بین الاقوامی

اسلام صلح و آشتی کا مذہب ہے

peace day

عظمیٰ انجم بنت اشرف

جی آئی او،  اورنگ آباد وسط

لفظ اسلام، سَلَمَ سے بنا ہے جس کے دو معنی ہوتے ہیں۔
سَلْمِ ، صلح و آشتی ۔الانفال 61
سِلْمِ: اطاعت _ اسلام۔ ادخلوا فی السِلْمِ کافة.البقرۃ-208
اور اسی طرح متعدد آیات(سورہ مائدہ۔32، الانعام۔81.82,القصص۔77,الاعراف۔56) صلح و آشتی کا درس دیتی ہے۔ اور ہر پیغمبر ، نبی، صحابہ کرام، جیسے عظیم شخصیت کے مالک لوگوں کا پہلے یہی کام تھا کہ وہ انسانوں کو امن کی طرف بلاۓ۔ اور پھر انسانوں کی نجات اسی میں ہیں کہ وہ رسولوں کے لائے ہوئے دین کو قبول کرے۔ اسی طرح محمد ﷺ کو انسانیت سے بے انتہا محبت تھی۔ ہر لمحہ آپﷺ اس فکر میں رہتے تھے کہ انسانیت کو جہنم کی آگ سے بچانا ہے ۔
ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضرت معاذ رض کو دعوتی کام کے لئے یمن بھیجا اور فرمایا کہ” تم ایسی قوم کے پاس جا رہے ہیں جو اہل کتاب ہے لہذا ان کو پہلے "توحید ” کی دعوت دینا، وہ اس کو قبول کرلیں تو ان کو بتانا کہ اللہ نے ان پر دن رات میں پانچ وقت کی نماز فرض کی ہے۔ اس کو قبول کرلیں تو ان کو بتانا کہ اللّہ نے ان پر زکوٰۃ واجب قرار دی ہے جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے غرباء میں تقسیم کی جائے گی۔ اگر اسے بھی مان لیں تو تم ان کے اچھے مال لینے سے بچنا اور مظلوم کی بدعا سے بچنا، اس لیے کہ اللہ اور اس کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا- (مشکوٰۃ المصابیح)
اور یہ کہ ابراہیمؑ نے دعا کی "اے میرے رب، اس شہر کو امن کا شہر بنا دے، اور اس کے باشندوں میں جو اللہ اور آخرت کو مانیں، انہیں ہر قسم کے پھلو ں کا رزق دے” جواب میں اس کے رب نے فرمایا "اور جو نہ مانے گا، دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان تومیں اُسے بھی دوں گا مگر آخرکار اُسے عذاب جہنم کی طرف گھسیٹوں گا، اور وہ بد ترین ٹھکانا ہے”- سورہ بقرہ۔ 126۔
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button