قرآنیات

ا ور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

قرآن کریم ہمارے لئے مکمل نظامِ حیات کا دستور پیش کرتا ہے.

منذرہ فرحان

 چپلون ،رتناگیری

اللہ رب العزت نے ہم انسانوں کو لازوال نعمتوں سے نوازا ۔عقلِ سلیم جیسی نعمت عطا کی. اشرف المخلوقات بنا کر زمیں میں خلیفہ و نائب کے منصب پر فائز کیا۔ انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے پہ در پہ رسولوں کے ساتھ آسمانی کتابوں کا بھی نزول کیا. تورات، زبور، انجیل، قرآن مجید مقدس کتابیں رہی ہیں.

قرآن کریم ہمارے لئے مکمل نظامِ حیات کا دستور پیش کرتا ہے. اللہ کے رسول اللہ صل اللہ علیہ السلم کا اسوہ قرآن کا نمونہِ کامل تھا اور اصحابِ رسول میں بھی وہ جھلک نمایاں پائ جاتی تھی. قرآن پر فوری عمل آوری کے نمونے شراب، سود اور پردہ جیسے احکامات سے ظاہر ہوتے ہیں. خود رسول اللہ صل اللہ علیہ السلام نے ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کو مفسر قرآن کہہ کر پکارا. مومن بندوں کی قرآن کی تلاوت سننے کے لئے آسمان سے فرشتے اترا کرتے تھے۔

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن

تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ قرآن کے شیدائی نہ صرف سیاسی طور پر بامِ عروج پر تھے بلکہ عصری، سماجی، معاشی اور علم و فنون میں بھی دنیا کے امام بنے ہوئے تھے۔

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کی آیت میں لفظ حبلِ الله یعنی اللہ کی رسی استعمال کیا ہے۔
واعتصمو بحبل الله جميا ولا تفرقو ۔ ( ال عمران:103)
اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو ۔

قرآن کا ایک سرا تو اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا ہمارے ہاتھوں میں. پس دنیا و آخرت میں اللہ کی رحمت حاصل کرنے کا واحد ذریعہ قرآن ہے۔

جب مسلمان نے قرآن سے دوری اختیار کی تو اس کے زوال کے دن شروع ہو گئے۔ دین سے دوری کی بنا پر تنزلی کے گڑھے میں گرتے چلے گئے۔ رفتہ رفتہ امامت کے ساتھ ساتھ ذہنی، فکری، انتشار اور اخلاقی گراوٹ کا شکار بنتا گیا. یہاں تک کہ خلیفہ کے بجائے غلامی و اسیری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا ۔

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا

قرآن کو نصیحت و تنبیہ کا ذریعہ بنانے کے بجائے خیر و برکت والی کتاب بنا لیا. دورِ حاضر میں مسلمانوں کا قرآن سے تعلق رسماً رہ گیا ہے. قرآن کو پڑھنے اور اپنے گھر میں رکھنے کو باعثِ ثواب سمجھنے لگے ۔
مومن اپنے بنیادی مقصد کو بھلا بیٹھا ۔ امر بالمعروف اور نہیں ان المنکر کا جذبہ ماند پڑ گیا ۔ حق و باطل کی کسوٹی اور ایمان کی روح باقی نہ رہی۔جب مشعلِ راہ گم ہو گئی تو اندھیروں میں در بدر کی ٹھوکریں کھانے لگا۔آج فلسطین میں اسرائیلی فوج مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح شہید کر رہی ہے،حالیہ چند دنوں پہلے کشمیر میں آرٹیکل 370 کو ہٹا کر مسلمانوں کو زدکوب کیا گیا، دنیا کے مختلف ممالکوں میں بے قصور مسلمانوں کا بے دریغ خون بہہ رہا ہے
شاعر ہمارے دردبھرے مناظر کو دیکھتے ہوئے کہ رہا ہے،
تو ریگستان کے ذروں میں پھر آب پیدا کر
مٹا دے ظلم کی بستی جگر میں تاب پیدا کر
جو معصوم لاش بکھری ہے یہاں ننھے پھولوں کی
انھی پھولوں میں سے کوئی عمر بن خطاب پیدا کر

اللہ کے رسول اللہ صل اللہ علیہ السلام نے فرمایا تھا ان دو چیزوں کو تھامے رہو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے، اللہ کی کتاب اور میری سنت-

دورِ حاضر میں ہم مغربی طرزِ زندگی کو اپناتے ہوئے اتنے آگے بڑھ گئے کہ گم کردہ راہ ہو گئے. ہم غالب سے مغلوب بن کر رہ گئے- ہم نے اپنے رہنماؤں و قائدین کی ان قربانیوں کو فراموش کر دیا جو انھوں نے مصر، روم، ایلیا کو فتح کرنے میں لگائی تھی. ہم نے اس سالار کے جذبے کو بھلا دیا جس کی ایک للکار "انا فارس الضدید، انا خالد بن الوليد” سے دشمن کا لشکر کانپ جاتا. ہم نے ان شہیدوں کے خون کو رائیگاں جانے دیا جو انہوں نے اسلام کی وسعت کے لیے بہایا تھا-

بقول شاعرِ مشرق علامہ اقبال،
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمین پر آسماں نے ہم کو دے مارا-

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں پھر سے حقیقی معنوں میں مسلمان بنائے، قرآن سے گہرا تعلق رکھنے، اللہ کے دین کو زمین پر نافذ کرنے اور اقامتِ دین کا کام کرنے میں ہماری مدد فرمائے۔
آمین ثم آمین

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button