Sliderجہان کتب

بوہرہ: عقائد اور تاریخ

اردو زبان میں بوہرہ کے بارے میں معلومات کا فقدان ہے۔ اس لحاظ سے اس کتاب کی اہمیت بڑھ گئی ہے اور اسے دستاویزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔

محمد اسعد فلاحی

(معاون شعبۂ اسلامی معاشرہ جماعت اسلامی ہند)

 امت کا اتحاد جب پارہ پارہ  ہوا تو اسلام کے نام پر مختلف فرقے وجود میں آئے۔ ان میں سے ایک فرقہ ’شیعہ‘ کے نام سے موسوم ہوا۔ پھر شیعوں میں مزید اختلاف ابھرے تو بہت سے ذیلی فرقے بن گئے۔ ان فرقوں میں سے ایک اسماعیلی شیعہ (بوہرہ) بھی ہیں۔

بوہرہ یا بُہرہ(Bohras, Buhras, Bohoras)  ایک شیعہ اسماعیلی فرقہ ہے، جس کے نزدیک اسماعیل بن جعفر صادق کی اولاد میں امامت کا سلسلہ جاری رہا، پھر آگے چل کر احمد المتعلی کی نسل میں اماموں کی آمد ہوتی رہی۔ (ص 87) اسماعیلی شیعہ فرقہ ایک خفیہ جماعت سے عبارت ہے۔ اس کی سرداری جس شخص کے ہاتھ میں ہوتی ہے اسے ’امام‘ یا صاحب الزمان کہا جاتا ہے۔ اسے اپنے ارکان کی جان و مال پر پورا تسلط و اقتدار حاصل ہوتا ہے۔

سرزمین ہند پر اسماعیلی شیعوں کی آمد سن 270ھ میں ہوئی۔ اس کے بعد سے مسلسل اسماعیلی داعیوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا اور ان کی تبلیغی کوششوں سے اسماعیلی مذہب قبول کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا، یہاں تک کہ 946ھ میں اسماعیلی دعوت کا اصل مرکز یمن سے ہندوستان منتقل کر دیا گیا۔ فی الوقت دنیا بھر کے اسماعیلی بوہروں کا سب سے بڑا روحانی گڑھ ہندوستان بنا ہوا ہے۔ (236۔ 240)

اسماعیلی بوہرہ اپنے مذہب کو چھپاتے ہیں اور عقائد کو پردۂ خفا میں رکھتے ہیں۔ ایسا کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی بوہرہ اس کے خلاف عمل کرتا ہے تو اسے سختالفاظ میں سرزنش کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کم ہی لوگ ان کے بارے میں جانتے ہیں۔ ضرورت تھی کہ اس فرقہ کے بارے میں مستند معلومات فراہم کی جائیں، تاکہ ان کی نشو و نما، تاریخ اور عقائد کے بارے مین واقفیت ہو سکے۔ اس کتاب کے ذریعہ یہ ضرورت پوری کی گئی ہے۔

 اسماعیلی بوہروں نے اپنے گم راہ کن عقائد و نظریات کو عام کرنے کے لیے ’اہلِ بیت‘ سے جھوٹی محبت کا دعویٰ کرکے عوام کو خوب ورغلایا اور اپنی تخریبی سرگرمیوں کو ’اہل بیت‘ کی چادر سے ڈھانپ دیا۔اُن کے اکثر عقائد و نظریات من گھڑت تعبیروں مبنی ہیں، جسے اس کتاب میں تفصیل سے بیان کیا گیا۔ اس کتاب کو چارابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔باب اول (بوہرہ جماعت کی تاریخ) میں اس کے آغاز، مراحل اور یمن، مغرب اقصیٰ اور ہندوستان میں اس کے عروج و ارتقاء پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ باب دوم میں بوہرہ عقائد و ایمانیات کا بیان ہے۔ اسے بوہرہ مذہب کی معتبر و مستند کتابوں کی روشنی میں مدلل انداز میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ باب سوم  بوہروں کی علمی و مذہبی شخصیات سے متعلق ہے۔اس میں بوہروں کے علماء و مشائخ اور ان کے نظریات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ باب چہارم معاشی، تعلیمی اور معاشرتی میدانوں میں بوہروں کی موجودہ صورتِ حال پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ کتاب کے آخر میں چھہ ضمیمہ ہیں۔  جن میں بوہروں کے بارے میں اہم معلومات جمع کی گئی ہیں۔ مراجع و مصادر کا بھی اہتمام کیا گیا ہے تاکہ تفصیلی معلومات چاہنے والے ان تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں۔

بوہروں کا عقیدہ ہے کہ حضرت علیؓ کے وصی ہونے اور ان کے اور حضرت فاطمہؓ کی ذریت میں سے جن اماموں کی نص کی گئی ہو ان کے امام ہونے کا عقیدہ رکھنا ضروری ہے اور وصی اور دیگر ائمہ کی اطاعت فرض ہے۔ وصی اور ائمہ کی ولایت ہی اس دین کا اول و آخر فریضہ ہے۔اُن کا عقیدہ ہے کہ اگر دین کے اجزائے ترکیبی سے ’ولایت‘ کو حذف کر دیا جائے تو طہارت و نماز، روزہ و زکوٰۃ، اور حج و جہاد، سب کچھ بے معنیٰ ہو کر رہ جاتا ہے اور دین سراپا جاہلیت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ (ص254)

شیعوں کے جملہ فرقے(بشمول اسماعیلی) جن اصولوں پر اتفاق رائے رکھتے ہیں ان میں یہ بھی ہے کہ حضرت علیؓ بن ابی طالب اور بنت رسول سیدہ فاطمہؓ زہرا کی نسل و ذریت سے کسی منصوص علیہ امام معصوم کا وجود ناگزیر ہے۔ (ص259) وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ ’حضرت  ابو طالب نے مرتے وقت حضرت محمدؐ کو وصیت کردی تھی کہ اپنی وفات سے پہلے ضرور بضرور حضرت علیؓ کو اپنا جانشین نامزد کردیں، کیوں کہ حقیقی امام مستحق حضرت علیؓ ہی تھے، نہ کہ اللہ کے رسول حضرت محمد ؐ اور امامت کی یہ وراثت اصلاً انہی کو ملنی چاہیے تھی۔ (ص259)

بوہرہ مذہب کے پیروکار اپنے اماموں کو معصوم عن الخطا مانتے ہیں۔ (ص264) معصوم ہونے کا یہ مطلب ہے کہ وہ جملہ ظاہری و باطنی رزائل و فواحش سے پاک ہوتے ہیں اور یہ عصمت انہیں سن طفولت سے تادم واپسیں حاصل رہتی ہے۔ (ص265)

اسماعیلی بوہروں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ امام کی تعظیم و توقیر دراصل اللہ کی تعظیم و توقیر کے مترادف ہے۔ اس لیے ان کے اولیاء ان کے سامنے زمیں بوسی اور جبیں سائی کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی کے سامنے جھک کر خاک چومنا سجدے کے حکم میں نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ شروع سے اماموں کو سجدہ کرنا اسماعیلیوں کی عادت رہی ہے، جیسا کہ ناصر خسرو نے بھی ذکر کیا ہے کہ مصر کے اندر عادت و عرف یہ ہے کہ حاضرین فاطمی سلطان کو سجدہ بجا لاتے ہیں اور جب وہ قریب سے گزرتا ہے تو ہاتھ جوڑ کر اس سے دعائیں مانگتے ہیں۔ (ص301)

فاضل مصنف نے لکھا ہے کہ ’’ہندو مذہب کی طرح بوہرہ بھی ’آواگمن‘ پر اعتقاد رکھتے ہیں اور اس کو ثابت کرنے کے لیے من گھڑت تاویلیوں کا سہارا لیتے ہیں۔ اس موضوع پر انھوں نے اس سلسلے کے متعدد واقعات درج کیے ہیں :

بوہرہ اساطین کے نزدیک موجودہ قرآن تحریف شدہ ہے۔ (نعوذ باللہ) وہ کہتے ہیں کہ ’اللہ کے رسولﷺ نے اپنی حیات میں قرآن جمع کرا دیا تھا اور جملہ صحابہ کی موجودگی میں حضرت علیؓ کے سپرد کر دیا تھا۔ مگر اس کے باوجود وفات بنویؐ کے بعد لوگوں نے حضرت علی کی طرف التفات نہ کیا اور خود اپنے افکار و آراء پر مشتمل ایک نیا قرآن تصنیف کر ڈالا اور اس کے بعد تیسرے خلیفہ (یعنی حضرت عثمانؓ) نے آکر شیخین (ابوبکرؓ و عمرؓ) کا مرتب کیا ہوا قرآن بھی جلا دیا اور اپنے پاس سے ایک نیا قرآن لے آئے۔ اموی دور میں حجاج بن یوسف نے آکر اس قرآن کو بھی آگ میں جھونک دیا۔ جن آیتوں کو اس نے پسند کیا انھیں باقی رہنے دیا۔ فی الوقت مسلمانوں کے پاس جو کتاب موجود ہے، وہ حجاج بن یوسف کی تالیف کردہ ہے‘۔ (ص 361۔ 362)

فاضل مؤلف مولانا رحمت اللہ اثری فلاحی، ہندوستان کی معروف درس گاہ جامعۃ الفلاح کے ناظم ہیں۔ یہ کتاب اصلاً اُن کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے، جسے انھوں نے جامعہ اسلامیہ (مدینہ منورہ) میں ’ البوھرۃ: تاریخھا و عقائدھا‘ کے عنوان سے تحریر کیا تھا۔ جناب ذکی الرحمن غازی فلاحی مدنی نے اس کتاب کا اردو زبان میں سلیس اور رواں ترجمہ کیاہے۔ اللہ تعالیٰ اس خدمت پر مصنف اورمترجم کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

اردو زبان میں بوہرہ کے بارے میں معلومات کا فقدان ہے۔ اس لحاظ سے اس کتاب کی اہمیت بڑھ گئی ہے اور اسے دستاویزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔

مصنف: مولانا رحمت ا للہ اثری فلاحی مدنی،مترجم:ذکی الرحمن غازی مدنی۔ ملنے کا پتہ:مکتبہ الفہیم، ریحان مارکیٹ، صدر چوک، مؤ ناتھ بھنجن۔2019ء صفحات: 640، قیمت:۔؍560 روپے۔
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button