Sliderجہان خواتین

اسلام حقوقِ نسواں کا پاسباں

سارہ فردوس سید مظہر علی

جی آئی او اورنگ آباد وسط

تاریخ گواہ ہے کہ ایک عرصہٴ دراز سے عورت مظلوم چلی آرہی تھی۔ ہرقوم میں ہر خطہ میں کوئی ایسی جگہ نہیں تھی، جہاں عورتوں پر ظلم کے پہاڑ نہ ٹوٹے ہو۔ لڑکیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے۔ ۔ دنیا کے زیادہ تر تہذیبوں میں اس کی سماجی حیثیت نہیں تھی۔ اسے حقیر وذلیل نگاہوں سے دیکھاجاتا تھا۔ اس کے معاشی وسیاسی حقوق نہیں تھے، لیکن اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے عورت پر احسان عظیم کیا اور اس کو ذلت وپستی کے گڑھوں سے نکالا نبیِ کریم  صلی اللہ علیہ وسلم رحمة للعالمین بن کر تشریف لائے اور آپ نے پوری انسانیت کو اس آگ کی لپیٹ سے بچایا ۔
عورت کی فلاح وبہبود اور اس کے سعادت وتكريم کے سلسلے میں قرآن اور پیغمبر اسلام کی تعلیمات اور اسلامی تاریخ میں عورتوں کا مقام ۔
قرآن مجید میں ایک طویل سورہ ہی النساء عورتوں کے حقوق سے متعلق موجود ہے اس میں اس میں ان کے وراثت کے حقوق ہے جو اس بات کا اشارہ کرتی ہے کہ خدا کی کتاب عورتوں کے سلسلے میں کتنی حساس اور بیدار ہے اس ہی سورت میں ذکر ہے کہ
اپنی عورتوں کے ساتھ بھلے طریقہ سے رہو (النساء آیت 19)
حقیقت یہ ہے کہ اگر عورتوں کے حقوق اور ان کے مقام سے متعلق یہی ایک آیت ہوتی انکے تئیں زندگی کے معاملات میں عدل ۔انصاف ۔اور محبت و وفاداری کے تقاضے پورے کرنے کے لیے کافی تھی لیکن قرآن مجید نے تمام اہم معاملات زندگی میں صاف اور صریح ہدایتیں دے کر بیٹی ،بہن، ماں، اور بیوہ تمام حیثیتوں سے بلند کیا اور اس کے حقوق متعین اور محفوظ کیے
ان مکمل اور روش تعلمیات کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم سماج میں عورت احترام کی مستحق ٹھہری ۔ماں کو درجہ دیا گیا ہے کہ *ماں کے قوموں تلے جنت ہے
سرور کائنات حضرت محمد صلى الله عليه وسلم نے اہل ایمان کو ماں کے قدموں تلے جنت قرار دے کر ماں کو معاشرے کا سب سے زیادہ مکرم ومحترم مقام عطا کیا
اسلام نے عورت کو ماں ہونے کی صورت میں ایک خاص درجہ کے اکرام واحترام سے نوازا ہے اور اس کا خصوصی خیال رکھنے اور خدمت وحسن سلوک کرنے کی تاکید فرمائی ہے
اللہ رب العالمین ارشاد فرماتے ہے کہ
ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرو اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہوکر رہیں تو انہیں اف تک نہ کہو نہ انہیں جھڑک کر جواب نہ دو بلکہ ان سے احترام کے ساتھ بات کرو ( سورہ بنی اسرائیل 23.)
جب وہ بیٹی ہوتی ہے تو اللہ کی رحمت اور رزق لیے کر آتی ہے
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلعم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہو یادو بیٹیاں یا دو بہنیں ہو اور وہ ان کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گزارے ( ان کے جو حقوق شریعت نے مقرر فرمائے ہے وہ ادا کرے )اور ان کے حقوق کی ادائیگی کے سلسلے میں اللہ سے ڈرتے رہے تو اللہ اس کی بدولت اس کو جنت میں داخل فرمائیں گے (ترمذی )
حضرت ابو هريرة رضي الله عنه سے مروی ہے میں نے آپ صلعم سے پوچھا آگر کسی کی ایک بیٹی ہو تو؟ محمد صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ایک بیٹی کی اسی طرح پرواش کرےگا اس کے لیے بھی جنت ہے ۔
اسلام میں عورت کو اہم مقام حاصل ہے حضرت محمد صلعم نے فرمایا تم میں سے اچھے لوگ وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے حق میں اچھے ہو۔
رسول صلعم نے اچھے لوگوں کی صفات کا میعار یہ بتایا کہ یہ وہی لوگ ہوسکتے جو اپنی عورتوں کے حق میں اچھے ہو۔
اللہ رب العالمین کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں امت مسلمہ بنایا اور قرآن و حدیث کے ذریعہ ہماری رہنمائی کی.

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button