Sliderمسلم دنیا

ایک واقعہ، دو تصویریں

آخر شاہد بدر فلاحی صاحب کی رہائی کیوں کر ممکن ہوسکی؟

محمد شاہد خان

5 ستمبر 2019 کو گجرات پولس شاہد بدر فلاحی صاحب کو گرفتار کرنے ان کے گھر ضلع اعظم گڑھ پہونچی، شاہد بدر فلاحی کا تعلق ایس آئی ایم آف انڈیا  سے رہا ہے۔

2001 میں بھج ضلع گجرات میں زلزلہ سے متاثرین کی امداد وراحت رسانی کے کام میں ایس آئی ایم بھی پیش پیش تھی اور اسی موقع پر شاہد بدر صاحب کی دعوتی نوعیت کی تقریریں بھی ہوئی تھیں۔

انھیں تقریروں کو  بنیاد بناکر ان کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا تھا، لیکن اس عرصے گجرات پولس کی طرف سے انھیں کوئی وارنٹ موصول نہیں ہوا، ویسے تو ان کے خلاف بہت سارے مقدمات پہلے بھی چل رہے تھے جس کی بنا پر  انھیں مختلف جیلوں سمیت تہاڑ جیل بھی جانا پڑا تھا لیکن 2004 میں انھیں تمام مقدمات سے رہا کردیا گیا تھا۔

لیکن برسوں کے بعد اچانک 5 ستمبر کی رات 8 بجے گجرات پولس انھیں گرفتارکرنے ان کے گھر پہونچتی ہے وہ انھیں گرفتار کرکے راتوں رات گجرات لے جانا چاہتی تھی لیکن جیسے ہی اس واقعہ کی خبر ان کے رفقاء کو ہوتی ہے وہ فورا حرکت میں آجاتے ہیں اور وکلاء سمیت تھانے پہونچ جاتے ہیں اور ان کی گرفتاری کی خلاف ڈٹ جاتے ہیں اور پورے دن کی انتھک جدوجہد کے بعد آخر کار ضلع جج سے رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور گجرات پولس کو نامراد واپس لوٹنا پڑتا ہے۔

آخر شاہد بدر فلاحی صاحب کی رہائی کیوں کر ممکن ہوسکی؟

اس کی وجہ اجتماعیت کی قوت ہے ان کا تعلق ایک تنظیم سے رہا ہے ان کی پشت پر جماعتیں اور تحریکیں موجود تھیں، انھیں ایس آئی ایم، جماعت اسلامی، علماء کونسل، وحدت اسلامی اور مقامی لوگوں کا سپورٹ حاصل تھا جس کی وجہ سے ان کی گرفتاری کا یہ عمل ناکام ہوگیا

 یہ تصویر کا ایک رخ ہے لیکن اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر وہ کسی جماعت یا تحریک سے وابستہ نہ ہوتے تو انھیں بھی بہت سارے بے قصور مسلم نوجوانوں کی طرح اٹھاکر جیل میں ٹھونس دیا جاتا جہاں برسوں تک کوئی ان کا پرسان حال نہ ہوتا۔

وقت کی اہم ترین ضرورت :

میں بار بار اپنی تحریروں میں اس بات پر زور دیتا رہا ہوں کہ مسلم نوجوان کو چاہئے کہ وہ  اسٹیٹ لیول پر اور اگر یہ ممکن نہ ہوسکے تو ضلعی یا بلاک کی سطح پر اپنی تنظمیں بنائیں ایک دوسرے کے ساتھ جڑیں، اپنے مقاصد میں بےقصور وں کی امداد، ان کا قانونی دفاع، موب لنچنگ کرنے والوں کا تعاقب جیسے مقاصد کو شامل کریں ہیں، کم از کم سو روپئے ماہانہ فیس متعین کریں، یہ کوئی بہت بڑی رقم نہیں ہے اتنی رقم تو ایک وقت کے چائے پان پر لوگ اُڑا دیتے ہیں، پہلے ممبر سازی کریں، مثلااگر دس گاؤں سے آپ دس دس لوگوں کو جوڑیں ان کے اندر اجتماعی شعور بیدار کریں تو یہ تعداد سو ہوجاتی ہے اگر سو لوگ ماہانہ سوسو روپئے اکٹھا کریں تو ایک ماہ کی آمدنی دس ہزار اور ایک سال کی آمدنی ایک لاکھ بیس ہزار ہوجاتی ہے۔

مہینے میں ایک بار چائے کے بہانے اکٹھا ہوں، ایک دو میٹنگوں کے بعد ہی  آپ کو اس کی اہمیت کا اندازہ ہوجائے گا اور اجتماعیت کی قوت محسوس ہونے لگے گی اور پھر اس میں خود بخود ایندھن کا اضافہ ہونے لگے گا اس عمل سے بے قصوروں کو جیل جانے سے بچایا جاسکتا ہے موب لنچنگ کے شکار افراد خاندان کی امداد کی جاسکتی ہے اور آپ کی اجتماعی قوت سے شرپسندوں کے حوصلے پست ہوسکتے ہیں۔

اجتماعیت کا فقدان:

ہمارے معاشرے میں اجتماعیت کا بڑا فقدان ہے، ہم ایسی کشتی کے سوار ہیں جس کا کوئی ملاح ہی نہیں ہے حالات کے تھپیڑے کشتی کو جدھر چاہتے ہیں ادھر موڑ دیتے ہیں اور ہماری کشتی وقت اور حالات کے بہاؤ پر چلتی رہتی ہے۔

جب کہ وہیں برادران وطن کے پاس سیکڑوں تنظمیں ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ہندتوا کے لئے کام کرتی ہیں

اس کا اندازہ اس ایک واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2019 کے پارلیامانی الیکش میں بنگال میں بی جے پی کے جو کارکنان مارے گئے تھے

ان کے افراد خاندان کو 30 مئی 2019 کی وزارت عظمی کی حلف برداری کی تقریب میں مدعو کیا گیا تھا اور ان کی عزت افزائی کی گئی تھی۔

اسی طرح سے مالیگاؤں بم بلاسٹ اور سمجھوتہ ایکسپریس کے متہمین سے برابر ان کی قیادت جیلوں میں ملتی رہی  اور انھیں مسلسل ہر طرح کا تعاون دیتی رہی، سادھوی پرگیا ٹھاکر اس کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔

اسلام میں اجتماعیت کی بڑی اہمیت ہے، بغیر اجتماعیت اور بغیر امیر کے جینا ایسے ہی ہے جیسے بغیر سر کا انسان۔

حدیث شریف میں آیا ہے کہ

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم اسمعوا وأطيعوا وإن استعمل عليكم عبد حبشي كأن رأسه زبيبة

حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے امیر کی اطاعت کرو چاہے کشمش جیسے سر والے ایک حبشی غلام کو تمہارا امیر کیوں نہ بنادیا جائے ( اس اطاعت کا حکم خدا کی نافرمانی کے باب میں نہیں ہے )

اس حدیث سے اجتماعیت کی اہمیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے

اسی کے ساتھ قرآن کریم میں ’وأمرهم شوري بينهم‘ آپس میں مشورے کا حکم دیا گیا تاکہ امیر غلطیوں سے محفوظ رہے اور امارت تانا شاہی میں نہ تبدیل ہوجائے۔

لیکن ہمارا معاشرہ تنگ نظری اور تنگ دلی کا شکار ہے ہمیں کسی کی قیادت منظور نہیں ہے، ہمیں اپنے سوا ہر ایک پر شک ہے اور بھروسہ کسی پر نہیں اس لیے اس کوتاہی کا جو طبعی انجام   ہے وہ ہمارے سامنے ہے، آج بے شمار معصوم مسلم نوجوان جیلوں کی سلاخوں کی پیچھے زندگی کے بیش قیمتی ایام کاٹ رہے ہیں، اسی اجتماعی تانے بانے کے فقدان کے سبب آج کوئی نوجوان داد شجاعت حاصل نہیں کرپاتا کیونکہ وہ ہمیشہ کے لئے اپنی فیملی کو تکلیفوں کے جہنم میں ڈھکیلنا نہیں چاہتا لیک اگر اجتماعی امداد کی شکلیں ابھرنے لگیں تو قوم میں جیالوں کی کمی نہیں ہے

کیا ہم ان واقعات سے کوئی سبق لینے کو تیار ہیں؟

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button