Sliderشخصیات

الوداع اے رفیق محترم الوداع

مولانا محمد رفیق قاسمی صاحب کے وصال کے موقع پر۔۔۔۔

ایاز احمد اصلاحی

 

ابھی کچھ دیر قبل اطلاع ملی ہے کہ مولانا محمد رفیق قاسمی صاحب کا آج صبح دہلی میں انتقال ہوگیا ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون اللہ غریق رحمت کرے اور ان کی دینی و ملی خدمات کو قبول فرمائے۔

مولانا مرحوم و مغفور جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور مرکزی شوری کے رکن تھے ۔ مرکز جانے سے پہلے وہ برسوں تک جماعت اسلامی اتر پردیش کے امیر رہے ہیں۔ ان کے زمانے میں ہندوستان کے سب سے بڑے صوبہ، اتر پردیش میں جماعت کا کام بہت وسیع و مستحکم تھا ، اور جماعت کا عوامی رابطہ بھی بہت وسیع تھا، اس کامیابی میں مولانا کی وجیہ، نرم خو، ملنسار اور اور ذی علم شخصیت کا بہت بڑا حصہ تھا۔
مولانا ایک مستند عالم و فاضل اور ایک با اخلاق و با کردار داعی تھے، ان کی شخصیت کی جاذبیت کا راز ان کی ظاہری وجاہت سے زیادہ ان کی باطنی شرافت تھی جس کا احساس ہر اس شخض کو ہوتا جو ان سے تھوڑی دیر کے لیئے بھی قریب ہوتا، وہ جہاں بھی رہتے ان کے اندر میر محفل بن جانے کی بھر پور صلاحیت تھی، لیکن ان کی گفتگو چربزبانی اور اکتا دینے والی غیر ضروری گل کاری سے بالکل پاک ہوتی، ان کا انداز والہانہ اور برتاؤ فاتحانہ ضرور پوتا مگر ان کے یہاں تصنع و تکلف کا کہیں دور دور تک کوئی شائبہ نہیں تھا۔

وہ ان وابستگان تحریک میں سے تھے جو خود کو تحریک اسلامی کے لیئے وقف کر دیتے ہیں اور جن کا ہر عمل صلے کی تمنا اور بندوں کی ستائش سے بے نیاز ہوتا ہے، ان کی ذاتی زندگی کہیں دور چھوٹ جاتی ہے اور ان کے دین کی سربلندی ان کا مقصد حیات اور ان کا مشن ان کی صبح و شام بن جاتا ہے۔ یوں تو اصلاح معاشرہ اور دعوت دین کو ان کی تحریکی سرگرمیوں میں مرکزی حیثیت حاصل تھی لیکن حق یہ ہے کہ انھیں تحریک کی طرف سے جو کام بھی سونپا گیا اور جس محاذ پر بھی انھیں لگایا گیا وہاں وہ ایک بے لوث اور مخلص سپاہی کی طرح ڈٹ گئے۔ اس کے علاوہ اپنے اسلامی نصب العین کے لیئے ہروقت متحرک و سرگرم رہنا، اصول تحریک کی مخلصانہ پیروی، اور ایمانداری کے ساتھ نظم جماعت کی پابندی ان کی تحریکی زندگی کی خاص پہچان تھی ۔ ایک بڑے مدرسے کے فاضل ہونے کی وجہ سے وہ تحریک اور علماء و اہل مدارس کے درمیان رابطے کی ایک موثر کڑی تھے، برادران وطن سے رابطے کے طریقوں سے بھی وہ خوب آگاہ تھے اور وہ جہاں بھی رہے غیر مسلم مذہبی و سیاسی شخصیات ان کے رابطے میں رہیں۔

ان کی نرم گفتاری ہمیشہ ان کی نرم مزاجی کی شہادت دیتی، ان سے مل کر کسی کو کبھی اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا، ہر ایک سے اپنائیت سے ملنا ، ہر ایک سے محبت کرنا اور پرانے تعلقات کو خوش دلی سے نبھانا ، یہ سب ان کی شخصیت کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ رب کریم انھیں ہمیشہ اپنے سایہ رحمت میں رکھے۔

مولانا مرحوم سے میرے تعلق کی روداد تقریبا پچیس سال سے زائد عرصے پر پھیلی ہوئی ہے، ۔ چاہے وہ ایس آئی او آف انڈیا کی ذمہ داریاں رہی ہوں یا رفیق منزل کی ایڈیٹر شپ، چاہے میں لکھنؤ میں رہا ہوں یا دلی میں، مولانا نے ہمیشہ اپنے لطف خاص سے مجھے نوازا اور حوصلہ افزائی میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا۔ ان سے آخری ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب میں چند ماہ قبل نئے قوانین شہریت
کے خلاف جامعہ و شاہین باغ کے مظاہروں میں شرکت اور مظاہرین سے خطاب کے لیئے دہلی میں تھا ۔اس وقت بھی چہرے پر وہی دلنواز مسکراہٹ، وہی گرویدگی و وارفتگی، وہی ہشاشت اور وہی اپنائیت دیکھی جو ایک مدت سے ان کے روشن چپرے پر ہمیشہ دیکھتا آرہا تھا ۔ یہی مولانا کی اصل شناخت تھی مگر کیا خبر تھی کہ آج کے بعد نہ تو یہ چہرہ دوبارہ دیکھنا نصیب ہوگا اور نہ اس کا یہ گرویدہ کرلینے والا روپ۔ یہ تمام چیزیں ان کے فطری اخلاق میں شامل تھیں ، ان سے ملتے وقت نہ تو کبھی ان کے حد درجہ مصروف ہونے کا احساس ہوتا اور نہ کبھی ان کے چہرے پر پیچھا چھڑانے والی اکتاہٹ نظر آتی۔۔جیسا ظاہر ، ویسا باطن، جیسے پہلے ویسے اب، جیسے ایک رکن ویسے ہی ایک مرکزی سکریٹری، نہ تو چہرے کی بشاشت میں کبھی کوئی فرق دیکھا اور نہ کردار کی شرافت میں کبھی کوئی کمی محسوس ہوئی، نہ تو انھیں کبھی عوام سے دوری بناتے دیکھا اور نہ خواص کی قربت کے لیئے سرگرداں پایا، کیونکہ تحریک اسلامی نے ان کی جو تربیت کی تھی اس میں انھیں یہ سبق بھی ازبر تھا: وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ
وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ( البقرة: 226)۔

ان کو اپنی تحریک سے یہ راز بھی معلوم ہوا تھا کہ اپنے مرکز سے جو دور نکل جاتا ہے وہ خود بکھر جاتا ہے، خواب ہوجاتا ہے اور بھولے بسرے افسانوں میں ڈھل جاتا ہے

ان کے نظام تربیت نے انھیں زر خالص بنا کر یہ بھی سمجھا دیا تھا کہ گھر ہو یا زنداں موت تو کہیں بھی آسکتی ہے لیکن اہل ایمان کا وجود مرنے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے ۔ ان کے نوری کردار کی روشنی سے خلق خدا ان کے بعد بھی مستنیر ہوتی رہتی ہے اور ان کے نقش قدم بعد والوں کو منزل کی راہ دکھاتے رہتے ہیں۔

فرشتہ موت کا چھوتا ہے گو بدن تیرا
ترے وجود کے مرکز سے دور رہتا ہے

موت کی راہ کون روک سکتا ہے؟ لیکن مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ ایسے منتخب بندگان خدا اور ایسی سدا بہار شخصیت کے لوگ ختم تو نہیں لیکن ہمارے درمیان کم ضرور ہوتے جا رپے ہیں اور ان کے لیئے ہمارا سب سے بڑا خراج عقیدت ان کی موت کا ماتم نہیں بلکہ ایسے ،کارواں کی تیاری ہے جو ایسے جاں فروشوں سے کبھی خالی نہ ہو ،
جہاں نہ تو خلاء کو پر کرنے والوں کی کوئی کمی ہو اور نہ ایسے قندیل برداروں کی جو مولانا کی طرح ایمرجنسی کی ابتلاء اور دارورسن کی کالی کوٹھریوں میں بھی حوصلوں کے چراغوں کو روشن رکھ سکیں۔

۔ الوداع اے رفیق محترم الوداع۔۔۔۔۔اللہ تعالی انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور ان کی تحریک کو ان جیسے مخلص کارکنوں سے کبھی محروم نہ کرے۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button