اسلامیات

اسلامی نظام میں اقتدار کی اھمیت

شبانہ اظہر سید

ملت نگر

مضمون کا عنوان پڑھ کر ضرور یہ خیال آپ کے ذھن میں آ رہا ہوگا کی اسلامی نظام میں اقتدار ؟یہ کیا بات  ہوئی اقتدار کا دین سے کیا تعلق؟ اسلام تو وہ دین ہے جو ہمیں صرف الله تعالٰی  کی اطاعت  اور اسکی فرمانبرداری کا حکم دیتا ہے یہ اقتدار کی بات کہاں سے آگئی؟ہم میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اس بات سے متفق ہی نہیں بلکہ مانتے ہی نہیں اس بات کو کہ  اسلام کے نفاذ کے لئے  اقتدار کا ہونا کیوں ضروری ہے؟ ہجرت سے پہلے سوره بنی اسرائیل میں الله تعالٰی نے اپنے رسول کو جو دعا  سکھائی اسمیں اس کا ذکر ہے –  آیت ٨٠ ۔
"اور دعا  کرو کہ پروردگار مجھ کو جہاں بھی تو لے جا سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنا دے” .اس دعا کا منشا کیا تھا مکّی دور اختتام پر ہے اور آپکی ہجرت قریب ہے ۔اس میں آپ (ﷺ) الله تعالی سے کہہ رہے ہیں تو مجھے اقتدار عطا کر یاکسی حکومت کو میرا مددگار بنا دے تاکہ اسکی طاقت سے میں دنیا کے اس  بگاڑ کو درست کر سکوں. فواحش اور معصیت کے اس سیلاب کو روک سکوں ،اور تیرے قانون عدل کو جاری کر سکوں ۔ آپ (ﷺ) کی ایک حدیث بھی اس بات کی تائید کرتی ہے آپ (ﷺ) نے فرمایا "انّ الله لیزع بالسلطان مالا یزع بالقران ".الله تعالی حکومت کی طاقت سے ان چیزوں کا سد باب کر دیتا ہے .جنکا سد باب قرآن سے نہیں کرتا "اس سے معلوم ہوا کہ اسلام دنیا میں جو اصلاح چاہتا ہے وہ صرف وعظ  وتذکیر سے نہیں ہو سکتی بلکہ اس کو عمل میں لانے کے لئے اقتدار کا ہونا ضروری ہے ، پھر جب یہ دعا الله تعالی نے خود اپنے نبی کو سکھائی تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ اقامت دین ، نفاذ شریعت، اور حدود الله  قائم کرنے کے لئے حکومت چاہنا اور اسکے حصول کی کوشش کرنا  نہ صرف جائز، بلکہ مطلوب ہے ۔وہ لوگ غلطی پر ہے جو اسے دنیا پرستی کہتے ہیں ،دنیا پرستی تو اس وقت ہوگی جبکہ کوئی شخص اپنے لئے حکومت کا طالب ہو ،رہا خدا کے دین کے لئے حکومت کا طالب ہونا تو یہ دنیا پرستی نہیں بلکہ خدا پرستی ہی  کا عین تقاضہ ہے ۔
اگرچہ آفتاب اسلام کی کرنیں مکّہ کی پہاڑیوں سے طلوع ہوئی تھیں لیکن یہ آفتاب اسلام پوری آب و تاب کے ساتھ مدینہ کے افق پر چمکا ۔
جب بھی کوئی نیا نظام نافذ کرنا ہوتا ہے تو اسکے لئے پہلے ایک ایسی ٹیم تیار کی جاتی ہے جو نہ صرف اس نئے نظام کی جزئیات سے آگاہ ہو بلکہ اس پر بلکللیہ یقین بھی رکھتی ہو .اسی بنیادی اصول کے پیش نظر آپ (ﷺ) نے ایک طویل عرصہ ١٣ سال کا عرصہ مکّہ میں تبلیغ کرتے ہوئے گزارا .آپ (ﷺ) کی انتھک کوششوں کی وجہ سے اچّھا خاصا طبقہ مسلمان ہو گیا تھا ،مگر اب ضرورت اس بات کی تھی کہ ایسا خطہء زمین ہو جہاں کی آبادی مکمل طور پر یا اکثریت اس نظام کو قبول کرنے پر تیار ہو .لہٰذا اس سلسلے کے لئے مناسب خطہ مدینہ منورہ کی سر زمین ہی تھی .مدینہ منورہ کی یہ ریاست دس برس کے قلیل عرصے میں ارتقاء کی مختلف منزلیں طےکر کے ایک عظیم اسلامی ریاست بن گئی۔ جس کی حدود حکمرانی شمال میں عراق و شام کی سرحدوں سے لے کر جنوب میں یمن اور حضر موت تک، اور مغرب میں بحر قلزوم سے لے کر مشرق میں خلیج فارس و سلطنت ایران تک وسیع ہو گئیں .اور عملا پورے جزیرۂ نما عرب پر اسلام کی حکمرانی قائم ہو گئی ۔آپ (ﷺ) کا سیاسی معجزہ  ہی تھا کہ آپ (ﷺ) نے دشمن قبائلی عرب کو ایک سیسہ پلائی ہوئی قوم میں تبدیل کر دیا ۔اس کا سب سے بڑا بلکہ واحد سبب یہ تھا ،”قبیلہ یا خون” کے بجاے "اسلام یا دین "یہ حکومت کی اساس تھا۔
یہ ہے وہ پہلا نظام جو توحید الہی کے پہلے نقطے سے قائم ہوتا ہے .آپ (ﷺ) کو معبوث ہی اسلئے کیا گیا تھا کہ آپ (ﷺ) دنیا  میں ایسا نظام قائم کر دیں کہ جس نظام کی بنیاد خالصتا رب کی بندگی پر ہو. جس میں ایک کو دوسرے پر کوئی فضیلت حاصل نہ ہو،نہ خاندان کی بنیاد پر اور نہ نسل کی بنیاد پر. بلکہ جو شئے مطلوب ہے وہ خالص الله کی بندگی اور اسکا تقویٰ ۔ یہی چیز اقتدار کے لئے مطلوب ہے۔ جی ہاں آپ کو زندگی میں کوئی مقام یا کوئی منصب یا پھر اسے اعزاز کہہ  لیں اسلئے نہیں ملتا کہ آپ اعلی و ارفع خاندان میں پیدا ہوئے ہوں ،آپ کے آبا و اجداد عالم فاضل تھے ،متقی تھے دیندار تھے ،یہ تو ایک اتفاق ہوا، اعزاز نہیں ۔اعزاز تو وہ ہوتا ہے جو آدمی کی ذاتی محنت اور صلاحیت کی بنیاد پر ہو .اور اتفاق کیا ہوتا ہے؟جس میں آدمی کا اپنا کوئی عمل دخل نہ ہو، الله تعالی نے جہاں چاہا جس کنبہ میں چاہا پیدا کیا. اور ہمیں بتا دیا گیا تمہیں کنبوں اور قبیلوں میں کیوں تقسیم کیا گیا؟سورہ الحجرات ١٣ _”اے لوگو ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور ہم نے تمہارے خاندان اور قبیلے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو ،بلا شبہ الله کے یہاں تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ متقی ہے ،بے شک الله بہت علم والا ،خوب با خبر ہے..”
آپ (ﷺ) نے جو معاشرہ قائم فرمایا اسمیں یہ اصول پوری طرح قائم و دائم و نافذ تھا کے یہاں کسی کو اس بنیاد پر کچھ نہیں ملیگا کہ وہ کس کا بیٹا ہے  یا کس خاندان سے ہے ؟بلکہ اس بنیاد پر ملیگا کہ اس نے کیا کیا ہے ؟اگر خاندان کی بنیاد پر ملتا تو بنو ہاشم کو سب سے زیادہ ملتا۔ تاریخ اٹھا کر دیکھئے تو پتا چلےگا سب سے زیادہ معاوضہ شرکائے غزوہ بدر کو ملتا تھا ،شرکائے غزوہ احد کو ملتا تھا ۔اس بنیاد پر ملتا تھا کہ جب اسلام کے لئے کوئی اٹھنے کے لئے تیار نہیں تھا تو وہ اپنی جان کی بازی لگانے کے لئے میدان میں آگئے ۔اسی بنیاد پر یہ نظام معاشرے سے ریاست کی طرف بڑھا۔ انسان کے بنائے ہوئے سارے مصنوعی دائرے توڑ دئیے گئے۔ خاندان کا دائرہ ،علاقے کا دائرہ ،زبان کا دائرہ ،یہ وہ دائرے ہیں جس میں انسان مقید تھے .آپ (ﷺ) کی آمد نے ان سارے دائروں کا خاتمہ کیا اور سب کو الله کی بندگی کے لئے ایک دائرے میں لے آے.
ریاست مدینہ پر سب سے بڑے آدمی ،سب سے متقی آدمی،سب سے نورانی آدمی ،الله کے برگزیدہ افضل البشر ،خیر الرسل محمد (ﷺ) سربراہ بنائے گئے .وہ پہلی اسلامی ریاست کے پہلے سربراہ تھے .وہ اس چلتی ہوئی ریاست کو ان زندہ اور تابندہ افراد کے حوالے کر گئے جنہیں ہم صحابہ کرم رضوان الله علیھم اجمعین کہتے ہیں .آپ (ﷺ) نے ١٠ سال مدینہ کی ریاست کو مستحکم  کیا .آپ (ﷺ) کے بعد اقتدار کے منتقلی کا مرحلہ آیا ،اور یہی وہ مرحلہ تھا جس میں کسی دعوت کے یا ریاست کے اصلی جوہر  کھلتے ہیں .عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ کوئی صاحب اگر چھوٹا سا مدرسہ بھی بنائیں تو انکی تمنا یہ ہوتی ہے کہ انکے مرنے کے بعد انکا بیٹا ہی مدرسے کا انتظام سنمبھا لے۔ خواہ وہ جاہل ہی کیوں نہ ہو ،اور ہم تو اس عہد میں رہتے ہیں جہاں جہالت کبریٰ اس حد تک طاری ہو گئی ہے، بادشاہ ہو یا جمہوری نظام باپ کے بعد بیٹا اور بیٹا نہ ہو تو بیٹی ،وہ مقام حاصل کرتی ہے چاہے وہ اسلامی مملکت کیوں نہ ہو، ورثے میں گددی چلی آ رہی ہوتی ہے۔ لیکن جہاں خالص اسلام کی بات کی جائے اسلام اس دوغلےپن کی بات نہیں کرتا ۔جہاں اسلامی نظام خالص الله کی رضا کے لئے قائم کیا جا رہا ہو وہاں پر گددیاں بیٹوں میں منتقل نہیں ہوتی اور نہ خاندانوں میں ،بلکہ قیادت ان لوگوں کو ملتی ہے جو صلاحیت بھی رکھتے ہوں اور صالحیت بھی آپ (ﷺ) کے رحلت کے بعد جب اقتدار کی منتقلی کا وقت آیا تو پتا چلا کہ اسلامی اقتدار خاندان میں منتقل نہیں ہوتا ،اگر یہ خاندان میں بٹنے کی چیز ہوتا تو آپ (ﷺ) کے چچا حضرت عباس (رضي الله عنه) کے پاس جاتا ،اگر بھائیوں میں بٹنے کی چیز ہوتا تو حضرت علی(رضي الله عنه) کے پاس جاتا ،دامادوں میں بٹنے کی چیز ہوتا تو حضرت عثمان (رضي الله عنه) کے پاس یا حضرت علی (رضي الله عنه) کے پاس جاتا ،لیکن ہم جانتے ہیں یہ بنو ہاشم میں سے کسی کے پاس نہیں گیا اور نہ بنو مطلب یا بنو عباس میں سے کسی کے پاس گیا ۔یہ ایک ایسے آدمی کے پاس گیا جو آپ (ﷺ) کے قبیلے سے نہیں تھے .یہ منصب حضرت ابو بکر صدیق (رضي الله عنه) کے پاس گیا .صرف انکی صلاحیت اور صالحیت کی وجہ سے .آپ (ﷺ) نے اپنے آخری ایام میں اپنی جگہ حضرت ابو بکر صدیق (رضي الله عنه) کو امامت کے لئے کھڑا کیا تھا .ہم یہ دیکھیں کہ حضرت ابو بکر صدیق (رضي الله عنه) سے لیکر حضرت امام حسین (رضي الله عنه) کے دور تک یہ اقتدار اسی بنیاد پر ایک سے دوسرے فرد تک منتقل ہوتا رہا ،اور ہر صاحب اقتدار شخص اپنے عمل سے اس کا حق ادا کرتا رہا.
ان تمام باتوں کی روشنی میں ہم دیکھیں تو ہمیں اس بات کا علم ہوگا کہ محرم کے مہینے میں کربلا کی جنگ کیوں لڑی گئی؟ حضرت معاویہ (رضي الله عنه) نے اقتدار اپنے بیٹے یزید کے حوالے کیا یہ وہ عمل تھا جو اقتدار کی منتقلی کے اسلامی اصولوں کے خلاف تھا ۔ یزید کو یہ اقتدار سونپا گیا تو وہ نہ تو صلاحیت کی بنیاد پر تھا اور نہ صالحیت کی بنیاد پر .اگر ہم یزید کا مقابلہ آج کے دور کے مسلمان حکمرانوں سے کریں تو ہمیں وہ انہی جیسا نظر آتا ہے اور اگر صحابہ کرام (رضي الله عنه) کے زمانے سے کریں تو وہ شیطان صفت تھا. چونکہ یزید کے مقابلے حسین (رضي الله عنه)، عبدللہ بن زبیر (رضي الله عنه)، عبدللہ بن عمر (رضي الله عنه)، عبدللہ بن عباس (رضي الله عنه) جیسے صالحیت اور صلاحیت میں کہیں زیادہ بڑھے ہوئے لوگ موجود تھے .یہی امّت محمدیہ کا وہ نقطہ زوال تھا جسے حسین (رضي الله عنه) نے محسوس کیا .عام طور پر یہ غلط فہمی پھیلائی جاتی ہے گویا یہ ایک خاندانی جنگ تھی .یہ اولاد علی (رضي الله عنه) اور اولاد معاویہ (رضي الله عنه) کی لڑائی تھی ،نہیں ..یہ اقتدار کو صحیح ہاتوں میں دینے کے لئے کی گئی جنگ تھی، یہ ایک اصولی لڑائی تھی.
آج مسلمانوں میں ہی وہ لوگ پاے جاتے ہیں جو کہتے ہیں ".اسلام میں سیاست کا نام مت لو "تو بتایئے اگر آپ (ﷺ) صرف واعظ و تذکیر سے ہی دین کو غالب کر سکتے تھے ،تو دشمنان اسلام سے نبرد آزما کیوں ہوے ؟کیوں آپ (ﷺ) کے مدنی دور میں اتنے غزوات لڑے گئے؟ کیوں جہاد کو فرض قرار دیا گیا ؟وہ اسلئے کہ بنا اقتدار کہ ہم اس دین کو قائم نہیں کر سکتے۔اسلام بحیثیت دین نافذ نہیں ہو سکتاجبتک کہ اسلامی حکومت قائم نہ ہو،حکومت کے بغیرآپ انفرادی طور پر کسی چیز پرعمل تو کر سکتے ہیں لیکن اسلام کااجتماعی نظام نافذ نہیں ہو سکتا۔ .تاریخ و سیرت کے باب کھلے ہیں ہمارے سامنے یہی بات آپ (ﷺ) کے نواسے حضرت حسین (رضي الله عنه) نے اپنے نانا کے اسوہ کو سامنے رکھ کراپنائی.
آج ہم کن جھگڑوں میں الجھے ہوئے ہیں؟ ہم فرقوں میں بٹ گئے ہیں .حضرت ابوبکر (رضي الله عنه) حضرت عمر (رضي الله عنه) حضرت عثمان (رضي الله عنه) اور حضرت علی (رضي الله عنه) باہم شیرو شکر تھے .جب تک ہم ایسے شیر و شکر نہیں ہونگے اسوقت تک اسلامی نظام نہیں قائم ہو سکتا. یہ شیعہ و سنی، بریلوی و دیوبندی ان تمام کو یکجا ہونا ہوگا.
اگر کوئی شخص محض یہ سمجھتا ہو کہ شیعہ انقلاب لے آینگے تو وہ احمقوں کی جنّت میں رہتا ہے .اور کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اسلامی انقلاب کسی دیوبندی مکتب فکر کے انقلاب کا نام ہے تو وہ بھی اپنی جگہ غلط ہے .یہ اسلئے کہ اسلامی نظام جب بھی قائم ہوگا محمد (ﷺ) کے چمن کے یہ سارے پھول اکٹھا ہو جائینگے۔
منزل تو ملےگی بھٹک کر ہی سہی
گمراہ تو وہ ہیں جو گھر سے نکلے ہی نہیں۔
فضا آپ کے حق میں بھلے بدل رہی ہو مگر جب تک آپ آگے بڑھ کر اس سے فائدہ نہیں اٹھاینگے کچھ نہیں ہونے والا ۔ملکی انتظامیہ سے کنارہ کشی ہمارے لئے مضر ہے .ہمیں کہیں سے تو شروعات کرنی پڑھےگی ،اپنا ووٹ ہمیشہ استعمال کیجئے اور ہر سطح کے انتخابات میں ووٹ ڈالئے. ان انتخابی حلقوں میں بھی ووٹ ڈالئے جن میں کوئی امیدوار آپ کے شرائط پر پورا نہیں اترتا ہو ،یہ اسلئے کہ کام تو اسی ناقص ماحول اور معیار سے گری دنیا میں ہوتا ہے .اصلاح معاشرہ ہو یا اقامت دین جو اختیارات میسر ہوں انہیں کے درمیان سے راستہ نکالنا ہے .گوشہ گیری یا کنارہ کشی میں زیادہ نقصان ہے۔
ہمارے معیار کیا ہیں جن پر اپنے آپ کو کسنا ہے؟ جن کے مطابق بننے میں ہماری کامیابی مضمر ہے ،اور جن کو نظر انداز کر دیں تو دنیا کی کوئی تدبیر ہماری بگڑی بنا نہیں سکتی ۔یہ معیار مومنین کی وہ صفات ہیں جو الله تعالی نے قران کریم میں اور آپ (ﷺ) نے اپنی احادیث میں ہمیں بتائی ہیں ۔امانت اور دیانت،ناپ تول میں کھرا ہونا،دوسروں کی مدد کرنا، اللہ کی راہ میں خرچ کرنا،تواضع اور انکساری،نرم خوئی،انسانی رشتوں کا پاس و لحاظ،کبر حسد اور غصہ جیسے رذائل سے اجتناب،اور سب کی خیر خواہی یہ ہیں مومن کی صفات۔۔اصل طاقت اخلاق و کردار کی طاقت ہے۔  سب سے مضبوط اخلاق وہ ہے جوعقیدہ توحید پر مبنی ہو،اورجو انسانوں سے ربط میں ظاہر ہو۔ نبی(ﷺ) کا یہ فرمان یاد رہے ۔”میں اعلی اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہوں”
چیلنج تو اور بھی بہت ہیں مگر ہم چند باتوں کومضبوطی سے تھامے رہیں تو انشاءاللہ کامیابی کی طرف گامزن ہو سکتے ہیں۔ہندوستان کی غیر مسلم آبادی کے ساتھ تعلقات بڑھانا، interaction پیدا کرنا،مسلم عورتوں کو ان کے صحیح انسانی منصب پر واپس لانا۔شہادت حق کےاسلامی مشن میں مسلم مردوں کے ساتھ مسلم عورتوں کا شامل ہونا۔مسلمانوں کی قوت بڑھانے کے لئے تدابیر اختیار کرنا۔یہ چیلنج بنیادی اہمیت رکھتےہیں۔ان کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کئے بغیر ہم کوئی بڑا کام نہیں کر سکتے۔ ضروری نہیں کہ ہم اپنے دور میں اسلامی نظام کو قائم ہی کر لیں لیکن اس کے لئے جدوجہد تو کر سکتے ہیں نہ!! اللہ نے چاہا تو آنے والی ہماری نسلیں اس خواب کو حقیقت میں بدلیں۔اللہ کے اذن سے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔اللہ ہماری مدد فرمائے۔۔
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button