قومی

انصاف کے علمبردار بنو!

مسلمانوں سے کہا گیا کہ صر ف انصاف کرنا ہی نہیں ہے بلکہ انصاف کا جھنڈا لے کر اٹھ کھڑے ہونا ہے

سیف الرحمن

(انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز، نئی دہلی)

        نماز پڑھ کر لوٹ رہے محسن شیخ  کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا گیا۔ کیا یہی انصاف ہے کہ اسکے قاتلوں کو بغیر کسی سزا کے یونہی چھوڑ دیا جائے؟ اخلاق احمد کو اپنے بیڈروم سے نکل کر پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا گیا۔ کیا یہی انصاف ہے کہ اس کے قاتل کے مرجانے کے بعد اسے ترنگے میں لپیٹا جائے؟ رکبر ،علیم الدین واور اس طرح دیگر مظلوم لوگوں کو گائے اور مسلمان کے نام پر پیٹ پیٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا جائے اور ان کے قاتلوں کی سربراہی کی جائے کیا، انکے اور انکے گھر والوں کے ساتھ یہی انصا ف ہے؟

ایک نوجوان مسلم ریسرچ اسکالر کو دیر رات ہاسٹل میں پیٹ کراسے غائب کردیا جائے کیا یہی انصاف ہے کہ اسکے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے بجائے اسکی ماں و دیگر لوگوں کو صدائے احتجاج بلند کرنے پر ایف آئی آر درج کردیا جائے؟ گجرات میں دلت نوجوانوں کو برہنہ کرکے چوراہے پر سرِ عام مارا جائے اور اس کی تشہیر ویڈیو سے کی جائے، کیا یہی انصاف ہے کہ اتنے بڑے معاملے میں حکومت کی اندھی عقل مجرموں کو دیکھنے سے قاصر ہو؟ ایک نوجوان جس کی شادی چند ماہ پہلے ہوئی ہو اسے 18؍گھنٹے تک باند ھ کر مار مار کر ادھ مرا کردیا جائے اور کوئی طبی خدمات بھی نہ دی جائے قاتلوں کو چھوڑ دیا جائے اور کہا جائے کہ تبریز ہارٹ اٹیک سے مرا ہے یہ کہہ کر کیس کو ختم کردینا اور یہ بھی نہ دیکھا جائے کہ 24؍سال کی عمر میں کیسے اٹیک آگیا کیا یہی انصاف ہے ؟ایک ننھیبچی جو کھیت میں گھوڑے کے پیچھے دوڑ رہی ہو اسکی عصمت دری کرکے بری طرح ماردینے والوں کو بھی یونہی چھوڑدیاجائے جس سے سماج اور اسکے اہل خانہ تڑپ اٹھیں کیا یہی انصاف ہے ؟

        کیا اسے ہی انصاف کہتے ہیں؟ کیا یہی ہمارے ملک کے سونے کی چڑیا ہونے کی علامت ہے کہ مجرم منتری اور قانون ساز بننے لگیں؟ کیا اسلاف نے اسے ہی انصاف قرار دیا ہے ؟اگر یہی انصاف ہے تو ہمارے چوتھے خلیفہ نے بچے کو اسکی اصل ماں کے پاس پہنچانے کیلئے جو طریقہ اپنایا وہ انصا ف نہیں تھا؟ کیا یہ انصاف نہیں ہے کہ حجر اسود کو نصب کرنے کے موقع پرسیدالانبیا ؐ سے مشورہ مانگے جانے پر آپ نے کسی ایک کے ہاتھ میں پتھر نہیں دیا بلکہ ایک چادر کو تمام قبیلے کے سرداروں کو اٹھانے یلئے کہا جس سے مکہ کی خونریز جنگ ٹل گئی ؟انبیاؑکو جس لئے بھیجا گیا تھا وہ یہی تھا کہ لوگوں کے درمیان انصاف کریں اور سچی بات کہیں لوگو ں کو ظلم سے روکیں اور ظالموں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تمام انبیا ؑحتی کہ محمد ؐ نے بھی بچپن سے وفات تک قیام ِ عدل و قسط کا پیکر بنے رہے۔ صحابہ نے بھی اپنے دور میں حق کی گواہی دی اور حق کے علمبردار بنے رہے۔ کیونکہ انہوں نے اپنی عملی زندگی میں اللہ کی اس آیت کو اپنایا اور زندگی کے ہر معاملوں میں الہی ہدایات کو مقدم رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا :

یا ایُّھا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُو قَوَّامِیْنَ بِالْقِسْطِ…اے لوگو جو یمان لائے ہو ،انصاف کے علمبردار بنو اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگر چہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد تمہاری اپنی ذات پریا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو…(النساء135)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی سے گواہی مانگی جائے تو چاہے اس میں خو د کا یا اسکے گھر والوں کا یا کسی بھی قریبی کا کتنا بھی نقصان ہورہا ہو اسے چاہئے کہ حق کی گواہی دے ،شہادت حق کا فریضہ انجام دے اور انصاف قائم کرنا چاہئے اللہ انصاف پر قائم ہے اور انصاف کو پسند کرتا ہے۔ مسلمانوں سے کہا گیا کہ صر ف انصاف کرنا ہی نہیں ہے بلکہ انصاف کا جھنڈا لے کر اٹھ کھڑے ہونا ہے اور ظالم کو اپنے ہر ظلم سے روکنا ضروری ہے۔

؎کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعزاز سخن

        ظلم سہنے سے بھی ظلم کی مدد ہوتی ہے

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button