Sliderمسلم دنیا

اقلیتوں کے لیے اسوۂ یوسفی

  حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی کے اس پہلو سے مسلمان اقلیتوں کو رہنمائی ملتی ہے کہ وہ بھی اپنے کوششوں اور کاوشوں کا سب سے بڑا محور اپنے دین، عقیدے اور اخلاق وکردار، نیز آنے والی نسلوں کے دین وایمان کی حفاظت اور سالمیت کو بنائیں۔

علی محی الدین قرہ داغی

ترجمہ: ذکی الرحمن غازی مدنی

          قرآنِ کریم کے حوالے سے اللہ کی مشیت یہ رہی ہے کہ اس میں جن انبیائے کرام کا تذکرہ ہوا ہے ان کی زندگی کے کچھ خاص پہلوئوں کو، یا صرف کسی ایک اہم پہلو کو بہ طورِ خاص ابھارا گیا ہے تاکہ امتِ مسلمہ کے لیے اس میدان کا ایک عملی نمونہ اور اسوہ سامنے آجائے۔قرآن میں مذکور انبیائے کرام کے تذکرے کا واحد مقصد یہی ہے کہ مسلمان ان کی عملی سیرت وکردار سے فیض اٹھائیں اور ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دارین کی سعادت کے مستحق بنیں۔ سابقہ انبیاء کی پیروی واقتداء اپنی مرضی اور اختیار کی چیز نہیں ہے، یہ اللہ کا عائد کردہ محکم فریضہ ہے جسے بجالانا ہر مسلمان پر ازروئے دین واجب ہے۔سورۂ انعام میں پہلے انبیاء کے سلسلۃ الذہب کی کچھ کڑیوں کا ذکر ہوا ہے، بعدازاں ان کی اتباع کا تاکیدی حکم دیا گیا ہے۔

          ارشادِ باری ہے:

وَتِلْکَ حُجَّتُنَا آتَیْْنَاہَا إِبْرَاہِیْمَ عَلَی قَوْمِہِ نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَّن نَّشَاء  إِنَّ رَبَّکَ حَکِیْمٌ عَلِیْم٭وَوَہَبْنَا لَہُ إِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ کُلاًّ ہَدَیْْنَا وَنُوحاً ہَدَیْْنَا مِن قَبْلُ وَمِن ذُرِّیَّتِہِ دَاوُودَ وَسُلَیْْمَانَ وَأَیُّوبَ وَیُوسُفَ وَمُوسَی وَہَارُونَ وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْن٭وَزَکَرِیَّا وَیَحْیَی وَعِیْسَی وَإِلْیَاسَ کُلٌّ مِّنَ الصَّالِحِیْنَ٭وَإِسْمَاعِیْلَ وَالْیَسَعَ وَیُونُسَ وَلُوطاً وَکُلاًّ فضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِیْن٭ وَمِنْ آبَائِہِمْ وَذُرِّیَّاتِہِمْ وَإِخْوَانِہِمْ وَاجْتَبَیْْنَاہُمْ وَہَدَیْْنَاہُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْم٭ ذَلِکَ ہُدَی اللّہِ یَہْدِیْ بِہِ مَن یَشَاء ُ مِنْ عِبَادِہِ وَلَوْ أَشْرَکُواْ لَحَبِطَ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَعْمَلُون٭أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ فَإِن یَکْفُرْ بِہَا ہَـؤُلاء  فَقَدْ وَکَّلْنَا بِہَا قَوْماً لَّیْْسُواْ بِہَا بِکَافِرِیْن٭أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّہُ فَبِہُدَاہُمُ اقْتَدِہْ} (انعام، ۸۳-۹۰)

’’یہ تھی ہماری حجت جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلے میں عطا کی۔ ہم جسے چاہتے ہیں بلند مرتبے عطا کرتے ہیں۔ حق یہ ہے کہ تمہارا رب نہایت دانا اور علیم ہے۔ پھر ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب جیسی اولاد دی اور ہر ایک کو راہِ راست دکھائی۔ وہی راہِ راست جو اس سے پہلے نوح کو دکھائی تھی۔ اور اسی کی نسل سے ہم نے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون کو ہدایت بخشی۔ اس طرح ہم نیکوکاروں کو ان کی نیکی کا بدلہ دیتے ہیں۔ اسی کی اولاد سے زکریا، یحییٰ، عیسیٰ اور الیاس کو راہ یاب کیا۔ہر ایک ان میں سے صالح تھا۔ اسی کے خاندان سے اسماعیل، الیسع، اور یونس اور لوط کو راستہ دکھایا۔ ان میں سے ہر ایک کو ہم نے تمام دنیا والوں پر فضیلت عطا کی۔ نیز ان کے آباء واجداد اور ان کی اولاد اور ان کے بھائی بندوں میں سے بہتوں کو ہم نے نوازا۔ انہیں اپنی خدمت کے لیے چن لیا اور سیدھے راستے کی طرف ان کی رہنمائی کی۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے۔ لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہوجاتا۔ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی۔ اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو پرواہ نہیں، ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس سے منکر نہیں ہیں۔ اے نبی، وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے، انہی کے راستے پر تم چلو۔‘‘

          اللہ کی مشیت ہوئی کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے تذکرے میں تمام مسلمانوں کے لیے تقویٰ اور خداترسی، صبر وتحمل، وفا واخلاص اور دعوت وحکمت وغیرہ انبیائی صفات کا جلوہ اور پرتو ظاہر ہوجائے۔ تاہم ایک خاص پہلو سیدنا حضرت یوسفؑ کی زندگی کا یہ ہے کہ یہ غیر اسلامی ملکوں میں آباد مسلمانوں کے لیے بھرپور لائحۂ عمل اور نقشۂ کار فراہم کرتی ہے۔آج دنیا کا کونسا برِ اعظم، بلکہ کہنا چاہیے کہ کونسا ملک ایسا ہے جہاں مسلمان کم وبیش آباد نہیں ہیں۔ دنیا کے بیشتر غیر مسلم ملکوں میں مسلمانوں کا وجود ملتا ہے۔اب یہ اللہ کی حکمت اور مشیت ہی ہے کہ دورِ حاضر کی مسلمان اقلیتوں کے حالات بڑی حد تک ان حالات سے ملتے جلتے ہیں جو حضرت یوسفؑ کو پیش آئے تھے۔ دونوں جگہ یکساں طور پر بعض اسباب اور مجبوریوں کی وجہ سے غیر اسلامی ملکوں میں سکونت پذیری ہے۔ذیل میں مسلم اقلیتوں کے لیے اسوۂ یوسفی کی چند جھلکیاں پیش ہیں :

          ۱-دنیا میں اس وقت بیشتر مسلم اقلیتیں وہ ہیں جن کے افراد اپنے مسلم ملکوں کے آمریت پسندانہ طرزِ حکمرانی اور سیاسی وسماجی ظلم اورناہموراری سے عاجز ہوکر یورپ اور امریکا وغیرہ پہنچے ہیں۔ وہ غیر مسلم ملکوں میں بودوباش اختیار کرنے پر مجبور تھے یا کم از کم محتاج تھے۔ ان میں سے بیشتر لوگوں نے اپنے خوابوں کی دنیا یعنی امریکا اور یورپ وغیرہ پہنچنے کے لیے بھی بڑے پاپڑ بیلے اور بڑی کٹھنائیاں اٹھائی ہیں۔ ہر ایک کی اپنی کہانی اور اپنا سفرنامہ ہے جو عبرت انگیز بھی ہے اور سبق آموز بھی۔کچھ یہی حال سیدنا یوسف علیہ السلام کا تھا۔ ان پر بھی ان کے سگے بھائیوں نے مظالم ڈھائے تھے اور بالآخر انہیں ایک اندھے کنوے میں دھکیل دیا تھا تاکہ وہیں بھوکے پیاسے مرجائیں یا شارعِ عام پر گزرنے والا کوئی قافلہ رک کر پانی کے لیے اس کنوے تک آئے اور انہیں نکال کر اپنا غلام بنالے اور ساتھ لے کرکہیں دور چلا جائے۔ چنانچہ اس کی جو شکل بنی وہ یہ تھی کہ حضرت یوسفؑ کو مصر کی غلاموں کی منڈی میں فروخت کیا گیا۔حضرت یوسفؑ کے حالات کے ساتھ تقابل کیا جائے تو آج مسلمان اقلیتوں کے حالات بہت اچھے ہیں۔ وہ جہاں آباد ہیں وہاں انہیں دین اور عقیدے کی آزادی نصیب ہے، بلکہ بعض مسلم ملکوں سے زیادہ انہیں غیر اسلامی ملکوں میں اظہارِ رائے کی آزادی میسر ہے۔ انہیں بہت سارے حقوق اور مراعات بھی حاصل ہیں۔ قانونی ودستوری طور پر وہ بہت سارے کام کر سکتے ہیں۔ اس کے برخلاف حضرت یوسفؑ ایک غلام کی حیثیت سے غیر اسلامی ملک مصر میں لائے گئے تھے اور اس زمانے میں غلاموں کے تعلق سے کسی حق بخشی یا رعایت دہی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

          ۲-سیدنا یوسف علیہ السلام کو سب سے بڑی آزمائش اور فتنے سے دوچار ہونا پڑا۔وہ فتنہ تھا عزیزِمصر کی بیوی کا جو شہوانی جذبات سے مخمور ہوکر آپ کے پیچھے پڑگئی تھی۔حالات اس لیے زیادہ سنگین تھے کیونکہ آپ کا دن رات کا قیام عزیزِ مصر کے محل میں تھا۔اس بدکردار خاتون نے انہیں بہکانے اور پھسلانے کی جان توڑ کوشش کی، مگر حضرت یوسفؑ اس آزمائش میں سرفراز وکامران ثابت ہوئے۔{وَرَاوَدَتْہُ الَّتِیْ ہُوَ فِیْ بَیْْتِہَا عَن نَّفْسِہِ وَغَلَّقَتِ الأَبْوَابَ وَقَالَتْ ہَیْْتَ لَکَ قَالَ مَعَاذَ اللّہِ إِنَّہُ رَبِّیْ أَحْسَنَ مَثْوَایَ إِنَّہُ لاَ یُفْلِحُ الظَّالِمُون} (یوسف، ۲۳)’’جس عورت کے گھر میں وہ تھا وہ اس پر ڈورے ڈالنے لگی اور ایک روز دروازے بند کرکے بولی:آجا۔ یوسف نے کہا: اللہ کی پناہ، میرے رب نے تو مجھے اچھی منزلت بخشی(اور میں یہ کام کروں )۔ ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پایا کرتے۔‘‘ چنانچہ اس امتحان میں کامیابی کا انعام انہیں یہ دیا گیا کہ اللہ کی تائیدو نصرت ان کے شاملِ حال ہوگئی۔ بالفرض حضرت یوسفؑ زندگی کے اس نازک موڑ پر شہوت رانی اور فسق وفجور کی دلدل میں دھنس جاتے تو مکمل طور سے رائیگاں ہوجاتے اور آگے چل کر اللہ نے انہیں جو اقتدار وتمکن اور غلبہ وسربلندی دی ہے وہ کچھ بھی نہ ملتا۔ مصر کا پورا ملک جس طرح ان کے زیرِ تسلط آگیا تھا اور جس طرح اس ملک نے ان کے بھائیوں، گھروالوں اور قوم کی خدمت ومدارات کی ہے، یہ سب کچھ خواب وخیال رہ جاتا۔

          شہوت رانی اور فسق وفجور کا یہی فتنہ ہے جو آج بھی مسلمان اقلیتوں کی نوجوان نسلوں کے سامنے منھ بائے کھڑا ہے۔ غیر اسلامی ملکوں میں زنااور بدکاری کے نہ صرف امکانات پورے روشن ہیں، بلکہ ایک طرح سے اس انحراف اور سفلے پن کی سماجی پشت پناہی اور سرکاری تائید ہو رہی ہے۔آج مسلم اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو دعوتِ نظارہ دینے والی بداخلاقیوں اور بے حیائیوں کا مقابلے کرنے کے لیے مضبوطِ قوتِ ارادی اور اللہ سے پختہ تعلق پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے بغیر مسلمان اقلیتیں نہ اپنے دین وایمان کو محفوظ رکھ سکتی ہیں اور نہ عزت اور آبرو کو۔وہ جس ملک میں سکونت پذیر ہیں اور جس قوم اورملت سے نسبت رکھتی ہیں، اس ملک کی تعمیر وترقی اور اس قوم کی فلاح وبہبود کے حوالے سے ان کی خدمت بڑی حد تک ان کے اخلاق وکردار کے تحفظ کے بعد ہی ہو سکتی ہے۔ اس کے بغیر نہ ان کا کوئی علاحدہ وجود رہے گا اور نہ کوئی امتیازی تشخص۔حضرت یوسفؑ کی زندگی کے مختلف واقعات اس پہلو سے مسلمان اقلیتوں کے لیے ایک عمدہ نمونہ اور بہترین راہِ عمل پیش کرتے ہیں۔

          ہم سورۂ یوسف کا مطالعہ کرتے ہیں تو پاتے ہیں کہ اس میں ایک مومن ومسلم کا کردار اور نمونہ پیش کیا گیا ہے جسے حالات اس کی مرضی کے خلاف ایسے معاشرے میں پہنچا دیتے ہیں جو دین وایمان میں اس سے بے گانہ ہوتاہے۔ مگر وہ وہاں اپنے اخلاق وکردار سے، اپنی ایمان داری اور وفاشعاری سے وہ اثر قائم کرتا ہے کہ پورا ملک اس کی عظمت کے آگے سرِ نیاز جھکا دیتا ہے۔ یہ شخص کوئی اور نہیں، حضرت یوسف علیہ السلام ہیں۔ قرآنِ کریم نے اس قصے کی تفصیلات بیان کرنے سے پہلے اسے ایک حیرت انگیز وصف سے متصف کیا ہے اور پورے قرآن میں کسی دوسرے نبی کی روداد یا سرگزشت کے تعلق سے یہ وصف ذکر نہیں ہوا۔ وہ وصف ہے قصۂ یوسف کے ’’احسن القصص‘‘ ہونے کا۔علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اس قصے سے اپنے لیے نصیحتیں اور عبرتیں کشید کریں۔ اس میں پنہاں روشن نشانیوں اور قدرت کی کارفرمائیوں پر غور وفکر کریں۔ {لَقَدْ کَانَ فِیْ قَصَصِہِمْ عِبْرَۃٌ لِّأُوْلِیْ الأَلْبَابِ}(یوسف، ۱۱۱)’’اگلے لوگوں کے ان قصوں میں عقل وہوش رکھنے والوں کے لیے عبرت کا سامان ہے۔‘‘{لَّقَدْ کَانَ فِیْ یُوسُفَ وَإِخْوَتِہِ آیَاتٌ لِّلسَّائِلِیْن} (یوسف، ۷)’’حقیقت یہ ہے کہ یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصے میں پوچھنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔ ‘‘

          ۳-حضرت یوسفؑ نے ملکِ مصر میں اپنے دین، عقیدے اور اخلاق وکردار کی بھرپور حفاظت فرمائی۔ شہوتوں اور فتنوں میں کبھی نہ پھسلے اور نہ ملوث ہوئے حالانکہ مصر کے سیاسی اشرافیہ اور حکمراں طبقے کی حالت اس وقت اخلاقی لحاظ سے بڑی ابتر اور دگرگوں تھی۔ مثال کے طور عزیزِ مصر کی بیوی نہ صرف یہ کہ بھری محفل میں اپنے جنسی میلان کا اظہار کرتی ہے، بلکہ محفل میں حاضر بیگماتِ مصر بھی اسی کی ہاں میں ہاں ملانے لگتی ہیں اور یوسف علیہ السلام کو بدکاری پر آمادہ کرنے کے جتن کرتی ہیں۔ حضرت یوسفؑ کی عفت وعصمت کا سب سے بڑا امتحان اس وقت ہوا جب عزیزِ مصر کی بیوی نے گھر کے دروازے بند کرکے انہیں بدکاری کی کھلی دعوت دی۔ یہ انتہائی کڑی آزمائش تھی۔ ماسوا اللہ کوئی وہاں حضرت یوسفؑ کو روکنے اور دیکھنے والا نہ تھا۔مگر حضرت یوسفؑ کے پائے استقلال میں کوئی جنبش نہ ہوئی۔ انہوں نے اپنے دین، عقیدے اور اخلاق وکردار کی حفاظت کی خاطر ڈھیر سارے تعیشات کو ٹھکرا دیا۔ بہت سی سہولتوں سے دست بردار ہوگئے، بلکہ جب انہیں محسوس ہوا کہ دین وایمان بچانے کے لیے محل کے مخملیں گدوں کے بجائے جیل کی کال کوٹھری کا ٹھنڈا فرش ٹھیک رہے گا تو برملا اس کے لیے دعا فرمائی اور قید وبند کی صعوبتیں جھیلنے کے لیے کمربستہ ہوگئے۔ صرف ماہ دو ماہ نہیں، بلکہ سالہا سال نذرِ زنداں رہے۔

          حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی کے اس پہلو سے مسلمان اقلیتوں کو رہنمائی ملتی ہے کہ وہ بھی اپنے کوششوں اور کاوشوں کا سب سے بڑا محور اپنے دین، عقیدے اور اخلاق وکردار، نیز آنے والی نسلوں کے دین وایمان کی حفاظت اور سالمیت کو بنائیں۔ اس اعلیٰ مقصد کی تحصیل وتکمیل کے لیے تمام ممکنہ اور جائز مادی ومعنوی وسائل اختیار کریں۔ عملی اور تربیتی طریقوں اور راستوں کو اپنائیں۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ فرد اور ملت کی زندگی میں تشخص اور شناخت کی حفاظت کا مسئلہ سب سے اہم اور نازک ہوتاہے۔ بڑے سے بڑے دنیاوی مفاد اور مقصد کی کوئی قدر وقیمت نہیں اگر اس کے نتیجے میں انسان کو اپنے دین اور اخلاق سے دست بردار ہونا پڑے۔ یہی چیز ہمیں حضرت یوسفؑ کی زندگی میں سب سے نمایاں دکھائی پڑتی ہے۔ انہوں نے دعا مانگی تھی: {قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَیَّ مِمَّا یَدْعُونَنِیْ إِلَیْْہِ}(یوسف، ۳۳)’’اے میرے رب، قید مجھے منظور ہے بہ نسبت اس کے کہ میں وہ کام کروں جو یہ عورتیں مجھ سے چاہتی ہیں۔ ‘‘

          دعا کے الفاظ پر غور کیجئے، اس میں ’’سجن‘‘ یعنی قید وبند کو مطلقاً ذکر کیا گیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ گویا کہہ رہے تھے کہ قید وبند چاہے پوری زندگی کے لیے ہو، مجھے منظور ہے، مگر میں اس کے مقابلے میں کسی ایسی معصیت کا ارتکاب نہیں کروں گا جو اللہ کے غضب کو بھڑکانے والی ہو۔ یہ صرف بدکاری کے تعلق سے ان کی نفرت کا ایک اظہار ہے، اس سے آگے بڑھ کر کفر وشرک کا ارتکاب، ایمانی ودینی شناخت سے دست برداری، اپنے اور اپنی نسلوں کے اسلامی مستقبل سے لاپرواہی تو ایسے جرائم ہیں جن کے تعلق سے کوتاہی ہرگز قابلِ معافی نہیں ہو سکتی۔ اس لیے اسوۂ یوسفی کے حوالے سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اقلیتی کردار کے تحت جینے والے مسلمانوں کو چاہیے کہ جان ومال کو خرچ کرنے کی نوبت آئے تو اس میں دریغ نہ کریں، مگر ہر قیمت پر اپنے اور اپنے بچوں کے دینی مستقبل کو یقینی بنائیں۔ فکر کریں کہ ان کا اور آنے والی نسلوں کا عقیدہ، اخلاق، کردار اور اقدار وروایات سب اسلامی سانچے میں ڈھلی رہیں۔ اس کے لیے تعلیمی وتربیتی اور روحانی وانفرادی جو بھی وسائل وذرائع استعمال کرنا ممکن ہو ضرور کریں۔

          ۴-احسان شناسی اور شکرگزاری اعلیٰ اخلاقی صفت ہے۔ جانوروں تک میں اللہ تعالیٰ نے یہ جذبہ اور وصف رکھا ہے۔اسلام نے بھی اس جذبے کی بڑی پذیرائی کی ہے اور ہر محسن کے ساتھ وفاداری اور سپاس گزاری کے رویے کی تحسین کی ہے۔اس میں مسلم وغیر مسلم کی کوئی تفریق نہیں۔ حضرت یوسفؑ کی زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ عزیزِ مصر نے آپ کے ساتھ اچھا سلوک کیا تھا۔ انہیں بازار سے خریدا اور گھر لاکر بیٹے کی طرح پیار سے رکھا۔{وَقَالَ الَّذِیْ اشْتَرَاہُ مِن مِّصْرَ لاِمْرَأَتِہِ أَکْرِمِیْ مَثْوَاہُ عَسَی أَن یَنفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَہُ وَلَداً}(یوسف، ۲۱)’’مصر میں جس شخص نے اسے خریدااس نے اپنی بیوی سے کہا: ’’اس کو اچھی طرح رکھنا، بعید نہیں کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو، یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔ ‘‘

          یہ حضرت یوسفؑ پر اس کا ایک احسان تھا جسے وہ کبھی نہیں بھولے۔ چنانچہ جب عزیزِ مصر کی بدکار بیوی نے انہیں زناکاری پر آمادہ کرنا چاہا تو خوفِ الٰہی کے بعد اس حرکت سے روکنے والا ایک طاقتور جذبہ یہی محسن کی احسان شناسی کا جذبہ تھا۔انہوں نے عزیزِ مصر کی بیوی جس کا نام تلمود میں زلیخا بتایا گیا ہے اور یہ نام مسلمانوں میں کافی مشہور ہے، کی دعوت ٹھکراتے ہوئے جواباً کہا تھا: {إِنَّہُ رَبِّیْ أَحْسَنَ مَثْوَایَ}(یوسف، ۲۳)’’وہ میرا رب ہے، اس نے مجھے اچھی منزلت بخشی ہے۔‘‘ مفسرین کی ایک قابلِ قدر تعداد نے ’’إنہ‘‘ میں ضمیر ’’ھ‘‘ کا مرجع قرینۂ حال کی دلالت کی وجہ سے عزیزِ مصر کو مانا ہے۔آیتِ کریمہ میں اس تفسیر کی گنجائش بھی ملتی ہے۔تاہم افضل یہ ہے کہ دونوں مفاہیم پر بیک وقت دلالت کوباقی رکھا جائے۔

          گویا حضرت یوسف کہنا چاہ رہے ہیں کہ اگر میں تمہارے بہکاوے میں آکراس برائی کا ارتکاب کرلیتا ہوں تو یہ اللہ رب العالمین کی بھی ناشکری ہوگی جس نے میری پرورش وپرداخت کا اتنا اچھا انتظام فرمایا ہے اور میرے مالک کے تئیں بھی کفرانِ نعمت اور ناسپاسی ہوگی جس نے میرا اکرام واعزاز کیا اور مجھے اولاد کی طرح اپنے گھر میں رکھا۔ اگر ’’إنہ‘‘ میں ضمیر کا مرجع اللہ کو مانیں تب بھی تفسیر مناسب ہے، بلکہ آیت کا خاتمہ اس کی تائید کرتا ہے۔ {قَالَ مَعَاذَ اللّہِ إِنَّہُ رَبِّیْ أَحْسَنَ مَثْوَایَ إِنَّہُ لاَ یُفْلِحُ الظَّالِمُون} (یوسف، ۲۳) ’’یوسف نے کہا: ’’اللہ کی پناہ، میرے رب نے تو مجھے اچھی منزلت بخشی(اور میں یہ کام کروں !)ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پایا کرتے۔‘‘ حضرت یوسفؑ کی محسن شناسی اور سپاس گزاری کے رویے سے مسلمان اقلیتوں کو یہ سیکھ ملتی ہے کہ وہ بھی اس دنیاوی زندگی میں اپنے محسنین کے ساتھ اعلیٰ اخلاق کا ثبوت دیں، ان کے شکرگزار بنیں اور ان کی خوبیوں کا اعتراف کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:{ہَلْ جَزَاء  الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ} (رحمن، ۶۰) ’’احسان کا بدلہ احسان کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے؟‘‘

          ج-حضرت یوسفؑ کی زندگی سے ایک اہم سبق یہ ملتا ہے کہ مسلم اقلیت جس ملک میں آباد ہے اگر وہاں کی غیر مسلم اکثریت کے بعض افراد کی طرف سے مسلمانوں پر ظلم ڈھایا جائے، یا وہاں کا حکمراں طبقہ اسلام دشمنی پر آمادہ ہوجائے اور مسلمانوں کو سختیوں کا نشانہ بنانے لگے، یا ماضی میں کبھی اس ملک نے کسی اسلامی ملک پر یلغار کی ہو اور وہاں اپنا سامراج قائم کرلیا ہو، یا حالیہ ایام میں ملک میں نووارد مسلمانوں کو طرح طرح سے پریشان کیا جارہا ہو، ان تمام شکلوں میں مسلم اقلیت کے افراد اور جماعتوں کو ردِ عمل کا شکار ہوکر تشدد اور اذیت پسندی کا راستہ نہیں اختیار کرنا چاہیے۔ ظلم کا جواب ظلم سے نہیں دیاجاسکتا۔کسی ایک شخص یا بعض افراد یا محدود حکمراں طبقے کے ظلم کی پاداش میں پوری قوم اورتمام اہلِ وطن کو ذمے دار نہیں بنایا جاسکتا اور نہ انہیں اس وجہ سے مجرم گردانا جاسکتا ہے۔ حضرت یوسفؑ کو جب عزیزِ مصر کی بیوی نے برائی کی دعوت دی تھی اور اپنی حد تک ان کے بچنے کے تمام راستے مسدود کرکے گویا جبر کی صورتِ حال بنا دی تھی، اس وقت بھی حضرت یوسفؑ طیش میں نہیں آئے، بلکہ اپنے قول وعمل سے برملا اس حقیقت کا اعلان کیا کہ ظلم کرنے والے کبھی فلاح نہیں پایا کرتے۔إنہ لا یفلح الظالمون۔

          حضرت یوسفؑ کے اس طرزِ عمل سے بڑی طاقتور تردید اُن بعض مسلمانوں کی ہوجاتی ہے جو غیر اسلامی ملکوں میں رہتے ہیں، وہاں کی سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں، قانون انہیں جو امن وامان دیتا ہے اس سے مستفید ہوتے ہیں، مگر جہاں اور جب موقع ملتا ہے پبلک اور سرکاری پراپرٹی کو نقصان پہنچانے سے نہیں چوکتے۔ناجائز طریقوں سے بجلی استعمال کرتے ہیں اور بل نہیں دیتے۔ ریلوے اور ٹرانسپورٹ میں بغیر ٹکٹ سفر کرنے سے نہیں چوکتے۔اگر کوئی انہیں ٹوکے تو کہتے ہیں کہ جناب یہ حکومت مسلمانوں پر ظلم ڈھارہی ہے، یا ماضی میں اس نے فلاں مسلم ملک پر قبضہ کرکے وہاں سے دولت لوٹی ہے اور اب ہم اس طرح بزدلی اور منافقت کے ساتھ اسے لوٹ کھسوٹ کر حساب برابر کر رہے ہیں۔ قصاص اور جزا وسزا کا یہ انتہائی بھونڈا تصور ہے۔ نہ شریعت اسے تسلیم کرتی ہے اور نہ عقل اسے قبول کر سکتی ہے۔یہ صریحاً ظلم ہے اور اس کے ظلم ہونے کے بہت سے دلائل ہیں۔ کچھ ہم نے پیچھے ذکر کر دیے ہیں اور ایک دلیل یہ قرآنی آیت ہے جو انہی الفاظ میں چار بار نازل ہوئی ہے:{وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی}(انعام، ۱۶۴۔ بنی اسرائیل، ۱۵۔فاطر، ۱۸۔ زمر، ۷)’’کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔‘‘

          مطلب یہ ہے کہ دین کی نظروں میں ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمے دار ہے اور ہر ایک پر صرف اس کے اپنے ہی عمل کی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔اس امر کا کوئی امکان نہیں ہے کہ ایک شخص کی ذمے داری کا بار اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی دوسرے پر ڈال دیا جائے اور نہ یہی ممکن ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کی ذمے داری کا بار خود اپنے اوپر لے لے۔ یہ دونوں صورتیں ظالمانہ ہیں۔ پھر بیشتر مسلم اقلیتی ممالک-بالخصوص یورپین ممالک- ایسے نہیں ہیں کہ انہوں نے کبھی کسی مسلم ملک میں اپنا سامراج قائم کیا ہو۔ مثال کے طور پر جرمنی، سویڈن، ڈنمارک اور فن لینڈ وغیرہ۔ اس لیے ہر مسلم اقلیتی ملک کے تعلق سے یہ دلیل دینا غلط ہے۔علاوہ ازیں کسی ملک میں آباد مسلم اقلیت کے چند مفت خور افراد کو کس جماعت یا اقلیت نے اپنا نمائندہ چنا ہے کہ وہ اس کی نیابت میں حرام خوری اور فریب کاری کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں ؟ مغربی سامراج نے جن ممالک پر قبضہ کرکے وہاں کے قدرتی ذخائر کا استحصال کیا ہے، کیا ان ملکوں کی حکومتوں اور عوام نے چند افراد کو اپنا نمائندہ بناکر بھیجا ہے کہ جائو اور ان سامراجی ملکوں میں گھس کر جتنا کچھ توڑ پھوڑ کر سکتے ہو کرو؟ یقینا ایسا نہیں ہے۔ یہ تو اپنے منھ میاں مٹھو بننے والے خدائی فوجدار ہیں جن کے منھ کو حرام مال لگ گیا ہے، اس لیے اب اپنے طرزِ عمل کو جائز کرنے کے لیے الٹی سیدھی باتیں کرتے ہیں۔ یہ لوگ بیک وقت دوہرے ظلم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ نمبر ایک ملکی عوام پر ظلم ڈھاتے ہیں جنہوں نے ان کے یا کسی کے اوپر کوئی زیادتی نہیں کی ہوتی۔ دوسرے ظالمانہ انداز میں ملک کی مسلم آبادی کے نمائندے بن جاتے ہیں اور ان کے نام پر حرام خوری کرتے ہیں۔

          یہاں سیرتِ طیبہ کا ایک واقعہ پیش کرنے کو جی چاہتا ہے۔خیبر مدینہ طیبہ کے شمال میں ایک بڑا شہر تھا۔ یہاں حضورﷺ کے عہدِ مبارک میں یہودی آباد تھے اور مدینہ طیبہ کی نوخیز اسلامی ریاست کے خلاف مسلسل سازشوں کے جال بُنتے رہتے تھے۔ سن سات ہجری میں حضورﷺ نے ان پر ایک فیصلہ کن حملے کا ارادہ کیا اور خیبر کا محاصرہ فرمالیا۔ یہ محاصرہ کئی روز جاری رہا اور خیبر کے یہودی باشندے قلعہ بند ہوکر مسلمانوں سے لڑتے رہے۔ خیبر میں ایک سیاہ فام چرواہا یہودی باشندوں کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔ اپنی سیاہ رنگت کی وجہ سے اس کا نام ’’اسود راعی‘‘ مشہور ہے۔ اسی محاصرے کے دوران وہ بکریاں چرانے کے لیے شہر سے باہر نکلا۔ بکریوں کو چراتے چراتے اسے سامنے مسلمانوں کا لشکر پڑائو ڈالے ہوئے نظر آیا۔ اس کے دل میں شوق پیدا ہوا کہ وہ مسلمانوں اور ان کے امیرِ لشکرﷺ کو خود جاکر دیکھے اور ان کے دین ومذہب کے بارے میں معلومات حاصل کرے۔ چنانچہ وہ بکریوں کو ہنکاتا ہوا مسلمانوں کے پڑائو کے پاس پہنچ گیا اور لوگوں سے پوچھنے لگا کہ آپ کے بادشاہ کا خیمہ کونسا ہے؟ مسلمانوں نے بتایا کہ ہمارے یہاں بادشاہ تو کوئی نہیں ہوتا، البتہ ہمارے قائد اللہ کے آخری پیغمبر ہیں اور وہ اس معموملی خیمے میں مقیم ہیں۔ اگر آپ ان سے ملاقات کرنا چاہیں تو اندر چلے جائیں۔ چرواہے کو نہ اپنی آنکھوں پر اعتبار آیا نہ کانوں پر۔ اول تو جس خیمے کا پتہ بتایاجارہا تھا اسے خیمے کے بجائے چھپر کہنا زیادہ موزوں تھا اور اس کے لیے یہ تصور کرنا مشکل تھا کہ عرب کی اس ابھرتی ہوئی طاقت کا سربراہِ اعلیٰ اس چھپر میں رہ رہا ہوگا۔ دوسرے یہ بات اسے مذاق معلوم ہوتی تھی کہ ایک معمولی سے انجان چرواہے کو اس سربراہِ اعلیٰ سے اتنی آسانی کے ساتھ ملاقات کی دعوت دی جارہی ہے۔ لیکن بالآخر اس نے دیکھ لیا کہ جو بات کہی گئی تھی وہ مذاق نہیں، حقیقت تھی۔ چنانچہ چند لمحوں کے بعد ہی وہ خواب کے سے عالم میں عرب ہی کے نہیں، دونوں جہاں کے سردارﷺ کے سامنے کھڑا تھا۔ حضورﷺ سے اس چرواہے کی جو باتیں ہوئیں وہ بڑی دلچسپ اور طویل ہیں جو سیرت کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ لیکن مختصر یہ کہ آپﷺ کی زیارت کرکے اور آپ کی باتیں سن کر اسے یوں محسوس ہوا جیسے سالہا سال تک زندگی کی دھوپ میں جھلسنے کے بعد یکایک اس انجانی سی منزل کی چھائوں میسر آگئی ہے جس کی تلاش میں اس کی روح سرگرداں تھی۔ چنانچہ اس نے اس چھائوں کی آغوش تک پہنچنے میں ایک لمحہ بھی تاخیر نہیں کی اور مسلمان ہوگیا۔

          مسلمان ہونے کے بعد اس چرواہے نے حضورﷺ سے آپ کے ساتھ خیبر کے جہاد میں حصہ لینے کی اجازت چاہی۔ آپﷺ نے نہ صرف اسے اجازت دی، بلکہ بشارت بھی دی۔ لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ جہاد میں شامل ہونے سے پہلے ایک کام ضروری ہے اور وہ یہ کہ تمہارے ساتھ بکریوں کا جو ریوڑ ہے وہ تمہارے پاس ان یہودیوں کی امانت ہے، جہاد کی فضیلت حاصل کرنے سے پہلے تمہارا فرض یہ ہے کہ یہ بکریاں مالکوں کو لوٹا کر آئو۔ چنانچہ اسود راعی یہ بکریاں لے کر گئے اور انہیں قلعے کے اندر پہنچا کر واپس آئے۔پھر جنگ میں شامل ہوئے۔ جنگ کے خاتمے پر جب حضورﷺ شہداء کی نعشوں کے معائنے کے لیے تشریف لے گئے تو آپﷺ نے ملاحظہ فرمایا کہ شہداء کی قطار میں اس نومسلم چرواہے کی نعش بھی شامل ہے۔

          اس واقعے کے اس آخری حصے کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے جس میں آپﷺ نے بکریاں خیبر کے یہودی باشندوں کو واپس کرنے کا حکم دیا ہے۔ خیبر کے ان یہودیوں کے ساتھ آپﷺ کی بالواسطہ نہیں، براہِ راست جنگ تھی۔ یہ وہی یہودی تھے جن کی سازشوں نے آپؐ اور آپ کے صحابہ کو مدینہ منورہ میں چین سے بیٹھنے نہیں دیا۔ جن کی معاندانہ کارروائیوں سے مسلمانوں کے دل چھلنی تھے اور اب ان کے خلاف باقاعدہ اعلانِ جنگ کرکے ان کا محاصرہ کر لیا گیا تھا۔ کھلی کھلی جنگ کی اس حالت میں بلاشبہ ان کی جان اور مال کے خلاف ہر کارروائی جائز تھی۔ دوسری طرف مسلمانوں کے پاس غذائی سامان کی قلت تھی اور بکریوں کا ریوڑ جو بہت آسانی سے ہاتھ آگیا تھا مسلمانوں کے لشکر کی بہت سی ضروریات پوری کر سکتا تھا، لیکن اس حالت میں بھی حضورﷺ نے یہ گوارا نہیں فرمایا کہ ان بکریوں پر قبضہ کر لیا جائے۔ اسود راعی یہ بکریاں یہودیوں سے ایک معاہدے کے تحت قلعے سے باہر لائے تھے اور اگر انہیں واپس نہ کیا جاتا تومعاہدے کی خلاف ورزی لازم آتی۔ جنگ کی حالت میں یہ تو جائز ہے کہ کھلم کھلا طاقت استعمال کرکے دشمن کے مال پر قبضہ کر لیا جائے، لیکن جھوٹا معاہدہ کرکے دھوکا دینے اور معاہدے کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں ہے۔ نبیِ کریمﷺ نے بکریاں لوٹانے کا حکم دے کر شریعت کے اس حکم کو واضح فرمایا جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

          جو مسلمان کسی غیر مسلم ملک میں رہتے ہیں، خواہ وہاں کی شہریت اختیار کرکے یا عارضی اقامت کے طور پر، وہ وہاں کی حکومت سے ایک باقاعدہ معاہدے کے تحت رہتے ہیں۔ اس معاہدے کی پاسداری ان کے ذمے شرعاً لازم ہے اور اس کی خلاف ورزی شرعی اعتبار سے سخت گناہ ہے۔ جہاد کے ذریعے کفر اور اسلام دشمنی کی شوکت توڑنے کا جذبہ اپنی جگہ بڑا قابلِ تعریف ہے، لیکن اس کے لیے اپنا کردار اور اپنے بازو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ عہد شکنی، چوری اور دھوکہ فریب کے ذریعے دوسرے مذہب والوں کو زک پہنچانا کفر کا شیوہ ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کا نہیں۔ اسلام نے جہاں جہاد کی فضیلت بیان کی ہے وہاں اس کے مفصل احکام اور آداب بھی بتائے ہیں۔ بلکہ دنیا کی تاریخ میں اسلام نے سب سے پہلے جنگ کو ان قواعد وآداب کا پابند بنایا جو شرافت اور بہادری کا حسین امتزاج ہیں، ورنہ اس سے پہلے جنگ، قتل وغارت گری کا دوسرا نام تھا جو کسی قسم کی حدود قیود کی پابند نہیں تھی۔ اسی طرح یہ اسلام ہی تھا جس نے بین الاقوامی تعلقات کے مفصل احکام وضع کیے جو امن اور جنگ دونوں حالتوں پر حاوی ہیں۔ اگر ہم ان احکام وآداب کو نظرانداز کرکے من مانی کارروائیاں کریں گے تو ایک طرف شریعت کی خلاف ورزی کا شدید گناہ اپنے سر لیں گے، دوسرے اپنے طرزِ عمل کے ذریعے لوگوں کو اسلام اور مسلمانوں سے متنفر کرکے اسلام کی پیش قدمی میں رکاوٹ ڈالنے کے مجرم ہوں گے۔

          جو مسلمان بھی اپنے روزگار کے حصول یا کسی جائز مقصد کے لیے غیر مسلم ملکوں میں جاکر آباد ہوئے ہیں، انہیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ ان کا اچھا یا برا طرزِ عمل ان کی ذات کی حد تک محدود نہیں رہتا۔ ان ملکوں کے لوگ انہیں اسلام کا نمائندہ سمجھتے ہیں اور ان کے کردار کو دیکھ کر ان کے دین اور ان کی ملت کے بارے میں اچھی یا بری رائے قائم کرتے ہیں۔ اسلام کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ دنیا کے بیشتر حصوں میں اسلام کی نشرواشاعت زیادہ تر تاجروں کے ذریعے ہوئی جو ان علاقوں میں تجارت اور کسبِ معاش کے لیے گئے تھے، لیکن ان کا پاکیزہ کردار، انکی سچائی اور ان کی امانت ودیانت مجسم تبلیغ ثابت ہوئی۔ انہوں نے اپنی سیرت کی مغناطیسی طاقت سے غیر مسلموں کو اسلام کی طرف کھینچا اور بالآخر اسلام کی روشنی سے پورے خطے کو جگمگا دیا۔ اگر ہم غیر مسلموں کے سامنے جھوٹ، عہد شکنی، دھوکہ فریب اور خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں تو صرف اپنی ذات پر نہیں، اپنے دین پر، اپنی قوم پر اور اپنی دعوت اور پیغام پر وہ داغ لگاتے ہیں جسے مٹانا آسان نہیں۔ پھر اس طرزِ عمل پر شرمندہ ہونے کے بجائے اس کی تاویلیں کرکے اسے جائز ثابت کرنے کی کوشش عذرِ گناہ بدتر از گناہ کے مترادف ہے۔

          ۵-وطن دوستی اور وطن سے محبت کا جذبہ بھی انسان کی سرشت میں داخل ہے۔ انسان جہاں رہنے لگتا ہے، وہاں سے اسے فطری طور پر لگائو اور اپنائیت ہوجاتی ہے۔حضرت یوسف کی حیات میں بھی ہمیں اس انسانی فطرت کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔ جب ملکِ مصر میں عفت اور عصمت کے ساتھ باقی رہنا ان کے لیے دوبھر کر دیا گیا۔ طبقۂ شرفاء کی بیگمات نے جب انہیں بار بار پریشان کرنا شروع کر دیا تو انہوں نے قید خانے کی دعا مانگی۔ غور طلب یہ پہلو ہے کہ انہوں نے ملکِ مصر سے چلے جانے، یا کم از کم اس شہر سے نکل جانے اور اپنے گھر واپس لوٹ جانے کی دعا نہیں مانگی۔ بلکہ انہوں نے دعا مانگی تھی:{قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَیَّ مِمَّا یَدْعُونَنِیْ إِلَیْْہِ} (یوسف، ۳۳)’’اے میرے رب، قید مجھے منظور ہے بہ نسبت اس کے کہ میں وہ کام کروں جو یہ عورتیں مجھ سے چاہتی ہیں۔ ‘‘یہ دلیل اس بات کی ہے کہ وہ مصر کو اپنا وطن سمجھنے لگے تھے۔ انہیں یہاں کی مٹی سے محبت ہوگئی تھی اور یہ محبت اور لگائو اس قدر شدید تھا کہ انہوں نے ملک میں رہتے ہوئے نذرِ زنداں ہوجانا پسند فرمایا، مگر اسے چھوڑ کرجانے کی تمنا نہیں کی۔اس سے بڑھ کر یہ کہ جب انہیں اپنے وطن اور اہلِ وطن کی خدمت کا موقع ملا تو انہوں نے اس میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ خزائنِ ارض کی ذمے داری پر مامور ہوکر انہوں نے پورے ملک کی آبادی کو قحط کی تباہ کاریوں سے بچایا۔ بلکہ جب وہ قوت واقتدار کے بامِ عروج پر پہنچ گئے اس وقت اگر چاہتے تو بڑی آسانی سے واپس اپنی جائے پیدائش کنعان لوٹ جاتے اور اپنے والدین اور بھائیوں کے ساتھ وہاں پُر سکون زندگی گزارتے، مگر آپ نے ایسا نہ کرکے مصر کو ہی اپنا موطن ومسکن بنایا اور اپنے والدین اور اہلِ خاندان کو بھی وہاں بلا کر بسا دیا۔حالانکہ یہ بات وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ جس ملک میں وہ اپنے خاندان والوں کو بسا رہے ہیں وہ غیر اسلامی ملک ہے، یہاں کی بیشتر آبادی دولتِ ایمان سے محروم ہے اور یہاں کا نظم ونسق غیر الٰہی قوانین کی بنیاد پر چلایا جارہا ہے۔اسلام بھی یہی کہتا ہے کہ وطن سے محض وہ محبت اور وفاداری ہوجس کی اساس پر انفرادی واجتماعی حقوق وفرائض کی تنظیم عمل میں آتی ہے اور اُسے عقیدۂ حقہ کا متبادل نہ سمجھا جائے تو اصولی طور پر یہ جائز، مقبول اور فطری امر ہے۔ اگلے باب میں مزید اس کی تفصیل آرہی ہے۔

          ۶-دعوتی فریضے کی ادائیگی بھی ہر مسلمان کے ذمے ضروری ہے۔ حکمت اور عمدہ نصیحت کے ذریعے سارے انسانوں کو دینِ حق کی طرف بلانا امت کا فرضِ منصبی ہے جس سے وہ کسی حال میں بھی سبک دوش نہیں ہو سکتی ہے۔حضرت یوسفؑ نے بھی سخت سے سخت حالات میں اس ذمے داری سے غفلت نہیں برتی۔انہیں ظالمانہ طور پر غلام بنایا گیا تھا۔ غلاموں کی منڈی میں انہیں فروخت کیا گیا۔ گویا ظاہری اعتبار سے شروعات سے ہی ان کا سماجی رتبہ اور مقام کمزور تھا۔ مگر انہوں نے دعوتی سرگرمی جاری رکھی، حتی کہ قید خانے میں بھی یہ عمل جاری رہا۔ بلکہ قیدخانے میں انہوں نے اپنی موجودگی کو نتیجہ خیز بنایا اور جب دو نوجوان قیدیوں نے آکر ان سے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی تو انہیں تعبیر بتانے سے پہلے ان کے سامنے دین کی دعوت رکھی۔حضرت یوسفؑ کے ساتھ ہی دو نوجوان قید خانے میں لائے گئے۔مگر اس پکا پتہ نہیں چل پاتا کہ کس وجہ سے وہ قید خانے میں لا ڈالے گئے تھے۔ بہرحال یہ دونوں یہاں ایک خواب دیکھتے ہیں اور سارے قیدیوں کو چھوڑ کر صرف حضرت یوسفؑ سے اپنے خوابوں کی تعبیر پوچھنے آتے ہیں۔ انہوں نے یقینا حضرت یوسفؑ کی ذات میں خوش اخلاقی، نیکی اور وقار واحترام کا حسین امتزاج دیکھا ہوگا۔حضرت یوسفؑ اس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے سامنے صحیح عقیدے یعنی توحید کی دعوت پیش کرتے ہیں اور اس کے لیے چند تمہیدی قدم اٹھاتے ہیں۔

          سب سے پہلے وہ اپنے دونوں مخاطبوں کے دلوں میں اپنے تئیں اعتماد کے جذبات پیدا کرتے ہیں۔ اس کے لیے وہ اللہ کی خاص نعمت یعنی تاویلِ احادیث کا علم بہ روئے کار لاتے ہیں۔ انہیں بتاتے ہیں کہ تمہارا کھانا آنے سے پہلے ہی تمہیں یہ اطلاع دے دی جائے گی کہ کھانے میں آج کیا بنا ہے اور آیا کھانا لذیذ ہے یا نہیں۔ ان دونوں نے بہت بار اس چیز کا مشاہدہ کیا تھاکہ یوسفؑ وقت سے پہلے واقع ہونے والی اشیاء کا درست اندازہ لگا لیتے ہیں۔ پھر وہ مزید یقین دہانی کے لیے انہیں بتاتے ہیں کہ یہ علم اللہ کی جانب سے الہام شدہ ہے۔ وہی معبودِ حقیقی جو غیب اور شہادت سب کا علم رکھتا ہے اور اس کی اس صفت میں کوئی اس کا شریک یا ہمسر نہیں ہے۔یہ پہلا موقعہ ہے جب کہ حضرت یوسف ہم کو دینِ حق کی تبلیغ کرتے نظر آتے ہیں۔ اس سے پہلے ان کی داستانِ حیات کے جو ابواب قرآن نے پیش کیے ہیں ان میں صرف اخلاقِ فاضلہ کی مختلف خصوصیات مختلف مرحلوں پر ابھرتی رہی ہیں، مگر تبلیغ کا کوئی نشان وہاں نہیں پایا جاتا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پہلے مراحل محض تیاری اور تربیت کے تھے۔ نبوت کا کام عملاً اس قید خانے میں ان کے سپرد کیا گیا ہے اور نبی کی حیثیت سے یہ ان کی پہلی تقریرِ دعوت ہے۔

          پھر وہ ان کے سامنے بیان کرتے ہیں کہ وہ انبیاء ورسل کے ایک جلیل القدر خانوادے سے ہیں۔ یہ بھی پہلا موقعہ ہے کہ انہوں نے لوگوں کے سامنے اپنی اصلیت ظاہر کی۔ اس سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ وہ نہایت صبر وشکر کے ساتھ ہر اُس صورتِ حال کو قبول کرتے رہے جو انہیں پیش آئی۔ جب قافلے والوں نے ان کو پکڑ کر غلام بنایا، جب وہ مصر لائے گئے، جب انہیں عزیزِ مصر کے ہاتھ فروخت کیا گیا، جب انہیں جیل بھیجا گیا، ان میں سے کسی موقع پر بھی انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ میں ابراہیم واسحاق علیہما السلام کا پوتا اور یعقوب علیہ السلام کا بیٹا ہوں۔ ان کے باپ دادا کوئی غیر معروف لوگ نہیں تھے۔ قافلے والے خواہ اہلِ مدین ہوں یا اسماعیلی، دونوں ان کے خاندان سے قریبی تعلق رکھنے والے تھے۔ اہلِ مصر بھی کم از کم حضرت ابراہیمؑ سے تو ناواقف نہ تھے۔ بلکہ حضرت یوسفؑ جس انداز سے ان کا اور حضرت یعقوبؑ اور اسحاقؑ کا ذکر کرتے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تینوں بزرگوں کی شہرت مصر میں پہنچی ہوئی تھی۔ لیکن حضرت یوسف نے کبھی باپ دادا کا نام لے کر اپنے آپ کو ان حالات سے نکالنے کی کوشش نہیں کی جن میں وہ پچھلے چار پانچ سال کے دوران مبتلا ہوتے رہے تھے۔ غالباً وہ خود بھی اچھی طرح سمجھ رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ انہیں بنانا چاہتا ہے اس کے لیے ان حالات سے گزرنا ضروری ہے۔ مگر اب انہوں نے محض اپنی دعوت وتبلیغ کی خاطر اس حقیقت سے پردہ اٹھایا کہ میں کوئی نیا اور نرالا دین پیش نہیں کر رہا ہوں، بلکہ میرا تعلق دعوتِ توحید کی اس عالمگیر تحریک سے ہے جس کے ائمہ ابراہیمؑ واسحاقؑ ویعقوبؑ ہیں۔ ایسا کرنا اس لیے ضروری تھا کہ داعیِ حق کبھی اس دعوے کے ساتھ نہیں اٹھا کرتا کہ وہ نئی بات پیش کر رہا ہے جو اس سے پہلے کسی کو نہیں سوجھی، بلکہ پہلے قدم ہی پر یہ بات کھول دیتا ہے کہ میں اس ازلی وابدی حقیقت کی طرف بلا رہا ہوں جو ہمیشہ اہلِ حق پیش کرتے رہے ہیں۔

          پھر حضرت یوسفؑ نے جس طرح اپنی تبلیغ کے لیے موقع نکالا اس سے ہم کو حکمتِ تبلیغ کا ایک ہم سبق ملتا ہے۔ دو آدمی اپنا خواب بیان کرتے ہیں اور اپنی عقیدت مندی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی تعبیر پوچھتے ہیں۔ جواب میں آپ فرماتے ہیں کہ تعبیر تو میں تمہیں ضرور بتادوں گا مگر پہلے یہ سن لو کہ اس علم کا مأخذ کیا ہے جس کی بنا پر میں تمہیں تعبیر دیتا ہوں۔ اس طرح ان کی بات میں سے اپنی بات کہنے کا موقع نکال کر آپ ان کے سامنے اپنا دین پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ فی الواقع کسی شخص کے دل میں تبلیغِ حق کی دھن سمائی ہوئی ہو اور وہ حکمت بھی رکھتا ہو تو کیسی خوبصورتی کے ساتھ وہ گفتگو کا رخ اپنی دعوت کی طرف پھیر سکتا ہے۔ جسے دعوت کی دھن لگی ہوتی ہے وہ موقعے کی تاک میں رہتا ہے اور اسے پاتے ہی اپنا کام شروع کر دیتا ہے۔ البتہ بہت فرق ہے حکیم کی موقع شناسی میں اور اُس نادان مبلغ کی بھونڈی تبلیغ میں جو موقع ومحل کا لحاظ کیے بغیر لوگوں کے کانوں میں زبردستی اپنی دعوت ٹھونسنے کی کوشش کرتا ہے اور پھر لیچڑپن اور جھگڑالوپن سے انہیں الٹا متنفر اور بدظن کرکے چھوڑتا ہے۔

          اس سے یہ بھی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ لوگوں کے سامنے دعوتِ دین پیش کرنے کا صحیح ڈھنگ کیا ہے۔ حضرت یوسفؑ چھوٹتے ہی دین کے تفصیلی اصول اور ضوابط پیش کرنے شروع نہیں کر دیتے، بلکہ ان کے سامنے دین کے اس نقطۂ آغاز کو پیش کرتے ہیں جہاں سے اہلِ حق کا راستہ اہلِ باطل کے راستے سے جدا ہوتا ہے یعنی توحید اور شرک کا فرق۔ پھر اس فرق کو وہ ایسے معقول طریقے سے واضح کرتے ہیں کہ عقلِ عام رکھنے والا کوئی شخص اسے محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ خصوصیت کے ساتھ جو لوگ اس وقت ان کے مخاطب تھے ان کے دل ودماغ میں تو تیر کی طرح یہ بات اترگئی ہوگی کیونکہ وہ نوکر پیشہ غلام تھے اور اپنے دل کی گہرائیوں میں اس بات کو خوب محسوس کر سکتے تھے کہ ایک آقا کا غلام ہونا بہتر ہے یا بہت سے آقائوں کا۔ اور سارے جہان کے آقا کی بندگی بہتر ہے یا بندوں کی بندگی۔پھر وہ یہ بھی نہیں کہتے کہ اپنا دین چھوڑو اور میرے دین میں آجائو، بلکہ ایک عجیب انداز میں ان سے کہتے ہیں کہ دیکھو اللہ کا یہ کتنا بڑا فضل ہے کہ اس نے اپنے سواہم کو کسی کا بندہ نہیں بنایا، مگر لوگ اس کا شکر ادا نہیں کرتے اور خواہ مخواہ خود گھڑ گھڑ کر اپنے رب بناتے اور ان کی بندگی کرتے ہیں۔ پھر وہ اپنے مخاطبوں کے دین پر تنقید بھی کرتے ہیں، مگر نہایت معقولیت کے ساتھ اور دل آزاری کے ہر شائبے کے بغیر۔ بس اتنا کہنے پر اکتفا کرتے ہیں کہ یہ معبود جن میں کسی کو تم ان داتا، کسی کو خداوندِ نعمت، کسی کو مالکِ زمین اور کسی کو ربِ دولت یا مختارِ صحت ومرض وغیرہ کہتے ہو، یہ سب خالی خولی نام ہیں، ان ناموں کے پیچھے کوئی حقیقی انداتائی وخداوندی اور مالکیت وربوبیت موجود نہیں ہے۔ اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے جسے تم بھی کائنات کا خالق ورب تسلیم کرتے ہو اور اس نے ان میں سے کسی کے لیے بھی خداوندی اور معبودیت کی کوئی سند نہیں اتاری ہے۔ اس نے تو فرمانروائی کے سارے حقوق واختیارات اپنے ہی لیے مخصوص رکھے ہیں اور اسی کا حکم ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔پھر اپنے آباء واجداد کی ملت کے خدوخال نمایاں کیے کہ یہ ملتِ توحید ہے اور یہی دینِ حق ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی واضح کیا کہ عقیدۂ حقہ کی پیروی کی توفیق انسان کو مل جائے تو یہ اس کے حق میں نعمتِ عظمیٰ ہے اور یہ موقعہ ربِ کریم نے تمام انسانوں کے لیے فراہم کیا ہے۔مگر اکثر لوگ اللہ کی اس نعمت کا شکریہ ادا نہیں کرتے اور اللہ کی وحدانیت کے اقرار سے پھرے رہتے ہیں۔

          اس کے بعد حضرت یوسفؑ نے وہ فیصلہ کن دلیل دی ہے جس کی چوٹ سے ہمیشہ کفر وشرک کے گھروندے مسمار ہوئے ہیں اور جس نے ہمیشہ سلیم الفطرت انسانوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ وہ یہ کہ آیا بہت سارے مالک بہتر ہیں یا ایک اللہ جو تنہا سب پر قدرت رکھتا ہے۔ حضرت یوسفؑ نے ان دونوں کو ’’یاصاحبی السجن‘‘ کے پیارے خطاب سے مخاطب کیا اور یہ روشن حقیقت ان کے سامنے رکھ دی۔ یہ سوال فطرتِ انسانی سے کیا گیا ہے۔ اس کی مخاطب راستی پر قائم عقلیں ہیں جو بہ خوبی جانتی ہیں کہ انسانیت کی شقاوت کا سب سے بڑا سبب یہی ہے کہ ہر زمانے اور جگہ پر اس نے کئی خدائوں کا سہارا تھاما، اور اس کی سعادت وخوش بختی کا سرچشمہ ومنبع ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ ایک اللہ کی رسّی پکڑ لی، اورتخلیق، ربوبیت، الوہیت اور دیگر تمام صفات میں اسی کو یکتا وفردا سمجھا۔ یہی اصلاً عقیدۂ توحید ہے۔(فی ظلال القرآن:۳/۱۹۸۹)

          حضرت یوسفؑ کے اس طرزِ عمل سے مترشح ہوتا ہے کہ اقلیت کی حیثیت سے جینے والے مسلمان فرد یا جماعت کی بھی یہ بنیادی ذمے داری ہے کہ وہ جہاں رہے حقیقی اسلام کے تعارف کا ذریعہ بنے۔وہ اسلام جو دنیا کے لیے رحمت ہے، جو میانہ روی اور اعتدال کا داعی ہے۔ جو تہذیب وتمدن کی آبیاری کرتا ہے اور انسانیت کی بنیاد پر نوعِ انسانی کو مشرف ومکرم قرار دیتا ہے۔اقلیتی مسلمانوں کو اپنے قول وعمل سے اسلامی اقدار واخلاق کی ترجمانی کرنی چاہیے اور لوگوں کو اپنے کردار کی بلندی کا گرویدہ بنانا چاہیے۔ وہ ملک کی غیر مسلم اکثریت کو حکمت اور موعظتِ حسنہ کے ذریعے اسلام کے قریب لائیں، انہیں ان کے خالقِ حقیقی سے آگاہ کریں۔ وقتِ ضرورت انہیں سمجھانا پڑے اور نوبت بحث کی آجائے تو اس میں احسن طریقے کو ترجیح دیں۔ اسلام کی حقیقی دلکش تصویر لوگوں کے سامنے پیش کرنا ہر مسلمان کی ذاتی ذمے داری ہے۔

          ہر فردِ ملت پر یہ اس کی قدرت اور علم کے بہ قدر فرض ہے۔ اگر کوئی دین کی صرف ایک بات جانتا ہے تو اسے بھی دوسروں تک پہنچانا اس پر واجب ہے۔اللہ کے رسولﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ ایک آیت ہی کیوں نہ ہو، میرے طرف سے وہ بھی لوگوں تک پہنچا دو۔‘‘ [بلغوا عنی ولوآیۃ](صحیح بخاریؒ: ۳۴۶۱) قرآنِ کریم کو ہم دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں فوز وفلاح کو انہی لوگوں کے اندر محصور کیا گیا ہے جو خیر کی طرف بلاتے ہیں، بھلائیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں۔ اس حصر واستیعاب کا تقاضا ہے کہ جو فرد یا جماعت یہ کام نہ کرے وہ فوزوفلاح سے بھی محروم رہے۔ارشادِ باری ہے:{وَلْتَکُن مِّنکُمْ أُمَّۃٌ یَدْعُونَ إِلَی الْخَیْْرِ وَیَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُون}(آلِ عمران، ۱۰۴)’’تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہی رہنے چاہئیں جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائی کا حکم دیں اور برائیوں سے روکتے رہیں۔ جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے۔‘‘

          ۷-اللہ نے یہ کارخانۂ کائنات خود کار طریقے پر نہیں چلا دیا ہے کہ اس میں ایک شکل اور سائز کی چیزیں دھڑادھڑ بن کر نکل رہی ہیں۔ ہر انسان خاص رجحانات اور خاص شکل وصورت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ کسی جگہ یا طبقے یا مذہب کے لوگ مکمل طور پر خراب نہیں ہوتے اور نہ مکمل طور پر اچھے ہوتے ہیں۔ یہاں آزر کے گھر ابراہیمؑ بھی پیدا ہوتا ہے اور نوح کے گھر کافر اولاد بھی۔ غیر مسلم حضرات بھی اس قاعدے سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ ان میں بھی کچھ لوگ انصاف پسند ہوتے ہیں، ان کی فطرت میں شرافت ہوتی ہے، نیکی کی طرف فوراً لپکتے ہیں اور دنیاوی معاملات میں بڑے ایمان دار اور بات کے دھنی ثابت ہوتے ہیں۔ ان میں بہت سے ایسے خیر پسند بھی ہوتے ہیں جو انتخابات کے موقع پر نالائق ہم مذہب کے بجائے لائق مسلمان کو ووٹ دینا پسند کرتے ہیں۔ بہت سے ملکوں میں مسلمانوں کو اونچی سرکاری پوسٹوں پر بھی رکھا جاتا ہے اور حکومت کے حساس شعبوں میں مسلمانوں کی شمولیت یقینی بنائی جاتی ہے۔یقینا سارے غیر مسلم اچھے بھی نہیں ہوتے۔ ان میں کچھ فتنہ پرور اور شرپسند ہوتے ہیں جو اسلام اور مسلمانوں سے گہری نفرت کرتے ہیں، انہیں ملک کی پیشانی پر بدنما داغ خیال کرتے ہیں اور کسی بھی طرح ان کا مکمل صفایا کردینا چاہتے ہیں۔ ہمارے کہنے کا مدعا بس یہ ہے کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔ اس لیے تمام غیر مسلموں پر ایک حکم لگادینا ٹھیک نہیں۔ خود مسلم اقلیتی طبقے کے سبھی لوگ کہاں برابر ہیں ؟ ان میں بھی ہر قماش اور صنف کے اچھے برے لوگ آپ کو بہ آسانی مل جائیں گے۔ہم چاہتے ہیں کہ مسلمان اقلیتیں جہاں بھی آباد ہیں وہ ہر غیر مسلم پر اس کے خاص طرزِ عمل کی بنیاد پر کوئی حکم لگائیں اور پھر موافق یا مخالف فیصلہ صادر کریں۔ مسلمان اقلیتوں نے جہاں بھی دانش مندی اور خیر سگالی کا ثبوت دیا ہے، وہاں اہلِ وطن نے انہیں سرآنکھوں پر بٹھایا ہے۔ بہت سے اقلیتی طبقے کے لوگ پارلمانی انتخابات میں جیت کر منتخب ہوئے ہیں اور حکومت کے اہم عہدوں پر بہ طور وزیر اور منسٹر فائز رہے ہیں۔ حضرت یوسفؑ کے قصے سے ایک سبق ہمیں یہ بھی ملتا ہے۔

          سورۂ یوسف میں عزیزِ مصر کا کردار ایک بھلے اور شریف غیر مسلم سرکاری اہل کار کا کردار نظر آتا ہے جس نے حتی المقدور عدل وانصاف کرنا چاہا اور ایک غیر ملکی اجنبی غلام کے ساتھ انسانی بنیادوں پر حسنِ سلوک کیا۔ مثلاً حضرت یوسفؑ کو خرید کر وہ جس دم گھر میں داخل ہوا، اسی وقت اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ اس کو اچھی طرح رکھنا۔اکرمی مثواہ۔ پھر ایک دن جب وہ اپنے دفتر سے لوٹتا ہے تو گھر کے دروازے پر دیکھتا ہے کہ حضرت یوسفؑ اور اس کی بیوی، دونوں دوڑتے ہوئے گھر سے باہر نکل رہے ہیں۔ وہ جلد بازی اور جذباتیت سے کام نہیں لیتا۔ اس کے خاندان کا ایک شخص قرینۂ حال کی گواہی پیش کرتا ہے جس سے ثابت ہوجاتا ہے کہ جرم اور خیانت کا ارادہ زلیخا کا تھا، حضرت یوسفؑ بے گناہ ہیں۔ اس پر وہ حضرت یوسفؑ سے درخواست کرتا ہے کہ اس معاملے سے درگزر کریں اور بات کو یہیں کے یہیں دبا دیں۔ بلاوجہ بات پھیلے گی تو سب کی بدنامی ہوگی۔ پھر اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تو اپنے قصور کی معافی مانگ، تو ہی اصل مجرم ہے۔

          اس نے فی الفور بیوی کی باتوں میں آکر کوئی غلط قدم نہیں اٹھایا۔ زلیخا نے اسے ورغلانے کی کوشش بھی کی تھی اور حضرت یوسفؑ پر تہمت دھرنی چاہی تھی۔ اس نے دروازے پر اپنے شوہر کو دیکھتے ہی گرگٹ کی طرح رنگ بدلاتھا اور کہنے لگی کہ کیا سزا ہوگی اس شخص کی جو تیری گھروالی پر نیت خراب کرے؟ اس کے سوا کیا سزا ہو سکتی ہے کہ وہ قید کیا جائے یا اسے سخت عذاب دیا جائے۔مگر عزیزِ مصر نے جذباتیتاور اندھے پن کے بجائے پختہ عقلی کا ثبوت دیا اورقرینۂ حال کی گواہی کے تحت جب اس نے یوسفؑ کی قمیص کو پیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا تو بیوی کو تیز لہجے میں ڈانٹا اور اس کے مگرمچھی آنسوئوں کو اس کا سوانگ اور مکاری قرار دیا۔ قرآن کے مطابق اس نے کہا تھا کہ یہ تم عورتوں کی چالاکیاں ہیں، واقعی بڑے غضب کی ہوتی ہیں تمہاری چالیں۔ اے عورت، تو اپنے قصور کی معافی مانگ، توہی اصل خطاکار ہے۔(دیکھیں سورۂ یوسف:۲۸-۲۹)

          حق اگرچہ تلخ اور سخت ہوتا ہے، مگر سچ یہی ہے کہ جیسی ایمانی اور سماجی حالت آج کل ہم مسلمانوں کی ہوگئی ہے، ایسے میں اگر اس طرح کا واقعہ آج کسی مسلمان سربراہِ مملکت، کسی بڑے سیاست داں، کسی اونچے سرکاری اہل کار کو پیش آجائے تو وہ فی الفور اپنے نام اور شہرت کو بچانے کے لیے غریب الدیار مزدور یا غلام کی بلی چڑھادے گا۔ فی الفور اس کی گردن اتار دے گا، یا سرِ عام پھانسی پر لٹکا دے گا اور بہت ممکن ہے کہ اسے تڑپا تڑپا کر مارے۔ خود ہمارے علم میں اس طرح کے نہ جانے کتنے واقعات آتے رہتے ہیں جن پر خاموشی سے پردہ ڈال دیا جاتا ہے اور بے گناہ کو گناہ گار ثابت کرکے خاندان یا فرد کے جھوٹے نام ونمود کا تحفظ کیا جاتا ہے۔بالعموم ایسے مواقع پر بدکردار اور دنیا پرست لوگ اپنے گھروالوں کی بات کا یقین کرتے ہیں یا یقین کرلینا پسند کرتے ہیں اورکمزور پردیسی کی آہ وفغاں پر کان نہیں دھرتے۔مگر عزیزِ مصر کی عظمت کا ہمیں اعتراف کرنا چاہیے کہ اسے اپنی ناموس کا خیال نہیں آیا۔ اس نے اپنی حسین وجمیل بیوی کی بات پر دھیان نہیں دیا، بلکہ غور سے گواہ کی گواہی سنی اور اسے معقول سمجھ کر قبول کیا اور اسی پر اپنے آئندہ طرزِ عمل کی بناء رکھی۔ بیوی پر اس نے حکم لگایا کہ وہی بدچلن اور گناہ گار ہے اور اس کی کارستانی کو کیدِ عظیم کا ٹائٹل دیا۔ جب کہ یوسف علیہ السلام سے-جو کہ اس کے ایک ادنیٰ غلام تھے-معذرت کی اور نصیحت کی کہ اس معاملے کو دل پر نہ لیں، درگزر فرمائیں۔ اسے بھلا کر آگے بڑھیں۔

          حضرت یوسفؑ کی زندگی میں بھلے اور انصاف پسند غیر مسلم کا کردار ہمیں شاہِ مصر کے اندر بھی نظر آتا ہے۔ قرآنی اشارات کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ذہن کا صاف، دانش مند اور کارِ جہاں گیری وجہاں بانی میں کافی ہوشیار اورمشاق تھا۔ ذاتی مفادات واغراض پر وہ قومی مصلحت اور ملکی فائدے کو ترجیح دیتا تھا۔علم اور اہلِ علم کی اس کے دربار میں پذیرائی اور قدر افزائی ہوتی تھی۔حضرت یوسفؑ نے اس کے خواب کی تشفی بخش تعبیر بیان کر دی اور بادشاہ کے مندوب اور جیل خانے کے اپنے پرانے ساتھی کو اس کے خواب کی جملہ تفصیلات سے آگاہ کر دیا۔ اس خواب کی روشنی میں آئندہ سالوں کا واضح نقشۂ کار بھی بیان کر دیا۔ اب دیکھا جائے تو حضرت یوسفؑ سے مزید استفسار کی ضرورت نہیں تھی۔ اگر شاہِ مصر متکبر ہوتا یا ناشناسِ جوہر ہوتا تو اس پر اکتفا کرکے بیٹھ جاتا۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ اصرار کرکے حضرت یوسفؑ کو ملاقات کے لیے بلایا۔ اگر یہ بات ہمارے ترقی یافتہ متمدن دور میں پیش آئی ہوتی تو شاید خواب کی تعبیر بتادینے جیسی معمولی بات پر کسی ملک کا وزیرِ اعظم یا صدر جمہوریہ بہ ذاتِ خود تعبیر دینے والے سے ملنے کی زحمت نہ اٹھاتا۔ بہت زیادہ ہوتا تو کسی سرکاری نمائندے یا وزیر کو بھیج کر دو لفظ شکریہ اور تحسین کے کہلا دیتا۔ بلکہ بہت ممکن ہے کہ کسی غریب الدیار قیدی سے تعبیر پوچھنے کی بات کو سرے سے ہی گول کر دیا جاتا۔ قحط سالی سے بچنے کے سارے نظم وانصرام کو بادشاہ سلامت، پرائم منسٹر یا صدرِ جمہوریہ اپنی ذات سے منسوب کر لیتے اور خود سارا کریڈٹ لینا پسند فرماتے۔

          مگر ہم شاہِ مصر کو دیکھتے ہیں کہ اس نے معاملے کو پردۂ خفاء میں نہیں رکھا، بلکہ درست تعبیر کے ذریعے ملک اور قوم کو تباہی سے بچانے کا سہرا اس نے ایک اجنبی غلام کے سر باندھنا پسند کیا حالانکہ وہ غلام اس وقت جیل کی کال کوٹھری میں بند تھا۔آج نہ جانے کتنے عظیم الشان آئیڈیاز اور اسکیمیں ہیں جو وزیرِ بے تدبیر کسی مشیر کی رہنمائی میں سمجھ اور جان پاتے ہیں مگر پبلک میں انہیں اپنی اختراعی صلاحیتوں کا شاہکار بناکر پیش کرتے ہیں۔ وزیروں اور سیاسی رہنمائوں کو جانے دیجئے، نہ جانے کتنے جبہ ودستار والے مشائخ اور علماء ہیں جو دوسروں سے کتابیں اور مقالے لکھاتے ہیں اور انہیں اپنے نام سے چھاپتے اور بانٹتے ہیں۔ کیا سورۂ یوسف میں بادشاہِ مصر کا کردار ہمارے سماج کے نفاق کے مقابلے میں بہت اعلیٰ وارفع دکھائی نہیں دیتا؟

          شاہِ مصر کی عظمت کا نقش مزید اس بات سے قائم ہوتا ہے کہ جب حضرت یوسفؑ نے سرکاری بلاوے پر صاف صاف ملنے سے انکار کر دیا اور شرط رکھی کہ پہلے ان عورتوں کے معاملے کی غیر جانبدارانہ اور منصفانہ تحقیق وتفتیش کی جائے جن کی وجہ سے انہیں قید وبند کی صعوبتیں جھیلنا پڑی ہیں۔ حضرت یوسفؑ کے اس پختہ اصولی موقف کے مقابلے میں بادشاہ کو سبکی محسوس نہیں ہوئی۔ وہ ناراض نہیں ہوا۔بلکہ اس نے ان کی درخواست قبول کی اور بہ ذاتِ خود ان کے کیس کی فائل کھلواکر تحقیق وتفتیش کی اور جلد ہی اس کے سامنے حضرت یوسفؑ کی بے گناہی اور عظمت چڑھتے سورج کی طرح بے غبار ہوگئی۔چنانچہ اس کے بعد حضرت یوسفؑ کو بلایا گیا تو وہ تشریف لائے۔ اس بادشاہ نے خواہش ظاہر کی کہ حضرت یوسفؑ اس کے مشیرِ خاص بن جائیں۔

          سرکاری صلاح کار کا منصب بھی کوئی معمولی نہیں ہوتا۔ بادشاہ نے درباریوں سے کہا کہ انہیں پورے اعزاز سے میرے پاس لائو تاکہ میں ان کو اپنے لیے مخصوص کر لوں۔ ائتونی أستخلصہ لنفسی۔ مگر جب براہِ راست گفت وشنید کا موقع ملا تو اسے پتہ چلا کہ حضرت یوسفؑ کے اندر نئے آئیڈیاز تراشنے، پرانی اسکیموں کا باریک بینی سے جائزہ لینے اور نئے منصوبوں کو بہ حسن وخوبی روبہ عمل لانے کی غیر معمولی صلاحیت موجود ہے۔ چنانچہ اس کی نگاہ میں حضرت یوسفؑ کی قدر ومنزلت کئی گنا بڑھ گئی۔ اس نے کہا اب آپ ہمارے ہاں بڑی عزت ورسوخ رکھتے ہیں اور آپ کی امانت پر ہمیں پورا بھروسا ہے۔ إنک الیوم لدینا مکین امین۔یعنی اب آپ کو یہ اختیار ہے کہ جس اعلیٰ حکومتی منصب پر آپ چاہیں متمکن ہوجائیں اور زیرِ التواء منصوبوں اور اسکیموں کو روبہ کار لائیں۔ آپ کے پاس اعلیٰ علمی وعقلی صلاحیت بھی ہے اور امانت ودیانت کا ثبوت ہم عزیزِ مصر کی بیوی کے واقعے کی روشنی میں دیکھ چکے ہیں۔

          اس قدر اعتماد اور اعتبار کی باتیں سن کر حضرت یوسفؑ نے اپنے لیے وہ سرکاری منصب تجویز کیا جس کے تعلق سے ان کا خیال تھا کہ اس کے ذریعے وہ ملک اور قوم کی خدمت زیادہ بہتر انداز میں کر سکیں گے اور اپنی اچھی کارکردگی کی بہ دولت زیادہ بڑی تعداد میں عوام وخواص کو دینِ ابراہیمی کی عظمت وبرکت کا قائل کر پائیں گے۔چنانچہ فرمایا کہ ملک کے خزانوں کا نظم وانصرام میرے سپرد کر دیجیے۔ میں حفاظت بھی کروں گا اور علم بھی رکھتا ہوں۔ اجعلنی علی خزائن الارض إنی حفیظ علیم۔ حقیقتاً یہ منصب جدید دور کی اصطلاح میں چار وزارتوں کا مجموعہ تھا۔ اس کے دائرے میں وزارتِ مالیات، وزارتِ زراعت وباغبانی، وزارتِ تجارت وکاروبار اور وزارتِ تغذیہ اور سماجی بہبود آتی ہیں۔ بادشاہ نے یہ منصب تفویض کر دیااور ان شعبوں میں ان کی کارکردگی سے متاثر ہوکر جلد ہی وزارتِ داخلہ یا عزیزِ مصر کا منصب بھی ان کے حوالے کر دیا۔اب ملک میں ان کی حیثیت بادشاہ کے نائب یا وزیرِ اعظم کی ہوگئی جس کے ہاتھ میں مکمل طور سے قوتِ نافذہ ہوتی ہے۔ دستوری لحاظ سے شاہِ مصر پھر بھی علی حالہ مصر کی بادشاہی کے منصب پر باقی رہا۔

          ایک اور پہلو سے بھی غور کیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآنِ کریم میں بادشاہ کے خواب کا تذکرہ کیا ہے جو ایک سچا خواب تھا۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ بادشاہ غیر مسلم تھا، مگر اس کا خواب قرآن کی روشنی میں سچا ثابت ہوا۔ اس سے یہ دلیل نکلتی ہے کہ بسااوقات کافر اور مشرک کی زندگی میں بھی ایسی اخلاقی پاکیزگی اور ذہنی شفافیت اور روحانی بالیدگی پیدا ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے وہ سچے خوابوں کو دیکھنے کے قابل ہوجاتا ہے۔

          ۸-یہ قرآنی قصہ پوری وضاحت کے ساتھ بتارہا ہے کہ کسی بھی ملک کی مسلمان اقلیت اس وقت تک وہاں کی غیر مسلم اکثریت کے دل میں جگہ نہیں بنا سکتی اور مادی ترقی کرکے ملک کے اعلیٰ عہدوں اور منصبوں تک نہیں پہنچ سکتی جب تک کہ وہ علم کے جوہر سے آراستہ نہ ہو اور سماج کی فلاح وبہبود کے لیے اس کی خدمات ناقابلِ انکار حد تک نمایاں نہ ہوجائیں اور انفرادی واجتماعی ہر سطح پر وہ اعلیٰ اخلاق وسلوکیات کا مظاہرہ نہ کرنے لگے۔حضرت یوسف علیہ السلام نے یہی کیا تھا۔ آج بھی جن ممالک میں مسلمان اقلیتیں خوش حال اور فارغ البال ہیں اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ان اقلیتوں نے علمی اور معاشی سطح پر خود کو مضبوط کیاہے، ذرائعِ ابلاغ سے اپنا تعمیری کردار منوایا اور اپنی صفوں میں اتحاد واتفاق باقی رکھتے ہوئے حسنِ عمل اور تنظیم وتخطیط کا ثبوت دیاہے۔

          ۹-مسلمان اقلیت کو ازروئے دین یہ حق حاصل ہے کہ وہ اعلیٰ سرکاری مناصب اور وزارتوں کو پر متمکن ہو جیسا کہ ہم پیچھے بھی بتا چکے ہیں۔ اس پر فرض نہ سہی، مگر اس کا یہ حق ضرور ہے کہ وہ اعلیٰ سرکاری عہدوں اور منصبوں کو پانے کے لیے کوشش کرے، ٹھیک اسی طرح جیسے حضرت یوسفؑ نے کوشش کرکے خزائنِ ارض جیسا حساس اور مؤثرمنصب حاصل کیا تھا۔ سرکاری مناصب کی طرح یہ امر بھی ہے کہ مسلم اقلیتیں ملک کی سیاسی پارٹیوں میں شامل ہوں یا علاحدہ اپنی سیاسی پارٹی یا پارٹیاں بنائیں۔ شرط بس اتنی ہے کہ ان کی اس سعی وجہد کا مقصد اقلیتی مصالح کا تحفظ اور ملت سے خرابی دور کرنا اور مضرتوں کا ازالہ کرنا ہو۔ ذاتی اغراض ومفادات کی خاطر یہ نہ کیا جائے۔

          ۱۰-مسلمان جہاں کہیں رہے وہ زندگی، زندہ دلی اور امن وآشتی کا نقیب ہوتا ہے۔ تباہی اور موت اور بربادی اس کی ذات کا خاصہ ہرگز نہیں ہواکرتی۔سورۂ یوسف کی روشنی میں ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ کے ایک جلیل القدر پیغمبر نے اپنے ملک اور قوم کی بڑی مفید خدمت کی اور ایک طرح سے انہیں موت کے منھ میں جانے سے بچایا اور قحط کی تباہ کاریوں سے نجات دی۔انہوں نے نہایت معقول اور علمی تدابیر اختیار کرکے ملک کی فلاح وبہبود کے لیے کوشش کی۔ بلکہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ انہوں نے وحی والہام اور نبوت ورسالت کی برکتوں میں انہیں شریک کرتے ہوئے حتمی تباہی وبربادی سے بچا لیا۔ یقینا یہ اللہ کا ان پر اور اہلِ مصر پر بڑا انعام تھا۔

          مسلمان اقلیت کے اوپر وطن کے ساتھ خیر خواہی کی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔انہیں اپنے وطن کو بچانے اور ترقی اور تعمیر کے راستے پر آگے بڑھانے کے لیے استطاعت بھر خدمات انجام دینی چاہئیں۔ جو علمی وسائنسی خدمت بن پڑے کرنی چاہیے۔نئے نئے خطوط پر عوامی فلاح وبہبود کے آئیڈیاز سوچنے چاہئیں۔ حضرت یوسفؑ نے یہی کیا تھا۔انہوں نے مصر اور اطراف ونواح کے علاقوں کو شدید قحط کے خطرے سے بچایا۔ آنے والا قحط اتنا شدید اور تباہ کن تھا کہ اگر اس کی پیشگی تیاری نہ کر لی گئی ہوتی تو شاید ملک کی بڑی آبادی لقمۂ اجل بن جاتی اور بستیاں سنسان اور ویران ہوجاتیں۔ مگر یوسفؑ نے وسیع معلومات، اختراعی صلاحیت اور نظم وانصرام کے بل پر قحط کا رخ پھیر دیا اور پورے ملک کو موت کے منھ سے بچانے کا کارنامہ انجام دے دیا۔

          ۱۱-کسی دوسرے ملک میں جاکر بس جانے اور وہاں کی شہریت لے لینے کے باوجود انسان کو ہمیشہ اپنے وطنِ اصلی کی یاد آتی ہے۔ یہ ایک فطری جذبہ ہے اور اسلام نے اسے تسلیم کیا ہے۔ سورۂ یوسف سے سبق ملتا ہے کہ انسان کو پردیس میں جاکر اپنے لوگوں اور اپنے شہر کو نہیں بھولنا چاہیے۔ جس حد تک ممکن ہو سکے اپنی قوم اور علاقے کی محبت کا جذبہ دل میں باقی رکھے جائے اور ان کی بھلائی اور ترقی کے لیے جو کچھ خدمت بن پڑ سکتی ہے ضرور کی جائے۔حضرت یوسفؑ نے یہی کیا۔ انہوں نے مصر میں متوطن ہونے کے باوجود گھروالوں کو یاد رکھا۔ بھائیوں کی مدد کی، نوازشیں کیں اور رسد وخوراک کا ڈھیر سارا سامان دیا۔ بعد ازاں اپنے بھائیوں اور والدین کو پورے اعزاز کے ساتھ مصر بلا لیا جہاں انہوں نے زندگی کے باقی ماندہ ایام امن وامان کے ساتھ گزارے۔’’پھر جب یہ لوگ یوسفؑ کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو اپنے ساتھ بٹھا لیا اور (کنبے والوں سے) کہا: چلو، اب شہر میں چلو، اللہ نے چاہا تو امن چین سے رہو گے۔‘‘

          ۱۲-سورۂ یوسف میں کہیں نہیں ملتا کہ حضرت یوسفؑ نے بادشاہ کے دربار میں یا مصری عوام کے سامنے کبھی ان مصائب ومشکلات کا تذکرہ کیا ہو جو ملکِ مصر آنے کے بعد انہیں پیش آئے تھے۔انہوں نے کنعان میں اپنے گھریلو حالات کا رونا بھی کبھی کسی کے آگے نہیں رویا۔ اس سے نہ عزیزِ مصر کا استثناء ہے، نہ زنداں کے ساتھیوں کا اور نہ شاہِ مصر کا۔اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ اپنے آبائی وطن کنعان سے وہ مسائل کا رونا دھونا لے جانے کے بجائے دعوت الی اللہ کی فکر لے گئے۔ چنانچہ جہاں انہیں موقع ملا انہوں نے اپنے آباء واجداد کے عقیدۂ توحید اور اسلامی اخلاق کا تذکرہ، نیز رب کے تئیں ان کی شکرگزاری کے رویے کا تذکرہ بڑے مؤثر انداز میں کیا۔ انہوں نے مصر کے لوگوں کو اپنے آبائی وطن کی سوغات کے طور پر توحید کا پیغام اور آخرت کی فکر دی۔ان کے ہاتھوں میں معاشی اور سماجی مسائل اور مشکلات کی فہرست نہیں تھمائی۔ کسی بھی غیر اسلامی ملک میں آباد مسلمانوں کی بھی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اس ملک میں اپنے آبائی وطن کا ذکرِ خیر ہی کریں۔ ان کے سابق وطن کے اندر اگر کچھ تعمیری اور ایجابی پہلو ملتے ہیں تو انہیں سراہیں۔ پردیس میں اپنے اصل ملکوں کی برائی اور تحقیر کرکے وہ یہ نہ سمجھیں کہ مقامی لوگ ان کی عزت کریں گے۔ کسی کے سامنے اپنے باپ کو گالی دینے والا سب سے پہلے اس کی نظر سے گرجاتا ہے۔ یہی انسانی فطرت ہے۔مغربی اور خلیجی ممالک میں جانے اور وہاں مستقل آباد ہوجانے والوں کو اپنے ساتھ اپنے ملک اورملت کے مسائل کا پلندہ نہیں لے جانا چاہیے۔ مسلمان مثبت ذہنیت کا حامل ہوتا ہے اور اس کی ہر حرکت وعمل سے تعمیری رجحان مترشح ہوتا ہے۔

          ۱۳-چار برتن کسی ایک جگہ رکھ دیے جائیں تو ان میں بھی ٹکرائو اور شور پیدا ہواکرتا ہے۔یہی مثال انسانوں کے باہمی رہن سہن کی بھی ہے۔انسان جہاں رہتا ہے وہاں اسے اچھے لوگ بھی ملتے ہیں اور برے لوگوں سے بھی واسطہ پڑجاتا ہے۔ غیر مسلم ملکوں میں جاکر آباد ہونے والے مسلمانوں کے اندر ایک بڑی خراب عادت جو عموماً دیکھنے کو ملتی ہے وہ یہ ہے کہ کل تک وہ جس ملک اور معاشرے میں زندگی گزار رہے تھے، آج دن رات ان کی گفتگوئوں میں اس کے خلاف زہر افشانی ہوتی ہے اور اس میں کیڑے نکالے جاتے ہیں۔ یقینا جن ملکوں سے نکل کر وہ گئے ہیں وہاں ان کے ساتھ برا ہوا تھا، مگر اب یہ ان کی ذمے داری بنتی ہے کہ ماضی کی تلخ یادیں بھول کر اور منتقمانہ ذہنیت اور مزاج کے اذیت ناک دائرے سے نکل کر زندگی بسر کریں۔

          کسی دوسرے ملک جاکر رہنے والے مسلمان کو اپنے ملک کی تکلیفیں اور بدتمیزیاں بھلا دینی چاہئیں، یہ چاہے وہاں کے عام لوگوں نے اس کے ساتھ کی ہوں یا حکمراں طبقے اور سرکاری اہل کاروں نے کی ہوں۔ اب اللہ نے اسے ان خرابیوں اور مصیبتوں سے نجات دے دی ہے اور اس کا ایک دوسرا وطن ہوگیا ہے جہاں وہ پورے سکون واطمینان کے ساتھ جی رہا ہے۔اس نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ انتقام اور بدلے کی نفسیات خود انسان کے لیے بھی مضر ہے۔ اگر وہ اپنے ملک کی اصلاح اور ترقی میں کچھ مدد کر سکتا ہے تو ضرور کرے، مگر اپنے وطن کی سلبی یادیں اور تلخ تجربات ذہن سے کھرچ کر پھینک دے۔ اب اس کا وطن بدل گیا ہے، اس لیے اسے بھی اپنے آپ کوبدل کر بہتر بنانا چاہیے۔اس سلسلے میں حضرت یوسفؑ کا اسوہ ہمارے سامنے ہے۔ انہیں ان کے وطن میں بھائیوں نے دن رات زک پہنچائی تھی، قتل کی سازش کی تھی اور اندھے کنویں میں لے جاکر پھینکا تھا جہاں سے انہیں ایک قافلے نے نکال کر غلام بنا لیا اور مصر کے بازار میں فروخت کر دیا۔ مصر میں جن مصائب سے انہیں دوچار ہونا پڑا اس کا بالواسطہ سبب ان کے بھائی تھے۔ ان مصائب میں کئی بار ان کی عزتِ نفس مجروح ہوئی، دامنِ عفت پر تہمت بھی لگی اور ان کی شرافت ودیانت کو لے کر انگلیاں اٹھائی گئیں۔ پھر بھائیوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا تھا۔انہوں نے حضرت یوسفؑ کے بعد ان کے چھوٹے بھائی بنیامین کو بھی طرح طرح سے پریشان کیا۔ دل کی نفرت اور کینہ اور حسد کا زہر دہائیوں کے بعد بھی ان کی نس نس میں جما ہوا تھا جس کی دلیل یہ ہے کہ جس وقت بادشاہ کا پیالہ حضرت یوسفؑ کے برادرِ خورد بنیامین کے سامان سے نکلا، تو سالوں سے ان بھائیوں کے لاشعور میں بیٹھی نفرت اور رقابت کا زہر زبان پر آگیا اور سرِ عام انہوں نے حضرت یوسفؑ کو چور کہہ دیا۔بھائیوں نے کہاتھا: ’’یہ چوری کرے تو کچھ تعجب کی بات نہیں، اس سے پہلے اس کا بھائی (یوسفؑ) بھی چوری کر چکا ہے۔مگر حضرت یوسفؑ ان کی یہ بات سن کر پی گئے، حقیقت ان پر نہ کھولی۔ بس زیرِ لب اتنا کہہ کر رہ گئے کہ بڑے ہی برے ہو تم لوگ۔ میرے منھ در منھ مجھ پر جو جھوٹا الزام تم لگارہے ہو اس کی حقیقت اللہ خوب جانتا ہے۔‘‘

           برادرانِ یوسف کی زبانوں پر اس جھوٹ کاآنا اگر دلیل کسی بات کی ہے تو اس کی کہ ابھی تک ان کے دلوں میں حضرت یوسفؑ کی طرف سے میل تھا۔ اتنے سال گزرجانے کے بعد بھی حضرت یوسفؑ سے ان کا حسد، کراہیت اور رقابت کا جذبہ سرد نہیں ہوپایا تھا۔مگر ان سب شرور وآفات اور ان شرپسندوں کے مقابلے میں حضرت یوسفؑ نے کیا رویہ اختیار کیا۔حضرت یوسفؑ نے جیسے کو تیسا کی پالیسی اختیار نہیں کی، حالانکہ اگر وہ ایسا کرتے تو بالکل حق بہ جانب ہوتے۔ غور کیجئے ان کے زیرِ لب بدبدائے ہوئے جواب پر۔ اس میں بھی وہ اپنے بھائیوں کو شیطان اور ابلیس اور اشرار وفجار نہیں کہتے۔ان کے الفاظ ہیں :بل أنتم شر مکانا۔جس کا لفظی ترجمہ ہوگا کہ مقام ومرتبے کے لحاظ سے تم لوگ برے ہو۔یہاں وہ چاہتے تو شر کی نسبت ان کے قول وفعل اور دیگر چیزوں کی طرف کر سکتے تھے، مگر اس کے بجائے انہوں نے مقام اور جگہ کی طرف اس کی نسبت کی جس سے بات بہت ہلکی ہوجاتی ہے۔ علاوہ ازیں وہ حاکمِ وقت تھے اور چاہتے تو فی الفور مطالبہ کر سکتے تھے کہ ابھی تم نے یوسفؑ کے بارے میں چوری کی جو بات کہی ہے اسے ثابت کرو، ورنہ جھوٹی تہمت لگانے کی سزا کے لیے تیار ہوجائو۔ حضرت یوسفؑ نے کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی اور سارا معاملہ اللہ کے اوپر چھوڑ دیا۔فرمایا:’’جو کچھ تم الزام لگاتے ہو اس کی حقیقت سے اللہ خوب واقف ہے۔‘‘ واللّٰہ أعلم بما تصفون۔

          بعد میں جب حقائق بے نقاب ہوگئے اور بدلیاں چھنٹ گئیں اور اندھے کو بھی دکھائی دینے لگا کہ برادرانِ یوسف سخت پشیمان ہیں اور ندامت کا احساس ان پر غالب ہے، اس وقت حضرت یوسفؑ نے نفسیاتی اور عملی ہر دو سطح پر ان کے ساتھ نہایت درجہ اعزاز واکرام کا معاملہ کیا۔ ایک لفظ بھی زجر وتوبیخ کا زبان سے نہیں نکالا۔سزا دینے اور انتقام کی دھمکی تو سرے سے دی ہی نہیں گئی۔قرآن کے الفاظ پھر قرآن کے الفاظ ہیں، انہی کو دیکھیے:{قَالَ ہَلْ عَلِمْتُم مَّا فَعَلْتُم بِیُوسُفَ وَأَخِیْہِ إِذْ أَنتُمْ جَاہِلُون٭قَالُواْ أَإِنَّکَ لَأَنتَ یُوسُفُ قَالَ أَنَاْ یُوسُفُ وَہَـذَا أَخِیْ قَدْ مَنَّ اللّہُ عَلَیْْنَا إِنَّہُ مَن یَتَّقِ وَیِصْبِرْ فَإِنَّ اللّہَ لاَ یُضِیْعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِیْن ٭قَالُواْ تَاللّہِ لَقَدْ آثَرَکَ اللّہُ عَلَیْْنَا وَإِن کُنَّا لَخَاطِئِیْن٭قَالَ لاَ تَثْرَیْبَ عَلَیْْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اللّہُ لَکُمْ وَہُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِیْن٭اذْہَبُواْ بِقَمِیْصِیْ ہَـذَا فَأَلْقُوہُ عَلَی وَجْہِ أَبِیْ یَأْتِ بَصِیْراً وَأْتُونِیْ بِأَہْلِکُمْ أَجْمَعِیْنَ}(یوسف، ۸۹-۹۳)’’اس نے کہا: تمہیں کچھ یہ بھی معلوم ہے کہ تم نے یوسفؑ اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا جب کہ تم نادان تھے۔‘‘ وہ چونک کر بولے:ہائیں، کیا تم یوسفؑ ہو؟ اس نے کہا: ہاں، میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر احسان فرمایا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی تقویٰ اور صبر سے کام لے تو اللہ کے ہاں ایسے نیک لوگوں کا اجر مارا نہیں جاتا۔ انہوں نے کہا: بہ خدا تم کو اللہ نے ہم پر فضیلت بخشی اور واقعی ہم خطاکار تھے۔ اس نے جواب دیا: آج تم پر کوئی گرفت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔ جائو میری یہ قمیص لے جائو اور میرے والد کے منھ پر ڈال دو، ان کی بینائی پلٹ آئے گی اور اپنے سب اہل وعیال کو میرے پاس لے آئو۔‘‘

          ان آیات پر غو رکرنے سے چند باتیں سمجھ میں آتی ہیں۔

          -نمبر ایک حضرت یوسفؑ نے بھائیوں کے ماضی کی سیاہ کاریوں کا ذکر کرتے ہوئے ساتھ ہی ساتھ  اس کی یہ علت بھی ذکر کر دی کہ اس زمانے میں تم لوگ جاہل اور نادان تھے۔ یعنی جو کچھ تم لوگوں نے کیا وہ جان بوجھ کر اور بری نیت کے ساتھ نہیں کیا تھا۔ بس نادانی اور طیش کی ایک ہیجانی کیفیت تھی جس میں یہ غلط افعال تم سے سرزد ہوتے چلے گئے۔’’تمہیں کچھ یہ بھی معلوم ہے کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا جب کہ تم نادان تھے۔‘‘

          -نمبر دو انہوں نے اس موقعے پر اللہ کے الطاف وعنایات کے ذکر سے گفتگو کا آغاز کیا۔ چنداں ذکر ان مصائب ومشکلات کا نہیں کیا جو راہِ حق میں انہیں پیش آئے تھے۔ ’’ انہوں نے کہا: میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر احسان فرمایا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی تقویٰ اور صبر سے کام لے تو اللہ کے ہاں ایسے نیک لوگوں کا اجر مارا نہیں جاتا۔‘‘ حضرت یوسفؑ کے اس اندازِ گفتار میں بھائیوں کے لیے نفسیاتی طور پر تسلی کا بڑا سامان ہے۔ انہیں گویا احساس دلایا جارہا ہے کہ تم نے جو کچھ میرے ساتھ کیا اس لحاظ سے ٹھیک ہے کہ اس کے نتیجے میں مجھے اور میرے گھروالوں کو خیرِ کثیر حاصل ہوئی اور ارضِ مصر میں غلبے اور تمکین کی راہ ہموار ہوئی۔

          -نمبر تین بھائیوں نے اعترافِ تقصیر کیا کہ واقعی ہم خطاکار تھے تو حضرت یوسفؑ نے جواب دیا کہ آج تم پر کوئی گرفت نہیں ہے۔لاتثریب علیکم الیوم۔ یعنی میری طرف سے تمہارے حق میں نہ ملامت کے کلمات نکلیں گے اور نہ عتاب کا رویہ ظاہر ہوگا۔ گویا بین السطور میں بھائیوں سے کہاگیا ہے کہ معافی تلافی کا مسئلہ کوئی اہم مسئلہ نہیں ہے۔ تم اپنے بھائی کے ساتھ ہو۔ یہ موقع گلے لگ جانے کا ہے، نہ کہ چھوٹی موٹی غلطیوں کو بڑا تصور کرکے ان کی معافی طلب کرنے کا۔اس اندازِ بیان میں بھی برادرانِ یوسف کے لیے نفسیاتی طور سے دل دہی اور دل آسائی کا پہلو ناقابلِ اخفاء ہے۔گویا کہا جارہا ہے کہ یہ موقع ملامت اور عتاب کا نہیں ہے، جشن اور خوشی کا ہے۔

          -نمبر چارحضرت یوسفؑ اس کے بعد بھائیوں کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں کہ اللہ تمہیں معاف کرے وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔اس طرح سے بھی گویا انہیں احساس دلایا جارہا ہے کہ مجھے کو تم سے محبت ہے اور میں تمہارا بدخواہ نہیں، خیر خواہ ہوں۔ تم نے جو کیا اس کا علم اللہ کو ہے، میری طرف سے تمہیں معافی ہے اور اللہ سے بھی میں تمہاری مغفرت کا خواستگار ہوں اور چونکہ اللہ ارحم الراحمین ہے، اس لیے قوی امید ہے کہ وہ بھی معاف فرمادے گا۔

          -نمبر پانچ، اللہ کی صفت ارحم الراحمین کا تذکرہ کرکے حضرت یوسفؑ نے گویا اشارہ کر دیا کہ مجھ ایسے محدود قوتِ تحمل رکھنے والے انسان نے جب تمہیں معاف کرنے کاحوصلہ کر لیا ہے اور تمہاری غلطی نظرانداز کر دی ہے تو اللہ رب العزت کی رحمت کا کیا پوچھنا۔ وہ تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔ وہ بھی یقینا تمہیں معاف فرمادے گا۔

          ۱۴-گھروالے کنعان سے مصر آئے تو شاہی محل میں داخل ہونے کے بعد والدین اور بھائیوں نے سجدہ کیا۔ اس موقع پر حضرت یوسفؑ نے جو فرمایا وہ قرآن کے الفاظ میں یہ ہے:{یَا أَبَتِ ہَـذَا تَأْوِیْلُ رُؤْیَایَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَہَا رَبِّیْ حَقّاً وَقَدْ أَحْسَنَ بَیْ إِذْ أَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَجَاء  بِکُم مِّنَ الْبَدْوِ مِن بَعْدِ أَن نَّزغَ الشَّیْْطَانُ بَیْْنِیْ وَبَیْْنَ إِخْوَتِیْ إِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَاء ُ إِنَّہُ ہُوَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ} (یوسف، ۱۰۰) ’’ابا جان، یہ تعبیر ہے میرے اس خواب کی جو میں نے پہلے دیکھا تھا، میرے رب نے اسے حقیقت بنا دیا۔ اس کا احسان ہے کہ اس نے مجھے قید خانے سے نکالا، اور آپ لوگوں کو صحراء سے لاکر مجھ سے ملایا حالانکہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال چکا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ میرا رب غیر محسوس تدبیروں سے اپنی مشیت پوری کرتا ہے، بے شک وہ علیم اور حکیم ہے۔‘‘

          ان کے اِن الفاظ میں بھی بھائیوں کے دلوں کو ڈھارس بندھانے کے کئی پہلو نکلتے ہیں، بلکہ ان میں ایسے اشارے ہیں کہ جو کچھ ہوا وہی اچھا تھا، اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ یہاں اس بیان کے چند درخشاں پہلو اختصار کے ساتھ درج کیے جاتے ہیں :

          أ-پہلی بات یہ قابلِ لحاظ ہے کہ حضرت یوسف نے گفتگو کا مرکزی نقطہ حسنِ خاتمہ کو بنایا۔ گویا کہنے کا مقصد یہ تھا کہ چونکہ خاتمہ بالخیر ہوا، آخر میں خاندان کا شیرازہ متحد ہوگیا، سب جڑ گئے، سب کو برکت اور سعادت کا وافر حصہ مل گیا، یہی سب سے بڑی بات ہے۔ پہلے جو کچھ ہوا، وہ اتنا اہم نہیں کہ اس کا بار بار تذکرہ کیا جائے۔اس بیان میں دور دور تک اشارہ ان مصائب اور تکالیف کی طرف نہیں ہے جو حضرت یوسفؑ کو یہاں تک پہنچنے میں لاحق ہوئے تھے۔

          ب-حضرت یوسفؑ نے ہر حادثے اور واقعے کو اللہ کی طرف منسوب کیا۔ گفتگو کا افتتاح اس طرح فرمایا کہ یہ اسی خواب کی تعبیر ہے جو میں نے بچپن میں دیکھا تھا اور جسے میرے رب نے سچ کر دکھایا ہے۔یہ گویا اشارہ اس طرف ہے کہ جو کچھ ہوا وہ اللہ کی گہری تدبیر اور طے شدہ اسکیم تھی اور اس طرح وہ مجھے اِس مقام تک لانا چاہتا تھا جس پر آج میں ہوں۔

          ج-اس بیان میں حضرت یوسفؑ نے اچھے نتائج اور اللہ کی نعمتوں اور احسانات ہی کا تذکرہ کیا ہے۔فرمایا:’’میرے رب کا یہ احسان ہے کہ اس نے مجھے قید خانے سے نکالا اور آپ لوگوں کو صحراء سے لاکر مجھ سے ملایا۔‘‘اس جگہ بھی انہوں نے ماضی کے المناک واقعات اور دلخراش حادثوں کو یاد نہیں کیا۔ قید وبند، ظلم وستم، ابتلاء وآزمائش وغیرہ کے بارے میں ایک حرف زبان سے نہیں نکالا۔نعمتوں کے تذکرے کا آغاز ہی اس بڑی نعمت سے کرتے ہیں کہ اللہ نے مجھے قید خانے سے نکال دیا اور ملک میں اقتدار اور رسوخ بخش دیا۔

          د-بھائیوں کے ہاتھوں جو بھی غلط حرکات سرزد ہوئیں، اس کی نسبت شیطان کی طرف کی۔ ہلکا سا اشارہ بھی اس طرف نہیں ہوا کہ وہ کیا جرائم وقبائح تھے جو بھائیوں نے انجام دیے تھے۔ چنانچہ فرمایا کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال دیا تھا، مگر اللہ نے اس کے باوجود یہ اور یہ احسان فرمایا۔قابلِ غور بات ہے کہ شیطان کے زیرِ اثرآنے اور فساد ڈالنے کا جہاں تذکرہ ہے، وہاں بھائیوں سے پہلے اپنا ذکر کیاہے، حالانکہ حضرت یوسفؑ اس وقت کم عمر اور معصوم تھے، جو کچھ ہوا اس میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔تاہم خود کو شامل کرکے وہ بھائیوں کو احساس دلانا چاہتے ہیں کہ میں بھی تمہارے ساتھ شریک ہوں اور شیطان نے جس طرح تم پر غلبہ پایا تھا، اسی طرح وہ مجھ پر بھی پاسکتا تھا۔پھر اس جگہ انہوں نے ابنائے یعقوب کے لیے ’’اخوتی‘‘ یعنی میرے بھائیوں کا لفظ استعمال کیا۔ یہ بتانے کے لیے کہ واقعی میں تمہیں اپنا بھائی سمجھتا ہوں اور تمہارے تئیں میرے دل میں محبت اور ہمدردی کے سچے جذبات ہیں۔

          قرآن کا بیان کردہ یہ وہ کامل اور عظیم اسوہ اور نمونہ ہے جو دنیا بھر میں پھیلی مسلم اقلیتوں کے لیے ہمیشہ ایک منارۂ نور اور مشعلِ راہ بنارہے گا۔قرآن کا پیش کردہ یہ رول ماڈل اقلیتی مسلمانوں کو دعوت دیتا رہے گا کہ وہ جس وطن میں آباد ہیں وہاں ویسا ہی طرزِ عمل اختیار کریں جیسا حضرت یوسفؑ نے کیا تھا، اور جس ملک کے نظام اور عوام سے دق ہوکر انہوں نے ہجرت کی اور غیر اسلامی ملک کو قیام گاہ بنایا، اس کے ساتھ بھی وہی مثبت رویہ اختیار کریں جو حضرت یوسفؑ نے اپنے موطنِ اصلی میں آباد اپنے بھائیوں اور والدین کے تئیں اپنایا تھا۔

          میں قسم کھاکر کہہ سکتا ہوں کہ اگر دنیا کی مسلمان اقلیتیں حضرت یوسفؑ کے اسوے کو اپنا لیں تو زیادہ دن نہ گزریں گے کہ دنیا کے بیشتر ممالک دار الاسلام بن جائیں گے۔ شرق ایشیا کی قومیں اور آبادیاں صرف مسلمان تاجروں کے اخلاق اور کردار سے متاثر ہوکر ان کے دین میں داخل ہوگئی تھیں۔ ان مسلم ملکوں کے اندر کوئی ایک فاتح مجاہد نہیں گیاتھا۔ اخلاق کی تلوار نے یہاں مقامی آبادیوں کے دل جیتے ہیں۔ ان ملکوں میں آباد مسلمانوں کی تعداد فی الوقت چالیس کروڑ سے بھی متجاوز ہے۔ حتی کہ وہ ممالک جنہیں غازیانِ اسلام نے فتح کیا تھا، وہاں کے باشندوں کو بھی کبھی اسلام لانے پر مجبور نہیں کیا گیا۔اسلامی فتوحات اور جنگی پیش قدمیوں کا واحد مقصد یہ تھا کہ ان ملکوں کی زمامِ اقتدار ان طاغوتوں اور جابروں سے چھین لی جائے جو عقیدے وعمل کی آزادی پر سانپ بنے بیٹھے ہیں۔ چنانچہ جیسے ہی یہ رکاوٹ دور ہوئی مصر، شام، عراق اور فارس وغیرہ ممالک کے لوگ پورے شرحِ صدر اور اطمینانِ قلب کے ساتھ دائرۂ اسلام میں داخل ہو گئے۔ ایمان لانا اور نہ لانا، دل کی دنیا میں انقلاب اور تبدیلی پر منحصر ہے۔ اس میں جبر سے کام لیا ہی نہیں جاسکتا۔ علاوہ ازیں قبولِ اسلام پر جبر واکراہ کی دین میں کوئی گنجائش بھی نہیں ہے۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button