Sliderجہان خواتینقومی

 بھارت میں لٹتی عصمتیں: ذمہ دار کون؟

خان مبشرہ فردوس

(اورنگ آباد) 

 تیلنگانہ  کر ریپاینڈ مرڈر کیس میں خاتون کی جلی ہوئی لاش تو خاموش ہوگئی لیکن ” لہو پکارے گا آستین سے ” ملک میں احتجاج بلند ہوا۔ دہلی بس ریپ کیس پر بھی ہر آنکھ پرنم تھی ہر فرد مطالبہ کررہا تھا مجرم کو فورا اور سخت سزا ملنی چاہیے راج ٹھاکرے جی نے کہا تھا ریپسٹ کے لیے سزا کا اسلامی قانون نافذ کرنا چاہیے  شرعیہ لا ریپ کی سزا کے لیے لانا چاہیے۔

 انناو کی معصوم بچی کی کے ساتھ زیادتی کے بعد لاش برآمد ہوئی تو ملک دھل اٹھا تھا ۔۔ہر فرد احتجاج کررہا تھا۔۔۔۔لوگ احتجاج کرواتے ہیں میڈیا حرکت میں آتا ہے مباحثے ہوتے پریس کانفرنسوں میں احتجاج کیا جاتا ہے ریلی میمورنڈم،  پیش کیے جاتے، کیا ان سب کے بعد کبھی کوئی فرق آیا ریپ ریشو میں ۔۔۔بات آئی گئی ہوجاتی ہے۔

ھندوستان کے یہ تو وہ کیسیز ہیں جن کو ماردیا گیا تو ان کی جانب میڈیا نے عوام نے توجہ دی لیکن این، سی آر، بی NCRB national crime record bireau، کا ھندوستان میں خواتین سے زیادتی کے ریشو کو اٹھا کر دیکھیں۔ جو ریشو ریکارڈ ہوتا ہے وہ ہر چار گھنٹے میں چار خواتین کا ریپ ریکارڈ کیا گیا ہے ہر گھنٹے میں ایک کیس اسکے باوجود یہ بات ہم اور آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جرائم کے صرف 2 % کیس درج ہوتے ہیں باقی ایسے کتنے گلی میں نکڑوں پر جاب پلیسیز پر،  اعلی عہدے داروں کے پاس،  خواتین زیادتی کا نشانہ بنتی ہیں۔

کتنی ایسی خواتین ہیں جن کے قتل کیس ہیں انکی گتھی تک سلجھ نہیں پاتی کہ قتل کی وجہ کیا تھی پنکھے سے لٹکی ہوئی لاشوں اور پکاتے ہوئے جلنے کے واقعات کا ریکارڈ بھی نہیں ملتا یا ایسے کیس فائل سرد خانے میں ڈال دی جاتی ہے۔ ممبئی کی ڈاکٹر پائل تڑوی اسی مثال ہے۔

خواتین کی زیادتی کے واقعات قتل،  ریپ،  یا جہیز کے لیے قتل،  گھر یا جاب پلیس پر زیادتی کے خودکشی ثابت کرنا،  یا ایسیڈ اٹیک،  خواتین اور بچیوں کا اغواء،  شراب پی کر اجتمائی زیادتی،،  شرابی شوہر کے ذریعہ روزانہ پیٹا جانا،  گھریلو جبر کا نشانہ بننا،،  یہاں تک کہ راہ چلتے ہوئے کالج کیمپس ہو یا اسکول میں معصوم بچیاں،  بس اسٹینڈ ریلوے اسٹیشن سے لیکر گھر رشتہ داروں کے درمیاں صنف ِ نازک محفوظ نہیں ہے۔ خواتین کو چھیڑ نے کا ریشو تو سوشل میڈیا یوز کے بعد کچھ زیادہ بڑھا ہوا، سلیف ڈسپیلن کی کمی کے سببب  نوجوان سوشل میڈیا پر بھی خواتین کے ساتھ انبکس میں بدتمیزی کو اپنا حق سمجھنے لگے ہیں۔

ان جرائم کی ذمہ دار کوئی ایک شخص بالکل نہیں اسکی ذمہ داری حکومت کے ساتھ معاشرے کی اور سرپرستوں کی بھی ہے۔

کسی بھی۔ملک کا سب سے بڑا فیلئر اسکے جرائم ہی بنتے ہیں ۔اور جرائم میں بھی سب سے سنگین جرم یہی ہے جہاں ہمارے گھر کی خواتین معصوم بچیاں محفوظ نہ ہوں۔یہ مسئلہ کسی کمینٹی کسی خاندان کا نہیں ہمارے پورے ملک کا مسئلہ ہے جنسی بھیڑیے پورے ملک میں عورتوں کو عدم تحفظ کا احساس دلاتے ہیں۔

جہاں حکومت کو جرائم کے کنٹرول کے لیے ریپ کےمجرموں کو سخت سے سخت سزا دینا چاہیے کہ وہ عبرت کا نشان بن جائے اور فورا مقدمہ دائر کرنا چاہیے۔سزاؤں کی تاخیر،  یا مقدمات کا دیر تک عدالتی فائیلوں میں پڑےرہنا ہی دراصل مجرم کی حوصلہ افزائی اور مظلوم میں عدم تحفظ کے احساس کو پختہ کرتا ہے۔حکومت کو چاہیے کہ روٹ لیول پر جرائم کے کنٹرول کے لیے شراب پر پابندی لگائے،،  بلیو فلموں پر پابندی عائد کرے،  یونی ورسٹی اور کالج کے مخلوط کلچر پر روک لگائے،، باہر جاتے وقت خواتین کے لیے بھی فل لباس ڈریس کوڈ لازم کرے ۔

نیو ائیر پارٹیز اور فرینڈ شپ ڈے،،  میوزک کنسرٹ،  ڈسکو بار، بون فائر پارٹیز، ویلنٹائن ڈے،، برتھ ڈے پارٹیز یہ ھندوستانی کلچر کا حصہ نہیں ہے میٹرو سٹیز میں دیر تک نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کا مختلف پارٹیز میوزک،  ڈانس، شراب، کے ساتھ جنسی آزادی محسوس کرنا یہی تو جرائم کو فروغ دینے کا سبب بنتے ہیں یہ ماڈرن کلچر تو ضرور ہے لیکن بھارتی تہذیب کا حصہ نہیں ہے۔ اس پر کنٹرول کرنا چاہیے ۔حکومتی ادارے پولیس اور سیکورٹی کو سپورٹ کرنے کے لیے ہر ھندوستانی کی بھی یہ کوشش ہو کہ وہ ان جرائم پر کنٹرول کرنے کے لیے حصہ لیں۔

سوشل میڈیا پر بھی لڑکے اور لڑکیوں کا رابطے قائم کرنا ڈیٹ پر جانا ،، نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کا ٹور پر نکلنا یہی وہ چیزیں ہیں جو جنسی بے راہ روی کا شکار بناتی ہیں اس پر کنٹرول والدین کو دینا چاہیے۔

ایک ٹی وی ڈبیٹ میں سوشل ایکٹویسٹ لیڈی نے کہا کہ

"ہمارے گھروں میں لڑکوں کو عورت کا احترام کرنا سکھانا چاہیے ۔”

بالکل ہر مذہب میں سماج میں زندگی گزارنے کے کچھ اقدار ہیں، ہر ماں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بیٹوں کی تربیت کرے ۔ جن بیٹیوں کو ہم بچانے کے نعرے لگاتے ہیں ان بیٹیوں کو چیر پھاڑ کھانے والے بھیڑیے بھی ہماری اپنی آغوش میں پرورش پا رہے ہیں، احتساب کی عدالت میں کھڑے کریں تو تین ادارے ان سب کے ذمہ دار ہیں ۔

گھر، سماج  اور حکومت 

گھر میں والدین کی ذمہ داری ہے کہ بیٹی اور بیٹے دونوں کو اپنے اپنے میدان میں احترام کرنا سکھائیں بیٹا عورت بیٹی کی عزت کرنا سیکھے وہیں لڑکیوں کو چھوٹے لباس اور جنسی بے راہ روی دوررکھنے پر توجہ دیں۔ نوجوان  بھی لیو اینڈ رلیشن شپ کو شرف قبولیت ملنے کی وجہ سے سماج میں گندگی پھیلا رہے ہیں ۔۔۔اور جنس زدہ معاشرہ وجود میں آرہا ہے۔

سماج بھی ایک ایسا ادارہ ہے جو فحاشی کو دل سے قبول کرلیتا ہے بروقت جنسی بھیڑیوں کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا یا مردہ ضمیر سماج اعلی حکام کا جرم ثابت ہونے کے باوجود ان کے ہاتھ میں حکومت کی باگ ڈور دے کر نوجوان کے سامنے جنسی بھیڑیوں کا آئیڈیل پیش کرتے ہیں۔

سماج اس وقت بھی خاموش رہتا ہے جب بڑی بڑی کمپینیاں عورت کو بزنس سمبال بناکر پیش کرتی ہیں۔ سماج اس وقت بھی خاموش رہتا ہے جب حکومت جنسی کاروبار،  کو شراب کے اڈوں کو اور لیو اینڈ ریلیشن شپ، شادی کے بغیر جنسی تعلق کو جائز حق قرار دیتا ہے اور نی بلیو فلم پر پابندی لگائی جاتی ہے ۔یہی وہ اسباب ہیں جو حبس زدہ، عاشرے جنس زدہ بھیڑیوں کو پناہ دیتے ہیں۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button