Sliderسیرت رسولؐ

اللہ کے رسول صلعم کا مشن اور ہم

عظیم اللہ خان.

عمرکھیڑ
ایک نام مصطفیٌٰ ہے جو بڑھ کر گھٹا نہیں،
ورنہ ہر ایک عروج میں پنہاں زوال ہے.
اس وقت ہم ربیع الاول کے مہینے سے گزر رہے ہیں، یہ وہ مہینہ ہے جس میں ہمارے آقا حضرت محمدٌ دنیا میں تشریف لائے ، ہم دیکھتے ہیں کہ خصوصاً اس ماہ میں سیرت کے عنوان سے بڑے بڑے جلسے منعقد کئے جاتے ہیں، نعتیہ مشاعرے لئے جاتے ہیں، اخبارات اور رسائل میں کئی مقالے سیرت کے عنوان سے پڑھنے کو ملتے ہیں، غرض کہ آپٌ سے محبت، عقیدت اور تعلق کا ہر مسلمان اپنے اپنے انداز سے اظہار کرتا ہے، اور پھر اس موقع پر آپٌ کی کئی خصوصیات اور اوصاف بیان کئے جاتے ہیں، آپٌ کا حلیہ مبارک آپٌ کے اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے کی عادات، آپٌ کے اخلاق، آپٌ کی گھریلو زندگی وغیرہ پر خوب باتیں ہوتی ہے، اور ہونا بھی چاہیے، لیکن آفسوس ہم کو اس بات کی توفیق و فکر نہیں ہوتی کہ یہ بات معلوم کریں کہ آخر محمدٌ دنیا میں کیوں تشریف لائے تھے، اللہ کی طرف سے کونسا مشن آپٌ کو سونپا گیا تھا، اور آپٌ نے ایسا کیا عظیم کارنامہ انجام دیا کہ ساری دنیا میں آپٌ کی ہر سال یاد منائی جاتی ہے.
تو آئیے قرآن اور سیرتٌ کی روشنی میں ہم رسولٌ کو دنیا میں بھیجے جانے کا مقصد اور آپٌ کے کارنامے کو مختصراً دیکھیں گے .
سب سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے رسولٌ کو دنیا میں بھیجنے کا کیا مقصد بیان کیا ہے، سورہ فاطر کی 24 نمبر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبیٌ کے دنیا میں بیھجے جانے کا یہ ایک مقصد بتایا کہ، بے شک ہم نے تم کو حق دے کر بھیجا ہے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بناکر، ٹھیک اسی طرح کی بات اللہ تعالیٰ نے سورہ الاحزاب کی 45 اور 46 ویں آیت میں بھی فرمائی کہ، اے نبیٌ ہم نے تم کو گواہ اور خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور اللہ کے حکم سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور ایک روشن چراغ بناکر بھیجا، پھر سورۃ السجدہ کی 3 نمبر کی آیت میں فرمایا، تاکہ تم اس قوم کو با خبر کردو جس کے پاس تم سے پہلے کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا شاید وہ راہ پا جائیں. پھر اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفتح کی 28 ویں آیت میں نبیٌ کو دنیا میں بھیجے جانے کا مقصد یوں بیان کیا کہ، وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے پوری جنسی دین پر غالب کردے. غرض کہ قرآن میں اور بھی بہت ساری آیتیں ہیں جو آپٌ کے دنیا میں بھیجے جانے کے مقصد کو اور آپٌ کے سپرد کئے گئے مشن کو بیان کرتی ہیں.
درج بالا آیتیں اللہ کے رسولٌ کے دنیا میں بھیجے جانے کے مقصد کو واضح کرتی ہیں، اور ان آیتوں کے مطابق اللہ کے رسولٌ نے اپنے مشن کو انجام دیا، حالانکہ اللہ کے رسولٌ کو جس ماحول میں اور جس قوم کو دین کی اور ایک اللہ کو ماننے کی دعوت دینے کا حکم دیا گیا وہاں انتہائی خطرناک ماحول تھا، وہاں لوگ بگاڑ کی انتہا کو پہنچ چکے تھے، جہالت کی آخری حد وہ پار کر چکے تھے، ایسی کوئی برائی نہیں تھی جس میں وہ لوگ ملوث نہیں تھے، ہر ایک نے اپنے اپنے الگ الگ خدا بنا رکھے تھے، خانہ کعبہ میں کئی بت رکھے ہوئے تھے، ایسے جاہل لوگوں کے بیچ اور ایسے خطرناک ترین ماحول میں اللہ کے رسولٌ ایک عظیم ترین تبدیلی کا پیغام لیکر یکہ و تنہا اٹھتے ہیں، اور جیسے ہی اللہ کے رسولٌ ایک اللہ کو ماننے کی صدا لگاتے ہیں تو دیکھا گیا کہ وہ محمدٌ جن کو لوگ صادق اور امین کہا کرتے تھے، وہ محمدٌ جن کے پاک اور شفاف کردار کی گواہی ہر انسان دیتا تھا، وہ محمدٌ جن سے مکہ کا ہر شخص محبت کرتا تھا، وہ محمدٌ جن کی ہر بات جہاں قابلِ قبول تھی، وہی محمدٌ جب ایک اللہ کو ماننے کی بات کہتے ہیں تو وہی صادق اور امین کہنے والے لوگ آپٌ کو جھوٹا کہنے لگتے ہیں، آپٌ سے بے انتہا محبت کرنے والے لوگ جان کے دشمن بن جاتے ہیں، خون کے رشتے بھی آپٌ کے خون کے پیاسے ہوجاتے ہیں، اور آپٌ کی دعوت کو روکنے اور آپٌ کے مشن کو ناکام کرنے کے لئے وہ اپنی پوری طاقت لگادیتے ہیں،کبھی آپٌ کے راہ میں کانٹے بچھائے جارہے ہیں، کبھی آپٌ پر غلاظت پھنکی جارہی ہے، کبھی پتھر برسائے جارہے ہیں، آپٌ کے ساتھ جو بھی شامل ہورہا ہے اس پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں، غرض کہ آپٌ کے مشن کو روکنے کے لئے جس آخری حد تک وہ جاسکتے تھے وہ کررہے تھے، ایسے مایوس کن حالات میں کوئی دوسرا ہوتا تو شاید زندگی سے بھاگ کھڑا ہوتا، یا اپنی جان کی سلامتی کے لئے جنگلوں اور غاروں میں پناہ گزیں ہوکر اپنی انفرادی عبادات میں مشغول ہوجاتا، لیکن قربان جائیے ہمارے آقا حضرت محمدٌ پر جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے عائد کردہ مشن سے ایک لمحہ کے لئے بھی پیچھے ہٹنا گوارا نہ کیا، آپٌ نے مکے کے ایک ایک فرد کے دروازے پر پہنچ کر دین حق قبول کرنے کی دعوت دی، آپٌ نے جہاں قریش کے سرداروں کو دعوت دی، وہیں مکہ کے غریبوں اور غلاموں کو بھی دعوت دی، تمام مخالفتوں اور راہ میں رکاوٹوں نے آپٌ کو بد دل اور مایوس نہیں کیا، مایوس ہونا تو درکنار آپٌ کی دردمندی اور بے قراری بڑھتی ہی گئی، اور یہی نہیں کہ آپٌ صرف اللہ نے ڈالی ہوئی ذمہ داری کو ادا کرنے کی کوشش کررہے تھے، بلکہ آپٌ اندر انسانوں سے محبت کا جو جزبہ تھا اس جذبہ نے آپٌ کی تڑپ کو اور بڑھادیا تھا، آپٌ بڑی ترپ کے ساتھ لوگوں کو دین کی دعوت دیتے، اسی تڑپ میں ایک دفعہ آپٌ فرماتے ہیں کہ تم لوگ پروانوں کی طرح آگ کے گڑھے کی طرف لپکتے ہو اور میں تم کو کمروں سے پکڑ پکڑ کر اس آگ سے بچانے کی کوشش کر رہا ہوں، اس طرح آپٌ کے اندر انسانوں کو جہنم کی آگ سے بچانے کی فکر اور تڑپ تھی، اور اسی فکر میں آپٌ گھلتے رہتے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے، اسی تڑپ کو دیکھ کر خود اللہ تعالیٰ نے بار بار آپٌ کو یہ کہہ کر تسلی دی کہ، ایسا لگتا ہے کہ تم اپنی جان دے دو گے اس بات پر کہ وہ ایمان نہیں لاتے، آہ رحمتہ للعالمینٌ کے اندر انسانوں کی ہدایت کے لئے کتنا اضطراب تھا، کتنا درد تھا، کتنی بے چینی تھی، اور یہ آپٌ کی بے چینی اور تڑپ اور انسانوں سے محبت ہی تو تھی کہ لوگ بڑی تعداد میں آپٌ کی دعوت پر لبیک کہتے جارہے تھے، غرض کہ آپٌ نے دعوت دین کے زریعہ سے بہت سارے لوگوں کو دائرہ اسلام میں داخل کردیا، اب اگر آپٌ چاہتے تو ان لوگوں کو لیکر اللہ کی عبادت اور انفرادی اصلاح و تربیت میں لگ جاتے، اور اگر آپٌ ایسا کرتے تو ہوسکتا کہ جو مخالفت کا طوفان آپٌ اور صحابہ کے اوپر جو اٹھا تھا وہ تھم جاتا، لیکن آپٌ جانتے تھے کہ جہاں آپٌ کو لوگوں کو دین کی دعوت دینے کا حکم دیا گیا تھا وہیں آپٌ کو یہ بھی حکم دیا گیا تھا کہ اس دین کو پورے جنسی دین پر غالب کردے، یعنی اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کو قائم کرے، غرض کہ دعوت دین کے بعد یا ساتھ ساتھ اللہ کے رسولٌ کے پیش نظر اول روز ہی سے یہی مشن تھا، در حقیقت حضورٌ کے پیش نظر جہاں اعتقادی اور اخلاقی انقلاب تھا وہاں پوری اہمیت کے ساتھ سیاسی انقلاب بھی تھا، بد قسمتی سے حضورٌ کے کارنامے کا سیاسی پہلو اتنا اوجھل کردیا گیا کہ آج آپٌ کی دعوت اور نصب العین کا صحیح تصور باندھنا مشکل ہوگیا ہے، حضورٌ پورا دین لائے تھے، آپٌ کا مشن اس دین کو ساری نظام زندگی پر قائم کرنے کا تھا، آپٌ کا مشن اللہ کے قوانین کو عملاً جاری کرنے کا تھا، تبھی تو آپٌ ایسے ماحول میں جہاں دن میں ڈاکے پڑتے ہوں، اور قتل ہوتے ہوں، جہاں کھلم کھلا عصمتیں لوٹی جارہی ہوں، جہاں اکیلے مسافر تو کیا قافلے کا سفر کرنا مشکل ہو، وہاں آپٌ یہ فرمارہے ہیں کہ عنقریب وہ زمانہ آئے گا کہ مکہ کو بغیر نگہبان کے قافلے حفاظت سے جایا کریں گے، ایسے نظام کو قائم کرنے کا مشن آپٌ نبوت ملنے کے پہلے دن ہی سے لیکر اٹھے تھے، اور اس بات کو وہاں کے قریش بھی سمجھتے تھے، وہ آپٌ کے مقصد کو اچھی طرح جانتے تھے، انھیں معلوم تھا کہ آپٌ جس چیز کی دعوت دے رہے ہیں وہ محض چند عبادات یا محدود مذہبی احکامات کی دعوت نہیں ہے، یہ دعوت پورے نظام کو بدل دینے کی دعوت ہے اور اسی بنیاد پر آپٌ کی مخالفت کی گئی، ورنہ ایک وقت تو ایسا بھی آیا تھا کہ قریش آپٌ سے اس بنیاد پر compermise کرنا چاہتے تھے کہ آپٌ ہمارے معبودوں کو برا بھلا نہ کہو، ہمارے مذہب کو برا نہ کہتے ہوئے اس سے ہٹنے کا نہ کہو اور جو نظام یہاں قائم ہے اسے جوں کا توں رہنے دو، اس کے علاوہ آپٌ جو بھی وعظ و نصیحت کریں گے ہم سن لیں گے، آپٌ اور آپٌ کے ساتھی جو بھی عبادتیں کریں گے اس سے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا، یعنی ان کا مطلب تھا کہ آپٌ اللہ کا نام تو لے سکتے ہیں لیکن لا اِلہ نہ کہیں، بھلا آپٌ یہ کیسے مان سکتے آپٌ تو تمام باطل ادیان پر اس دین کو غالب کرنے کے مشن کو لیکر اٹھے تھے، اور اسی لئے آپٌ ان کی کسی شرط کو نہیں مانا اور ہر طرح کی مخالفت کے باوجود تاریخ نے اپنی نظروں سے دیکھا کہ اللہ کے رسولٌ نے وہ نظام الہی قائم کرکے دکھایا جس کا حکم اللہ نے دیا تھا، اور پھر اللہ کے رسولٌ نے اس نظام کو چلاکر بتایا جس میں سب کے لئے امن و سکون میسر تھا، یہ تھا اللہ کے رسولٌ کا مشن جس کے لئے آپٌ کو اس دنیا میں بھیجا گیا اور اس کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا اور جس کو آپٌ نے پورا کرکے دکھایا.
یہ تھا حضورٌ کا مشن اور یہ آپٌ کا مقدس انقلاب تھا جس کے ہم پاسبان بنائے گئے تھے، یہ پیغام تھا جس کے لئے ہمیں امت وسط ہونے کے بلند ترین منصب پر فائز کیا گیا تھا، اور ہم پر اللہ کے رسولٌ کے اس مشن کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ڈالی گئی تھی، لیکن ہم نے اس کلمہ حق کی مشعل کو بلند رکھنے میں کوتاہی کی نتیجہ یہ ہے کہ دور حاضر غلط موڑ پر ہے اور پوری انسانیت بحران کا شکار ہے، آج قیادت خدا نا شناس اور باطل طاقتوں کے ہاتھوں میں ہے اور ہم خود انہی طاقتوں کے زیر سایہ خاموشی سے ذندگی گزار رہے ہیں، اسی لئے آج ذلت ہمارا مقدر بن گئی ہے، ضرورت ہے کہ ہم سیرتِ رسولٌ سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے، اللہ کے رسولٌ کے مشن پر کام کریں، آج پھر حالات وہیں آکر کھڑے ہوگئے ہیں، انسانیت آج پھر دم توڑ رہی ہے، ظلم اور نہ انصافی اپنے عروج پر ہے، آج پھر انسان تبدیلی کے منتظر ہیں، ضرورت ہے کہ اس بھٹکتی اور درد اور کرب سے کراہتی ہوئ دنیا کے سامنے ہم اس نظام کو پیش کریں جس کو رسولٌ نے قائم کرکے دکھایا تھا، آج پوری ذمہ داری ہماری ہے کہ اللہ کے رسولٌ کے اس مشن کو ہم آگے بڑھائیں، اور اس کا حکم قرآن میں بھی ہمیں دیا گیا ہے، اگر اور مگر ،ممکن اور نا ممکن کے سارے خیالات شیطان کا وسوسہ ہے، اس مشن پر کام کرتے ہوئے ہم سیرت سے رہنمائی حاصل کرے کہ کسطرح ایک مختصر سے وقت میں انتہائی خطرناک حالات میں اللہ کے رسولٌ نے ایک عظیم انقلاب برپا کیا.
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دین کا صحیح شعور عطا فرمائے، اور سیرت کے مطابق کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button