Sliderمتفرقات

انجام اس کے ہاتھ ہے آغاز کرکے دیکھ

ہر انسان کی جان اللہ کے پاس گروی ہےوہ اچھےاعمال کے ذریعہ اسے چھڑاکر جنت حاصل کرلےیا اپنی من مرضی کرکےدنیا تو جنت بنا لےمگر اخروی فلاح سےمحروم ہوجاۓ۔

انجام اس کے ہاتھ ہے آغاز کرکے دیکھ

غازیہ سلطانہ

قُل حَسبِیَ اللّٰہ لَااِلٰہَ اِلاَِّھُوَ عَلَیہِ تَوَکَّلت

زندگانی کی حقیقت کوہکن کے دل سے پوچھ۔

جوۓشیروتیشہ وسنگ گراں ہےزندگی

آہ!زندگی تو بہت ہی مشکل ہے۔!!..

زندگی کو کاٹنا پڑرہا ہے۔۔۔

زندگی کے معاملات سخت ترین نظر آرہے ہیں۔۔۔

زندگی کو سمجھنا ہرکس وناکس کےبس کی بات نہیں رہی۔۔۔

کیا اسکو زندگی کہتے ہیں۔۔۔

کیا زندگی کے مساٸل ایسے لاینحل ہوتے ہیں کہ دل دماغ اور انسان کی ساری صلاحییتیں ان کے حل کے سلسلے میں بےکار ہوجاٸیں??۔۔۔

کیاخليفہ ٕ ارض کےاندر بس اتنی ہی طاقت و قوت ہے کہ وہ ہرمسٸلہ اور ناکامی کو تقدیر کا فیصلہ سمجھ کر قناعت کرتا چلا جاٸے?

کیا دنیا بھر کے مسلم صرف اسلیے وجود میں آۓہیں کہ وہ اپنی زندگی کی راہوں کو طۓ کرنے میں اور اپنی منزل کے تعیین میں اپنے سفر کی قیادت غیروں کےہاتھ میں دیکر انکے رحم وکرم پر ہوجاۓ?
ہر بندہ ان پے در پے  اپنے ہی وطن کے باشندوں کے حقوق کے خلاف کی جارہی منصوبہ بندی اور نت نۓ بل کی آفتوں سے حیران و پریشان ہے۔
پرسنل لا میں مداخلت’اور وقتاًفوقتاًدخل اندازیاں بڑھتی ہی جارہی ہیں
اور اب مسلم امہ کے سر پر جلاوطنی کے خوف کی تلوار لٹکا دی گٸ
ہر انسان ذاتی زندگی سے نکل کراب انتہاٸ سوشل ہوگیا ہے
اور چاہ رہا ہے کہ اسکے اطراف میں رہنے والے بھی سوشل ہوجاۓ مگر اس اتنا سوشل ہونے کے بعد بھی امت کی اجتماعی زندگی مزید انتشار ہی کا شکار ہے ۔۔۔۔

جتنے منہ اتنی باتيں ۔۔۔۔

مکاری اور جھوٹ کی اس اندھیر نگری میں حق پسندوں نےاپنی بےباکی و جرأت سے جتنی حقیقتوں سے نقاب اٹھایاہے ممکن تھا کہ ایک پرسکون زندگی ایک صالح نظام ضرور میسر آتا

مگر ہاۓرے بدبختی!

تنگ نظری اور ظلم و تعصب کے بادل اتنے گھنیرے ہیں کہ انصاف پسندی اورامن کا سورج ان بادلوں کو پار ہی نہیں کرپارہاہے۔۔

*لیکنگ کہاں ہے ? کیا غلط ہورہا ہے?*

زمانہ ہمیں خبردارکررہا ہے

*میری صراحی سںےقطرہ قطرہ نۓ حوادث ٹپک رہے ہیں۔۔میں اپنی تسبیح روزوشب کا شمار کرتا ہوں دانہ دانہ*
ع  *نہ تھا اگر تو شریک محفل قصور میرا ہے یاکہ تیرا۔۔میراطریقہ نہیں کہ رکھدوں کسی کی خاطر مۓ شبانہ*

*جائزہ لیں*

اپنے ایمان کا

دعاٶں کی قبولیت میں رکاوٹ کا

اللہ سبحانہ و تعالی کی مدد و نصرت کے لۓمطلوبہ شراٸط کی اپنی ذات میں موجودگی  کا جائزہ

اپنی کوشش اورسعی وجھد میں اپنے وقت ۔قوتیں۔اور صلاحیت ۔جان ومال کی کھپت کتنے فیصد لگایا

پے در پے ہونے والے انسانيت سوز مظالم پر طۓ شدہ لاٸحہ عمل کے ذریعہ atmost struggle کے ساتھ مستقل مزاجی و ثبات

دعوتی محاذ پر امن پسند وطنی برادران سے اسلامی نظریات پر تسلی بخش ڈاٸلاگ کے ذریعہ بناٸ گٸ  ذہنی ہم آہنگی کا فیصد۔۔

اپنی ملت کے اتحاد کا گراف کتنا خوش آیند ہے

ملت اپنی قیادت سے کس درجہ مطمٸن ہے۔

ملت کی زندگی میں اپنی قیادت کو کیا مرتبہ حاصل ہے

کیاملت کے سنجیدہ و غیر سنجیدہ افراد اپنے قاٸدین کی پکار پر اپنی زندگیاں داٶ پر لگا سکتے ہیں

اپنے قاٸدین کو غیر مشروط اطاعت کااعتماددلاسکتے ہیں ۔

ان کربناک حالات کے باعث اپنی خاندانی زندگیاں قرآن وسنت کے مطابق آراستہ ہوگٸ

عزیزان گرامی!
ماہ ربیع الاول اور ماہ ذوالحجہ میں اللہﷻ اور اسکے رسول ﷺ
سےکۓگۓعشق و محبت کے دعوٶں کو عمل میں ڈھالنے کا وقت ہے ” عمل سعی و جھد کی اگلی سیڑھی دعاٶں کی قبولیت ہے "

ان دعاٶں کی جو کعبہ پر پہلی نظر پڑتے ہی مانگی تھی

جوہر قبولیت کے مقام پر مانگی تھی

عرفات میں دھوپ میں کھڑےہوکر مانگی تھی

مزدلفہ اور منیٰ میں نیند اور بھوک اورسخت تھکن کے باوجود دل کی گھراٸیوں سے رو رو کر مانگی تھی

مظلوم امت کی نجات کی,

عالم اسلام کے مضبوط اتحاداور منصوبہ بندحکمت عملی اور عمل آوری کی,

مساجد کے تحفظ کی,

ملت اسلامیہ کے قایدین کے لۓ مددونصرت کی

اور وہ ساری دعائیں جو ہر انسان کے لۓ امن و سلامتی کے لۓ مانگی تھی۔۔

*جی ہاں!* بس کردار بدلنے کی دیرہے

*ادھر کردار بدلااعمال بدلے۔*

*ادھرزندگی آسان ہی آسان*

*کردار ہی عروج ہے کردار ہی زوال۔۔تاریخ قوم گردش چرخ کہن میں دیکھ*

*ارشاد ربی ہے "ہر نفس اپنی کماٸ کے بدلے رہن ہے”*

ہر انسان کی جان اللہ کے پاس گروی ہےوہ اچھےاعمال کے ذریعہ اسے چھڑاکر جنت حاصل کرلےیا اپنی من مرضی کرکےدنیا تو جنت بنا لےمگر اخروی فلاح سےمحروم ہوجاۓ۔

عزیزو!
اس زمین پر ہر کسی کو عمل کی اور اپنی ضروریات کو حاصل کرنے کے لۓ جدوجہد کے یکساں مواقع دۓگۓہیں اور
*ہر کوٸ اپنے اپنے طریقہ پر اپنا اپنا کام انجام دےرہا ہے۔کُلّ”یَّعمَل علیٰ شَاکِلَتِہ*

کام کی آزادی اور پسندکا اختیار تو دےدیا گیا ساتھ ہی آسانی کے لۓ واضح رہنمائی بھی دی گٸ

*درحقیقت  تم لوگوں کی کوششيں مختلف قسم کی ہیں۔تو جس نے{ راہ خدا میں} دیا اور نافرمانی سے پرہیز کیااور بھلاٸ کو سچ مانا اسکو ہم آسان راستے کے لۓ سہولت دیں گے اور جس نے بخل کیااور {اپنے رب سے}بےنیازی برتی اور بھلاٸ کو جھٹلایا اسکو ہم سخت راستے کے لۓ سہولت دیں گے-*

جس رب نےآپ کی رہنماٸ میں کوٸ کسر نہیں چھوڑی اب آپ کا فرض ہے کہ اسکی احسان شناسی میں اپنے  علم , قوت , مال , صلاحیت , اثر و رسوخ اور بہترین آٸیڈیازو حکمتیں سب کا  سلیقہ سے نتیجہ خیزاستعمال کریں کیونکہ

*” انسان کے لۓ وہی کچھ ہے جسکی وہ کوشش کرے”*

*محنت کریں خوب محنت کریں خوب سے خوب تر محنت کریں مگر ان محنتوں میں شامل کریں اپنے رب کی محبت, اس پر مضبوط ایمان, اس پر پورا پورا توکل اور شامل ہوجاٸیں ان  جنتی لوگوں میں جن کے بارے میں حدیث مبارکہ کہتی ہیں
ہر کمزور جسے لوگ حقیر سمجھتے ہیں ۔اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم اٹھالےتو اللہ تعالیٰ اس کی قسم سچی  کردیتا ہے

ابھی مواقع میسر ہیں غوروفکر کے, شکر گزاری کے,اپنی محرومیوں کے ازالہ کے ,اپنی غلطیوں کی تلافی کی , اپنی نسلوں کے لۓ امن وترقی کی خوشگوار فضاکےحصول کے لۓ جدوجھد کے۔۔۔۔۔۔۔

اس خدا کے لۓ اپنے ایمان کو اپڈیٹ کریں جس نے آپ کو تکریم عطا کی آپ کو اپنے ہاتھوں سے بنایا آپ میں اپنی روح پھونکی اپنی مقدس اورقیمتی کتاب آپکو اعزاز کے ساتھ دیااسکو برتنا  سکھایا آپکو اعلی درجہ کی گویاٸ دی بولنا سکھایا اپنی بقا ٕ و تحفظ کے لۓ  سوچنا ۔بولنا ۔سننا اور دیکھنا سکھایا مگر انسانوں میں شکرگزار کم ہی ہوتے ہیں

*ملت ابراہیم کے غیور بیٹے !!*

اپنے باپ کے نقش قدم پر گامزن ہونے کا وقت ہے مکمل سپاس گزاری و شکرگزاری کا وقت ہے۔۔۔

*نمرود ِوقت کی حرکتوں کو اللہ کے حوالے کر اوراپنا محاذ سنبھال۔۔*

*نہ تو زمیں کے لۓ ہے نہ آسماں کے لۓ۔۔۔۔۔جہاں ہے تیرے لۓ تو نہیں جہاں کے لۓ۔۔۔۔۔*

*یہ زندگی بہت آسان ہوسکتی ہے پختہ ایمان کی حرارت سے,atmost struggle سے*

*اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے۔۔۔۔سر آدم ہے ضمیر کن فکاں ہے زندگی۔۔۔۔۔۔*

*زندگانی کی حقیقت کوہ کن کے دل سے پوچھ۔۔۔۔۔جوۓ شیر و تیشہ و سنگ گراں ہے زندگی۔۔۔۔*

*خام ہے جب تک تو ہے مٹی کا اک انبار تو۔۔۔۔پختہ ہو جاۓ تو ہے شمشیر بے زنہار تو۔۔۔۔*

*آشکارا ہے وہ اپنی قوت تسخیر سے۔۔۔۔گرچہ اک مٹی کے پیکر میں نہاں ہے زندگی۔۔۔۔*

*قلزم ہستی سے ابھرا ہے تو مانند حباب ۔۔۔۔۔اس زیاں خانے میں ترا امتحان*

*فلاح کے راستوں  کی منزل تمہیں بھی رستہ دکھا رہی ہے*

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button