Sliderجہان خواتین

اے بنتِ حوا سنبھل کے رہنا فریب ہے یہ ،ٹھاس لہجے

اللہ نے عورتوں کے لئے کہا ہے کہ تم اپنے گھروں میں ٹکی رہو کیونکہ تمہارا اصل کام گھر کے اندر ہے نا کہ گھر کے باہر اس لئے بلا وجہ بازاروں کے گشت نا لگاے جائے اور اگر باہر جانا بھی ہو تو اس شان سے نا نکلیں جس شان سے سابق زمانے کی یعنی گزرے زمانے (جہالت کے دور) کی عورتیں نکلا کرتی تھی. (تفہیم القرآن جلد نمبر 4 صفحہ 91 92.)

اے بنتِ حوا سنبھل کے رہنا فریب ہے یہ ،ٹھاس لہجے

فیروزہ تسبیح
چپلون ‘رتنا گیری

مہاراشٹر

اللہ کی مقدس کتاب قرآن مجید میں اللہ سبحانہ و تعالٰی نے مسلمان عورتوں کو یہ ہدایت دی ہے کہ وہ نا محرم سے میٹھی میٹھی باتیں نا کریں . پر آج   ہماری بہنوں کا ہی یہ حال ہے کہ جب وہ کسی دکان پر خریداری کرنے جا تی ہیں تو دوکانداروں سے ایسے لہجے میں ہنس ہنس کے باتیں کرتی ہیں کہ جیسے وہ اجنبی ان کے اپنے کوئی سگے سنبھندی ہو  جب کے وہ نا محرم ہوتے ہیں. افسوس تو تب ہوتا ہے جب  غیر مذہب سے تعلق رکھنے والے دکاندار، بھاجی ترکاری والے اور خاص طور پر رکھشہ والے ہماری مسلمان بہنوں کے بھائی بنے ہوتے ہیں،جن سے عورتیں اس طرح گھل مل جاتی ہیں اور میٹھی میٹھی باتیں کرتی ہیں کہ انہیں یہ بھی خیال نہیں رہتا کہ کوئی انہیں اور ان کی غلط حرکتوں کو دیکھ رہا ہے، غور کر رہا ہے جو حرکتیں بے شک فتنوں کو جنم دیتی ہیں. کوئی ان کے بارے مین کیا سوچ رہا ہے ان باتوں تک کی انہیں پرواہ نہیں ہوتی .رکھشہ والوں کی تو جیسے آج کل فل بکنگ ہی رہتی ہے، کہی جانا ہے تو فون جاتا ہے. بھائی کہاں ہو گھر آ جاؤ کہی جابا ہے. رکھشہ والا حکم کا تابعدار ہے تو گھر پر کھانا بھی بہت کم ہی بنتا ہے موڈ ہوا کے فوراً بلا تاخیر فون جاتا  ہے بھائی بچوں کو چائنیز کھانے کا موڈ  ہوا ہے، تو لے آئیے. اس طرح علاءالدین کے جن کی طرح آرام سے سارا کام بلا تاخیر اور بنا دیر کے  ہو جاتا ہے اس لئے ان سے ایسے ناطہ جڑ جاتا ہے کہ عورتیں انہیں اپنے گھر تک لے جاتی ہیں، (ان بے چاروں کا کیا قصور انہیں اپنے کا موں کی  بھر پور اجرت جو ملتی ہے) ہماری بہنیں ان سے اس طرح پیش آتی ہیں ایسی میٹھی میٹھی بن داشت باتیں کرتی نظر اتی ہیں جیسے وہ ان کا اپنا کوئی محرم کوئی قریبی رشتے دار ہو جب کہ سگے سمبھندیوں کو اہنے خون کے رشتے داروں کو جھٹلایا جاتا ہے، توڑا جاتا ہے، ان سے کترا کر منہ پھیرا جاتا ہے انہیں مطلب پرست، حسد خور کہہ کر اپنے سگے محرم  رشتو ں کو مجروح کیا جاتا ہے اور غیر پر بھروسہ کر کے انہیں اپنے گھر تک لے جایا جاتا ہے. ایک بار جب میں نے اپنی پہچان کی ایک کم عمر خاتون کو ( جن کے شوہر نامدار  روزی روٹی کمانے دیارِ غیر میں مقیم ہے.) ایک بڑے ریسٹورنٹ میں اپنی جوان ہوتی بیٹی اور ایک مرد کے ساتھ ایک ہی ٹیبل پر ناشتہ کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے ان کو وہی پر پوچھ لیا کہ یہ آپ کے ساتھ کون ہے؟  تو انہوں نے جواب دیا یہ ہمارے رکھشہ والے بھائی ہے. سچ کہتی ہوں اس جواب پر اس تعارف پر بہت طیش بھی آیا اور بربادی کی طرف جاتے ہمارے معاشرے کے اس ماحول پر صد ہزار افسوس بھی ہوا. بھلا وہ غیر کیسے بھائی بن سکتا ہے؟ حیرانی کی بات تو یہ کہ وہ خاتون اپنی جوان بیٹی کو ساتھ لے کر ایک رکھشہ والے کے ساتھ ایک ہی ٹیبل پر ناشتہ نوش فرما رہی تھی. کچھ روز بعد وہ خاتون اتفاق سے اپنی والدہ کے ساتھ ہمارے گھر آئی تو میں نے ان کی والدہ کے سامنے ہی وہ بات چھیڑ دی ( اللہ کا حکم  ہے کہ جب تم کچھ غلط دیکھو تو ہاتھ سے اسے روکنے کہ کوشش کرو ہاتھ سے روکنے کی گر طاقت تم میں نہیں ہے تو زبان سے روکنے کی کوشش کرو اور زبان سے بھی نا روک سکو تو پھر دل میں اس عمل کو غلط اور برا سمجھا جاے  اور یہ ایک کمزور پہلو ہے، پرتینوں صورتوں میں بھلائی ہے) میں نے پوچھا ان سے کہ ایک نا محرم کو اور وہ بھی غیر کو آپ کیسے اپنا ہم نشین بنا سکتی ہے؟ (اللہ کا یہ بھی فرنان ہے کہ جب تم کسی نا محرم کے ساتھ رہو تو اس وقت تمہارے محرم کا تمہارے ساتھ رہنا ضروری ہے) اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں آپ اس کے ساتھ بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی جب کہ وہ  ایک رکھشہ چلانے والا مزدور ہے اور آپ نے اسے اپنا بھائی بتلا یا، بھلا وہ آپ کا اتنا قریبی بھائی کیسے ہو گیا جو ہم نشین ہو کر ساتھ ناشتہ کرے؟ یہ  سراسر غلط اور گناہ میں شامل ہے. پھر میں نے اپنے طریقے سے اور حسن سلوک سے انہیں سمجھایا کہ یہ ایک بہت غلط عمل ہے جو سیدھے بدنامی  بربادی  اور فتنوں کو دعوت دیتا ہے. تو یہ ماحول ہے آج ہماری بہنوں کا، جس کی ایک ہی وجہ ہے کہ آج ہماری بہنوں میں دینی تعلیمات اور معلومات کی حد درجہ کمی ہے جب کے وہ اگر قرآن کریم کا اور حدیث کا مطالعہ کرے تو انہیں معلوم ہو کہ اللہ نے عورتوں کو جو ہدایتیں دی ہے ان میں ایک ہدایت یہ  بھی ہے کہ نا محرم سے تعلقات نا بڑھاے جائے اور ان سے میٹھی باتیں نا کی جائے کیونکہ یہ فتنوں کو جنم دیتی ہے اللہ نے عورتوں کے لئے کہا ہے کہ تم اپنے گھروں میں ٹکی رہو کیونکہ تمہارا اصل کام گھر کے اندر ہے نا کہ گھر کے باہر اس لئے بلا وجہ بازاروں کے گشت نا لگاے جائے اور اگر باہر جانا بھی ہو تو اس شان سے نا نکلیں جس شان سے سابق زمانے کی یعنی گزرے زمانے (جہالت کے دور) کی عورتیں نکلا کرتی تھی. (تفہیم القرآن جلد نمبر 4 صفحہ 91 92.) پر آج ہر طرف یہ ہی ماحول نظر آتا ہے کے مرد حضرات دیارِ غیر میں روٹی روزی کے لئے ذریعہ معاش کے لئے گئے ہوئے ہوتےہیں اور ان کی بیویاں گھر کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے بہانے روز اور دن میں کئی بار باہر نکلتی ہیں. یعنی  اللہ کے حکم کی پوری طرح نا فرمانی ہو رہی ہے اور شیطان اپنے پورے شر کے ساتھ  اپنے کام کو بربادی، فتنے اور تباہی کو نبھانے میں مصروف اور خوش ہے خاوند نے دی ہوئی پوری آزادی ان کے ساتھ ہیں. جس کی دو چابیاں ہے ایک سمارٹ فون دوسرے گاڑی (موٹر بائیک) یہ دو چابیوں کے ہونے سے اب تو شیطان کو بھی اپنے تباہی کے کاموں کو کرنے میں زیادہ محنت مشقت نہیں کرنی پڑتی ہے آسانی سے شیطان معاشرے کی ان عورتوں کو اپنی انگلی پر گھماتا نظر آتا ہے جو کسی بھی وقت بازاروں کے چکر یں لگاتی نظر آتی ہے. اب سوال یہ بھی آتا ہے کہ مرد حضرات جو پر دیش میں ہیں انہوں نے اپنی بیویوں کو یہ آزادی کیوں دی ہے؟  جواب آئینہ کی طرح صاف ہے کہ وہ لوگ پردیش میں ذریعہ معاش کے لئے گئے ہوئے ہیں اور جو ان کی ذمہ داریاں ہے مطلب مارکیٹ سے سودا سلف لانا، بچوں کو اسکول پہونچا اور گھر لانا، ٹیوشن کو یاد سے لے جانا اور لانا، بازار کی دوسری ضرورتیں پوری کرنا جیسے الیکٹرک بل، ٹیلی-فون بل، سرگاری کام وغیرہ یہ سارے کام جو گھر کے مرد کے ذمّے ہیں ان کاموں کی ذمہ داری ان کے گھر نا ہونے سے ان کی بیویوں کو کرنی پڑ تی ہیں اس لئے کچھ مرد  حضرات اپنے آپ کو لاچار اور مجبور سمجھ کر اپنی بیوی کو کھلی چھوٹ دیتے ہیں یا تو پھر  کچھ مرد حضرات اپنی بیوی کے کاموں پر فخر محسوس کر کے ا نہیں پوری آزادی دینے ہیں. اسی لئے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے میاں بیوی کو ساتھ زندگی بتانے کا حکم دیا ہے. بے شک اللہ کے احکامات میں اور نبی کی ہدایتوں اور سنتوں میں کئ مصلحتیں پنہاں ہے.
عورتوں کی زندگی پر میں یہ ہی کہوں گی کہ  خوب اجھے کام کرے، ترقی کرے پر اللہ کا خوف اور اس کی کہی گئی ہدایات کو یا د رکھ کر، معاشرے کے دائرے میں رہ کر، کیونکہ عورت صنفِ نازک کہلائ جاتی ہے اور بے شک  ہر دور کے لئے صنف نازک ہی کہلائ جائے گی،ایک خاتون کی عزت و عصمت مثل ایک کانچ کے نازک برتن کی طرح ہے، اور زرا سی لا پرواہی اور بے اعتنائی اس خوب صورت نازک برتن کو چکنا جور کر سکتی ہے. یعنی ایک خوبصورت زندگی کو تباہ و تاراج کر سکتی ہے. اللہ ہمیں اپنی ہدایتوں کی پناہوں میں رکھے آمین.
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
محبتوں کے اساس لہجے

حقیقتوں کے عکاس لہجے

اے بنتِ حوا سنبھل کے رہن

فریب ہیں یہ مٹھاس لہجے

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button