Sliderجہان خواتین

اسلام اور عظمت نسواں

خان طیبہ فردوس عبدالرحیم خان

جی آئ او (وسط) اورنگ آباد

ا ے زن عصر رواں اسلام کے آنچل میں آ
امت مسلم کی ماں اسلام کے آنچل میں آ

آج کے ان حقوق نسواں کے علمبرداروں سے پوچھ لیجئے کہ وہ جس عظمت نسواں کی بات کرتے ہے تو انہوں نے اسکی کہاں تک اور کتنی حفاظت کی ۔
پھر کیوں اس ملک میں نہ جانے ہر روز کتنی معصوم بچیوں اور بالغ خواتین کی عصمتوں کو تار تار کیا جاتا ہے۔۔؟؟
کتنی کمزور و غریب خواتین کی عزت و وقار کا جنازہ نکالا جاتا ہے ۔..؟؟
کتنی صنف نازک ایسی ہے جو دوسروں کی ناجائز خواہشات ، عیش وعشرت پرستی کی وجہ سے جہیز کی بھینٹ چڑھائی جاتی ہیں ۔مردوں کی حرص و ہوس کی تسکین کا ذریعہ بن رہی ہیں۔
غرض یہ کہ عورت ہر حیثیت سے قدر و توقیر سے محروم ہو رہی ہے۔ غربت و مفلسی ان کی جوانی کو دبوچ رہی ہے تو کچھ کی پیشانی پر مفلسی کا داغ ہے ۔
اصل حقیقت تو یہ ہے کہ دیگر مذاہب میں آج بھی عورت ہمیشہ ہر رشتے کی شکل میں صرف اور صرف درندگی و حیوانیت کا شکار رہی
آخر کار اللہ رب لعالمین کی عطا کی ہوئئ وہ ایک ایسی صبح ہوئئ جس نے کائنا ت کے ذرہ ذرہ کو مبارک باد دی اور جسکی بعثت نے اس صنف نازک کو ذلت اور بدکاری و بے حیائی سے نکال کر عظمت کا ایسا تاج عطا کیا کہ دنیا انگشت بد نداں رہ گئی۔
قرآن کریم نے صاف صاف اعلان کردیا "کہ مرد و عورت دونوں ایک نفس واحدہ سے پیدا کئے گئے ہیں ۔ اور مزید فرمایا کی آدم کو جنت سے نکلوانے میں شیطان کا دھوکہ پوشیدہ ہیے اسلئے موردالزام بھی آدم وحوا یکسا ٹھہرے۔

اپنی آوارہ مزاجی کو نیا نام نہ دو
مجھ کو جنت سے نکلوانے کا الزام نہ دو

نبی کریم ص۔ نے لوگوں کو بتایا کہ عورت شیطان کی آلہ کار نہیں بلکہ ایک مضبوط قلعہ و فصیل ہے جس کے بغیر سب کچھ نا مکمل ہے ۔
بحیثیت بیٹی رحمت کہہ کر پکارا گیا۔
بحیثیت ماں اسکے قدموں تلے جنت رکھ دی گئی ۔
بحیثیت بیوی تسکین و سکون کا ذریعہ بنایا گیا۔
غرض ہر روپ میں اس کو مقدس مقام عطا کرکے یہ بتایا کہ
عورت کی حقیقی پوزیشن بازاروں کی رونق و حسن اور مردوں کی ہوس ولذت کا سامان نہیں بلکہ تمہارے گھروں کی ملکہ و زینت ہیے اور تمہاری عزت و آبرو ہے ۔تمہاری غیر موجودگی میں تمہارے گھروں کی محا فظ ہے ۔
اے بنت حوا۔۔!!
یہ وہ اسلام ہے جس نے تجھے یورپ اور رومن کیتھولک کی طرح دوم درجہ کی مخلوق نہیں کہا اور گھر داری کے تنگ دائرے میں پھساکر ناپاک کہہ کر مقدس کتاب کو چھونے سے،اور مقدس جگہ پر جانے سے نہیں روکا بلکہ تجھکو بھی ویسی ہی آزادی دی گئ جو کسی پرندے کی پرواز کو حاصل ہوتی ہے ۔
اسلام کی پاکیزگی اورانصاف پسندی کے اعلی جواہر نے تجھکو مالامال کیا۔
تم اپنے شوہر کی رائے لئے بغیر اپنے مال کو اپنی مہر کی رقم کو جس طرح چاہے صرف کر سکتی ہوں غرض کہ اسے تجارت کا حق ، جائداد کا ذاتی ذمہ دار ، نکاح میں اسکی مرضی کو اہمیت، نکاح کے ساری ہی ذمہ داری شوہر کے سر ڈالی طلاق ہونے پر نان و نفقہ کی شوہر پر ذمہ داری عائد کی ۔
عورت جس معاشرے میں کمتر و حقیر تھی اسلام نے اسے تعلیم کے زیور سے اسطرح آراستہ کیا۔ کہ اسلامی تاریخ کے روشن پہلوں میں ہمیں حضرت عائشہ رض۔۔ کی مثال ملتی ہے جو ایسی محدثہ و فقیہہ تھیں جس سے صحابہ اکرام مسائل پوچھتے تھے۔
کریمہ بنت احمد المرزوی نے الخطیب البغدادی کو صحیح بخاری کا درس دیا تھا۔ حضرت نفیسہ وہ محدثہ تھیں کہ درس میں امام شافعی شریک ہوا کرتے تھے۔
غرض کہ اسلام نے صنف نسواں کوجہالت کے جس قید خانہ سے نکال کر اتنے عزت و احترام کے مقام بلند پر فائز کیا ۔ تو اب بتاؤ اے حقوق نسواں کے علمبرداروں کس مذہب نے عورتوں کو جھوٹے اور اندھے عقائد میں قید کیا اور کس نے اعلی ظرفی عطا کی۔ ..؟؟
اے بنت حوا۔۔۔!!
دنیا کے پر فریب آزادی نسواں کے نعروں میں اپنی آواز نہ ملانا۔ یاد رکھنا تمہاری عزت و عظمت و وقار صرف اور صرف اسلام سے ہے ۔
تمہاری توقیر و فضیلت حیا کی چادر سے ہیں ۔تمہاری پہچان تمہارا نئے فیشن کے طرز پر بنا لباس نہیں بلکہ مکمل اسلامی معاشرہ ہے ۔
اے ماوں ! بہنوں دنیا کی عزت تم سے ہے
تم گھر کی ہو شہزادیاں گھر بھر کی زینت تم سے ہے
ہم خدیجہ عائشہ و حفسہ رض۔ کی بیٹیاں ہے ۔بازار وں ، آفسوں اور ٹی وی اسکرین کی نمائش و رقاصہ نہیں ہیں ۔
ہوشیار رہنا عظمت نسواں کا آنچل تار تار نہ ہونے پائے۔

روش خام پر مردوں کہ نہ جانا ہرگز
داغ تعلیم میں نہ اپنی لگانا ہرگز
تم کو قدرت نے جو بخشا پے حیا کا زیور
مول اسکا نہیں قاروں کا خزانہ ہرگز

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button