Sliderفکرونظر

این آر سی اور اُمتِ مسلماں کی ذمےداری

اُمتِ مسلماں کے لئے ضروری ہے کہ عبادتیں بھی کریں،دعائیں بھی مانگيں اور میدانِ عمل میں  ثابت قدم بھی رہیں۔تب ان دعاؤں اور عبادتوں کے ثمرات سے یقیناً فیضیاب ہوسکین گے۔

این آر سی اور اُمتِ مسلماں کی ذمےداری

جمال چشتی

اور نگ آباد ‘ مہاراشٹر

سماج ہمیشہ دو طرح کے مسائل سے دوچار رھتا ھے۔ایک انفرادی دوسرا اجتماعی۔اسلام انفرادی مسائل کے حل کے لئے بھی مکمل رہنمائی کرتا ہے لیکن اجتماعی مسائل جو کہ سماج میں فساد،خون خرابے کا باعث بنتے ہیں۔سماج میں فتنہ پیدا کرتے ہیں۔انکا خصوصیت کے ساتھ،سختی اور فوری حل کی تاکید کرتا ہے۔کیوں کہ یہ مسائل جتنے سماج میں پنپتے ہیں اُتنا ذیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔اور انکے خاتمے کے لئے اُتنا ہی ذیادہ وقت،طاقت اور قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔بطورِ خاص وہ مسائل اور فتنے جو انسانیت اور دین اسلام کی بقاء کے لئے خطرہ بن چُکے ھوں،اسلام نہ صرف  سختی سے اُن مسائل اور فتنوں کا نوٹس لیتا ہے بلکہ انکے خاتمے کے لیے جنگ جیسے اجتماعی عمل کو لازم قرار دیتا ہے۔اور بلا کسی عذر کے ملّت کے اس اجتماعی عمل میں عدم شرکت پر سختی سے باز پرس بھی کرتا ہے یہاں تک کہ سزا بھی دیتا ہے۔ جسکی مثال جنگ تبوک کے موقع پر جنگ میں عدم شرکت کی وجہ سے تین صحابی رسول کو پچاس سے دن کا سوشل بائیکاٹ اور بیوی سے علیحدگی اختیار کرنا پڑی۔اور اللہ کے حضور توبہ کی قبولیت کا وحی آنے تک انتظار کرنا پڑا۔اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام کی نظر میں فتنہ جنگ سے ذیادہ خطرناک ہوتا ہے۔اور اس کے خاتمے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنا ضروری ہیں۔اور اس کے خاتمے کیلئے کی جانے والی ہر اجتماعی کوشش میں ملّت کے افراد کا حصّہ لینا بھی ضروری ہے۔آج پورے بھارت میں مذھب کے نام پر منافرت پھیلانے،ماب لنچینگ،دنگا فساد،پولس کی بربریت خاص کر دین اسلام اور اس کے ماننے والوں کے خلاف طرح طرح کی سازشیں رچی جارہی ہیں۔جس کی جیتی جاگتی مثال این آر سی،سی اے اے،سی اے بی قانون ہیں۔ان فتنہ بردار سازشوں کو ناکام کرنے کی ہر اجتماعی کوشش کا حصّہ بننا امت کے ہر فرد کی ذمےداری ہیں۔ورنہ اس دور اور بھارت جیسے سیکیولر مُلک میں سماجی بائیکاٹ،بیوی سے علیحدگی کا حکم تو کوئی نہیں دیگا۔لیکن یہ بھی یاد رھے کہ توبہ کی قبولیت کے لئے وحی کا سلسلہ بھی ختم ہوچکا ہے اس کوتاہی کا حساب اور جواب تو راست اللہ کے حضور دینا پڑےگا۔اس لیے اُمتِ مسلماں کے لئے ضروری ہے کہ عبادتیں بھی کریں،دعائیں بھی مانگيں اور میدانِ عمل میں  ثابت قدم بھی رہیں۔تب ان دعاؤں اور عبادتوں کے ثمرات سے یقیناً فیضیاب ہوسکین گے۔

جمال چشتی 9890225075

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button