Sliderبچوں کی دنیا

بچے اور مطالعہ کا شوق

گھر میں مطالعہ کا ماحول پروان چڑھانے کی لیے کتابوں کا خریدنا ضروری ہے۔

محمد انور حسین

(اودگیر)

مطالعہ کی اہمیت پر اقوال ذرین جمع کرنے لگ جاؤ تو ہزاروں اقوال مل جائیں گے۔ مطالعہ کی اہمیت پر مضامین تلاش کرو تو سیکڑوں اہل قلم حضرات کے مضامین دستیاب ہیں۔ وقتاً فوقتاً اجتماعات اور جلسوں میں مطالعہ کی اہمیت پر تقریرں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ مطالعہ ہمارے معاشرے کا حصہ نہیں بن پارہا ہے۔

اکثر یہ شکایت سننے کو ملتی ہے کہ بچوں میں مطالعہ کی کمی ہوتی جارہی ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ٹی وی۔ موبائل اور انٹرنیٹ نے بچوں کو مشغول کردیا ہے۔ وہاٹس اپ اور فیس بک جیسے سایٹس پر بچے زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ اسکول کی مصروفیات، ٹیوشن اور ہوم ورک کے بعد بچوں کے پاس وقت ہی نہیں بچتاکہ دیگر کتابوں کا مطالعہ کریں۔

مطالعہ کیا ہے؟ 

یہ ایک اہم سوال ہے کہ آخر مطالعہ کیا ہوتا ہے؟  بہت سے والدین اس بات سے مطمئن ہیں کہ ان کا بچہ روزانہ اسکول جاتا ہے، ہوم ورک پورا کرتا ہے، امتحان کی تیاری کے لیے سوال جواب یاد کرتا ہے اور امتحان میں اچھے نمبر بھی لاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ عمل مطالعہ نہیں ہے؟

دراصل یہ مطالعہ کا حصہ ہے لیکن مکمل مطالعہ نہیں ہے۔ نصابی کتابوں کے علاوہ بھی علم کی ایک وسیع و عریض دنیا ہے۔ صرف زیادہ سے زیادہ مارکس حاصل کرنے کے رجحان نے بچوں کو ٹیوشن، ٹیسٹ اور شارٹ نوٹس تک محدود رکھ دیا۔ بچوں میں اپنی نصاب کی کتابوں کو پڑھنے کا رجحان بھی کم ہوتا جارہا ہے۔ اسکولوں میں رایج میکانیکی تدریسی عمل نے بھی کتابوں کی دنیا سے بچوں کو دور کردیا ہے۔

دنیا بھر میں ترقی یافتہ قوموں میں آج بھی مطالعہ کا شوق باقی ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے آنے کے باوجود بھی امریکہ میں 64% لوگ کاغذ پر چھپی کتابیں پڑھتے ہیں اور 28% ڈیجیٹل کتابیں پڑھی جاتی ہیں۔ 2017 میں امریکہ میں سب سے زیادہ یعنی تقریباً 80 % کتابیں پڑھنے والوں میں وہ لوگ شامل ہیں جن کی عمریں 18تا 29 سال ہے۔ امریکہ میں 30% لوگ ایسے ہیں جو روزانہ پڑھتے ہیں اور 25 % لوگ ایسے ہیں جو ہفتہ میں ایک دن ضرور پڑھتے ہیں۔ بھارت میں 32% بچے ایسے ہیں جو سالانہ 24 کتابیں پڑھتے ہیں۔ مسلمانوں میں بچوں اور بڑوں میں مطالعہ کا رجحان کیا ہے اس کے بارے میں اعداد وشمار دینا بہت مشکل ہے بد قسمتی سے ہمارے پاس ایسے تحقیقی ادارے موجود نہیں ہیں جو اس طرح کے اعدادو شمار بتا سکیں۔ مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ صورتحال اطمینان بخش نہیں ہے۔

ملت اسلامیہ کے زوال کی کئ وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ملت میں حصول علم کا شوق ختم ہوگیا ہے۔

 شاندار مستقبل کے بارے میں جب ہم سوچنا شروع کریں گے تو اس کا آغاز حصول علم کی کوششوں سے ہوگا اور علم کا حصول عادت مطالعہ کا متقاضی ہے۔

  جب بات مُستقبل کی ہو رہی ہے تو بات بچوں سے شروع ہوگی کہ بچوں میں کس طرح مطالعہ کے شوق کو پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔

مطالعہ کا ماحول

ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچے کے روشن مستقبل کے لیے گھر میں مطالعہ کے ماحول کو فروغ دیں۔ بچہ پر سب سے زیادہ اثر ماحول کا ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے زیادہ تر گھر وں کا ماحول مطالعہ کے لیے بالکل بھی ساز گار نہیں ہے۔ سب سے پہلے تو گھر میں مطالعہ کیلئے کتابیں موجود ہونا ضروری ہے۔ گھر میں سب سے زیادہ نمایاں چیز ٹی وی ہوگئ ہے اس لیے بچوں کی زیادہ توجہ ٹی وی پر ہی ہوتی ہے۔ لہذا ٹی وی کے مقام کو کم کرنا ہوگا۔ کتابوں کو نمایاں کرتے ہوے سلیقے سے سجاناہوگا۔ مطالعہ کی مخصوص جگہ متعین ہو تو بہتر ہے۔ ساتھ ہی مطالعہ کا ایک مخصوص وقت متعین کیا جا نا چا ہیئے۔

سب پڑھیں سب بڑھیں

تعلیمی بیداری کے لیے استعمال ہونے والے اس سلوگن کا استعمال مطالعہ کے فروغ میں مدد کر سکتا ہے۔ گھر میں سب لوگ آم کھا رہے ہوں تو بچے لازماً آم کھاییں گے۔ گھر کے سب لوگ یا کچھ لوگ ٹی وی دیکھنے میں مشغول ہوں تو لازماً بچے بھی ٹی وی دیکھیں گے۔ اگر گھر میں سب مل کر پڑھنے کا کلچر پروان چڑھاییں گے تو بچے  بھی ضرور پڑھیں گے۔ گھر میں ایک متعینہ وقت میں ہر فرد پڑھنے بیٹھ جاے۔ ہر ایک اپنی پسند کے اعتیبار سے پڑھ سکتا ہے۔ گھر میں کم پڑھے لکھے بزرگ نانی، دادی بھی اگر ہوں انھیں بھی ایک کتاب تھمادی جاے اور وہ محض اس کتاب کی ورق گردانی کرتے رہیں۔

بچوں میں یہ احساس پیدا ہونے لگتا ہے کہ جس طرح دوسرے اہم کام گھر میں ہوتے ہیں جیسے کھانا پکانا، کھانا کھانا، صفائی کرنا، اس طرح مطالعہ کرنا بھی ہمارے خاندان کا ایک اہم کام ہے۔ گھر کے ذمہ دار کو اس سلسلے میں سنجیدہ کوشش کرنی پڑے گی۔ تھوڑی سی کوشش کے ذریعے یہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس نہ نہ صرف بچوں میں مطالعہ کا شوق پید ا ہوگا بلکہ بڑوں میں بھی دلچسپی پیدا ہوگی۔کسی کتاب پر ڈسکشن، کتاب کا ذور سے، پڑھنا، کتاب پڑھنے میں مقابلہ کے ذریعے سب پڑھیں اور سب بڑھیں کے عمل کو موثر بنایا جا سکتا ہے۔

 مطالعہ میں تعاون

عام طور پر کتاب مشکل ہو اور پڑھنے میں دقت ہو تو بچے پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کی مدد کرنا، کتاب کو سمجھانا، نیے الفاظ کا تعارف کروانا، ابتدا میں تصویری کتابوں کی مدد لینا، ڈکشنری اور لغت کا استعمال سکھانااور بلند آواز سے پڑھنا یا پڑھانا جیسی سرگرمیاں کی جاسکتی ہے۔ یہ تعاون صرف بچوں کے ساتھ نہیں بلکہ بڑوں کے ساتھ بھی ہونا چاہیے۔ جب بچوں کی مشکلیں دور ہونگی تو دھیرے دھیرے بچے روانی سے پڑھنے لگیں گے۔

کتابوں کی خریدی

 گھر میں مطالعہ کا ماحول پروان چڑھانے کی لیے کتابوں کا خریدنا ضروری ہے۔ اس کے لیے ہر ماہ ایک بجٹ متعن کیا جاے۔ بڑوں کے لیے اور بچوں کے لیے الگ الگ کتابیں خریدی جاے۔ بچے کو کتاب کا مالک بنایا جاے، جس کی کتاب ہے اس پر اس کا نام لکھا جائے۔ ظاہر بات ہے یہ ایک معاشی بوجھ ہے اور ہمارے بہت سے خاندانوں کے لیے آسانی سے ممکن بھی نہیں ہے لیکن اگر باریک بینی سے اخراجات کا جائزہ لیا جاے تو بہت سارے ایسے مدات ہیں جہاں کا خرچ ہم کم کرسکتے ہیں۔ ایک مثال کہ اگر آپ ٹی وی کیبل پر خرچ کر رہے ہیں تو روک دیجیے اتنے بجٹ میں بچوں کے لیے دو تین کتابیں آسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں میں بھی یہ شعور پیدا کیا جائے کہ وہ اپنے پاکٹ منی کی ایک رقم کتابوں کے لیے جمع کریں یہ عادت مستقبل میں کتابوں کی خریدی کے مسائل کو حل کردیگی۔ اس میں ارادہ اور کوشش کی ضرورت ہے۔ میں یہاں اہل ثروت حضرات سے بھی گزارش کروں گا کہ وہ اپنے خاندان اور پڑوسیوں کو کتابوں کے تحاءف دیا کریں۔ اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی جماعتوں اور اداروں کو چاہیے کہ وہ غریب بستیوں کے قریب ریڈنگ رومس اور لائیبریرز کا نظم کرے۔

ترغیب و تحریک

دنیا میں کوئی کام بھی بغیر ترغیب کے نہیں ہوتا اور ترغیب میں تہنیت کا ایک اہم کردار ہے لہذا مطالعہ کرنے والے بچوں کو چھوٹے چھوٹے انعامات سے نوازنا چاہیے۔ بچوں میں ٹارگیٹ طے کرکے مقابلہ کروانا چاہیے اور ٹارگیٹ حاصل ہونے پر تحایف دیے جانے چاہیے۔

لائیبریری کی سیر

کتابوں کی دنیا سے واقف کرانے کے لیے بچوں کو لائیبریری کی سیر کروائی جاے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہر شہر یا قصبہ میں لایبریریز موجود نہیں ہیں۔ چھٹیوں میں دوسرے شہروں میں موجود لایبریریز کی سیر کی جاے۔ کسی بڑے کالج اور یونیورسٹی کی لائیبریری کی سیر با اجازت کی جاسکتی ہے۔

 کتاب میلہ

عام طور پر بڑے شہروں میں کتاب میلے کا چلن ہے۔ جس میں سیکڑوں پبلشرز ہزاروں کتابوں کے ساتھ اپنا کاروبار کرتے ہیں۔ جن کا مقصد صرف کتاب بیچنا نہیں ہے بلکہ مطالعہ کے شوق کو پروان چڑھانا بھی ہے۔ کچھ پبلشرزاب  بچوں کے لیے بھی خاص کتاب میلہ منعقد کررہے ہیں۔ کچھ اہل علم حضرات اور پبلشرز کے تعاون سے چھوٹے شہروں اور قصبہ میں بھی یہ کام ہونا چاہیئے۔ اس  طرح کے کتاب میلوں میں بچوں کے لیے ڈرامے، کتابوں اور مصنفین کے کرداروں کی نقل وغیرہ کے ذریعہ دلچسپی پیدا کی جاسکتی ہے۔

اس کے علاوہ اور بہت سے عملی تجاویز ہوسکتے ہیں۔

اگر چاہ ہے تو راہ ہے۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button