Sliderاحادیثاسلامی تحقیقات

بعض احادیث پر اشکالات

دین کی کسی تعلیم کے فہم کے لیے محض ایک حدیث پر انحصار کافی نہیں ہے۔

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

سوال:

دواحادیث پر کچھ اشکالات پیدا ہورہے ہیں، بہ راہِ کرم تشفی بخش جواب سے نوازیں

﴿۱﴾ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘اگر میں اللہ تعالیٰ کے سِوا کسی کے لیے سجدے کاحکم دیتا تو بیوی کو حکم دیتاکہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔’’ ﴿ابوداؤد﴾

اس حدیث پر درج ذیل اشکالات پیدا ہورہے ہیں:

الف:یہ حدیث اسلام کے تصورِ توحید کے منافی ہے۔

ب:ہندوؤں کے یہاں عورت کا تصور ہے کہ وہ شوہر کی داسی ہے۔ پتی ورتا ہونا اس کا دھرم ہے اور پتی ورتا کے معنیٰ یہ ہیں کہ شوہر اس کا معبود اور دیوتا ہے۔ اس حدیث سے بھی یہی تصور ابھرتا ہے۔

ج:یہ حدیث قرآن کی اس تعلیم کے خلاف ہے : ‘‘اللہ نے تم کو ایک نفس سے پیدا کیا اور اس کی جنس سے اس کے جوڑے کو پیدا کیا۔’’ ﴿النسائ: ۱﴾

د:اس حدیث سے عورت کی تذلیل و توہین معلوم ہوتی ہے۔

﴿۲﴾ایک حدیث ہے کہ حضرت سہیل بن سعدؓ روایت کرتے ہیں : ‘‘میں کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھاہواتھا کہ ایک عورت آئی اور اس نے عرض کیا: ’اے اللہ کے رسولﷺمیں اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کرتی ہوں۔‘ آپﷺنے اسے کوئی جواب نہیں دیا۔ کچھ دیر کے بعد ایک شخص نے اٹھ کر عرض کیا: ’اے اللہ کے رسولﷺآپﷺاس سے میرا نکاح کرادیجیے۔‘ آپﷺنے فرمایا: ’کیا تمھارے پاس کوئی چیز ہے؟ ﴿یعنی اسے مہرمیں کیا دوگے؟﴾‘ اس نے کہا: ’کچھ بھی نہیں۔‘ آپﷺنے فرمایا: ’جاکر تلاش کرو،کچھ نہیں تو لوہے کی انگوٹھی سہی۔‘ اس نے جاکر ڈھونڈا اور کچھ دیر کے بعد واپس آکر کہا۔ ’حضورﷺمجھے کوئی چیز نہیں ملی، یہاں تک کہ لوہے کی انگوٹھی بھی مہیّا نہیں کرسکاہوں، البتّہ میرا یہ تہبند حاضر ہے۔ اس عورت کو میں آدھا تہبند دے دوںگا۔‘ آپﷺنے فرمایا: ’تیرا یہ تہبند کس کام کا؟، اگر اسے تو پہنے گا تو تیری بیوی برہنہ ہوجائے گی اور اگر اسے اس نے پہنا تو پھر تم کیا پہنوگے؟‘ پھر آپﷺنے اس سے فرمایا: ’تمھیں قرآن کاکچھ حصہ یاد ہے؟ ‘وہ بولا: ’ہاں! فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں۔‘ آپﷺنے فرمایا: ’جاؤ، میں نے قرآن کی ان سورتوں کے بدلے اس عورت سے تمھارا نکاح کردیا۔‘ ﴿بخاری ومسلم﴾

اس حدیث پر کئی اشکالات وارد ہوتے ہیں:

۱-عورت نے اپنے آپ کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کیاتھا۔ آپﷺکی خاموشی کے بعد حاضرین میں سے کسی شخص کا خواہش نکاح ناقابل فہم ہے۔

۲-عورت کی رائے معلوم کیے بغیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کااس سلسلے کو آگے بڑھانا کیسے ممکن ہے؟

۳-مہر جو مرد پر فرض ہے اور عورت کا حق ہے، اس کو لوہے کی انگوٹھی جیسی حقیر چیز پر محمول کرنے کی کیا شریعت اجازت دیتی ہے؟

۴-اس شخص کا مہر میں تہبندپیش کرنا، اس سے زیادہ بیہودہ مذاق اور کیا ہوسکتا ہے؟

۵-اگر موصوف اس قدر مفلس تھے تو وہ اپنی بیوی کا نفقہ کس طرح ادا کرسکتے تھے؟ ایسے شخص کے لیے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی

یہ تعلیم ہے کہ : ‘’جو شخص نکاح کی ذمے داریاں ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ روزہ رکھے، کیوں کہ یہ اس کے شہوانی جذبات کو کم کردے گا۔’’ ﴿بخاری ومسلم﴾

۶-کیا ان حالات میں مہر مؤجّل پر عمل نہیں کیاجاسکتاتھا؟

جواب :

احادیث کامطالعہ کرتے وقت درج ذیل باتوں کو ضرور اپنے پیش نظر رکھناچاہیے

۱-کوئی حدیث اگر متعدد کتبِ حدیث میں مروی ہو اور صحیح سندوں سے ثابت ہوتو اس کے بارے میں توجیہ و تاویل کا ذہن بناناچاہیے، نہ کہ اس پر اشکالات وارد کرنے کا۔ محدثین نے احادیث کی چھان پھٹک میں غیرمعمولی محنت کی ہے۔ انھوں نے روایت اور ورایت دونوں پہلوؤں سے احادیث کو پرکھاہے اور متعین اصول و ضوابط کی روشنی میں صحیح، ضعیف اور موضوع روایات کو الگ الگ کردیا ہے۔

۲-دین کی کسی تعلیم کے فہم کے لیے محض ایک حدیث پر انحصار کافی نہیں ہے۔ بلکہ اس موضوع کی دوسری احادیث کوبھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ سب کو سامنے رکھ کر ہی صحیح نتیجہ مستنبط کیاجاسکتا ہے۔

۳-کسی حدیث میں کوئی واقعہ مذکور ہوتو اس میںواقعے کی تمام جزئیات کی صراحت نہیں ہوتی۔ کچھ باتیںبین السطور، سیاق اور حالات سے مستنبط کرنی ہوتی ہیں۔ محدثین بھی بسااوقات ایک حدیث کا صرف متعلقہ حصہ ایک جگہ روایت کرتے ہیں، اس کے دوسرے حصے دوسرے مقامات پر نقل کرتے ہیں۔ اس لیے اگر کسی حدیث میںواقعے کاکوئی جزئیہ مذکور نہ ہوتو اس کابالکلیہ انکار صحیح نہ ہوگا۔ جب تک کہ اس حدیث کے تمام اجزائ اکٹھاکرکے بالاستیصاب ان کامطالعہ نہ کرلیاجائے۔

درج بالا سوال کی پہلی حدیث متعدد صحابۂ کرام سے حدیث کی مختلف کتابوں میں مروی ہے۔ مثلاًحضرت ابوہریرہؓ ﴿ترمذی﴾ ، حضرت قیس بن سعدؓ ﴿ابوداؤد﴾، حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰؓ ﴿ابن ماجہ﴾، حضرت طلق بن علیؓ ﴿ترمذی و نسائی﴾، حضرت ام سلمہؓ ﴿ترمذی و ابن ماجہ﴾، حضرت عائشہؓ ﴿ابن ماجہ واحمد﴾، حضرت معاذ بن جبلؓ ﴿احمد وبزار﴾، حضرت سراقہ بن مالکؓ ﴿طبرانی﴾، حضرت بریدۃؓ ﴿حاکم﴾ اور حضرت ابن عباسؓ ﴿بزار﴾ وغیرہ۔ ان میں سے کچھ صحیح سندوں سے مروی ہیں، کچھ حسن اور کچھ ضعیف ہیں۔ لیکن ان کے بارے میں علامہ شوکانی نے لکھا ہے: ھذہ أحادیث یشھد بعضہالبعض ویقوی بعضہا بعضاً۔ نیل الاوطار، طبع مصر،۶/۱۶۳-۲۶۳ ﴿شواہد کی بنا پر یہ احادیث قوی ہوجاتی ہیں﴾

یہ کہناصحیح نہیں کہ یہ حدیث اسلام کے تصور توحید کے منافی ہے۔ یہ اسلام کے تصّورِ توحید کے منافی اس وقت ہوتی، جب عورت کو حکم دیاجاتاکہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ علامہ مناویؒ لکھتے ہیں: فیہ تعلیق الشرط بالمحال وأخبرالمصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان ذالک لایکون۔ فیض القدیر، ۵/۳۲۹ ﴿اس میں شرط کو محال پر معلّق کیاگیاہے اور آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ ایسا حکم نہیں دیاگیاہے﴾ احادیث میں یہ اسلوب عام ہے۔ حضرت عمر بن الخطابؓ کے مناقب میں ایک حدیث مروی ہے: لوکان بعدی نبی لکان عمر۔ ترمذی:۳۶۸۶ ﴿اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتے﴾ اس کامطلب یہ نہیں کہ حضورﷺنے حضرت عمر ؓ کی نبوت کی پیشین گوئی کی تھی۔ مسلیمہ کذّاب کے نمائندوں سے آپﷺنے فرمایا: لولا أنّ الرسل لاتقتل لضربتُ أعناقکما۔ ابوداؤد:۲۷۶۱﴿اگر سفیروں کو قتل نہ کیے جانے کاضابطہ نہ ہوتا تو میں تم دونوں کی گردنیں اڑادیتا﴾ اس کامطلب یہ نہیں کہ سفیروں کو قتل کرناجائز ہے۔ایک مشکوک کردار والی عورت کے بارے میں آپﷺنے فرمایا: لَورَجَمْتُ اَحَداً بِغَیْرِ بَیَّنَۃٍ لَرَجَمْتُ ہٰذِہٰ۔بخاری:۵۳۱۶﴿اگر بغیر کسی ثبوت کے میں کسی کو سنگسار کرتا تو اسے کردیتا﴾ اس کامطلب یہ نہیں کہ بغیر کسی ثبوت کے حدجاری کردینا جائز ہے۔ اسی طرح زیربحث حدیث کا بھی مطلب یہ نہیں ہے کہ عورت کو حکم دیاگیا ہے کہ وہ شوہر کو سجدہ کرے۔

یہ کہنا بھی صحیح نہیں کہ اس حدیث سے ہندوؤں کے عقیدے کی طرح شوہر کو دیوتا اور بھگوان سمجھنے کا تصور ابھرتا ہے۔ اس حدیث کاصحیح مفہوم سمجھنے کے لیے بعض ان روایتوں کو نظرمیں رکھنا ضروری ہے، جن میں حدیث کا پس منظر بھی مذکور ہے۔ ابوداؤد﴿۲۱۴۰﴾ کی روایت میں حضرت قیس بن سعدؓ فرماتے ہیں: میں حیرہ گیاتو وہاں دیکھاکہ لوگ اپنے مذہبی پیشوا کو سجدے کرتے ہیں۔ میرے جی میں آیاکہ اس سجدۂ تعظیمی کے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ مستحق ہیں۔ آپﷺکی خدمت میں حاضر ہوکر یہ واقعہ اور اپنے خیال کا اظہار کیا۔ تب آپﷺنے یہ بات فرمائی۔ ابن ماجہ ﴿۱۸۵۳﴾ میں ہے کہ حضرت معاذ بن جبلؓ نے اپنے سفرِ شام میں عیسائیوں کو اپنے پادریوں کے ساتھ ایسا کرتے ہوئے دیکھاتھا۔ واپس آکر انھوں نے بھی حضرت قیسؓ کی طرح اپنی خواہش کااظہار کیا تب آپﷺنے یہ بات فرمائی۔ حدیث سے کیا مستنبط ہوتاہے؟ علامہ مناویؒ کے الفاظ میں ملاحظہ کیجیے۔ فرماتے ہیں: مقصودالحدیث الحث علی عدم عصیان العشیر والتحذیر من مخالفۃ ووجوب شکر نعمۃ فیض القدیر۔۵/۳۲۹ حدیث میں اس بات پر ابھاراگیا ہے کہ شوہر کی نافرمانی نہ کی جائے، اس کی مخالفت سے منع کیاگیا ہے اور اس کی طرف سے حاصل سہولتوں پر شکر ادا کرنے کو لازم کیاگیا ہے۔ دوسری جگہ فرماتے ہیں: فیہ تاکید حق الزوج وحث علی مایجب من برّہ و وفائ عہدہ والقیام بحقہ، ولہن علی الأزواج ماللرجال علیہِنّ﴿حوالہ سابق ﴾اس حدیث میں شوہر کے حق پر زور دیاگیاہے اور اس پر ابھاراگیا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے، اس کے عہد کو پورا کیاجائے اور اس کے حقوق ادا کیے جائیں۔ البتہ عورتوں کے بھی شوہروں پر ویسے ہی حقوق ہیں جیسے شوہروں کے ان پر ہیں۔ مولاناعبدالرحمن مبارک پوری نے لکھاہے: فی ہذاالمبالغۃ لوجوب اطاعۃ المرأۃ فی حق زوجہا۔ تحفۃ الأحوذی شرح ترمذی، مکتبہ اشرفیہ دیوبند، ۴/۲۷۲ اس میںبڑے مبالغہ سے یہ بات کہی گئی ہے کہ شوہر کے حق میں عورت کی اطاعت واجب ہے﴾۔

یہ صحیح ہے کہ اسلام میں مردوں اور عورتوں کے درمیان کامل مساوات رکھی گئی ہے۔ ان کے انسانی حقوق برابر ہیں۔ ان کے سماجی حقوق میں بھی کوئی امتیاز نہیں برتاگیاہے۔ بارگاہِ الٰہی میں اعمال کی جزا کے معاملے میں بھی کوئی فرق نہیں کیاگیا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ نظامِ خاندان میں شوہر کو بیوی پر یک گونہ برتری دی گئی ہے۔ اسے گھر کاسربراہ بنایاگیا ہے اور بیوی کو اس کی اطاعت کا حکم دیاگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْْہِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْْہِنَّ دَرَجَۃٌ ﴿البقرہ:۳۲۸﴾

‘‘عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں، البتہ مردوں کو ان پر ایک ﴿برتر﴾ درجہ حاصل ہے۔’’

اس آیت کی تشریح میں مفسرین نے صراحت کی ہے کہ اطاعت میں اللہ کی اطاعت کے ساتھ شوہر کی اطاعت بھی شامل ہے۔ ﴿تفسیر طبری، ۸/۲۹۴، البحرالمحیط الابی حبان، ۳/۳۳۷﴾

یہ تصور کہ مرد اور عورت کے درمیان ہر معاملے میں مساوات اور یکسانی ہے، حتیٰ کہ نظامِ خاندان میں بھی شوہر کو بیوی پر کوئی برتری نہیں اور بیوی سے شوہر کی اطاعت کامطالبہ کرنا اس کی توہین و تذلیل ہے۔ یہ اصلاً مغربی تصور ہے، جو اسلامی تعلیمات سے میل نہیں کھاتا۔

رہی دوسری حدیث تو اس پر بھی غورو خوض صحیح تناظر میں نہیں کیاگیا ہے۔ اس حدیث سے واضح ہوتاہے کہ اسلام میں جائز طریقے سے جنسی خواہش پوری کرنے کے لیے نکاح کو مشروع کیاگیاہے اور اسے زیادہ سے زیادہ آسان بنایاگیا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ نکاح میں عورت کی مرضی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اسے اختیار ہے کہ جس شخص کی چاہے نکاح کی پیش کش قبول کرلے۔ خواہ اس کی جو بھی سماجی حیثیت ہو اور اس کی معاشی تگ ودو کا جو بھی حال ہو۔ لیکن اگر عورت تیار نہ ہوتو اسے مجبور نہیں کیاجاسکتا۔ ان بنیادی نکتوں کی طرف تو سائل کی توجہ مبذول نہ ہوسکی، دوسرے اشکالات ذہن میںابھر آئے۔

یہ حدیث بخاری ﴿۵۱۲۱﴾، مسلم ﴿۱۴۲۵﴾، ابوداؤد﴿۲۱۱۱﴾، ترمذی ﴿۱۱۱۴﴾، نسائی ﴿۳۳۳۹﴾ اور موطا امام مالک ﴿۲۲۶۷﴾ میں مروی ہے۔ امام بخاریؒ نے اس کے اجزائ چودہ مقامات پر روایت کیے ہیں اور اس سے مختلف استنباطات کیے ہیں۔ چند استنباطات ملاحظہ ہوں:

–             ۲۳۱۰، کتاب لِوَکَالَتِہٰ باب وکالۃ المرأۃ الامام فی النکاح یعنی سربراہِ حکومت نکاح میں عورت کا وکیل بن سکتا ہے۔

–             ۵۰۷۱، کتاب النکاح باب ترویج المعسر الذی معہ القرآن والسلام یعنی اس غریب شخص کانکاح کرادینا چاہیے جسے قرآن کی سورتیں یاد ہوں اور وہ مسلمان ہو۔

–             ۵۰۸۷، کتاب النکاح ، باب ترویج المعسر لقولہ تعالیٰ اِنْ یَّکُوْنُوا فُقَرَائ یُغْنِہِمُ اللّٰہُ مِن فَضْلِٰ یعنی غریب شخص کانکاح کرادینا چاہیے، اس لیے کہ اللہ نے فرمایاہے اگر وہ غریب ہیں تو بعید نہیں کہ اللہ انھیں اپنے فضل سے مال دار کردے۔

–             ۵۱۲۱، کتاب النکاح، باب عرض المرأۃ نفسہا علی الرجل الصالح، یعنی عورت نیک مرد سے نکاح کی پیش کش کرسکتی ہے۔

–             ۵۱۲۶، کتاب النکاح، باب النظرالی المرأۃ قبل الترویج، یعنی نکاح سے قبل عورت کو دیکھاجاسکتا ہے۔

–             ۵۱۹۴، کتاب النکاح، باب الترویج علی القرآن وبغیر صداق یعنی شوہر کو قرآن یاد ہونے پر ، بغیر مہر کے عورت کا نکاح اس سے کیاجاسکتا ہے۔

–             ۵۱۵۰، کتاب النکاح، باب المھر بالعروض و خاتم من حدید، یعنی مہر کوئی سامان بھی ہوسکتا ہے، خواہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہو۔

اب ایک نظراشکالات پر ڈال لینا مناسب ہے۔

یہ اشکال بے معنیٰ ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس عورت سے نکاح کرنا نہیں چاہتے تھے تو اس کی مرضی معلوم کیے بغیر دوسرے شخص سے اس کا نکاح کیوں کرادیا؟ ایک روایت میں تفصیل ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس عورت کی پیش کش پر خاموش رہے تو وہ مجلس میں رکی رہی۔ تھوڑی دیر کے بعد اس نے پھر اپنی بات دہرائی، آپﷺپھر بھی خاموش رہے۔ کچھ دیر کے بعد اس نے تیسری مرتبہ اپنی پیش کش دہرائی۔ آپﷺنے اس بار بھی کچھ نہیں فرمایا۔ بعض روایات میں ہے کہ آپﷺنے صراحت سے معذرت کردی تھی ﴿مالی فی النسائ من حاجۃ۔ بخاری۵۰۲۹، مجھے اس وقت نکاح کی ضرورت نہیں﴾اس کے باوجود عورت وہاں سے نہیں گئی تھی۔ ﴿بخاری:۵۱۴۹﴾ اس لیے ایک صحابی نے اس سے نکاح کی خواہش ظاہر کی۔ اس پر وہ عورت خاموش رہی، آپﷺنے اس آدمی سے دریافت کیا: مہر میں کیا دوگے؟ اس نے کہا: میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ آپﷺنے اسے بھیجاکہ وہ کچھ لے کرآئے۔ وہ کچھ دیر کے بعد خالی ہاتھ واپس لوٹ آیا۔ اس عرصے میں وہ عورت وہیں بیٹھی رہی اور یہ واضح ہوجانے کے باوجود کہ یہ صاحب بالکل مفلس ہیں، اس سے نکاح پر اپنی عدم رضا کااظہار نہیں کیا۔ یہ صحیح ہے کہ حدیث میں صراحت نہیں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مرحلے پر عورت کی رائے معلوم کی ہو، لیکن قرینہ واضح دلیل ہے کہ ہر مرحلے پر عورت کی خاموشی اس کی رضا کی دلیل تھی۔ جو عورت بھری مجلس میں اپنے نکاح کی خواہش کااظہار کرسکتی تھی وہ رشتہ پسند نہ آنے کی صورت میں صراحت سے انکار کرنے پر بھی قادر تھی۔ اس کا خاموشی سے بیٹھے رہنا، سلسلے کو آگے بڑھتے دیکھتے رہنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کرادینے کے بعد خاموشی سے اس آدمی کے ساتھ چلے جانا ، اس کی رضا کی دلیل اور آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھرپور اعتماد کامظہر تھا۔

شریعت میں مہر کی کیاحیثیت ہے؟ اس کی مشروعیت کی کیا حکمت ہے؟ اور اس کی کم از کم مقدار کیا ہوسکتی ہے؟ علمائ نے اس پر طویل اور دقیق بحثیں کی ہیں۔ انھوںنے قرآن کے بیانات اور اس موضوع پر مختلف احادیث کو سامنے رکھ کر استنباطات کیے ہیں۔ ان کے نتائج فکر میں اختلاف ہوا ہے۔ فقہائے اربعہ میں امام شافعی اور امام احمدﷺکے نزدیک کم سے کم مالیت کی کوئی بھی چیز مہر بن سکتی ہے۔ امام مالکؒ کے نزدیک اس کی مالیت کم سے کم تین درہم اور امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک دس درہم ہونی چاہیے۔ اس موضوع پر تفصیل کے لیے کتب فقہ سے رجوع کرناچاہیے۔ لیکن احادیث سے بہ ہرحال یہ ثابت ہے کہ عہدنبوی میں نہ صرف یہ کہ کم سے کم مالیت کی اور حقیر سے حقیر چیز کو بھی مہر سمجھ لیاگیا۔ زیربحث واقعہ کے علاوہ حضرت ام سلیم ؓ کا واقعہ مشہور ہے۔ انھیں ابوطلحہؓ نے نکاح کاپیغام دیا۔ اس وقت تک وہ اسلام نہیں لائے تھے۔ حضرت ام سلیم نے جواب دیا: اے ابوطلحہؓ ! آپ جیسوں کی پیش کش رد نہیں کی جاتی، لیکن آپ کافر ہیں اور میں مسلمان، اس لیے ہمارے درمیان نکاح نہیں ہوسکتا۔ اگر آپ اسلام لے آئیں تو یہی میرا مہر ہوگا، میں آپ سے اور کچھ نہ مانگوںگی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ابوطلحہؓ نے اسلام قبول کرلیا۔ دونوں کے درمیان نکاح ہوگیا۔ اور ابوطلحہؓ کا قبول اسلام انھی ام سلیم کا مہر قرار پایا۔ ﴿نسائی:۳۳۴۰﴾

زیربحث حدیث میں یہ بھی ہے کہ ‘‘جب آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی سے کہاکہ مہر کے نام پر کچھ بھی لے آؤ تو اس نے کہا: ‘’میرے پاس بس یہ تہبند ہے، اس کا نصف میں دے سکتا ہوں۔‘‘ اسے بیہودہ مذاق وہی لوگ قرار دے سکتے ہیں جو کوٹھیوں میں رہتے ہوں، بینک بیلنس کے مالک ہوں اور جنھیں اپنے سوٹوں کی گنتی بھی یاد نہ رہتی ہو۔ لیکن جن لوگوں کی نظر صحابۂ کرام کی معاشرتی ومعاشی زندگی پر ہو وہ اسے حقیقت پر محمول کریںگے۔ صحابۂ کرام کی بڑی تعداد ایسی تھی، جو انتہائی غربت کی حالت میں زندگی گزارتی تھی۔ بسااوقات فاقوں کی نوبت آجاتی تھی۔ ان کے جسموں پر پورے کپڑے نہ ہوتے تھے۔ اسی بنا پر مجلسوں میں شرم کے مارے وہ دوسروں کی اوٹ لینے کی کوشش کرتے تھے۔ حضرت ابوسعید خدریؓ کہتے ہیں: جلستُ فی عصابۃٍ من ضعفائ المہاجرین و ان بعضہم یستترببعضٍ من العربی۔ ابوداؤد:۳۲۶۶ ﴿میں ایسے غریب مہاجرین کی جماعتوں کے ساتھ بیٹھاہوں جو برہنگی کے سبب ایک دوسرے کی اوٹ لیتے تھے﴾ زیربحث حدیث کے راوی حضڑت سہلؓ جب یہ بیان کرتے ہیں کہ اس شخص نے اپنا تہبند دے دینے کی پیش کش کی تو ساتھ ہی یہ بھی صراحت کرتے ہیں کہ اس کے پاس چادر نہیں تھی۔ ﴿بخاری: ۵۱۲۱﴾ گویا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر اس کے پاس چادر ہوتی تو وہ تہبند کے بجائے چادر دینے کی بات کہتا۔ ایک روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس سے کہاتھا: اَعْطِہَاثَوْباً۔ بخاری:۵۰۲۹﴿اسے مہر میں کوئی کپڑا دے دو﴾ تب اس نے تہبند دینے کی بات کہی تھی۔

نفقہ کو مہر پر قیاس کرنا صحیح نہیں۔ کوئی شخص کھانے پینے سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔ اور جب وہ اپنا انتظام کرسکتاہے تو اپنی بیوی کا بھی کرسکتا ہے۔ نکاح کی ذمّے داری ادا نہ کرسکنے کی صورت میں روزہ واجب نہیں محض ایک تدبیر ہے اور روزہ چوبیس گھنٹے کا نہیں ہوتا۔ اس صورت میں بھی کھانے پینے کا انتظام تو کرنا ہی پڑے گا۔ لیکن اس واقعے میں قابلِ غور یہ بنیادی نکتہ ہے کہ اگر کوئی عورت اس قدر مفلس شخص کے ساتھ نکاح کرنے اور اس کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارنے پر رضامند ہے تو دوسرے کسی شخص کو اس کے ساتھ ہم دردی جتانے اور اس مفلس شخص کو اس سے نکاح کرنے سے روکنے کاکیا حق پہنچتا ہے۔

شریعت میں مہرمعجّل ﴿فوری طورپر قابلِ ادا مہر﴾ اور مہر مؤجّل ﴿بعد میں قابلِ ادا مہر﴾ دونوں صورتیں بتائی گئی ہے۔ لیکن ہندستانی مسلم معاشرے میں عموماً مہر مؤجل کی جو صورت اختیار کرلی گئی ہے وہ شریعت کا مذاق ہے۔ اس کامطلب یہ سمجھ لیاگیا ہے کہ اسے کبھی نہیں ادا کرنا ہے۔ اگر سمجھانہیں گیاہے تو عمل بہ ہرحال اسی پر ہے۔ شریعت میں مہرمعجّل کو پسندیدہ قرار دیاگیا ہے۔ صحابۂ کرام کا اسی پر عمل تھا۔ ان کے نزدیک اس کاکوئی تصور ہی نہیں تھا کہ کوئی شخص نکاح کرلے اور ادا مہر کو آیندہ کے لیے ٹال دے۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button