Sliderجہان کتب

اسلام اور انسانی حقوق

امید ہے، اس کتابچہ کو ہر حلقے میں پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جائے گا۔

ڈاکٹر عبدالرحمن فلاحی

(انچارج شعبۂ ادارت، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز،نئی دہلی )

مولانا سیدجلال الدین عمری کو’انسانی حقوق‘ کے موضوع سے دل چسپی رہی ہے۔ایک عرصہ سے شائع ہونے والی کتابوں میں ’غیرمسلموں سے تعلقات اور ان کے حقوق‘،’مسلمان عورت کے حقوق اور ان پر اعتراضات کا جائزہ‘،’غیراسلامی ریاست اور مسلمان‘،’بچے اور اسلام‘، ’اسلام میں خدمت خلق کا تصور‘اور ’اسلام۔انسانی حقوق کا پاسبان‘جیسی وقیع کتابیں اس کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔ پیش نظر کتاب ’اسلام اور انسانی حقوق‘ مولانا کی وہ تقریر ہے جو انھوں نے مرکز جماعت اسلامی ہند کے ایک ہفتہ وار اجتماع میں پیش کی تھی۔ اس کا انگریزی اڈیشن بھی منظر عام پر آچکا ہے۔ اس میں تفصیل نہ سہی، مگر موضوع کے بیش ترپہلوؤں پر اسلامی تعلیمات کا خلاصہ آگیا ہے۔

انسان ظلم وزیادتی کے ہمیشہ سے شکار رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ مختلف ادوار میں اس کی صورتیں بدلتی رہی ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے مسلمانوں کی نسل کشی کالامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا ہے جو بیان سے باہر ہے۔بنیادی حقوق کے استحصال اور جینے کے حق سے محروم کرنے میں شرمندگی اور قباحت محسوس نہیں کی جاتی۔ اسی طرح ان کے ساتھ عدل وانصاف کے وہ تقاضے بھی پورے نہیں کیے جاتے جو مطلوب ہیں۔ بعض ممالک میں ایسے عناصر کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔ ظاہر ہے، اسے کوئی بھی مہذب معاشرہ برداشت نہیں کرسکتا۔ مقام حیرت ہے کہ ان زیادتیوں کے خلاف عالمی سطح پر آوازیں اٹھتی ہیں اور بے چینی اور اضطراب بھی پایا جاتا ہے، لیکن انھیں روکنے کے لیے عملی قدم نہیں اٹھائے جاتے،جس سے باطل طاقتیں بے خوف ہوکراپنے مشن کو انجام دیتی ہیں۔ اس گھناؤنے فعل نے اتنی بھیانک شکل اختیار کر لی ہے کہ عالمی برادری کو یہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑا کہ انسانوں کو ظلم وزیادتی سے بچانے کے لیے قوانین  بنائے جائیں۔ کتاب میں یہ تفصیل موجود ہے کہ اس کا احساس پہلے مغرب کو ہوا اور انھوں نے ہی اس بارے میں واضح تصورپیش کیا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مغرب میں انسانی حقوق کی تحریک کے علم برداروں میں فرانس نے سب سے پہلے انسانی حقوق سے محروم لوگوں کی حمایت میں آواز اٹھائی۔ مولانا نے اس ضمن میں اقوام متحدہ کے عالمی منشور کا ذکرکیا ہے، جس میں فرد کی آزادی، عدل وانصاف اور مساوات کی ضمانت دی گئی ہے۔ حالاں کہ یہ بعض خامیوں کی وجہ سے اب تک بے اثر ہی ثابت ہوا ہے۔ اس کے غیرمؤثر ہونے کی وجوہ کیا ہیں، یہ تمام پہلو کتاب میں زیربحث آئے ہیں۔

اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے۔ اس کی تعلیمات زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہیں۔ انسانی حقوق اور خدمت خلق کے متعلق اسلامی قانون اور راہ نما اصول قرآن وحدیث میں موجود ہیں۔ ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ آزادی سے زندگی بسر کرے،اسے مساوات اور برابری کا درجہ دیاجائے، اس کے ساتھ عدل وانصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں، تاکہ حق تلفی کا اندیشہ نہ رہے، اسے بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لیے معاشی جدوجہد کی آزادی حاصل ہو، معاشرتی وسماجی حقوق کے لیے کوئی پابندی نہ ہو، ملک وملت کی خدمت انجام دینے اور اظہار خیال کی آزادی حاصل ہو۔ ایسے  بیشمار حقوق ہیں، جن کی اسلام میں ضمانت دی گئی ہے۔ قرآن میں انسانی جان کو محترم قرار دیا گیا ہے اور فطری حقوق سے محروم کرنے کی سخت ممانعت وارد ہوئی ہے۔ مولانا نے ان عناوین کے خاص نکات پر قرآن و سنت کی روشنی میں گفتگو کی ہے۔انھیں پڑھ کر قارئین سمجھ پائیں گے کہ اسلام نے انسانوں کو یہ تمام حقوق تو بہت پہلے سے ہی دیے ہیں، لیکن دوسرے مذاہب کے لوگ مشکل سے ان کا اعتراف کرپاتے ہیں۔ مصنف نے بجا طور پر لکھا ہے: ’’حقیقت یہ ہے کہ جو حقوق کسی فرد یا طبقہ کو لازماً ملنے چاہئیں، اسلام وہ تمام حقوق فراہم کرتا اور انسان کے فطری تقاضوں کی بہتر انداز میں تکمیل کرتا ہے۔‘‘امید ہے، اس کتابچہ کو ہر حلقے میں پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جائے گا۔ اس کے مطالعے سے یقینا انسانی حقوق کے سلسلے میں اسلام کا موقف سمجھنے میں مدد ملے گی۔

مرتب: مولاناسید جلال الدین عمری،  صفحات: 125، قیمت120 ؍روپے، سنہ اشاعت: 2018ء، ناشر: مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز،نئی دہل

٭٭٭

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button