اسلامیات

اَللّهُمَّ بَلِّغْنَا رَمَضَان

مبشرہ فردوس

 

 

اَللّهُمَّ بَلِّغْنَا رَمَضَان

اے اللّٰه ہمیں خیر و عافیت کے ساتھ رمضان تک پہنچادے

يٰٓـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُتِبَ عَلَيۡکُمُ الصِّيَامُ کَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَۙ ۞
ترجمہ:
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کر دیے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیا کے پیروؤں پر فرض کیے گئے تھے اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی،
دنیا و آخرت کی کامیابی کا ضامن ماہِ رمضان المبارک بہت جلد سایہ فگن ہونے والا ہے۔ زندگی باقی رہی تو ایک بار پھر ماہِ المبارک کی رحمتوں، برکتوں کو اپنے دامن میں بھر لینے کا موقع ہمارے ہاتھ آنے والا ہے،
رمضان المبارک کا شایان شان استقبال کرنے کے لئے شعبان سے ہی اپنے آپ کو تیار کیجیے۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کا کافی اہتمام فرماتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت شعبان ہی سے تیز ہواؤں کی طرح ہو جاتی تھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ نبی صلی وسلم سب مہینوں سے زیادہ شعبان کے مہینے میں روزہ رکھا کرتے تھے رمضان جیسا معزز مہمان ہمارے پاس آ گیا ہے مگرہم غفلت میں ہیں رمضان کے استقبال کے لیے تیار نہیں دنیا نے ہمیں غافل کر دیاہے ہم زمین سے چمٹ گئے ہیں گناہوں نے ہمیں بوجھل بنا دیا ہے خطاؤں نے ہمیں تھکا دیا ہے، ہم تاریکی راستے پر چل رہے ہیں ہم گناہوں سے باز نہیں آتے اور متاعِ الغرور کے لئے سرگرداں رہتے ہیں ۔ہمیں اللہ کے راستے کی طرف پلٹنے کی ضرورت ہے اللہ کے روشن راستے پر گامزن ہونے کی ضرورت ہے کیا اب بھی ہمارے لیے اللہ کی طرف پلٹنے کا وقت نہیں آیا کہ ہمارے سخت اور پتھر دل اللہ کے ذکر سے نرم نہیں پڑیں ہے؟
کیا ہماری آنکھوں کے لئے خوف خدا سے آنسو بہانے کا وقت نہیں آیا؟ بلکہ ہم سب حالات حاضرہ سے اچھی طرح واقف ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ آپ رمضان کی تیاری کیسے کریں؟
اپنے اعضاء کو ان تمام باتوں سے روکنے کی تربیت دینا ہے جو اللہ کے غضب کو آواز دیتی ہوں
دل کا روزہ رکھنا یعنی اپنے تمام اقوال و اعمال میں اللہ کی طرف متوجہ رہنا۔حرکات و سکنات اور گفتگو و خاموشی اس کی رضا کے لئے ہو
ایک اچھا طالب علم امتحان سے بہت پہلے اس کی تیاریاں شروع کر دیتا ہے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو رمضان کو پائے اور مغفرت حاصل کریں قابل رشک ہے وہ لوگ جو قرآن سے اپنے تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر کرلیں اور اس کی شفاعت کے حقدار بن جائے،
ہم عید کے چاند دیکھنے کے لئے بے چین نہ ہوں بلکہ ہم کو رمضان کا چاند دیکھنے کے لئے بے چین ہونا چاہیے۔ہمارے اسلاف کے بارے میں آتا ہے جو نبی صلی وسلم کی اطاعت کرتے تھے رمضان کے چھ مہینے پہلے سے دعا کرتے تھے کہ اے اللہ ہم کو رمضان تک پہنچا تاکہ ہم آخرت کا سامان کرلے اور رمضان کے چھ مہینے بعد تک دعا کرتے تھے کہ ہم نے رمضان میں جو عبادتیں کی اس کو قبول فرما ۔
شَهۡرُ رَمَضَانَ الَّذِىۡٓ اُنۡزِلَ فِيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الۡهُدٰى وَالۡفُرۡقَانِۚ
ترجمہ:
رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے، جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں ۔
قرآن ہم کو اس لیے عطا کیا گیا ہے کہ ہم اللہ کی رضا کا راستہ جان کر خود اس پر چلے اور دنیا کو اس پر چلائیں جس طرح ہم رمضان میں عبادتیں کرتے ہیں اسی طرح رمضان کے بعد بھی اسی رفتار سے زندگی کا سفر جاری رکھا جائے تو آخرت کی منزل آسان ہوجائیں گی یعنی انسان کا دل سوچ، انداز، اخلاق و کردار سب کچھ اس طرح بدل جائے گا کہ رمضان کے بعد ایک صالح زندگی کا حاصل بن جائے گا اللہ تعالی اپنے بندوں کے لئے اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ نیک کام کا اجر زیادہ سے زیادہ بڑھا کر دیتا ہے۔
ماہ رمضان کی مشقتوں کو اٹھانے کے لئے جسم کا صحت مند ہونا ضروری ہے اس لیے کسی قسم کی بیماری درپیش ہو تو بروقت دوائی وغیرہ لے کر صحت کو ٹھیک کر لینا چاہیے اپنے آپ کو طاقت ور محسوس کریں ۔بیماریوں کی گنتی نہ کرتے بیٹھے ۔اللہ تعالی طاقت کا دینے والا ہے۔
ہمیں ماہ رمضان کا استقبال کرتے ہوئے دل سے نافرمانی کی توبہ کرنا ہوگا آئیے ہم اللہ کا قرب پالیں ۔اس لیے ہمیں تکبر، حسد، کینہ، بغض، کھوٹ جیسی خراب عادتیں، خصلتیں چھوڑنی ہوگی ۔
ہم اپنے قلب کو اس امر کی تربیت دیں کہ وہ ہر چیز سے بڑھ کر اللہ سے محبت کرلیں ۔ ہمارا دل اپنے پروردگار کی ملاقات کا مشتاق رہے۔ نماز میں مناجات میں ذکر و فکر میں تسبیح استغفار میں ہم ارادہ کر لے کہ رمضان کا پورا وقت اللہ کی رضا حاصل کرنے میں لگائیں گےہمیں ماہ رمضان کا استقبال کرتے ہوئے دل سے نافرمانی کی توبہ کرنا ہوگا آئیے ہم اللہ کا قرب پالیں ۔
رمضان کی تیاری میں ہماری نمازیں بہترین انداز میں ہو ہمیشہ کی نماز سے زیادہ خشوع و خضوع ہو۔ نفل نمازوں کا بھی اہتمام کرے ۔تہجد، چاشت، اوابین، اشراک وغیرہ نوافل پڑھے، استغفار کرے اللہ تعالی کے سامنے روئیں گڑگڑائیں مسلمانوں کی حالت کی درستگی کے لیے دعا کرے امت مسلمہ کی ہدایت کے لیے دعا کریں جن لوگوں تک دعوت پہنچ رہی ہے ان کے لیے دعا کریں کہ اللہ انہیں ہدایت سے نوازے تمام انسانوں کے لیے دعا کرے کہ ان تک اللہ کا دین پہنچے ۔اور ان سب کو ہدایت ملے تمام انسانوں کو اللّٰه جہنم آگ سے بچائے۔ خلوص سے دعا کریں
(آمین)

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button