Sliderسائنس و ٹیکنالوجی

انٹرنیٹ کی 50 ویں سالگرہ: تاریخی کامیابیوں پر ایک نظر

ڈاکٹر احتشام الحسن

[حیدرآباد]

اسمارٹ فونس (کمپیوٹری یا لیپ ٹاپ ) اور انٹرنیٹ کے بغیر آج زندگی کا تصور بھی محال دیکھائی دیتا ہے لیکن آج سے ساری دنیا نے انٹرنیٹ کی 50 ویں سالگرہ منالی ہے یعنیٰ انٹرنیٹ کے وجود میں آئے 50 برس ہوگئے ہیں اور ہر گزرتے سال کے ساتھ اس ٹکنالوجی نے ترقی کی کئی ایک منازل طے کی ہےں بلکہ ہماری یومیہ زندگی کو آسان سے آسان ترین بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انٹرنیٹ کی ایجاد اور ارتقائی مراحل کافی دلچسپ تاریخ رکھتے ہیں اور” سائبر اردو بلاگ “ میں ان ہی تاریخ کے چند اہم نکات انٹرنیٹ کی 50 سالگرہ کے موقع پر اردو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔

 انٹرنیٹ کی ایجاد اور ارتقاءبھی اپنے دامن میں ایک طویل اور دلچسپ تاریخ رکھتی ہے۔ انٹرنیٹ کی ایجاد اور ارتقاءمیں 1960ءکا دہا کافی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اسی دور میں سویت یونین اور امریکہ کے درمیان دنیا کے نمبر ایک سوپر پاؤر بننے کی رسہ کشی اور دوڑ زوروں پر تھی۔  مذکورہ ممالک ٹکنالوجیز میں ترقی کے ذریعہ ایک دوسرے پر سبقت لیجانا چاہتے تھے۔ 1955ءمیں امریکہ کے اس وقت کے صدر ڈی ڈی ایسن ہاور نے اعلان کیا کہ ان کا ملک سٹیلائٹ کو خلاءمیں داغنے کی خواہش رکھتا ہے لیکن 4 اکٹوبر 1957ءکو سویت یونین نے دنیا کا پہلا سٹیلائیٹ اسپٹنیک کو داغتے ہوئے امریکہ اور سویت یونین کے درمیان چل رہی سرد جنگ میں ایک انتہائی اہم بازی مارلی تھی۔

 سویت یونین کی اس اہم کامیابی کو امریکہ نے خود کے لئے ایک بڑا چیلنج تصور کرتے ہوئے نہ صرف اپنے حریف کا چیلنج قبول کیا بلکہ شعبے دفاع میں اڈوانس ریسرچ پراجکٹس ایجنسی (Advanced Research Projects Agency) کو قائم کیا جو کہ آرپا (ARPA) کے نام سے مقبولیت حاصل کرنے لگی۔ امریکہ کی جانب سے آرپا کے قیام کا بنیادی مقصد شعبے دفاع میں نئی ٹکنالوجیز کو استعمال کرتے ہوئے نہ صرف خود کو طاقت وربنانا تھا بلکہ سویت یونین سے چل رہی سرد جنگ میں سبقت بھی حاصل کرنا تھا۔ ابتداءمیں آرپا کی تمام تر توجہ خلائی تحقیقات اور اس میدان میں اہم کامیابیوں، میز ائیلس اور نیوکلیر مصروفیات کی راست نگہداشت پر تھی۔ ان اہم ترجیحات کے ساتھ جو ذیلی ترجیح تھی یعنی کئی اہم امور کی تکمیل کے لئے مرکزی دفتر اور دیگر مقامات پر چل رہے پراجکٹس خیموں میں استعمال ہونے والے کمپیوٹرس کے درمیان رابطے کو یقینی بنانا تھا۔ شاید اُس وقت کمپیوٹر سائنسدان اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ آرپا کا ذیلی مقصد عام انسانوں کے لئے حد درجہ سود مند ثابت ہوگا۔

سویت یونین کی جانب سے دنیا کے پہلے سٹیلائیٹ اسپٹنیک کو خلاءمیں روانہ کرنے کے بعد امریکہ نے محسوس کیا کہ وہ اپنے کٹر حریف سے سائنس اور ٹکنالوجی کی دوڑ میں کہیں پیچھے نہ ہو جائے اس لئے اس وقت کے امریکی صدر ایسن ہاور نے 1958ءمیں آرپا قائم کےا جس میں کمپیوٹرس بھی استعمال کئے گئے۔ عام خیال ہے کہ انٹرنیٹ ایک دفاعی پراجکٹ تھا جو دراصل امریکہ کی جانب سے اپنے کٹر حریف سویت یونین کے خلاف سائنس اور ٹکنالوجی کی دوڑ میں سبقت کے حصول کے لئے شروع کیا گیا تھا لیکن اس خیال کے برعکس انٹرنیٹ کا وجود دراصل آرپا کے قیام اور کمپیوٹرس کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے کے بعد اس ٹکنالوجی کی افادیت ہے، جس نے انٹرنیٹ کے پھیلاؤ کی راہیں آسان کردی۔

1962ءمیں مساچوسٹیس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (MIT) کے جوزف لکلیڈر نے کمپیوٹر نٹ ورک کے نظریہ کو منظر عام پر پیش کرتے ہوئے اس پہلے نٹ ورک منصوبے کو ‘‘ کلاٹیک نٹ ورک ’’  کا نام دیا۔ جوزف کے اس نظریے نے اسے آرپا میں ایک اہم مقام دلوادیا اور بہت جلد وہ آرپا کی اس جماعت کا صدر مقرر کردیا گیا جو آرپا کے کمپیوٹرس پر پیغامات کی حصول و ترسیل کے نظریے کو عملی جامہ پہنانے مےں مصروف تھی۔ 1964 ءمےں ریانڈ کارپوریشن کے پال بران نے امریکی فضائیہ کے لئے بھی کمپیوٹرس کے ذریعے پیغامات کے حصول و ترسیل کے ایک نظریے کو کا غذپر پیش کیا۔ نیز امریکہ کے علاوہ برطانیہ کی ننشنل فزیکل لیباریٹری نے بھی کمپیوٹرس کے پیغامات کے حصول و ترسیل کا ایسا ہی نظریہ پیش کیا۔ 1967ءتک آرپا، ریانڈ کارپوریشن اور برطانوی نیشنل فزیکل لیباریٹری، تینوں علیحدہ طور پر کمپیوٹرس کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہوئے ان کے درمیان پیغامات کے حصول و ترسیل کو یقینی بنانے کے پراجکٹس پر اپنی صلاحیتیں اور توانائیاں صرف کررہے تھے۔ علاوہ ازیں آرپا کی مختلف جماعتیں امریکہ کی مختلف یونی ورسٹیوں مں م مصروف تحقیقات تھیں اور ان کے درمیان رابطے کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت تھی لہذا اسی ضرورت نے آرپا کی ایک نئی شاخ قیام کی جو کہ ‘‘ آرپا نٹ ‘کہلائی اور اسی آرپانٹ کی کامیاب کوشش نے نہ صرف انٹرنیٹ کو یقینی بنایا بلکہ انٹرنیٹ کی سہولےات کو عوامی سطح تک پہنچایا۔

1969ءمیں آرپانٹ کا وجود عمل میں آیا۔ آرپانٹ کے وجود میں آنے کے بعد چار مقامات لاس اینجلس کی یونی ورسٹی آف کیلیفورنیا، سانٹا باربرا کی یونی ورسٹی آف کیلیفورنیا، اوٹھا کی یونی ورسٹی اور اسٹانفورڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے کمپیوٹرس کو آپس میں جوڑتے ہوئے دنیا کا پہلا کمپیوٹرس نٹ ورک تیارکیا گیا۔ کمپیوٹرس کو ایک دوسرے سے مربوط کرتے ہوئے ان کے درمیان پیغامات کے حصول و ترسیل کے نظریے کو عملی جامہ پہنانے کے ضمن میں 29 اکٹوبر 1969ءکی شام کو تاریخی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ ہی وہ شام تھی جب کمپیوٹرس کے درمیان پیغام نے ایک مقام سے دوسرے مقام تک برقی شکل میں آگے بڑھتے ہوئے سائبر ٹکنالوجی کا آغاز کیا۔ آرپانٹ کے قیام اور اس کے تحت سائنسدانوں کی متعدد جماعتوں کی کاوشوں نے بالآخر 29 اکٹوبر 1969ءکو ایک شاندار کامیابی حاصل کی۔ 29 اکٹوبر 2009ءکو جب ساری دنیا میں انٹرنیٹ کی 40 ویں سالگرہ کی تقاریب منائی جارہی تھیں تو اس موقع پر انٹرنیٹ کے موجد چارلی کلین نے خود اپنے تجربات اور اُس کامیابی کے متعلق میڈےا نمائندوں سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ‘‘ میں اُس وقت21 برس کا تھا اور ایک پروگرام کو لیکر دن اور رات کے تمام گھنٹے اُس میں مصروف رہتا ’’۔ (حوالہ: ایکسپریس بز، مورخہ 29 اکٹوبر 2009ءآن لائن ایڈیشن )۔

کلین نے مذکورہ جملوں کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے کمپیوٹر ‘‘ SDS Sigma7 ’’  پر گھنٹوں نہیں بلکہ دن رات مصروف رہتے اور یہ کمپیوٹر اپارٹمنٹ کے ایک بیڈروم کے مساوی تھا۔ انٹرنیٹ کے وجود میں آنے کی تفصیلات میں 29 اکٹوبر 1969ءکی شام 10:30 کا وقت تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ یونی ورسٹی آف کیلیفورنیا کے کمپیوٹر لیاب سے مفلوپارک کے اسٹانفورڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں موجود ایک کمپیوٹر تک برقی شکل میں پیغام روانہ کیا گیا تھا۔ دنیا میں پہلی مرتبہ جب مذکورہ مقامات پر رکھے گئے کمپیوٹرس کے درمیان پیغام روانہ کرنے کے لئے جس ٹکنالوجی کو استعمال کیا گیا آج بھی اُسی ٹکنالوجی کے تحت ساری دنیا میں موجود کمپیوٹرس کے درمیان پیغامات کے حصول و ترسیل کا سلسلہ جاری ہے۔

کلین کی کوششوں نے کمپیوٹرس کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہوئے ان کے درمیان پیغامات کی شکل میں مواد کی حصول و ترسیل کو یقینی بنایا لیکن کلین کی یہ کوششیں صرف سائبر ٹکنالوجی کی سمت بڑھتا پہلا کامیاب قدم تھا اگر ہم یہ کہیں کہ کلین کی کوششوں نے سائبر دنیا کا باب الداخلہ کھولتے ہوئے سائنسدانوں کو اس دنیا کا تعارف کروایا توبیجا نہ ہوگا کیونکہ ابتدائی مرحلے میں کمپیوٹرس کا استعمال اور انہیں ایک دوسرے سے مربوط کرتے ہوئے ان کے درمیان پیغامات کے حصول و ترسیل کے درپردہ کار فرماں عناصر امریکہ کا دفاعی شعبے میں خود کو مکتفی اور اپنے حریف پر سبقت بنانا تھا۔

آرپانٹ کے وجود میں آنے اور کمپیوٹرس کو ایک دوسرے سے مربوط کرتے ہوئے ان کے درمیان مواد کے حصول و ترسیل کو پیغامات کے شکل میں یقینی بنانے کے بعد گذرتے وقت کے ساتھ اس میدان میں شاندار ترقی ہوتی رہی۔ امریکہ کے شعبے دفاع کی جانب سے ایڈوانس ریسرچ پراجکٹ ایجنسی نٹ ورک ‘‘ آرپانٹ ’’ کے قیام اور اس شعبے میں بتدریج تحقیقات اور کامیابیوں نے سائبر ٹکنالوجی کی راہیں ہموار کردی۔ 1968ءکے وسط تک کمپیوٹرس کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہوئے انٹرنیٹ کا مکمل منصوبہ تیار کرلیا گیا تھا جس کے بعد 12 مختلف کمپنیوں نے اپنی اپنی بولی بھی لگادی۔ 7 اپریل 1969ءتا 29 اکٹوبر 1969ءتک آرپانٹ کے تحت کئی کوشش اور تحقیقات کئے گئے تاہم 29 اکٹوبر 1969ءکی شب کمپیوٹرس کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہوئے ان کے درمیان پیغامات کے حصول و ترسیل کو یقینی بنایا گیا۔ لاس اینجلس کی آرپا کی جانب سے ‘‘ کمپیوٹر سے کمپیوٹر’’ نٹ ورک کے ذریعہ پہلا پیغام یونی ورسٹی آف کیلیفورنیا کے پروگرامر طالب علم چارلی کلین او ران کے استاد پروفیسر لیونارڈ کلین راک کے ذریعہ ان کی جانب سے استعمال کردہ کمپیوٹر SDS Sigma7 سے اسٹانفورڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے SDS 940 کمپیوٹر کو روانہ کیا گیا۔

انٹرنیٹ کا پہلا پیغام

 آرپانٹ کی جانب سے دو کمپیوٹرس یونی ورسٹی آف کیلیفورنیا کے کمپیوٹر SDS Sigma7 اور اسٹانفورڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے SDS 940 کے درمیان روانہ کردہ پیغام صرف ایک لفظ Log in (لاگ اِن) تھا لیکن L اورO بنا کسی دقعت اور رکاوٹ کے منزل مقصود تک پہنچ گئے  لیکن اس کے بعد کمپیوٹر کراش ہوگا۔ بعد ازاں ایک گھنٹے کی مسلسل کوشش کے بعد اس پیغام کو روانہ کرنے میں سائنسدانوں نے کامیابی حاصل کی۔ آرپانٹ کا مستقل نٹ ورک 21 نومبر 1969ءکو لاس اینجلس کی یونی ورسٹی آف کیلیفورنیا کے کمپیوٹر ‘‘ آئی ایم پی ’’ اور اسٹانفورڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے کمپیوٹر ‘‘ آئی ایم پی ’’ کے درمیان رابطے کے ذریعہ بنایا گیا۔ مذکورہ نٹ ورک کے بعد 5 ڈسمبر 1969ءکو چار مقامات (4nodes) کو ایک دوسرے سے مربوط کردیا گیا جس کے بعد ہزاروں نٹ ورک کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی سہولیات منظر عام پر آئی۔

 1971ءکو پہلی مرتبہ برقی پیغام (ای میل) کے مواد کو دوسرے کمپیوٹر تک پہنچایا گیا۔ پہلا برقی پیغام کیا تھا اس کے متعلق اختلافات پائے جاتے ہیں لےکن یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ 1971ءکو ہی پہلی مرتبہ برقی شکل میں پیغام ایک کمپیوٹر سے دوسرے کمپیوٹر تک ای میل کی شکل میں روانہ کیا گیا تھا۔ پہلی مرتبہ ای میل روانہ کرنے کا اعزاز امریکہ کے ہی کمپیوٹر انجینئر ریمنڈسامیول ٹام لنسن کو حاصل ہے۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button