد محترم کی ایک خصوصیت جس نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ہر کسی کے لیے ان کی علمی رہ نمائی اور حوصلہ افزائی تھی۔اس حوالے سے انہوں نے ہمیشہ راقم کی بھی مدد کی۔بسااوقات میں نے ان سے فون پر بھی کسی مسئلے پر استفسار کیا تو ہمیشہ انہوں نے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے خوشی ظاہر کی اور مثبت جواب دیا ۔کچھ مہینے قبل راقم نے ایک مقالہ ”حضرت نظام الدین اولیاء کی فقہی بصیرت(فوائد الفواد کے خصوصی حوالے سے)“ لکھتے ہوئے حضرت اولیاءکے بعض افکار سے اختلاف کیا اوراس سلسلے میں استاد محترم پروفیسر صدیقی سے تصدیق چاہی تو انہوں نے تائید کرتے ہوئے بہت خوشی کا اظہار فرمایا اور کہا:”تم نے اچھا کیا بتا دیا،یہ کس کتاب میں ہے ؟اس کی تفصیل بھیجو ،میں اس موضوع پر کام کر رہا ہوں ،اس کی تحقیق کروں گا۔“ معلوم نہیں کہ استاد محترم اس پروجیکٹ کو مکمل کر سکے یا نہیں۔ اسی طرح راقم نے ایک مقالہ "اسلام کے بعض اہم سیاسی افکار :عالمی تناظر میں” لکھتے ہوئے خلافت کے قیام پر استاد محترم کی رائے جاننی چاہی تو انہوں نے فون پر تقریباً پون گھنٹے تفصیلی گفتگو کی اور کئ نکات سے واقف کرایا. یقیناً یہ ان کی عظمت کا ایک اہم پہلو ہے.
استاد محترم پروفیسرمحمد یٰسین مظہر صدیقی وقت کے بہت پابند تھے، ادھر کلاس کا وقت ہوا اور وہ حاضر ہو گئے۔اس دوران ان کا حکم تھا کہ میرے آنے سے پہلے پہلے سارے طلبہ کلاس کے اندر موجود ہوں اور کوئی گیلری یا دروازے پر نہ ہو۔ہم لوگ بھی عادت سے مجبور تھے ،اکثر و بیشتر باہر کھڑے آپس میں گپ شپ کرتے رہتے تھے اورجیسے ہی وہ دور سے آتے دیکھائی دیتے،ایک ہنگامہ سا ہوتا تھا اور سارے طلبہ دوڑتے بھاگتے گرتے پڑتے اپنی سیٹوں پر موجود ہوتے تھے۔استاد محترم کا یہ حکم اور طلبہ کی طرف سے اس کی ایسی تعمیل کہ کمانڈر اور فوج کا گمان ہوتا تھا،نتیجہ یہ ہوا کہ جیساکہ طلبہ کی اساتذہ کا نام رکھنے کی عادت ہوتی ہے،ان کا بھی نام ’حجاج بن یوسف‘ رکھ دیا گیا۔استاد محترم نے کبھی اس کا برا نہیں مانا اور انہوں نے راقم سے کچھ سال قبل مرکز جماعت اسلامی ہند،دہلی کے مہمان خانہ میں دوران گفتگو خود اپنے اس’ خطاب‘ کا ہنستے ہوئے ذکر کیا تھا۔اس وقت مجھے احساس ہوا کہ استاد محترم کا ظرف کس قدر اعلیٰ ہے۔
استاد محترم پروفیسر صدیقی کو دورانِ تدریس سوال و جواب کرنا بالکل پسند نہیں تھا۔وہ پہلے اپنا لیکچر دیتے اور پھر آخر میں طلبہ کو سوال پوچھنے کی اجازت دیتے تھے۔راقم کو ایک بار اس کا خیال نہیں رہا اور دوران تدریس ہی سوال پوچھ لیا۔اس کا نتیجہ ڈانٹ کی شکل میں سامنے آیا اورکچھ خفا سے بھی ہوئے۔ تدریس کے بعد مجھے یاد ہے کہ ان کے کمرے کے باہرکھڑے رہ کردس سے پندرہ منٹ انتظار کے بعد اجازت ملی اور معافی مانگی ۔انہوں نے کشادہ دلی کے ساتھ معاف بھی کیا اور کچھ نصیحتیں بھی کیں۔
استاد محترم طلبہ کی وضع قطع بالخصوص داڑھی،مونچھ وغیرہ پر خصوصی توجہ دیتے تھے اور انہیں اس حوالے سے برابر تلقین کرتے رہتے تھے۔فارغین مدارس سے تو وہ اس سلسلے میںبہت شاکی رہتے تھے۔ یاد آتا ہے کہ ہمارے ایک رفیق( ایک مشہور مدرسے کے فارغ تھے،لیکن داڑھی اور مونچھ دونوں ہی کووہ اُگنے نہیں دیتے تھے)نے سوال کیا توانہوں نے اسے ڈانٹ دیا کہ ”چپ کہیں کا“۔راقم کی دورِطالب علمی کے بعد جب ایک طویل عرصے کے بعد ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ماشاءاللہ اب تم ڈھنگ کے لگ رہے ہو ،ان کا اشارہ داڑھی کی طرف تھا جو کافی بڑھ گئی ہے۔
استاد محترم کو گوشت اور میٹھا بہت پسند تھا اور وہ اس میں کسی پرہیز کے قائل نہیں تھے۔اس حوالے سے اکثر فرمایا کرتے تھے کہ موت کا وقت تو مقرر ہے پھر اپنی پسندیدہ چیزوں سے خود کوکیوں محروم کیا جائے۔حال ہی میں لاک ڈاون کے دوران راقم نے انہیں خیریت کے لیے فون کیا تو انہوں نے فرمایا:”سب تو خیریت ہے،بس گوشت نہیں مل رہا ہے اور دال سبزی کھا کھا کر منہ کا مزہ اور طبیعت دونوں خراب ہے۔“اسی طرح وہ میٹھے کے بھی بہت شوقین تھے۔جب کسی موقع پر ساتھ میں کھاناکھانے کا موقع ملا ،کھانے کے بعد میٹھے کی اور وہ بھی زیادہ مقدارمیں،فرمائش ضرور رہتی تھی۔
بہرحال پروفیسرمحمد یٰسین مظہر صدیقی نے بلاشبہ اپنے پیچھے سیرت اور تاریخ اسلام کے موضوع پر ایک گراں قدر علمی سرمایہ چھوڑا ہے،جس پر یقینا کئی پی ایچ ڈی کی جا سکتی ہیں۔مجھے یقین ہے کہ ان کے رسمی اور غیر رسمی شاگرد اس پر توجہ دیں گے۔آخر میں دعا ہے کہ اللہ رب العزت استاد محترم کی علمی خدمات کو شرف قبولیت بخشے اور ان کے لیے اسے توشہ آخرت بنائے۔آمین
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے۔
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button