Sliderجہان خواتینسیرت صحابہ و صحابیات

اصلاحِ معاشرہ میں حضرت ام سلیمؓ کا کردار

حضرت ام سلیمؓ کی زندگی زہد وتقویٰ،خداترسی، للہیت اور شعائر اسلام کی پاس داری سے لبریز تھی،یقینا موجودہ دور کی خواتین کے لیے ان کی زندگی مشعلِ راہ ثابت ہو سکتی ہے۔

ساجدہ ابواللیث فلاحی

(سابق صدر،کلیۃ البنات، جامعۃ الفلاح،بلریاگنج اعظم گڑھ،یوپی)

[email protected]

آج کے پرفتن ماحول میں اصلاح معاشرہ کی اہمیت و ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، بطور خاص ہندستان کی سرزمین میں جہاں امتِ مسلمہ کو اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر مسائل ومشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ایک طرف مسلمان خود اکثریتی فرقہ کی تہذیب و تمدن سے متاثر ہوکر اپنی شناخت کھوتے چلے جارہے ہیں اور احکامِ دین کو انہوں نے کچھ خاص مواقع اور عبادات تک محدود کردیا ہے،وہیں دوسری طرف اسلام دشمن عناصر احکام دین پر نہ صرف اعتراض کر رہے ہیں بلکہ مختلف وسائل و ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے ان کا قلع قمع کرنے پر آمادہ ہیں، جس کے لیے وہ نام نہاد مسلم خواتین سے غیر اسلامی افکار و نظریات سے فائدہ اٹھاکر شریعت اسلامی پر حملہ آور ہیں اور مسلم و غیرمسلم سب ہی کے ذہنوں کو اسلام سے متنفر کرنے میں سرگرم ہیں۔

انسانیت کی معمار عورت ہے اس لیے معاشرے میں بناؤ اور بگاڑ میں بھی اسے اساسی حیثیت حاصل ہے۔نیز افراد و معاشرے کو اعلیٰ قدروں، دینی و اخلاقی اوصاف سے آراستہ کرنے کا کام ہمیشہ سے عورت ہی کے سپرد رہا ہے۔ دور ماضی کی ممتاز خواتین بالخصوص صحابیات نے اس سلسلے میں جو کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں وہ ہم سے مخفی نہیں ہیں۔ اگر ہم اس کاجائزہ لیں تو دور نبویؐ کی خواتین کی طرز معاشرت احکام دین کے عملی تقاضوں سے روشن نظر آتی ہے۔ ان خواتین میں ایک عظیم المرتبت خاتون حضرت ام سلیمؓ بھی ہیں جن کی سیرت کا مطالعہ دور حاضر کی خواتین میں اسلامی روح پھونکنے میں معاون ثابت ہوگا۔

 تعارف

حضرت ام سلیم کا پورا نا م ’’ام سلیمؓ بنت مِلحان بن خالد بن زید بن حرام‘‘ ہے۔مؤرخین کے درمیان ان کے نام اور لقب میں اختلاف ہے،چناں چہ وہ سھلۃ،رمیلۃ،أنیقۃاور رمیثۃ وغیرہ کے ناموں سے منسوب کی گئی ہیں۔ (1) نیز ان کا لقب بعض نے ’’غمیصا‘‘ اور بعض نے ’’رمیصا‘‘ لکھا ہے۔(2) البتہ کنیت’’ ام سلیم‘‘ ہونے پر تمام سوانح نگاروں کا اتفاق ہے۔ حضرت ام سلیمؓ کے تعارف میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خالہ ہونے کا شرف بھی حاصل تھا۔امام نوویؒ فرماتے ہیں :

 ’’ام حرام اور ام سلیم یہ دونوں محترم ہستیاں رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی رضاعی یا نسبتی خالہ تھیں، اسی لیے ان دونوں کے ساتھ خلوت آپؐ کے لیے حلال تھی۔ لہٰذا آپؐ ان کے یہاں خاص طور پر جایا کرتے تھے اور ان دونوں کے علاوہ سوائے ازدواج مطہرات کے کسی عورت کے یہاں آپؐ نہیں جاتے تھے۔ ‘‘ (3)

حضرت ام سلیم ؓ کی والدہ کا نام ملیکہ بنت مالک بن عدی بن زیدتھا۔ وہ آبائی سلسلۂ نسب سے سلمیٰ بنت زید کی پوتی تھیں جو جدِّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم عبدالمطلب کی والدہ تھیں۔ اسی بنا پر ام سلیمؓ آپؐ کی خالہ مشہور ہوئیں۔ انہوں نے مدینہ میں اسلام کے پہنچتے ہی مسلمان ہونے کی سعادت حاصل کر لی تھی، چناں چہ وہ اس حوالے سے فرماتی ہیں :

’’کان رسول اللہ ﷺ یقبل فی بیتی۔ فکنت أبسط نطعا، فیقیل علیہ فیحدق، فکنت أخذ سکا فأعجتہ بعرقہ۔‘‘ (4  )

فضیلت

 حضرت ام سلیمؓ کی اہمیت اورفضیلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں ہی جنت کی خوش خبری دے دی تھی، چناں چہ آپؐ نے فرمایا:

دخلت الجنۃ فسمعت خشفۃ، فقلت من ھذا؟ فقالوا ھذہ العصیماء بنت ملحان، ام انس بن مالک۔(5)

’’میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے کچھ آہٹ محسوس کی،میں نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ جواب ملاـ:یہ عصیماء بنت ملحان ہیں، یعنی انس بن مالک کی والدہ محترمہ۔‘‘

 قبولِ اسلام

حضرت ام سلیمؓ کو اپنی مکی زندگی میں ہی اسلام قبول کرنے کی سعادت حاصل ہوگئی تھی البتہ آپؐ سے بیعت کرنے کا موقع مدینہ منورہ میں ملا۔ ان کے ایمان لانے کا موقع خواتین کے لیے باعث موعظت ہے۔ انہوں نے جس اولوالعزمی اور جرأت کے ساتھ مشرک شوہر کی شدید مخالفت کے باوجود دین اسلام کو اپنے سینے میں بسایا۔حضرت ام سلیمؓ نے اپنے بیٹے انسؓ بن مالک بن مضر کو بھی اسلام کی دولت سے مالامال کیا اور انہیں اپنے شوہر کی مخالفت کے باوجود کلمہ توحید کی تلقین کی جس کے نتیجہ میں مالک بن مضر ان سے ناراض ہوکر ملک شام پہونچ گئے جہاں ان کے کسی دشمن نے انہیں قتل کردیا۔ اس کی خبر جب ام سلیمؓ کو ملی تو ان کے منہ سے بے ساختہ نکلا: ’’خس کم جہاں پاک‘‘ اب میں اپنے بیٹے کی تربیت اطمینان و سکون سے کرسکوں گی۔جب کہ دور حاضر میں پیدائشی مسلم خواتین کے لیے اپنے آباوادجداد سے ورثہ میں ملے ہوئے اسلام کا تحفظ مشکل ہو رہا ہے،غیر اسلامی افکار ونظریات کو اختیار کرنے میں انہیں کوئی تامل نہیں ہے، احکام دین پر عمل نہ کرنے کے متعدد بہانے اور عذرات پیش کیے جاتے ہیں، کبھی ماحول سے بگاڑ کا عذر اور کبھی شوہر کی بے دینی کا ذکر اور کبھی والدین کی کمی و کوتاہی کا حوالہ۔یہ عذرات و حوالے عنداللہ قبول ہونے والے نہیں ہیں بلکہ ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق ہی انجام سے دوچار ہونا ہے۔ یہ آیت کریمہ۔ ’’للرجال نصیب مما اکتسبو وللنساء نصیب ممن اکتسبن‘‘ (6)اور ’’انی لاأضیع عمل عامل منکم من ذکر أو أنثیٰ‘‘ (7) میں اسی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ سن شعور کو پہونچنے کے بعد ہدایت کی راہ کی تلاش اور اسلام کو اس کی جملہ صفات کے ساتھ اختیار کرلینا ہر ذی نفس کی اپنی ذمے داری ہے۔

نکاح

حضرت ام سلیمؓ سے حضرت ابوطلحہؓ کی نکاح کی پیش کش اور اس پر حضرت ام سلیمؓ کا موثر اور پرحکمت طرز عمل امت کی خواتین کے لیے نمونہ ہے کہ انہوں نے ایک مومنہ و مسلمہ ہونے کی وجہ سے ایک کافر کی نکاح کی پیش کش کو ایمان لانے کی شرط سے مشروط کردیااور زمین و جائیداد، مال و زر، ماہانہ آمدنی کا حساب و کتاب لگائے بغیر صرف ان کے ایمان لانے کو ہی اپنا مہر قرار دیا۔ اس حوالے سے حضرت انس فرماتے ہیں :

جاء ابوطلحۃ یخطب ام سلیم، فقالت۔انہ لا ینبغی لی ان أتزوج مشرکا۔ أما تعلیم یا أبا طلحۃ أن الھتکم التی تعبدون ینحتھا عبد آل فلان النجار،و انکم لو شعلتم فیھا نارا لاحترقت،قال:فانصرف عنھا و قد وقع فی قلبہ من ذلک موقعا، فاتاھا یوما، فقال:الذی عرضت علی قد قبلت،فما کان لھا مھر الا اسلام أبی طلحۃ‘‘۔(8)

’’ابوطلحہ ام سلیم کا پیغام لے کرآئے توانہوں نے کہاکہ یہ میرے لیے مناسب نہیں کہ میں کسی مشرک سے نکاح کروں۔ کیا تم نہیں جانتے اے ابوطلحہ! تمہارے معبود جن کی تم عبادت کرتے ہو، ان کو آل فلاں کا نجارغلام تراشتاہے اور اگر تم اس میں آگ لگادو تو وہ جل جائے۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں : ابو طلحہ وہاں سے چلے گئے اس حال میں کہ ان کے دل میں کچھ جگہ بن چکی تھی۔ پھر ایک دن وہ حضرت ام سلیمؓ کے پاس آئے اور کہا: جو بات تم نے میرے سامنے پیش کیا تھا اسے میں نے قبول کرلیا۔حضرت ام سلیمؓ کا کوئی مہر نہیں تھا سوائے حضرت ابوطلحہ کے اسلام کے۔‘‘

اس طرح حضرت ام سلیمؓنے وہ اجر حاصل کرلیا جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول میں وعدہ فرمایا ہے:

’’فواللہ لن یھدی اللہ بک رجلا واحدا ولک من حمر النعم۔ (9)

 ’’بہ خدا اگر اللہ تمہارے ذریعے کسی ایک شخص کو ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔‘‘

حضرت ام سلیمؓ کی مضبوط قوت ایمانی اور داعیانہ کردارنے حضرت ابوطلحہ کو ایمان کی طرف راغب کردیانیز ان پر یہ بھی ثابت کردیا کہ شرک کے علاوہ کوئی اور چیز ان کے لیے قابل رد نہیں ہے۔اس واقعہ میں امت مسلمہ کی خواتین کے لیے ایک تنبیہ ہے جو محض عیش و تعیش اور خواہشات کی تکمیل کے لیے اپنے ایمان کا سودا کررہی ہیں۔ ادھر کچھ عرصے سے مسلم لڑکیوں کا غیر مسلم لڑکوں سے نکاح کرکے اپنے دین و ایمان کا سودا کرلینے کی خبریں گردش میں ہیں اور اس میں روز بروز اضافہ ہی ہورہا ہے،جس کا سبب مخلوط تعلیم،سوشل میڈیا،فیس بک، واٹس اپ اورموبائل کا غلط استعمال وغیرہ ہیں۔ دین سے دور مسلم لڑکیاں فرقہ پرست عناصر کی منصوبہ بند سازش کا شکار زیادہ ہوتی ہیں۔ ان کی طرف سے لوجہاد کا شوشہ چھوڑکر ہندو نوجوانوں میں انتقامی جذبہ پیدا کیا جاتا ہے اور منصوبہ بند طریقے سے فریب دے کر لڑکیوں کو ان کے والدین، اعزہ و اقارب اور دین و ایمان سے محروم کرکے ہلاکت کے دہانے تک پہونچا دیا جاتا ہے۔

اس سنگین مسئلے پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ مسلم لڑکیوں کے دل ودماغ میں حضرت ام سلیمؓ جیسا ایمان مستحکم کیا جائے،دینی تعلیم و تربیت اور ذہن سازی کی طرف توجہ دی جائے،قرآن و سنت کے عام فہم لٹریچر کے مطالعہ کے ذریعے ان ذہن سازی کی جائے اور دنیا و آخرت میں ان کوتباہی سے بچانے کی ہر ممکن تدابیر اختیار کی جائیں۔

 اوصاف حمیدہ

حضرت ام سلیمؓ کا شمارشجاعت و بہادری، قوتِ ایمانی اور نیکی و صالحیت، صبر وتوکل میں عظیم المرتبت صحابیاتؓ میں ہوتا ہے۔ اسلام کی نہ صرف ان کے دل میں عظمت تھی بلکہ اس کی سربلندی کے لیے بھی بے چین نظر آتی تھیں، چناں نہ صرف وہ جنگِ احد میں شریک ہوئیں بلکہ خوب دادِ شجاعت بھی دی۔ محمد بن سیرینؓ فرماتے ہیں :

کانت ام سلیم مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم احد و معھا خنجر۔(10)

’’جنگ احد میں حضرت ام سلیمؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں اور ان کے پاس ایک خنجر تھا۔‘‘

 حضرت انسؓان کی بہادری اور شجاعت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

ان أم سلیم اتخذت خنجرا یوم حنین، فقال أبوطلحۃ! یارسول اللہ! ھذہ أم سلیم، معھا خنجر، فقالت: یا رسول اللہ، ان دنا منی مشرک بقرت بہ بطنہ۔(11)

’’ ام سلیم جنگ حنین میں ایک خنجر لیے ہوئے تھیں۔ حضرت ابوطلحہؓ انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا کہ یہ ام سلیم ہیں اور ان کے ساتھ ایک خنجر ہے۔ انہوں نے فوراً جواب دیا: اے اللہ کے رسولؐ! یہ اس لیے ہے کہ اگر کوئی مشرک مجھ سے قریب ہوا تو میں اس خنجر سے اس کاپیٹ پھاڑدوں گی۔‘‘

حضرت ام سلیمؓ جنگ خیبر (7ھ) میں بھی شریک تھیں اور فتح کے بعد جب حضرت صفیہ ازواج مطہرات میں شامل ہوئیں تو ان کو آپؐ کے لیے سنوارنے کے فرائض انہوں نے ہی انجام دیے تھے۔ وہ نہ صرف جنگوں میں شریک ہوتیں بلکہ زخمیوں کی مرہم پٹی کرتیں، ان کو پانی پلاتیں اور فوجیوں کے لیے کھانا بھی تیار کرتی تھیں۔ (12)

دور حاضر کی خواتین کے لیے حضرت ام سلیمؓ کا یہ کردار ایک پیغام رکھتا ہے کہ آج جب کہ خواتین کی عزت و ناموس پر چوطرفہ حملے ہورہے ہیں، ان کے حقوق کی آڑ لے کر دین و شریعت پر تنقید کی جارہی ہے، انہیں اسلام سے متنفر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے،انہیں شعائر اسلام سے دور کرنے کا لامتناہی سلسلسہ جاری ہے، ان کے حجاب اور لباس پر پھبتیاں کسی جارہی ہیں، ستم بلائے ستم یہ کہ فسادات اور دیگر دوسرے مواقع پر ان کی عزت و ناموس کو بھی تارتار کیا جارہا ہے۔ایسی صورتِ حال میں ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم خواتین حضرت ام سلیم ؓ جیسی دینی حمیت،ہمت و حوصلہ اور مدافعتی قوت پیدا کرنے والے ہر اسلحہ سے لیس ہوں اور اسلام دشمن عناصر کو ہر ممکن طریقے سے شکست دینے کی کوشش کریں۔

صبر و توکل

حضرت ام سلیمؓ کے صبر وتوکل کی مثال ان کے صاحب زادے ابو عمیرا بن ابی طلحہ کی رحلت کے موقع پر اختیار کیا گیا ان کاطرز عمل ہے۔ یہ حضرت ابوطلحہؓ سے پہلی اولاد تھے چناں چہ اپنے والدین کو انتہائی محبوب تھے۔ حضرت ابو طلحہؓ کی عادت تھی کہ جب وہ اپنے خارجی امور کی ادائیگی یا مسجد سے گھر لوٹتے تو گھروالوں کو ہدیہ سلام پیش کرتے اور اپنے بیٹے کی صحت و عافیت کی خبر لیتے۔ وہ ایک مرتبہ کسی کام سے کہیں گئے ہوئے تھے کہ بچے کی وفات ہوگئی۔اس مومنہ و صابرہ ماں نے اللہ تعالی کے فیصلے پر اپنا سرتسلیم خم کردیااوربچے کو غسل دیا، کفن پہنایا،خوشبو لگائی اور بستر پر رکھ کر ایک کپڑے سے ڈھانک دیا۔ اس دوران وہ برابر اللہ تعالی کو یاد کرتی رہیں۔ اس کے بعد اپنے ارد گرد کے لوگوں کی طرف یہ کہتے ہوئے متوجہ ہوئیں کہ ’’ابوطلحہ آئیں تو کوئی ان کو اس کی خبر نہ دے یہاں تک کہ میں خود ان کو اس کی خبر دوں۔ ‘‘جب حضرت ابوطلحہؓ گھر لوٹے تو ام سلیمؓ نے اپنے غم و حزن کے آنسؤں کو پوشیدہ رکھ کر ان کااستقبال کیا۔ ابوطلحہ گویا ہوئے :ابو عمیر کا کیا حال ہے ؟ حضرت ام سلیمؓ نے اپنے چہرے پر پوری طمانیت طاری کرکے جواب دیا: وہ پہلے سے زیادہ پرسکون ہے۔ جس پروہ اپنے بچے کی شفایابی کے تصور سے خوش ہوگئے۔ حضرت ام سلیمؓ نے انہیں رات کا کھانا پیش کیا اور وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی رہیں کہ انہوں نے دردناک خبر سنا کر حضرت ابو طلحہؓ کو حد درجہ درد مند نہیں کیا بلکہ کھانے پینے، خوشی محسوس کرنے اور تکان سے آرام کرنے کا پورا موقع دیا۔جب رات کا آخری پہر تھاتو وہ حضرت ابوطلحہؓ سے اس طرح گویا ہوئیں :

یا أبا طلحۃ، أرأیت لوأن قوما أعاروا عاریتھم أھل بیت، فطلبوا عاریتھم، ألھم أن یمنعوھم؟ قال۔لا۔قالت:فاحتسب ابنک۔(۱۳)

’’اے ابو طلحہ! آپ کا کیا خیال ہے؟ اگر کسی گھر والے سے عاریۃً کوئی چیز کسی نے لی ہو،پھر وہ گھر والے اپنی دی ہوئی چیز کی واپسی کا مطالبہ کریں تو کیاانہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ انہیں دینے سے انکار کردیں ؟ حضرت ابوطلحہ نے کہا: نہیں اسے یہ حق حاصل نہیں ہے، تو حضرت ام سلیم ؓ نے کہا کہ (آپ کا بیٹا بھی آپ کے پاس امانت تھا) اب آپ اپنے بیٹے پر صبر کرکے اجر وثواب حاصل کیجیے۔‘‘

یہ واقعہ مختلف طریقے سے متعدد احادیث میں وارد ہوا ہے،لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ حضرت ام سلیمؓ نے جس طریقے سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیااور رضائے الٰہی پر سر تسلیم خم کردیا وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول قرارپایااور اس نے اس کا نعم البدل حضرت عبداللہؓ کی صورت میں عطا کیا۔یہ وہی عبداللہ بن ابوطلحہ ہیں جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ’’تحنیک‘‘ کا شرف حاصل ہوااور جن کو اللہ تعالیٰ نے علوم دینیہ کی ماہر اولاد سے نوازا۔اللہ تعالیٰ کے فیصلہ پر راضی رہنے کے ساتھ ایک دوسری مثال ام سلیم نے جوقائم کی وہ شوہرکی والہانہ محبت ہے جس نے بیٹے کے غم کو چھپانے پر مجبور کردیا،یہاں تک کہ وہ خوردونوش سے فارغ ہوگئے۔نیز انہوں نے ایک تمثیل کے ساتھ بیٹے کی وفات کی جانکاہ خبر کو پیش کرکے شوہر کے ذہن ودماغ کو برداشت کرنے پر آمادہ کیا۔یہ وہ صفت ہے جو حضرت ام سلیم کو دیگر صحابیات میں نمایاں مقام عطاکرتی ہے۔

یہ واقعہ ان خواتینِ امت کے لیے نصیحت سے لبریز ہے جو ادنیٰ اور معمولی چیزوں پر دل برداشتہ ہوجایا کرتی ہیں اور دن بھر کے تھکے ماندے شوہر کے گھر میں داخل ہوتے ہی نہ صرف مختلف شکایتوں کا انبار لگا دیتی ہیں بلکہ ضروریات کی ایک فہرست بھی سامنے رکھ دیتی ہیں جس کی بنا پر شوہر جو اپنی دن بھر کی تھکان کو ختم کرنے اورچین وراحت کی سانس لینے کی امنگوں کے ساتھ گھر میں داخل ہواتھا،ایک طرح کے اضطراب اور جھنجھلاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے اور پھر ازدواجی زندگی کی محبت و طمانیت میں رفتہ رفتہ دراڑ پڑتی نظر آنے لگتی ہے۔ حضرت ام سلیمؓ کا کردار ایسے جملہ مواقع پر بڑی ہی معنویت رکھتا ہے اوریہی کردار خواتین کے لیے جنت کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔اس حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فرمان بھی قابلِ غور ہے کہ جب ان سے پوچھا گیا کہ کون سی عورت بہتر ہے؟تو انہوں نے فرمایا:

التی تسرہ اذا نظر و تطیعہ اذا أمر و لا تخالفہ فی نفسھا ومالھا بما یکرہ۔ (14)

’’وہ عورت جو شوہر کو خوش کردے جب کہ وہ اس کی طرف دیکھے اور جب اس کو کوئی حکم دے تو اس کی اطاعت کرے اور اپنے نفس، اپنے شوہر کے مال میں کوئی ایسا رویہ اختیار نہ کرے جو شوہر کو ناپسند ہو۔‘‘

اولاد کی پرورش و تربیت

حضرت ام سلیمؓ زمانہ جاہلیت میں مالک بن مضر کی زوجیت میں تھیں۔ ظاہر ہے شوہر کابے دین رہنا ان کے لیے باعث غم تھا لیکن انہوں نے اپنے بیٹے حضرت انسؓ کی پرورش اور تعلیم و تربیت پرپوری توجہ دی،حتیٰ کہ دوسرا نکاح کرنے پر بھی اس وقت تک آمادہ نہیں ہوئیں جب تک حضرت انسؓ کی رضامندی حاصل نہ کرلی۔انہیں اپنے بیٹے کی دنیا وآخرت میں کام یابی کا اتنا خیال تھا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے دعا کی درخواست کی۔اس سلسلے میں حضرت انسؓ فرماتے ہیں :

’’قالت أمی: یا رسول اللہ خادمک أنس أدع اللہ لہ: قال : ’’ اللہم اکثر لہ مالہ و ولدہ و بارک فیما اعطیتہ۔‘‘ (15)

’’میری امی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: انس آپ کا خادم ہے اس کے لیے دعا کیجیے۔ لہٰذا ٓپؐ نے دعا فرمائی: اے اللہ اس کو مال و اولاد میں فراوانی عطا کر اور جو بھی عطا کر اس میں برکت دے۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی دعا کا اثر تھا کہ حضرت انسؓ کے یہاں مال ودولت کی کثرت ہوئی۔ ایک روایت کے مطابق انہوں نے سو سال سے زیادہ عمر پائی۔خود وہ بیان کرتے ہیں کہ میں انصار کی اکثر آبادی سے زیادہ مالدار ہوں اور حجاج بن یوسف کے بصرہ آنے تک میری صلب سے ایک سو انتیس(۱۲۹) بیٹے مدفون ہوئے تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان کی اولاد میں بھی برکت دی چناں چہ عبداللہ بن ابی طلحہ کے دس بیٹے تھے جو سب کے سب زیورِعلم اور فہم قرآن سے آراستہ ہوئے۔ایک اور جگہ حضرت انسؓ فرماتے ہیں :

قدم رسول اللہ المدینۃ لیس لہ خادم،فاخذ ابوطلحۃ بیدی فانطلق بی الی رسول فقال یارسول اللہ ان انسا غلام لیس فلیخذمک :قال فخذمتہ فی السفر و الحضر،ماقال لی لشئی صنعتہ لم صنعت ھذا ھکذا؟ولا شئی لم أصنعہ:لم لم تصنع ھذا ھکذا؟(16)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ آئے تو آپؐ کے لیے کوئی خادم نہیں تھا تو حضرت ابو طلحہ (والد) میرا ہاتھ پکڑ کر رسولؐکے پاس لے گئے اور فرمایا:بے شک انس ایک سمجھ دار لڑکا ہے،یہ اب آپؐ کی خدمت کرے گا۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ میں نے سفر و حضر سب میں آپؐ کی خدمت کی۔ آپؐ نے کبھی مجھ سے یہ نہیں کہا کہ تو نے یہ کام اس طرح کیوں کیا؟ اور اس طرح کیوں نہیں کیا؟

احادیث بالا سے واضح ہے کہ والدین نے جہاں آپؐ کی محبت میں اپنے بیٹے کو آپؐ کی خدمت کے لیے پیش کیا وہیں دوسرا عظیم ترین مقصد یہ تھا کہ آپؐ کی صحبت میں رہ کر حضرت انسؓ فضائل اخلاق سے آراستہ ہوں گے نیز آپؐ کی معیت میں آپؓ کی اعلیٰ ترین صفات اور عادات واطواران کے اندر سرایت کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ اس وقت میری عمر صرف دس سال تھی۔ اسی بنا پران سے مروی احادیث کی تعداد (2286) بیان کی گئی ہے۔

آج کی خواتین امت کے لیے حضرت ام سلیمؓ کا یہ عمل اولاد کی تربیت کے تعلق سے مشعل راہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو صالح اور باصلاحیت افراد کی نگہبانی و سرپرستی میں دیں۔ وقتاًفوقتاً ان کے پاس بھیجیں اور انہیں سیکھنے کا موقع فراہم کریں۔ دور حاضر میں مسلم مائیں اپنے بچوں کو گھر کے بزرگوں کی معیت سے بھی محروم رکھتی ہیں اور ان کی خدمت کرنے کرانے کو بھی عار سمجھتی ہیں۔ اس طرح وہ بچوں کے دلوں میں محبت پیدا کرنے کے بجائے بزرگوں کے تئیں نفرت کے جذبات پیدا کر تی ہیں جس کی بنا پر بزرگ صالح افراد کے کلمات خیر اور پند و نصائح سے بچے محروم رہتے ہیں اور جس کا نقصان مستقبل میں خود ان کو بھی اٹھاناپڑ سکتا ہے۔

مہمان نوازی

حضرت ام سلیمؓ اور ان کے شوہر ابوطلحہؓ دونوں ہی میں مہمان نوازی اور ایثار و قربانی کی صفت بدرجۂ اولیٰ موجود تھی تھی۔اس کا اندازہ درج ذیل مشہور واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے:

’’ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اوراس نے کہاکہ میں بھوک سے بالکل لاغر ہورہا ہوں۔ آپؐ نے باری باری تمام ازواج مطہرات کے پاس کھانابھیجنے کے لیے پیغام بھیجا،لیکن ہر ایک نے جواب دیا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں۔ پھر آپؐ اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:

 ’’من یضیفہ یرحمہ اللہ۔‘‘

 ’’کون اس شخص کی ضیافت کرے گا؟ اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے گا۔‘‘

یہ سن کر حضرت ابوطلحہؓ کھڑے ہوئے اورفرمایا:’’میں یا رسول اللہ‘‘۔ پھر وہ مہمان کو لے کر گھر پہونچے اور ام سلیمؓ سے پوچھا:کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟جواب ملا کہ نہیں !’’سوائے میرے بچوں کی خوراک کے‘‘۔انہوں نے کہا :’’بچوں کو بہلا کر سلا دینا اور جب مہمان کھانا شروع کرے تو کسی حکمت سے چراغ گل کردینا‘‘۔ حضرت ام سلیمؓ نے ایسے ہی کیا،چناں چہ یہ لوگ خود بھوکے رہے اور مہمان نے شکم سیر ہوکر کھایا‘‘۔

 صبح جب ابو طلحہؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے توآپؐ نے فرمایا:

’’ قد عجب اللہ من صنیعکما بصنیعکما‘‘۔

’’یقیناً رات میں تم دونوں نے اپنے مہمان کے ساتھ جو سلوک کیا، اس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوگیا۔‘‘ (17)

درج بالا واقعے کی معنویت محض ایثار اور مہمان نوازی تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ محبتِ رسول، اطاعتِ رسول اور بشارت رحمت کی طلب کے لیے جو قربانی پیش کی گئی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ والدین خود اپنی بھوک کی قربانی تو پیش کرسکتے ہیں لیکن عزیز از جان اولاد کو کسی غیر متعلق فرد کے لیے بھوکا رکھنا کیوں کر گوارا کرسکتے ہیں ؟ہمیں اس کی روشنی میں اپنے کردار کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ہمارے دل مہمانوں کی آمد پر باغ باغ تو ضرور ہوتے ہیں لیکن اس وقت جب آنے والے مہمان مائکہ یا دوست احباب میں سے ہوں۔ سسرالی رشتے دار یا غیر متعلق فرد کا آنا انتہائی گراں خاطر ہواکرتا ہے الاّ یہ کہ ان سے کوئی مادی منفعت وابستہ ہو جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

’’من کان یومن باللہ و الیوم الآخر فلیکرم ضیفہ جائزتہ۔ (18)

’’جو اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی ایک دن اور ایک رات ضیافت کرے۔ اس سے آگے کہا گیا کہ ضیافت تین دن ہے اور جو اس کے بعد ہو وہ صدقہ ہے۔‘‘

وفات

حضرت ام سلیمؓ کی وفات کا سال اور مہینہ معلوم نہیں ہوسکا، لیکن قرینہ اس بات پر شاہد ہے کہ انہوں نے خلافت راشدہ کے زمانے میں وفات پائی،البتہ تاریخ کی بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ ان کا انتقال حضرت امیر معاویہؓ کے دور میں ہوا ہے۔(19)

خلاصہ یہ کہ حضرت ام سلیمؓ کی زندگی زہد وتقویٰ،خداترسی، للہیت اور شعائر اسلام کی پاس داری سے لبریز تھی،یقینا موجودہ دور کی خواتین کے لیے ان کی زندگی مشعلِ راہ ثابت ہو سکتی ہے۔

٭٭٭

حواشی و حوالہ جات

1۔              طبقات ابن سعد:۸؍۴۲۴، سیر اعلام النبلاء:۲؍۳۰۴

2۔              صحابیات طیبات،احمد خلیل جمعہ،نعمانی کتب خانہ، اردو بازار،لاہور،۲۰۰۲ء،

3۔              شرح النووی علی مسلم:۱۶؍۱۰

4۔              الطبقات:۸؍۴۲۸

5۔              صحیح مسلم:۲۴۵۶

6۔              النساء:۳۲

7۔              آل عمران:۱۹۵

8۔              الطبقات الکبریٰ:۸؍۴۲۷

9۔              متفق علیہ

10۔            طبقات ابن سعد:۸؍۴۲۵

11۔            ایضاً

12۔            صحیح مسلم : ۲؍۱۰۳

13۔            صحیح مسلم: ۲۱۴۴

14۔            النسائی

15۔            تھذیب التھذیب:۱۲؍۴۷۱

16۔            صحیح بخاری:۲۷۶۸

17۔            صحیح مسلم،کتاب الاشربۃ، باب اکرام الضیف

18۔            صحیح بخاری،کتاب الادب،حدیث:۶۰۱۹

19۔            (https://www.qssas.com/story/30268)

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button