Sliderشخصیات

اقبال کا فلسفہ خودی

علامہ اقبال کو کامل یقین تھا کہ اس کرۂ ارض کا انسان اگر فلسفہ خودی پر عمل کرلے تو بلندیوں اور عظمتوں کی انتہائیوں کو چھو سکتا ہے

ایم۔ ایچ۔ انصاری

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

  خدا بندہ سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

خودی کا تصور اقبال کی شاعری کا بنیادی تصور ہے جس کے بغیر ہم اقبال کی شاعری کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔یہ اقبال کے فلسفہ حیات کی بنیادی اینٹ ہے۔

’خودی‘ فارسی زبان کا لفظ ہے جو لغوی اعتبار سے انانیت،خود مختاری،خود غرض اور غرور و تکبر کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔خودی کا لفظ اقبال کے پیغام یا  فلسفہ حیات میں تکبر و غرور کے معنی میں استعمال نہیں ہوا ہے بلکہ اقبال کے نزدیک خود نام ہے احساس غیرت مندی کا،جذبہ خودداری کا اور دوسروں کا سہارا تلاش کر نے کے بجائے اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کا۔اقبال نے اپنی کتاب ’اسرار خودی‘ کے دیباچہ میں ہی واضح کردیا ہے کہ خودی سے انکی مراد غرور و نخوت کے بجائے عرفان نفس اور خود شناسی ہے چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ ”ہاں لفظ خودی کے متعلق ناظرین کوآگاہ کردینا ضروری ہے کہ یہ لفظ اس نظم میں بمعنی ”غرور“ استعمال نہیں کیاگیا ہے جیسا کہ عام طور پر اردو میں مستعمل ہے۔ اس کا مفہوم محض احساس نفس یا تعین ذات ہے۔

          علامہ اقبال کے زمانہ میں یہ مسئلہ درپیش تھا کہ انسان کی انفرادیت، شخصیت یا انا کی کوئی مستقل حیثیت ہے یا یہ محض فریب تخیل ہے؟ اس کے جواب ایران و ہند کے حکماء اس نتیجہ پر پہنچے کہ کائنات میں صرف حقیقت کلی کا وجود ہے اس لئے انسانی ذات محض فریب نظر ہے۔انسانی زندگی کا مقصود حیاتِ کلی کے بحرمیں خود کو فنا کردینا ہے اور اسی فنائے ذات کا نام انسانی نجات ہے۔ یہی وہ فلسفہ حیا ت تھا جو ہمارے ہاں نظریہ وحدۃ الوجود کے نام سے رائج ہے اور جس نے مسلمان جیسی ہمہ تن عمل قوم کو خاک کی آغوش میں سلادیا تھا۔

           علامہ اقبال نے اسی فلسفہ حیات کے خلاف مسلسل احتجاج کیا اور اس کے بر عکس اپنا فلسفہ خودی پیش کیا۔اس نظریہ کا ملخص یہ ہے کہ حیات عالمگیر یا کلی نہیں ہے بلکہ انفرادی ہے۔ اس انفرادی زندگی کی اعلیٰ ترین صورت کا نام خودی ہے۔جس سے انسان کی شخصیت یا انفرادیت متشکل ہوتی ہے لہذا انسانی زندگی کا مقصود فنائے ذات نہیں بلکہ اثباتِ خودی اور بقائے ذات ہے۔علامہ اقبال کے نزدیک جوں جوں انسان اپنے خلق اور انائے مطلق کے مانند ہوتا جاتا ہے وہ خود بھی منفرد اور نادر ہوتا جاتا ہے اسی کانام استحکامِ خودی ہے۔خدا کی مانند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے اندر صفات خدا وندی کو جذب اور منعکس کرتا چلا جائے۔ خودی کے ضعف اور استحکام کو پرکھنے کا معیار صرف ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان اپنی راہ میں آنے والے موافعات پر کس حد تک غالب آتا ہے ہر وہ عمل جس سے خودی میں استحکام پیدا ہو خیر ہے اور ہر وہ عمل جس سے خودی کمزور ہوجائے شر ہے۔جب انسانی خودی موافعات پر غلبہ حاصل کرکے پختہ تر ہوجاتی ہے تو پھر موت کا جھٹکا بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور اس طرح انسانی زندگی دوام سے ہمکنار ہوجاتی ہے۔

          علامہ اقبال کو کامل یقین تھا کہ اس کرۂ ارض کا انسان اگر فلسفہ خودی پر عمل کرلے تو بلندیوں اور عظمتوں کی انتہائیوں کو چھو سکتا ہے اورلامکاں تک اسکی رسائی کو روکنا کسی فرد کیلئے ممکن نہیں ہوگا۔اسی احساس خودی کو بیدار کرنے کیلئے انہوں نے ”اسرار خودی“،”رموزِ بے خودی“اور جاوید نامہ لکھی اور تصور خودی کو بڑے واضح اور بلیغ انداز میں بیان فرمایا۔جس کا مقصد انسان کو اپنی آزادانہ خودی اور شخصیت سے آگاہ کرکے کارزار حیات میں بحیثیت خالق لانا ہے۔بوسیدہ روایات اور عقائد کے بتوں کو پست ہمتی اور غلامی کی زنجیروں کو کاٹ کر فکر و عمل کو نئے ماحول اور ضروریات کے مطابق ترتیب دینا ہے۔موجودہ تہذیب و تمدن کے عدم مساوات کو بدل کر خواجہ و مزدور،حاکم و محکوم اور محمود وایاز کی تمیز کو مٹانا ہے،خالق و مخلوق میں ایک نیا رشتہ قائم کرکے دنیا میں ایک ایسی انسانی برادری قائم کرنا ہے جو قوائے فطرت پر فتح کرسکے اور اس خرابہ دہر کو جنت ارضی میں تبدیل کرسکے۔

خودی ہو زندہ تو ہے فقر بھی شہنشا ہی

نہیں ہے سنجزو طغرل سے کم شکوہ فقیر

خودی ہو زندہ تو دریائے بیکراں پایاب

خودی ہو زندہ تو کہسار پرنیاں و حریر

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button