Sliderسیاستمسلم دنیا

ان کی پر اسرار عدالت، ان کا پر اسرار انصاف

بابری مسجد کا فیصلہ شاہد ہے کہ اس مقام پرسیکڑوں سال قبل  جو عبادتگاہ تھی وہ  اذن الٰہی سے کھنڈر بن کر زمین دفن ہوگئی۔

ڈاکٹر سلیم خان

بابری مسجد کا قضیہ امت کے نزدیک  عبادت گاہ کے تقدس اورعدل و قسط کا معاملہ ہے۔ ہندووں کے لیے آستھا اور عدالت کی خاطر قطعۂ اراضی کی ملکیت کا تنازع ہے۔ عدالت اگر اس کو آستھا  سےنہجوڑتی تو فیصلہ یہ نہیں ہوتا  لیکن جب عدلیہ میں جرأت کا فقدان ہو تو انصاف نہیں مصالحت ہوتی ہے۔  اس کوشش میں عدالت نے مسلمانوں کے موقف کی تائید کی اور ہندووں کے مطالبہ کو پورا کیا۔ سرکاری دباو کے چلتےاس کے لیے مسلمانوں کا حق بجانب مطالبہ پورا کرنا مشکل تھا اورعدالتی اقدار کے پیش نظر ہندووں کے موقف کی تائید کرنا ممکن نہیں تھا۔  یہی وجہ ہے کہ مبنی بر انصاففیصلہنہیں ہو سکا اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کو اس پر نظر ثانی کی درخواست کا ارادہ کرنا پڑا۔ اس فیصلے میں  سرکاری عمل دخل دیکھنا ہو تو نرموہی اکھاڑے کا حشر دیکھیں۔ وہ ایک طویل عرصہ  سے عدالت میں  دعویدار ہے مگر اس کو دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر 1989 میں سنگھ کے کوکھ سے جنم لینے والے نیاس کو مندر بنانے کا ٹھیکہ دے دیا گیا۔ مسلمانوں اور نرموہی اکھاڑے کی حالت پر معین الحسن جذبی کا یہ شعر (ترمیم کی معذرت کےساتھ) صادق آتا ہے؎

ان کی پر اسرار عدالت، ان کا پر اسرار انصاف

اور ایسے سیلاب کے آگے تیری ہستی مثل حباب

مسلم پرسنل لاء بورڈ امت کا نہایت باوقار ادارہ ہے جس پر ہر مسلک و مذہب کے  سوادِ اعظم کا اعتماد ہے۔ بورڈ نے نظر ثانی کا  پرعزم فیصلہ کیا تاکہ حجت تما م ہوجائے۔ ویسے اب   کسی مزید  نقصان کی توقع  بھی نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ ریویو پٹیشن پانچ ایکڑ زمین سے  مسلمانوں کو محروم کرسکتی ہے  تو اپنی بلا سے ہم نے ویسے بھی اسے لینے سے انکار کردیا ہے۔  سرزمین ہند پر  بسنے والے تقریباً بیس کروڈ مسلمان اس کے محتاج نہیں ہیں۔ وہ ہزاروں ایکڑ وقف زمین کے مالک ہیں اور آج بھی اپنی عبادتگاہوں  کے لیے سیکڑوں ایکڑ   زمینیں خرید کر وقف کررہے ہیں۔ اس فیصلے خوب  بیان بازی ہوئی ہر کسی سے جو بن پڑتا تھا  اس نے کہا۔ اس فیصلے پر پھولے نہ سمانے والے  شری شری روی شنکر کے دوست   مولانا سلمان ندوی نے بیان سے آگے بڑھ کر وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرلی اورایسی  شرائط کے ساتھ  سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل میں زمین مہیا کرنے کا مطالبہ کیا کہ   یوگی ادیتیہ ناتھ  کا تودل خوش ہوگیا۔

مولانا نےمسلم آبادی میںمسجد کے ساتھ  اسلامک یونیورسٹی قائم کرنے کی تجویز پیش   کیتاکہ  ایودھیا سے ویدو و گیتا کے ساتھ  قرآن و سنت اور  اسلام و شریعت  کا پیغام  بھی ساری  دنیا تک پہنچایا جائے۔ انہوں  نے اپنے فیس بک خطاب میں جہاں مسلم قیادت سے تیکھے سوالات کیے وہیں یوگی جی  کی خوب تعریف کی  کیونکہ  یوگی جی نے انہیں بتایا  ’’ ہمارے نزدیک انسانیت ہے، عدل و انصاف ہے، برابری ہے او رہم فرقہ واریت کو قبول کرنے کےلیے تیار نہیں ہیں۔ بھگوادھاری و زیراعلیٰ نے یہ بھی بتایا کہ انہوں  نے 9؍تاریخ کے فیصلے پر کہیں بھی ہنگامہ نہ ہو اس کی سخت ہدایات دی تھی۔  پولس اور انتظامیہ کو کڑی ہدایات دی گئی  تھیں اور یہ کہا گیا تھا کہ میلادالنبی ؐ  کو جلوس نکلیں گے۔ وہ اس بات کویقینی بنائے کہ  کہیں پر کوئی واردات نہ ہو، کسی کو کوئی خراش نہ آئے، اگر ایسا کچھ ہوا تو پولس اور انتظامیہ جوابدہ ہوگا۔ مولانا سلمان ندوی کا امت کے رہنماوں پر تنقید کے بعد نہایت  سادہ لوحی سے یوگی ساری باتوں پر یقین کرلینا  سلیم احمد کےاس  شعر  کی یاد دلاتا ہے؎

مجھ کو قدروں کے بدلنے سے یہ ہوگا فائدہ

میرے جتنے عیب ہیں سارے ہنر ہو جائیں گے

 مولانا بھول گئے کہ یوگی پہلے ہی اس دیوالی کے موقع پر  خوشخبری کی پیشن گوئی کرچکے تھے۔  سوال یہ ہے کہ اگر فیصلہ سنگھ کی مرضی کے خلاف ہوتا تو کیا وہ  ایسا کرتے؟ سنگھ پریوار اگر  سپریم کورٹ کے فیصلے کا    اس قدر پابند ہوتا تو نہ ہی  6 دسمبر 1992  کو بابری شہید ہوتی اور نہ  یہ فیصلہ صادر ہوتا۔

 امت  کے  مصالحت پسند طبقہ کو  اس فیصلے کے بعد بڑھ چڑھ کر مسلم قیادت پر لعن طعن کرنے کا موقع ہاتھ آگیا ہے۔ حالانکہ اگر ان مداہنت نوازوں  کی بات مان کر مسلمان بابری مسجد کے مقدمہ سے دستبردار ہوجاتے تو اس فیصلے میں یہ تسلیم نہیں کیا جاتا کہ پانچ سو سال قبل   اس مسجد کو میر باقی  نے  کسی مندر کو توڑ  کر  تعمیر  نہیں کیا گیا۔ اس جھوٹے  دعویٰ کی قلعی نہیں کھلتی کہ  جسے گھڑ کر ہندووں کا جذباتی ا ستحصال کرکے  مسلمانوں کو بدنام کیا گیا۔ مسلمان اگر آخری وقت تک مقدمہ نہ لڑتے تو یہ بھی ثابت نہ ہوتا کہ وہ اپنے دور اقتدار میں بھی  اس قدر روادار تھے کہ انہوں نے اپنی مسجد کے باہر کسی کو عبادت کرنے  سے نہیں روکا۔ رام چرت مانس  کے خالق کالیداس نے رام مندر کے گرائے جانے کا ذکر کیوں نہیں کیا؟ اکبر نورتنوں میں موجود راجہ مان سنگھ، ٹوڈر مل، بیربل اور تان سین میں سے کسی نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا مطالبہ کیوں نہیں کیا ؟ یہ تنازع انگریزوں کے زمانے میں کیوں اٹھا اور انہوں نے بھی ہندو فریق کے مطالبہ کو کیوں خارج کردیا۔ محلمہ آثار قدیمہ (اے ایس آئی) کی رپورٹ سے بھی عدالت نے یہی نتیجہ  اخذ  کیا ہے کہ   مسجد کے نیچے دبے ملبہ کا تعلق ہزاروں سال قدیم وکرمادتیہ کے زمانے سے یا  رام مندر سے  نہیں ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے ہندو فریق کے دوسرے دعویٰ کو بھی مسترد کردیا جس میں کہا گیا تھا کہ 22 دسمبر 1949 کی شب میں مسجد کے اندر سے مورتیاں  اچانک  ظاہر ہوگئیں۔ کورٹ نے بابری مسجد کے اندر  مورتی رکھنے کو عبادت گاہ کی بے حرمتی  کا جرم قرار دیا۔ مورتیوں کے رکھے جانے کی شکایت درج کرانے کے بعد بھی مسلمان  آپس میں مل بیٹھ کر مسئلہ حل کرنا چاہتے تھے لیکن جب نرموہی اکھاڑے نے صحن سے پیر پسار کر مسجد پر دعویٰ ٹھونک دیا تو مسلمانوں کو 1961میں  لامحالہ عدالت کے اندر اپنے دفاع کی خاطرجانا پڑا۔جس نرموہی اکھاڑے کو مسلمانوں نے برداشت کیا آج سنگھ کا نیاس اس کو اکھاڑ پھینکنے  کے فراق میں ہے۔ اس فیصلے نے رام مندر کے تالا کھولنے کا عدالتی حکمنامہ اور مسلمانوں کو مسجد سے بے دخل کیے جانے  کو خلاف ِ قانون  مانا۔ سنہ 1992 میں بابری مسجد کا انہدام کو آئین کی خلاف ورزی  اوروقانونی جرم  قرار دے کر اس کی پرزور مذمت کی اس کے عوض زمین دینے کی تجویز پیش کی۔ یہ مسلمانوں کی حق تلفی  کا  واضح اعتراف  ہے۔

مسلمان اگر  فریب خودرہ دانشوروں اور سادھو سنتوں کے دام  میں آکر  مصالحت کے تحت بابری مسجد کی زمین  ہندو فریق کو دے دیتے تو انہیں  یہ کہنے کا موقع مل جاتا کہ مسلمانوں نے اپنی تاریخی غلطی کو تسلیم کرلیا  ہے۔ مسلم حکمراں ظالم تھے۔ ہندو مندروں کو توڑنا ان کا شیوہ تھا اس لیے انہوں نے رام جنم بھومی کو توڑ کر بابری مسجد تعمیر کی تھی۔ اس طرح ایک ناگردہ گناہ کا طوق ہمیشہ کے مسلمانوں کے گلے پڑ جاتا۔  اس کے ساتھ  کاشی اور متھرا جیسے بے شمار تنازعات کا دروازہ کھل جاتا اور اس کو نذیر بنا کر نہ جانے کس  کس عبادتگاہ کی آڑ میں  نفرت و عناد کا ماحول بنایا جاتا۔ اس موقع پر مولانا ابوالکلا م آزاد کاذرائع ابلاغ  میں گردش کرنے والا تاریخی مکالمہ یاد آتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ دنیا اگر دس ہزار سال یا دس لاکھ سال بھی مزید قائم رہے تو پھر بھی  دو چیزیں ختم نہیں ہوں گی۔ ایک ہندو قوم کی تنگ نظری اور دوسرے مسلمان قوم کی اپنے سچے رہنماوں سے بدگمانی۔ اس جملہ کا پہلا حصہ عدلیہ کے لیے ہے۔ دوسرا حصہ  مداہنت پسند دانشوروں اور نتائج سے مضطرب  ماتم گزیدہ عوام  پر   صادق آتا ہے۔

 بابری مسجد کا فیصلہ شاہد ہے کہ اس مقام پرسیکڑوں سال قبل  جو عبادتگاہ تھی وہ  اذن الٰہی سے کھنڈر بن کر زمین دفن ہوگئی۔ آگے چل اس چٹیل میدان پر  ساڑھے چار سو سال قبل ایک مسجد تعمیر ہوئی۔ ستائیس سال قبل اس کو بزور قوت ڈھا دیا گیا لیکن تاریخ اپنے آپ کو دوہراتی ہے اور ضرور دوہرائے گی۔ ہم نہیں تو ہماری نسلیں  بابری مسجد کو پھر سے تعمیر کریں گی۔ ان شاء اللہ۔ عدالتی فیصلے میں مسلمانوں کے موقف کو تسلیم کرنے کے بعد عدالت کی نے اس قانون کا حوالہ بھی دیا جس کی روُ سے 1947کے بعد کی کسی عبادتگاہ کی حیثیت تبدیل   نہیں کی  جائے گا۔  عدالت میں اپنا موقف رکھنا مسلمانوں کی ذمہ داری تھی لیکن الحمدللہ  مسلمان اس سے آگے بڑھ اسے تسلیم کروانے میں بھی کامیاب ہوگئے۔ اس کےسبب عدالت کو مجبور ہوکر آئین کی دفع 142 کا سہارا لینا پڑا جس کے تحت عدلیہ کو  دلائل شواہد کے علی الرغم فیصلہ سنانے کا اختیار حاصل  ہے۔ ایسا کرکے فریق مخالف کے حق میں فیصلہ سنانا امت کی  نہیں بلکہ عدالت کی شکست ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہم نے اپنی ذمہ داری کامیابی کے ساتھ ادا کی لیکن عدلیہ اپنا وقار بچانے میں ناکام ہوگیا۔ اس کا اعتراف و اعلان  دنیا بھرکے حق پسند کررہے ہیں۔ عدلیہ کے لیےاس موقع پر   مناسب  ترین مشورہ  منورپاشاہ ساحل تماپوری نے  اس شعر میں دیا ہے؎

ترازو توڑ کر پلڑوں کو اب تم طاق  میں رکھ دو

ضرورت کیا ہے تولیں کون ناحق کون حق پر ہے

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button