اسلامیات

اے بندے خدا سے مانگ   

خان رحیمہ شہنواز

( بھیونڈی)

      دور جدید میں سائنس کی ترقی اور تکنیکی وسائل کے استعمال  نے پوری دنیا کو گلوبل بنا دیا ہے  اے بندے خدا سے مانگ                                دور جدید میں سائنس کی ترقی اور تکنیکی وسائل کے استعمال نے پوری دنیا کو گلوبل بنا دیا ہے ساری دنیا سمٹ گئیں اور پوری دنیا  ایک خاندان بن گیاہے  ضرورتوں کے استعمال کے لیے آسائیشوں کے انبار لگ گئے ہیں انسان زمین سے فلک کی بلندی اور بحر کی گہرائیوں میں بھی چھلانگ لگانے لگا ہے اسی کامیابی و کامرانی نے ابن آدم کے اندر تکبرو کبریائ  جیسی بیماری کے جراثیم خطرناک پیدا کر دیے ہیں اسی زعم میں انہوں نے فطرت کو بھی مذاق بنا لیا ہے
 ان آسائشوں نے انسان کو بے حیائی بے حسی ظلم و زیادتی انسانیت سے دور برائی کے اندھیرے غار  میں ڈھکیل دیا ہے جس کو شیطان نے خوشنما بنا دیا ہے  اور انسان اپنے منصب اپنی پیدائش کو ہی بھول گیا
 اس وائرس کوڈ 19  نے انسان کو باور کرا دیا کہ وہ ایک  ادنیٰ غلام لاچار اور مجبور و بے بس انسان ہے
 اور قرآن کی اس آیت کو بھی بھول گیا
 "جس نے انسان کو  وہ  سکھایا جسے  وہ نہیں جانتا تھا”( سورہ علق آیت نمبر 5)
 اگر  انسان صرف اپنی پیدائش کے بارے میں غور کریں تو بھی عقلمندی کا ثبوت دے شاید کہ ہمارے پاس سوچنے اور سمجھنے کے لئےوقت ہی نہیں لیکن وقت کی تیز دھارا نے انسانوں کو ساکت و جامد کردیا اور سوچنے پر مجبور کیا کی حکومت و بادشاہت کا مالک صرف وہی واحد ذات ہے جو کائنات کا مالک ہے
 غور کا مقام ہے انسان کے بنائے ہوئے باطل نظام تو بالکل درہم برہم ہو گئے اور زندگی پر سکوت چھا گیا لیکن جب سے دنیا بنی ہے کیا خدا کے نظام میں کوئی تبدیلی ہوئی سورج چاند کے طلوع و غروب میں  یا کیا کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ بارش کا موسم ہے بارش کے ہی گزر گیا ہو ؟اس کا مطلب خدا ہی صاحب قدرت ہے تمام نعمتوں سے نوازنے والا اور تمام مصائبو آفات  سے بچانے والا بھی خدا ہے جو کہ ہماری شہ رگ سے بھی قریب ہے  وہ رب ہے جسے ہماری ساری پریشانیوں کا علم ہے اور دینے کے لئے اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہے
 تو ہمیں ہر حال میں خدا کو ہی پکارنا چاہیے ہمارا یہ حق ہےکہ اپنا خالی دامن اسکے آگے پھیلائیں کسی اور کو اس کا وسیلہ نہ بنائیں اور کسی کی ذات سے امید نہ لگائیں
 "خدا سے مانگ جو کچھ مانگنا ہے اکبر                     یہی وہ در ہے کی ذلت نہیں سوال کے بعد”
 ہمارے رب کی شان کریمی تو دیکھیے بندہ جتنا مانگتا ہے ہمارا  رب اتنا ہی خوش ہوتا ہے
سورہ فاطر میں ہے "انسانوں تم سب اللہ کے محتاج ہو اللہ ہی ہے جو غنی اور بے نیاز اور اچھی صفات والا ہے”
 حدیث شریف میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کی آدمی کو اپنی ساری حاجتیں خدا سے ہی مانگنی چاہیے یہاں تک کہ اگر جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو خدا ہی سے مانگے اور اگر نمک کی ضرورت ہو تو وہ بھی خدا سے ہی مانگے( ترمذی شریف)
 دعا تو مومن کا ہتھیار ہے مومن کی شان ہی یہ ہے کہ  وہ رنج و راحت دکھ تنگی اور خوشحالی ومصیبت  ہو یا  آرام ہر حال میں اللہ کو ہی پکارتا ہے اسی کے سامنے اپنی حاجتیں رکھتا ہے اور برابر اس سے خیر کی دعا کرتا ہے
 اب سوال یہ ہے کہ خدا سے  دعاکیسے مانگے دعا پوری توجہ یکسوئی اور حضور قلب سے مانگے خدا سے اچھی امید رکھیں اپنے گناہوں کے انبار پر نگاہ رکھنے کے بجائے خدا کے بے پایاں عضو و کرم بے حد و حساب جودوسخا پر نظر رکھے ارشاد باری تعالیٰ ہے "ادعوا ربکم تضرعا و خفیہ”
 علامہ اقبال کا ایک شعر ہے
    "کیوں منتیں مانگتا ہے اوروں کے دربار سے اقبال  وہ کون سا کام ہے جو ہوتا نہیں تیرے پروردگار سے”
 جو شخص خدا سے دعا نہیں مانگتا خدا اس پر غضبناک ہوتا ہے اللہ سے دعا ہے کہ ہم تمام مسلمانوں کو شرک و بدعت سے بچائے اور صرف خدا سے ہی دعا مانگنے والا بنائے  (آمین ثم آمین)
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button