Sliderاسلامی تحقیقاتفکرونظرنظریات

اغیار کے حقوق

سید مودودیؒ اور ایم ایس گولوالکر کے افکار کا تقابلی مطالعہ

خان یاسر

(فیکلٹی، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز اینڈ ریسرچ، دہلی)

"یہ میرا حق ہے!‘‘ ’’دستور ہمیں اس حق کی ضمانت دیتا ہے!‘‘ ’’یہ ہمارے حقوق کے خلاف ورزی ہے!‘‘ ’’ اپنے حق کے حصول کے لیے ہم عدالت تک جائیں گے!‘‘ وغیرہ جملے اکثر کانوں سے ٹکراتے ہیں۔ اخبار، ٹی وی، اور سوشل میڈیا سے لے کر چائے خانوں اور گھروں تک گفتگو اور مباحثوں میں مختلف قسم کے حقوق کا تذکرہ بھی ہوتا رہتا ہے۔ نری اخلاقی تعلیمات سے ذرا اوپر اٹھ کر بات کریں تو حقوق دراصل نام ہے ایک ایسے ادارہ جاتی نظام کا جہاں افراد کے مفادات کو قانونی تحفظ حاصل ہو؛ انھیں اختیار کی قانونی آزادی اور قانون کے مطابق مواقع کی مساوات حاصل ہو۔(1)  حقوق کے علمی و فکری تصور اور عالمانہ مباحث سے واقفیت ایک الگ چیز ہے لیکن آج شاید ہی کوئی ایسا ہو جو حقوق (Rights) کی بنیادی حقیقت سے ناآشنا ہو۔البتہ حیرت کی بات یہ ہے کہ حقو ق کا یہ تصور، جسے آج عرف عام کی حیثیت حاصل ہے، قدیم نہیں ہے۔ قدرے احتیاط ملحوظ رکھی جائے تو بھی کہنا ہوگا کہ دور جدید کی علمی دنیا، جس کے تمام تر تصورات کا منبع نشاۃ الثانیہ کاتفکیری سرمایہ ہے، سترہویں صدی کے انگریز فلسفی جان لاک سے قبل انسانی حقوق کے تصور سے ناآشنا تھی۔ (2) یہ الگ بات ہے کہ کھینچ تان کر انسانی حقوق کی داستان آجکل میگناکارٹا سے شروع کی جاتی ہے۔ حالانکہ 1215 میں بادشاہ اور باغی امراء کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کا انسانی حقوق سے تعلق بس واجبی ہی سا ہے، اس کے باوجود یہ معاہدہ اپنی اصل شکل میں صرف سال بھر ہی جاری رہ سکا۔ اس کے برعکس ڈاکٹر محمد حمیداللہؒ نے میثاق مدینہ کا دنیا کے پہلے تحریری دستور اور خطبۂ حجۃ الوداع کا حقوق انسانی کے منشور اعظم کے طور پر تعارف کرایا ہے(3) اور ثابت کیا ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں انسانیت نے صدیوں پہلے وہ منزل پالی تھی جس کے کچھ پڑاؤں تک وحیٔ الٰہی سے غافل دنیا گرتے پڑتے اور نہ جانے کتنی ہی قربانیاں دے کر پہنچی ہے۔ اپنی مثبت شقوں کے حوالے سے دیکھیں تو اقوام متحدہ کی جانب سے 1948 میں منظور شدہ حقوق انسانی کا عالمی منشور خطبۂ حجۃ الوداع کا چربہ معلوم پڑتا ہے۔

اس مقالے کا موضوع حقوق انسانی کے اسلامی تصور کا بیان یا مغرب کے تصورِ حقوقِ انسانی پر تنقید نہیں ہے۔ (4)  یہاں اقوامِ غیر کے حقوق پر مولانا مودودیؒ اور گولوالکر کے افکار کی روشنی میں اسلام اور ہندوتو کا تقابلی مطالعہ پیش نظر ہے۔ مقالے کی ضخامت کو متوازن رکھنے کے لیے بحث کو حتی الامکان مولانا مودودیؒ کے مختصر رسالے ’’اسلامی حکومت میں غیرمسلموں کے حقوق‘‘ اور گولوالکر کی کتاب We or Our Nationhood Defined تک سمیٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔

مصنفین کا تعارف:

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ (1903-1979) کو دور حاضر میں فکر اسلامی کے شارح و ترجمان کی حیثیت حاصل ہے۔ ان کا لٹریچر مغربی تہذیب کے استیلا کے نتیجے میں جدید تعلیم یافتہ طبقے میں پیدا شدہ احساس کمتری کا بہترین علاج ہے۔ مولانا مودودیؒ نے دورجدید کے افکار و نظریات کو اسلام کی کسوٹی پر پرکھا اور ان کے مثبت و منفی ہر دو پہلوکا ناقدانہ تجزیہ کیا۔ دور حاضر کے عقلی و سائنسی رجحانات کی مناسبت سے اسلام کی تعبیر و تشریح کا کام بھی بخوبی انجام دیا۔ اس ناحیے سے ان کی تفسیر تفہیم القرآن کے علاوہ الجہاد فی الاسلام، پردہ، تنقیحات، حقوق الزوجین، اسلام اور ضبط ولادت، اور اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی وغیرہ خصوصی اہمیت کی حامل ہیں۔ 1941میں اقامت دین کے نصب العین کو سامنے رکھتے ہوئے انھوں نے جماعت اسلامی کے نام سے ایک تحریک قائم کی جس کے عالمی اثرات مرتب ہوئے۔ یہ تحریک آج بھی —-اسلامی اصولوں اور پرامن و تعمیری ذرائع کا استعمال کرکے بر صغیر اور دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف حالات میں آزاد نظم و قیادت کے ذریعہ بنائے گئے لائحہ عمل کے مطابق—- اپنے نصب العین کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔

مادھو سداشیو گولوالکر (1906-1973) راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے دوسرے سرسنگھ چالک تھے۔ سنگھ پریوار میں آر ایس ایس کو مرکزی حیثیت حاصل ہے جس کی، مختلف تنظیموں، این جی اوز اور اداروں کی شکل میں، ہزارہا شاخیں ہیں۔ ان میں بی جے پی، وی ایچ پی، اے بی وی پی، بی ایم ایس، اور بجرنگ دل وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ گولوالکر بھلے آر ایس ایس کے بانی نہیں ہیں لیکن سنگھ پر انھوں نے بانی کیشو بالی رام ہیڈگیوار سے زیادہ اثرات مرتب کیے۔ آر ایس ایس میں ان کی حیثیت صرف ایک قائد کی نہیں بلکہ نظریہ ساز کی ہے۔ سنگھ کے حلقوں میں انھیں محبت و احترام سے گرو گولوالکر کہا جاتا ہے۔ گولوالکر نے 1940 سے آر ایس ایس کی کمان سنبھالی اور اپنی وفات تک اس منصب پر فائز رہے۔ اس دوران انھوں نے ہندوستان بھر میں آر ایس ایس کی توسیع کا کام منظم انداز میں کیا۔ ان کی تحریروں اور تقریروں کو سنگھ کے حلقوں میں حرف آخر کی حیثیت حاصل ہے۔

منتخبہ کتب کا تعارف:

’’اسلامی حکومت میں غیر مسلموں کے حقوق‘‘ چار ابواب پر مشتمل ہے۔ باب اول میں غیر مسلم رعایا کی اقسام کا تذکرہ ہے۔ اس میں مولانا مودودیؒ (1993:5)نے فقہ کی روشنی میں بتایا ہے کہ اسلامی قانون کی رو سے غیر مسلم رعایا کی تین قسمیں ہوسکتی ہیں۔ اول، جو معاہدے کے ذریعہ؛ دوم، جو شکست کھا کر؛ اور سوم، جو صلح اور جنگ کے علاوہ کسی اور طریقے سے اسلامی ریاست میں شامل ہوئے ہوں۔ باب دوم میں ذمیوں کے عام حقوق کا تذکرہ ہے۔ اس سے مراد وہ کم از کم حقوق ہیں جن میں تینوں اقسام کے غیرمسلم شریک ہیں۔ (5) باب سوم میں مختصراً اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ غیر مسلموں کے یہ حقوق صرف کتابوں کی زینت نہیں بنے بلکہ اسلامی تاریخ کے ہر دور میں عملی طور پر تسلیم کیے گئے ہیں۔ ان استثنائی صورتوں میں جب ذمیوں کے کسی گروہ کے ساتھ ناانصافی ہوئی تو علماء و فقہاء اسلام ان حقوق کی پاسداری کے لیے آگے آئے۔ باب چہارم میں مولانا مودودیؒ نے دورِ حاضر اور اس کے تقاضوں کے پیش نظر ان زائد حقوق کا تذکرہ کیا ہے جو غیرمسلموں کو ایک جدید اسلامی ریاست میں دیے جاسکتے ہیں۔

We or Our Nationhood Defined گولوالکر کی بڑی مشہور (یا بدنام) کتاب ہے جو 1939 میں شائع ہوئی۔ کتاب ہندو قوم پرستی کی تعریف متعین کرنے کی سعی ہے۔ ساورکر کی Hindutva: Who is a Hindu? کے ساتھ اس کتاب کو ہندوتو تحریک کی بائبل کہا جاسکتا ہے۔ کتاب کے پیش لفظ میں ہی گولوالکر یہ صاف کردیتے ہیں کہ وہ قوم (Nation) کو ایک تہذیبی اکائی اور ریاست (State)کو سیاسی اکائی کے طور پر دیکھتے ہیں اور ان کے مطابق ہندوستان میں اگر لفظ نیشن بغیر کسی سابقے کے بولا جائے گا تو اس سے صرف اور صرف ہندو قوم مراد ہوگی۔ پیش لفظ، دیباچہ اور خاتمہ کے علاوہ کتاب میں مادھو شری ہری انے کا مقدمہ اور جے سنگھ کو لکھے گئے شوا کے خط اور ولیم ویڈربرن کے (انڈین نیشنل کانگریس کے تشکیلی عوامل سے متعلق) ایک اقتباس پر مبنی دو ضمیمے بھی شامل ہیں۔ کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں ہندو قوم کی قدامت پر بحث کی گئی ہے۔(6) باب دوم میں گولوالکر نے مغربی مفکرین کے حوالے سے نیشن کے تصور کی توضیح کی ہے اور کسی قوم کی تشکیل میں پانچ عناصر یعنی جغرافیہ، نسل، مذہب، تہذیب اور زبان کے اشتراک کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے نیز یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ان پانچ عناصر کی یکسانیت قومیت کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے۔ باب سوم میں جنگ عظیم اول کے بعد پیدا شدہ حالات میں مختلف قوموں کی مثالوں کی روشنی میں گولوالکر نے اس بات کو موکد کیا ہے کہ زندہ قومیں ان پانچ عناصر میں چھیڑ چھاڑ گوارا نہیں کرتیں اور ان میں سے کسی ایک یا زائد پر سمجھوتے کا مطلب قوم کا اپنی قومیت سے ہاتھ دھولینا ہے۔ باب چہارم میں گولوالکر نے قومیت کی اس تعریف کا ہندوستان پر انطباق کیا ہے اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہندوستان میں ہندو نسل، ہندو مذہب، ہندوتہذیب اور ہندو زبان قومیت کے لیے شرط لازم ہے۔ باب پنجم میں گولوالکر اقلیتوں اور غیر ہندو اقوام کے بارے میں بحث کرتے ہیں کہ ملک میں ان کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ باب ششم میں راشٹر، جاتی، جنپدوغیرہ کے حوالے سے گولوالکر نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہندوؤں میں قومیت کا تصور مغرب سے مستعار نہیں ہے بلکہ پہلے سے موجود تھا۔ باب ہفتم اس سوال کے جواب پر مشتمل ہے کہ ہندوؤں میں قومیت کا تصور اگر قدیم ہے تو وہ کیوں معدوم ہوگیا۔

اس کتاب میں گولوالکر نے ’وی‘ یعنی ’ہم‘ کی تعریف بیان کرنے کی کوشش میں ’غیروں ‘ کی شناخت بھی کی ہے اور جابجا اس بات پر بحث کی ہے، بالخصوص باب پنجم میں، کہ غیروں کے ساتھ ملک کی ’اصلی قوم‘ کا رویہ کیا ہونا چاہیے۔ آئندہ سطروں میں غیر متعلق بحثوں سے صرف نظر کرکے اسی موضوع پر مرکوزیت کے ساتھ تقابلی جائزہ لینے کی کوشش کی جائے گی۔

اغیار کے حقوق: تقابلی مطالعہ

مولانا مودودیؒ نے اپنے لٹریچر میں اس بات پر خاصا زور دیا ہے کہ اسلام عام معنوں میں ایک مذہب نہیں ہے نہ مسلمان عام معنوں میں ایک قوم ہیں۔ انھوں نے نسل، وطن، زبان اور قومیت کے دیگر عناصر پر گفتگو کرتے ہوئے ان کی بنیاد پر بننے والی قومیتوں کو ایک طرف ناپائیدار اور دوسری طرف فتنہ انگیز قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اسلام میں قومیت ان اتفاقی بنیادوں پر نہیں بلکہ ایمان کی شعوری بنیاد پر بنتی ہے۔ (7)  کسی مخصوص نسل، وطن، تہذیب یا زبان کی بنیاد پر نہیں بلکہ نظریۂ اسلام پر ایمان نہ لانے کی بنا پر غیر مسلم اسلامی قومیت کا حصہ نہیں بنتے۔

قومیتِ اسلام کا حصہ نہ بننے کے باوجود ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو مختلف قسم کے حقوق و مراعات حاصل ہوتی ہیں۔ مولانا مودودیؒ (1993:11) کے مطابق انھیں حفاظت جان کا حق (Right to life) حاصل ہوتا ہے۔ فرماتے ہیں، ’’ذمی کے خون کی قیمت مسلمان کے خون کے برابر ہے۔ اگر کوئی مسلمان ذمی کو قتل کردے گا تو اس کا قصاص اسی طرح لیا جائے گا جس طرح مسلمان کو قتل کرنے کی صورت میں لیا جاتا ہے۔‘‘ انھوں نے تاریخی شواہد کی روشنی میں بتایا ہے کہ کس طرح اس اصول کا اطلاق ہوتا رہا ہے۔ مولانا مودودیؒ (1993:13-14) مزید لکھتے ہیں کہ غیرمسلموں کو اسلامی ریاست میں تحفظ عزت (Right to dignity) کا حق حاصل ہوتا ہے اور انھیں زبان یا ہاتھ پاؤں سے تکلیف پہنچانا قابل مواخذہ جرم ہے۔ اسی طرح دیوانی و فوجداری قانون مسلم و غیر مسلم کے لیے یکساں ہوتے ہیں۔ اس معاملے میں کوئی تفریق روا نہیں رکھی جاتی۔

علاوہ ازیں غیرمسلموں کو اپنی علاحدہ مذہبی شناخت پر قائم رہنے اور پرسنل لاء پر عمل کرنے کی آزادی ہوتی ہے۔ مولانا مودودیؒ (1993:16-17) لکھتے ہیں، ’’ذمیوں کے شخصی معاملات ان کی اپنی ملت کے قانون (Personal Law) کے مطابق طے کیے جائیں گے۔ اسلامی قانون ان پر نافذ نہیں کیا جائے گا۔ ہمارے لیے شخصی معاملات میں جو کچھ ناجائز ہے، وہ اگر ان کے مذہبی و قومی قانون میں جائز ہو تو اسلامی عدالت ان کے قانون ہی کے مطابق فیصلہ کرے گی۔‘‘ یعنی اس ضمن میں غیرمسلموں کو وہ حقوق بھی حاصل ہوں گے جو ایک اسلامی ریاست میں مسلمانوں کو بھی نہیں ہوں گے ان میں شراب نوشی، شراب و خنزیر کی خرید و فروخت، اور محرمات کے ساتھ نکاح وغیرہ شامل ہے۔ اسی طرح غیر مسلموں کو اپنی بستیوں میں اپنے مذہبی مراسم و قومی شعائر کو اعلان و اظہار کے ساتھ ادا کرنے کی آزادی ہوگی۔ مولانا مودودیؒ (1993:20-26) مزید بیان کرتے ہیں کہ غیرمسلموں پر عائد جزیہ کے سلسلہ میں ان پر سختی نہیں کی جاسکتی۔ اس کی ادائیگی کے لیے ان کے املاک کی نیلامی نہیں ہوسکتی۔ حتی یہ کہ غیرمسلموں میں سے جو فقیر، محتاج، اور بوڑھے ہوں ان کے لیے اسلامی حکومت بیت المال سے وظائف مقرر کرے گی۔ کوئی فرد جزیہ بقایا چھوڑ کر مرجائے تو اس رقم کو ترکہ سے وصول نہیں کیا جائے گا نہ ہی وارثوں پر اس کا بار ڈالا جائے گا۔ ذمی فوجی خدمت سے مستثنیٰ ہوں گے۔ اگر وہ خود اپنی خدمات پیش کریں تو اسے قبول کیا جاسکتا ہے لیکن اس صورت میں ان کا جزیہ ساقط کرنا ہوگا۔ بالفرض محال کوئی ایسا وقت آیا جب ذمیوں کی حفاظت نہ کی جاسکے تو اسلامی ریاست کو جزیہ کی رقم لوٹانی ہوگی۔(8)

مولانا مودودیؒ نے اسلام کے ان قوانین کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ مختصراً تاریخی شواہد بھی بیان کیے ہیں جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اسلام کے یہ زریں اصول صرف کتابوں کی زینت نہ تھے بلکہ ان پر حقائق کی دنیا میں عمل ہوتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گولوالکر کی تعریف کے مطابق ہندوستان میں برسہا برس سے رہنے کے باوجود وہ تمام لوگ ’غیر‘ ہیں جو ہندو نسل، ہندو مذہب، ہندوتہذیب اور ہندو زبان سے متعلق نہیں ہیں۔ ان میں سے جن لوگوں کو اپنی اس علاحدہ شناخت کا شعور اور احساس بھی ہے، اس پر فخر بھی ہے، اور اسے باقی رکھنے پر اصرار بھی تب تو ان کے غیر ہونے میں کوئی شبہہ نہیں ہے۔ یوں ان کی نظر میں مسلمان خصوصیت کے ساتھ غیر ہیں۔ ایک دوسری جگہ پر گولوالکر نے مسلمانوں کو (عیسائیوں اور کمیونسٹوں کے ہمراہ) ملک کے لیے اندرونی خطرہ (internal threat) بھی بتایا ہے۔(9)

گولوالکر (1939:11-12) کی نظر میں مسلمان بنیادی طور پر بیرونی حملہ آور ہیں۔ ان کے مطابق جس منحوس دن سے مسلمان ہندوستان آئے تبھی سے ہندو ان کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ یوں ہندوؤں نے ان بیرونی حملہ آوروں کے خلاف آٹھ سو سے ہزار سال تک ایک طویل جنگ لڑی اور بالآخر فتحیاب ہوئے۔ لیکن عین اس وقت جب اس فتح کے ثمرات مکمل طور پر ظاہر ہوتے مسلمانوں کی سازش سے انگریز ملک پر غالب آگئے۔ گولوالکر (1939:14) کے مطابق مسلمان اپنے آپ کو فاتح ہی سمجھتے ہیں اور ان کا مقصد زیادہ سے زیادہ طاقت کا حصول ہے۔ ان کے نزدیک ہندوستان میں مسلم اقلیت کے مسئلے کا یہ حل نہیں ہے کہ مسلمانوں کے مطالبات کو تسلیم کرکے انہیں قومیانے کی کوشش کی جائے۔ گولوالکر کی رائے میں مسلمانوں کو برابر کا شہری سمجھنا، اقلیتوں کی حیثیت سے انہیں خصوصی حقوق دینا، ان کے خدشات کو اہمیت دینا اور ان کے مطالبات کو تسلیم کرنا ہندوؤں کے لیے قومی خودکشی کے مترادف ہے۔ اس سے صرف مسلمانوں کی طاقت کی بھوک میں اضافہ ہوگا۔

اگر ایسا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اقلیتوں کے مسئلے کا صحیح حل کیا ہے؟ اپنی کتاب میں گولوالکر اس سوال پر بہت گہرائی سے غور کرتے ہیں۔ انھوں نے اس بات کا جائزہ لیا ہے کہ زندہ قومیں اس مسئلے کو کس طرح حل کرتی ہیں۔ سب سے پہلے انھوں نے برطانیہ کی مثال پیش کی ہے۔ یہاں گولوالکر (1939:33-34) نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ برطانیہ اپنی نسل، تہذیب، مذہب اور زبان کا محافظ ہے۔ ان کے مطابق نسل اور تہذیب کے بارے میں تو کوئی شک نہیں لیکن جدید دور میں مذہب اور زبان کے تعلق سے بہت سے سوال اٹھے ہیں لہذا انھوں نے خصوصیت سے برطانیہ کا ان دو نکات پر جائزہ لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ برطانیہ میں مذہبی غیرجانبداری کے تمام دعاوی کے باوجود ریاستی مذہب کا تصور پایا جاتا ہے۔ بادشاہ کے لیے پروٹسٹنٹ عیسائی ہونا ایک لازمی شرط ہے۔ چرچ آف انگلینڈ کو ریاست سے تنخواہیں اور مراعات حاصل ہوتی ہیں۔ حتی کہ کلکتہ میں بشپ کا خرچ بھی سرکار اٹھاتی ہے۔ ہندوستان میں مشنری سرگرمیاں سرکار کی سرپرستی میں انجام دی جاتی ہیں۔ اسی طرح برطانیہ کی جانب سے تاریخ کے ہر دور میں انگریزی زبان کے پھیلاؤ کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے۔ آئرلینڈ، ویلس یا ہندوستان ہر جگہ انگریزی زبان کو مقامی زبانوں کی قیمت پر فروغ دیا گیا ہے۔ دوسری مثال گولوالکر (1939:34-36) جرمنی کی دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ قومیت کے حقیقی تصور کو سمجھنے کے لیے جدید جرمنی کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ گولوالکر اس جذبے کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان نظر آتے ہیں جس سے مغلوب جرمنی نے ایک اور عالمی جنگ شروع ہوجانے کے خدشے کے علی الرغم ان زمینوں کو حاصل کرنے کی کوشش کی جن پر تاریخی طور پر ان کا حق تھا؛ گولوالکر کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انھیں اپنے فادرلینڈ اور آبائی وطن پر کیسا فخر ہے۔ جرمنی کے ان استعماری عزائم کو گولوالکر نے فطری و منطقی آرزو (natural and logical aspiration) قرار دیا ہے۔ مزید لکھتے ہیں کہ جرمنی میں ریاستی زبان جرمن ہے۔ عوامی زندگی میں اقلیتیں اسی زبان کا استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ مذہب کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جرمنی میں صدر ریاست خالص مذہبی نوعیت کا عہد لیتا ہے، اسی طرح سرکاری چھٹیاں بھی عیسائی مذہب کے رومن کیتھولک فرقے کے تہواروں کی مناسبت سے دی جاتی ہیں۔ نسل کے عامل پر گولوالکر عقیدتمندی سے لکھتے ہیں کہ جرمنی نے اپنی نسل اور تہذیب کی بقا کے لیے یہودیوں کا قتل عام کرکے پوری دنیا کو حیرت زدہ کردیا ہے۔ ان کے مطابق اس عمل کے ذریعہ جرمنی نے اپنے نسلی افتخار کا اظہار کیا ہے۔ جرمنی کی اس مثال سے گولوالکر اس بات کا ثبوت بہم پہنچاتے ہیں کہ مختلف نسلوں اور تہذیبوں کا ایک ساتھ رہنا ناممکن ہے اور صاف لفظوں میں لکھتے ہیں کہ جرمنی کی اس مثال میں ’’ہندوستان کے لیے سیکھنے اور فائدہ اٹھانے کے لیے ایک اچھا سبق ہے۔‘‘ حیران کردینے والی بات یہ ہے کہ سامی نسلوں (جن میں یہودی شامل ہیں ) کے قتل عام کو جائز ٹھہرانے سے پہلے گولوالکر (1939:19-20) یہودیوں کے قومی جذبے کی توصیف کرچکے ہیں کہ یہودیوں کو پہلے رومن اور بعد میں مسلمانوں کے ظلم سے تنگ آکر اپنا وطن چھوڑنا پڑا مگر انھوں نے اپنے مذہب، تہذیب، زبان اور نسل کی حفاظت کی اور آخر کار فلسطین میں اپنا وطن بنانے کی طرف معنی خیز پیش رفت کررہے ہیں۔ (10) اس ضمن میں گولوالکر (1939:36-37) روس کی مثال بھی پیش کرتے ہیں کہ اپنے تمام تر کمیونسٹ دعووں کے باوجود روس ایک آرتھوڈوکس ملک ہے جہاں پرانی روسی نسل آباد ہے اور روسی زبان بولی جاتی ہے۔ البتہ سوشلزم کو ایک نئے مذہب کے طور پر قبول کرلیا گیا ہے۔ یعنی قومیت کے تمام عوامل یہاں بہرحال موجود ہیں۔ اقلیتوں کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے وہ اس بات پر زور ڈالتے ہیں کہ روس میں جو بھی سوشلزم کی مخالفت کرتے ہیں ان کے ساتھ کسی قسم کی رواداری نہیں برتی جاتی۔

قصہ مختصر یہ کہ گولوالکر (1939:43-45) کے مطابق ہندوستان میں ہندو نسل، ہندو مذہب، ہندو تہذیب، اور ہندو زبان(سنسکرت کے خاندان سے متعلق زبانیں اور اس کی شاخیں ) قومیت کے تصور کی تکمیل کرتی ہیں۔ جو بھی ہندو نسل، مذہب، تہذیب اور زبان سے تعلق نہیں رکھتا وہ ہندوستانی قوم کا حصہ نہیں ہے۔ محب وطن اور خیرخواہ قوم وہی ہیں جو ہندو نسل اور قوم کو فروغ دینے کی کوشش کریں۔ اس کے علاوہ جو ہیں یا تو باغی دشمن ہیں یا بیوقوف۔ قوم کی اس خودساختہ تعریف سے جو باہر ہو اس کے لیے ملک کی قومی زندگی میں کوئی جگہ نہیں ہے جب تک کہ وہ اپنی علاحدہ شناخت کو ترک کرکے قوم کے مذہب، تہذیب اور زبان کو اپناکر قومی نسل میں ضم نہ ہوجائے۔ جب تک وہ اپنی علاحدہ نسلی، مذہبی، و تہذیبی شناخت پر قائم رہتے ہیں ان کی حیثیت غیر ملکی کی ہوگی۔

یوں گولوالکر (1939:47) اقلیت کو ایک مسئلہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ مختلف ملکوں کی مثالیں دے کر وہ اس مسئلے کے حل کی طرف آتے ہیں۔ ان کے مطابق قدیم، زندہ اور باشعور قومیں اقلیت کے مسئلے کو جس طرح حل کرتی ہیں اس میں ہندوستان کے لیے ایک سبق ہے۔ وہ کسی بھی علاحدہ عنصر کو قوم کے سیاسی نظام میں تسلیم نہیں کرتیں۔ مہاجرین کو ان قوموں کی تہذیب و زبان اختیار کرکے، قومی عزائم کو اپنا کر اپنی علاحدہ شناخت کے شعور سے دستبردار ہوکر قومی نسل میں جذب ہوجانا پڑتا ہے۔ اگر وہ اس کے لیے تیار نہیں ہوتے تو ان کی حیثیت ایک غیرملکی کی ہوتی ہے۔ وہ قومی نسل کے رحم و کرم پر اس کے اصولوں کے ماتحت زندگی گزارتے ہیں۔ انھیں کسی قسم کا خصوصی تحفظ حاصل نہیں ہوتا نہ ہی کسی قسم کے مراعات اور حقوق ملتے ہیں۔

گولوالکر (1939:47-48) یہی دو متبادل ہندوستان کے غیرہندوؤں کے سامنے بھی رکھتے ہیں۔ پہلا متبادل اپنی علاحدہ شناخت سے دستبرداری اور قومی نسل میں مکمل انضمام کا اور دوسرا متبادل قومی نسل کے رحم و کرم پر رہنا اور جب اس کی مرضی ہو ملک چھوڑدینا۔ اسے وہ اقلیتی مسئلے کا واحد حل قرار دیتے ہیں ورنہ، بقول گولوالکر، یہ مسئلہ کینسر کی شکل اختیار کرلے گا۔ وہ نصیحت کرتے ہیں کہ ہندوستان میں رہنے والی بیرونی نسلوں کو چاہیے کہ وہ ہندو تہذیب اور زبان کو اختیار کریں، ہندو مذہب کی تعظیم کریں، ہندو نسل اور تہذیب یعنی ہندو قوم کے علو (glorification) کے علاوہ کوئی اور خیال دلوں میں نہ لائیں اور اپنی علاحدہ شناخت سے دستبردار ہوکر ہندو نسل میں ضم ہوجائیں یا اس ملک میں ہندو قوم کے ماتحت زندگی گزاریں بغیر کسی مطالبے، بغیر کسی مراعات اور امتیازی سلوک کے۔ شہریت کے حقوق کا تو تصور بھی نہ کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اوپر مولانا مودودیؒ کے بیان کردہ ان حقوق کا تذکرہ تھا جن کے پیچھے فقہی اصول اور تاریخی شواہد موجود تھے۔ لیکن اپنے رسالے میں مولانا مودودیؒ نے اسلام کی اصولی تعلیمات اور مقاصد شریعت کو پیش نظر رکھ کر ان زائد حقوق کا ذکر بھی کیا ہے جو موجودہ دور میں ایک اسلامی ریاست اپنے غیرمسلم شہریوں کو دے سکتی ہے۔ اس ضمن میں مولانا مودودیؒ (1993:31-34) نے غیرمسلموں کی نمائندگی کی مختلف شکلوں پر غور کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ اگر دستور میں اس بات کی صراحت ہو کہ پارلیمنٹ قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی کی مجاز نہ ہوگی تو ’’موجودہ زمانے کے حالات میں (غیرمسلموں کی پارلیمنٹ میں شرکت کی) گنجائش نکالی جاسکتی ہے‘‘۔ اس نمائندگی کی ایک شکل یہ بھی ہوسکتی ہے کہ غیرمسلموں کی علاحدہ نمائندہ مجلس ہو جہاں وہ بالکل آزادی کے ساتھ اپنے شخصی معاملات کی حد تک قوانین بنانے، ان میں ترمیم کرنے، حکومت کے نظم و نسق سے متعلق شکایات، اعتراضات، مشورے، اور تجاویز پیش کرنے علاوہ ازیں اپنے گروہی معاملات اور عام ملکی معاملات سے متعلق حکومت سے سوالات کرنے کے مجاز ہوں گے۔ پارلیمنٹ جن کی حیثیت مجالس قانون سازی کی ہوتی ہے اس میں ان کی شرکت شرطیہ اس لیے ہے کہ اسلامی ریاست ایک اصولی اور نظریاتی حکومت ہے لیکن ’’جہاں تک بلدیات اور مقامی مجالس کا تعلق ہے‘‘ مولانا مودودیؒ کہتے ہیں کہ، ’’ ان میں غیرمسلموں کو نمائندگی اور رائے دہی کے پورے حقوق دیے جاسکتے ہیں۔ ‘‘ اسی طرح اسلام کے اصولی نظام میں کلیدی حیثیت رکھنے والے مناصب کے علاوہ وہ ہر منصب اور ملازمت کے اہل ہوں گے۔ صنعت و حرفت، تجارت، زراعت اور دوسرے تمام پیشوں کو اختیار کرنے میں وہ آزاد ہوں گے۔ اس معاملے میں مسلمانوں کے لیے کوئی خصوصی رعایت یا غیرمسلموں پر کوئی خصوصی پابندی نہ ہوگی۔ سبھی کو ’’معاش کے میدان میں جدوجہد کا مساویانہ حق ہوگا۔‘‘ مسلمان اور غیر مسلم میں آزادیٔ تحریر و تقریر کے معاملے میں کوئی تفریق نہ ہوگی۔ قانون کی حدود میں انھیں ’’حکومت پر، اس کے احکام پر اور خود رئیسِ حکومت پر آزادانہ تنقید‘‘ اور ’’مذہبی بحث و مباحثہ کی ویسی ہی آزادی ہوگی جیسی مسلمانوں کو ہے۔‘‘ اپنے ضمیر اور عقیدے کی مکمل آزادی کے علاوہ انھیں اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنے کی بھی آزادی ہوگی۔ انھیں اسلام کی مذہبی تعلیم کے حصول کے لیے مجبور نہیں کیا جائے گا۔ سرکاری و غیرسرکاری درسگاہوں میں وہ اپنی مذہبی تعلیم کا نظم کرنے میں آزاد ہوں گے۔

خاتمہ

اس تقابلی مطالعہ کے بعد ہم درج ذیل نتیجوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

٭ سید مودودیؒ اور گولوالکر دونوں مشترکہ و متحدہ قومیت کے علمبردار نہیں ہیں۔ گولوالکر کے نزدیک قومیت وطن، نسل، تہذیب، مذہب اور زبان کے اشتراک کا نام ہے۔ مولانا مودودیؒ کے نزدیک قومیت کی بنیاد اسلام اور ایمانی اخوت ہے۔ وطن، نسل، زبان وغیرہ عوامل کی اہمیت ’لتعارفو‘ کے حوالے سے ہے اور ثانوی ہے۔

٭ ملک کا نظام گولوالکر کے نزدیک قومی نسل چلائے گی اور غیر اقوام یا افراد کو قومی نسل میں شامل ہونے کے لیے اپنی علاحدہ شناخت کو کھونا ہوگا اور ہر اعتبار سے قومی نسل میں ضم ہونا ہوگا۔ دوسری طرف اسلامی ریاست کو اسلام کے علمبردار چلائیں گے، اس لیے نہیں کہ وہ کسی خاص نسل یا علاقے سے تعلق رکھتے ہیں یا کوئی خاص زبان بولتے ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ اسلام کے نظریے اور مسلک پر ایمان لائے ہیں۔ کسی بھی جغرافیائی خطے، نسل، مذہب، تہذیب اور زبان سے متعلق شخص جب اس نظریے اور مسلک پر ایمان کا اعلان کرے گا تو اس کے اور پشتینی مسلمانوں کے درمیان کوئی تفریق نہ ہوگی۔

٭ گولوالکر (1939:46-49) کے مطابق اغیار کے خصوصی حقوق و مراعات کا ہر مطالبہ غلط ہے۔ ان مطالبات کو تسلیم کیا جائے تو ان میں اپنی طاقت اور علاحدگی پسندی کا رجحان مزید فروغ پاتا ہے لہذا انھیں حقوق ومراعات دینا قومی نسل کے لیے خودکشی ہے۔ اقلیتوں کا اپنی علاحدہ شناخت پر اصرار فتنے کا موجب ہے لہذا حقوق و مراعات کے ذریعہ اسے استحکام بخشنے کے بجائے اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ یا تو وہ قومی نسل کے رحم و کرم پر زندگی گزاریں یا ان کی حیثیت ایک غیرملکی کی ہوگی اور ملک کے اصل باشندے یعنی قومی نسل جب مناسب سمجھے انھیں ملک کو چھوڑنا ہوگا؛ علاوہ ازیں وہ کسی قسم کے خصوصی حقوق و مراعات کی امید نہ کریں۔ اس ظالمانہ رویہ کے قطعاً برعکس مولانا مودودیؒ نے تفصیل سے ایک اسلامی ریاست میں غیرمسلموں کے حقوق پر روشنی ڈالی ہے۔ غیر مسلموں کو ایک اسلامی ریاست میں تحفظ جان اور تحفظ عزت کا حق مسلمانوں کی طرح حاصل ہوگا۔ دیوانی و فوجداری معاملات میں بھی مساوات حاصل ہوگی۔ انھیں اپنی علاحدہ شناخت قائم رکھنے اور پرسنل لاء پر عمل کرنے کا حق ہوگا۔ اس ضمن میں انھیں ایسے کاموں کی اجازت بھی ہوگی جو اسلام کی رو سے حرام اور مسلمانوں کے کرنے پر قابل مواخذہ جرم شمار ہوں گے۔ اسلامی حکومت چونکہ ایک اصولی حکومت ہے لہذا وہ حکومت کے کلیدی مناصب پر فائز نہیں ہوسکیں گے لیکن اس کے علاوہ کسی منصب اور ملازمت کو اختیار کرنے میں کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی۔ وہ فوجی خدمت سے بھی مستثنیٰ ہوں گے۔ مولانا مودودیؒ فرماتے ہیں، ’’دشمن سے ملک کی حفاظت کرنا تنہا مسلمانوں کے فرائض میں داخل کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک اصول پر جو ریاست قائم ہو اس کی حفاظت کے لیے وہی لوگ لڑ سکتے ہیں اور انہی کو اس کے لیے لڑنا چاہیے جو اس اصول کو حق مانتے ہوں۔ پھر لڑائی میں اپنے اصول اور حدود کی پابندی بھی وہی لوگ کرسکتے ہیں۔ ‘‘ انھیں اپنی مذہبی تعلیم کا انتظام کرنے کا حق ہوگا۔ یہ انتظام وہ نجی کے علاوہ سرکاری تعلیم گاہوں میں بھی کرنے کے مجاز ہوں گے، انھیں اسلام کی مذہبی تعلیم کے حصول کے لیے مجبور نہ کیا جائے گا۔ انھیں مسلمانوں کی طرح آزادیٔ اظہار رائے کا حق ہوگا جس میں اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنا یا حکومت پر تنقید کرنے کی آزادی بھی شامل ہے۔ ان کے جرائم پر انھیں سزا دی جائے گی لیکن اس سے ان کا ذمہ نہیں ٹوٹے گا۔ مولانا مودودیؒ (1993:15) کے الفاظ میں، ’’عقد ذمہ مسلمانوں کی جانب سے ابدی لزوم رکھتا ہے، یعنی وہ اسے باندھنے کے بعد پھر اسے توڑ دینے کے مختار نہیں ہیں۔ لیکن دوسری جانب ذمیوں کو اختیار ہے کہ جب تک چاہیں اس پر قائم رہیں اور جب چاہیں اسے توڑ دیں۔ ‘‘

٭ الغرض گولوالکر کے ہندوراشٹر میں ہندوؤں کے علاوہ کسی دوسری قوم کا انسانوں کی طرح رہنا محال ہے۔ گولوالکر کے تعصب کی انتہا یہ ہے کہ اقلیتوں کے مسائل کے حل کے لیے وہ جرمنی میں یہودیوں کے قتل عام کی پذیرائی سے بھی نہیں جھجکتے۔ اس کے برعکس اسلامی ریاست میں چند اصولی باتوں کے علاوہ مسلم و غیرمسلم میں حقوق کے باب کوئی فرق نہ ہوگا، بلکہ چند مخصوص معاملات میں اپنے مذہب کے حوالے سے انھیں وہ ’حقوق‘ بھی حاصل ہوں گے جو مسلمانوں کو کسی صورت سے نہیں مل سکتے۔

اس تقابلی مطالعے کے نتیجے میں الٰہی نظام سے پیدا شدہ وسعت قلبی، وسعت ظرفی اور وسعت نظری اور وحی الٰہی سے عاری انسانی عقل کے ذریعہ بنائے گئے نظاموں کی تنگ نظری منقح ہوکر سامنے آجاتی ہے۔ اللہ کی ہدایت ہی انسانیت کے لیے خیر و فلاح کی ضامن ہے اور اس ہدایت سے منہ موڑ کر بننے والے نظام، پھر چاہے وہ نسل، زبان، یا تہذیب کی بنیاد پر برپا ہوں یا کسی فلسفے، نظریے، مذہب اور سائنس کی۔۔۔ موجب شر و فساد ہیں۔ اسلام کی تعلیمات اگر شفاف انداز میں سامنے آئیں تو ان میں دلوں کو فتح کرلینے کی صلاحیت ہے۔ یہ افسوس کا مقام ہے کہ جو قوم قرآن و سنت کی علمبردار ہے اس کی پڑوسی اقوام قرآن و سنت کی تعلیمات سے قطعاً نابلد، غلط فہمیوں کی شکار، اور شرک و فرقہ پرستی میں غرق ہیں۔ اس مطالعے سے یہ بات بھی اظہر من الشمس ہوتی ہے کہ حالیہ دنوں میں حکمرانوں کی جانب سے مسلمانوں کی شہریت پر جو سوالات قائم ہوئے ہیں ان کی جڑ اور بنیادمیں کونسے عوامل اور کیسے عزائم ہیں۔

حواشی:

1۔ حقوق کی تعریف و دیگر علمی بحثوں کی تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں : والڈرون 1987 اور راماسوامی 2015۔

2۔ انسانوں کے فطری حقوق (Natural Rights) اور ان حقوق کی پاسداری پر مبنی ایک سیاسی نظام کا تصور مغرب کے لیے اتنا نامانوس تھا کہ جان لاک نے 1689 میں اپنی کتاب Two Treatises of Government کو گمنام شائع کرایا۔

3۔ ملاحظہ فرمائیں : حمیداللہ 2013:292 اور 2004:76-101

4۔ ان موضوعات پر مودودی 2011، عمری2008اور سعید 2013 کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔

5۔ معاہدین کو صلح کی شرائط کی روشنی میں اس سے زیادہ حقوق حاصل ہوں گے۔ اور مفتوحین مسلمانوں کے خلاف چاہے کیسی ہی سفاکی اور سنگ دلی سے کیوں نہ معرکہ آرا ہوئے ہوں، بطور اسلامی رعایا انہیں یہ حقوق بالضرور حاصل ہوں گے۔

6۔ زمین و آسمان کے قلابے ملاکر گولوالکر اپنا پورا زور اس بات کو ثابت کرنے میں صرف کرتے ہیں کہ ہندوستان میں ہندو کسی بھی بیرونی حملے سے آٹھ سے دس ہزار پہلے سے آباد چلے آرہے ہیں۔ مختلف قسم کی غیر علمی و غیر سائنسی تھیوریوں کا سہارا لے کر گولوالکر آرینوں کو ملک کا قدیم باشندہ بتاتے ہیں اور ان کے بیرون ہند سے ہجرت کرکے ہندوستان آنے کا انکار کرتے ہیں۔ گولوالکر (1939:8) اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ آرینوں کا تعلق قطب شمالی کے علاقوں Arctic Zone سے ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ قطب شمالی کا مذکورہ علاقہ پہلے ہندوستان میں اس جگہ تھا جہاں اب بہار اور اڑیسہ ہیں۔ مختصراً یہ کہ آرین بیرون سے ہندوستان نہیں آئے بلکہ جس خطے سے ان کا تعلق تھا وہ خطہ آرینوں کو ملک میں چھوڑ کر بذات خود شمال کی طرف ہجرت کرگیا۔ گولوالکر کی کتاب اسی طرح کے مضحکہ خیز دعووں سے بھری ہوئی ہوتی تو بھی کوئی بہت زیادہ پریشانی کی بات نہ تھی لیکن کتاب میں غیر ہندو اقوام کے ساتھ جو رویہ اپنانے کی وکالت کی گئی ہے وہ خطرناک ہے۔

7۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں : مودودی 1977 اور خان 2016

۸۔ جزیہ کے موضوع پر مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں : نعمانی 1999

۹۔ ملاحظہ فرمائیں : گولوالکر 1980:233-265

10۔  1917 کے بالفور اعلامیے کے بعد اس عمل میں تیزی آچکی تھی جس کی طرف گولوالکر نے اشارہ کیا ہے بعد ازاں 1948 میں باضابطہ اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔

مراجع و مصادر:

Jeremy Waldron. ‘Rights’. in The Blackwell Encyclopaedia of Political Thought. D. Miller (ed.), Blackwell, Oxford, 1987.

M.S. Golwalkar. We or Our Nationhood Defined. Nagpur: Bharat Publications, 1939.

M.S. Golwalkar. Bunch of Thoughts. Bangalore: Jagarana Prakashana, 1980.

Riaz Ahmad Saeed. "Human Rights in Islam and the West: The Last Sermon of the Prophet and UDHR”.  Jihat al-Islam Vol.6 (January-June 2013) No.2

Sushila Ramaswamy. Political Theory: Ideas and Concepts. Delhi: PHI Learning, 2015.

V.D. Savarkar. Hindutva: Who is a Hindu? Bombay: Veer Savarkar Prakashan, 1969.

خان یاسر۔ وطن پرستی نہیں، وطن دوستی۔ دہلی: منشورات، 2016۔

ڈاکڑ محمد حمیداللہ۔ رسول اکرمؐ کی سیاسی زندگی۔ لاہور: نگارشات،2013۔

ڈاکڑ محمد حمیداللہ۔ ’’دنیا کا سب سے پہلا تحریری دستور: عہد نبوی کی ایک اہم دستاویز‘‘۔ مقالات حمیداللہ (مرتبہ زیبا افتخار) pp. 76-101۔ کراچی: قرطاس، 2004۔

شبلی نعمانی۔ ’’الجزیہ‘‘۔مقالات شبلی، جلد اولpp. 209-219۔ اعظم گڑھ: دارالمصنفین، 1999۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی۔ مسئلہ قومیت۔ دہلی: مرکزی مکتبہ اسلامی، 1977۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی۔ الجہاد فی الاسلام۔ دہلی: مرکزی مکتبہ اسلامی،1988۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی۔ انسان کے بنیادی حقوق۔ دہلی: مرکزی مکتبہ اسلامی،2011۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی۔ اسلامی حکومت میں غیرمسلموں کے حقوق۔ دہلی: مرکزی مکتبہ اسلامی، 1993۔

مولانا سید جلال الدین عمری۔ اسلام انسانی حقوق کا پاسباں۔ دہلی: مرکزی مکتبہ اسلامی،2008۔

[بشکریہ معارف، دار المصنفین شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ]

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button