Sliderقرآنیات

اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہوکر۔۔۔۔

نمرہ انعم شیخ عبدالقدوس

اللہ تعالی کے جتنے بھی برگزیدہ انبیاء اس روئے زمین پر آئے ہیں اللہ نے ان کو الگ الگ معجزات عطا کئے ہیں۔ حضرتِ عیسیؑ کو طاقت دی کہ وہ اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کردیتے تھے اور حضرتِ موسیؑ کو عصا عطا کیا جو کبھی سانپ بن گیا تو کبھی دریا کے دو حصے ہونے کا سبب۔۔۔لیکن یہ سب معجزات ان کے ساتھ ہی اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے اب نہ موسیؑ کا عصا باقی ہے نہ عیسیؑ کی وہ طاقت۔
لیکن سرورِ عالم محمدﷺ کا سب سے بڑا معجزہ قرآنِ حکیم ہمارے پاس موجود ہے اور تا قیامت رہے گا۔اب نہ اس میں ردوبدل ہوگا اور نہ اس کی شریعت منسوخ ہوگی۔
دراصل موضوعِ بحث یہ ہے کہ یہ کتاب مسلمانوں کی اور برادرانِ وطن (غیر مسلم)کی نظروں میں کیا مقام رکھتی ہے۔
مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اس قرآن کو، قرآن خانیوں اور مجلسوں میں پڑھی جانے والی کتاب سمجھتے ہیں۔اور اس قدر ہِل ہِل کر پڑھتے ھیکہ گویا اس کا حق ادا کر رہے ہو۔ اپنے گھر کے سب سے اونچے طاق میں اس کو سجائے رکھتے ہیں۔ اور ہمارے وطنی بھائی عام طور پر اس کو عداوت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔اور جنھیں کچھ اہلِ فکر نے قرآن دیا ہیں وہ اس کو خیر والی کتاب ماننے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔لیکن غیر شعوری طور پر غیر مسلم کی کثیر تعداد اس کو دہشت گردی کی کتاب کہتے ہیں اور اسلام بھی ان کی نظروں میں دہشت گرد مذہب بن جاتا ہے۔ اور یہ سب ان کی قرآن سے عداوت مسلمانوں کے ہی طرزِ عمل کی بدولت ہے۔
مثال کے طور پر کہ قرآن ہمیں خیرِ امت کہتا لیکن اکثر مسلمانوں کے ہی ہاتھ اور زبان سے ان کے غیر مسلم پڑوسی محفوظ نہیں رہتے تو وہ کیونکر مسلمانوں کو اپنا خیر خواہ تسلیم کرے؟؟!!!
قرآن عدل و انصاف کی بات کرتا ہے
اللہ عدل و انصاف اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی اور بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو۔(سورہ النحل)
لیکن مسلمان آ پس میں ہی ایک دوسرے کے ساتھ ناانصافی کرتے ہیں۔ قرآن مسکینوں اور یتیموں کے حقوق یاد دلاتا ہے لیکن جب زکوۃ کی بات آتی ہے تو کچھ لوگ صاحبِ استطاعت ہونے کے باوجود ان کے پاس بہانوں کی کمی نہیں ہوتی۔اور قرآن کہتا ہے۔
یہ صدقات تو دراصل فقیروں اور مسکینوں کے لئے ہیں اور ان لوگوں کے لئے جو صدقات کے کام پر مامور ہو۔(سورہ التوبہ)
ایسی ہی کئی مثالیں مسلم معاشرے میں ملتی ہیں، ایسے معاشرے کو مثالی نہیں کہا جا سکتا۔ اور یہی مسلمانوں کا طرزِ زندگی غیر مسلم عوام کے دلوں میں قرآن کے متعلق غلط فہمیاں ڈال دیتا ہے۔کیونکہ وہ ہمیشہ سے یہی سمجھتے ہیں کہ مسلمان اس کتاب(قرآن) سے اپنی زندگی کے لئے رہنمائی لیتے ہیں۔جبکہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اس کو کھول کر نہیں دیکھتی یا ترجمہ نہیں پڑھتی۔
افسوس کی بات ہے کہ ہم قرآن پر اس طرح عمل نہیں کر رہے ہیں جیسا اس کا حق ہے۔کم از کم ہم اتنا تو کرسکتے ہیں کہ غیر مسلمانوں سے کہے کہ، آپ ہم کو یا ہمارے معاشرے کو دیکھ کر قرآن اور اسلام کو سمجھے کی کوشش نہ کریں بلکہ خود قرآن پڑھیں اور اسلام کا صحیح مطالعہ کریں۔
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآن ہوکر
اس شعر میں سر اقبالؒ کہتے ہیں کہ اللہ کے جو برگزیدہ بندے گزرے ہیں ان کی تعظیم کے لئے اتنا کہنا کافی تھا کہ ہم مسلمان ہے اور ہائے! ہماری بد قسمتی کہ ہم تارکِ قرآن ہونے کے باوجود ذلیل و خوار ہیں۔
اور رسول کہے گا کہ ،”اے میرے ربّ، میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو نشانۂ تضحیک بنالیا تھا۔” (الفرقان)
اب ضرورت ھیکہ ہم اپنے ہم وطن بھائیوں اور بہنوں کے سامنے قرآن کا صحیح تصور پیش کریں اور ان کے دل و دماغ میں جو غلط فہمیاں ہیں انھیں دور کریں لیکن اس کے لئے ضروری ھیکہ قرآن کا داعی خود قرآن سے متاثر ہو تب ہی جس کو دعوت دی جارہی ہے وہ متاثر ہوگا مطلب خود بھی قرآن کا عملی نمونہ بن جائے۔ تاکہ ان کی نظروں میں آپ، آپ کا معاشرہ بھی مثالی ہو ، کتاب بھی مثالی ہو اور مذہب بھی ان کے لئے مثالی بن جائے۔
جزاک اللہ خیر، اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو ۔ آمین
اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات
(علامہ اقبالؒ)
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button