اسلامیات

بہترین زادِراہ

 فردا ارحم

زادِ راہ کے معنی توشہ یا ٹفن کے ہوتے ہیں ۔ سفر میں توشہ کی کیا اہمیت ہے ہم تمام بخوبی جانتے ہیں ۔ جو شخص بغیر توشہ کے سفر پر نکلتا ہے وہ طرح طرح کی مشکلوں سے دوچار ہوتا ہے ۔اسی طرح ، دنیا ایک گزر گاہ ہے ۔ پوری زندگی ایک مسلسل سفر ہے ۔ ہر انسان ایک مسافر ہے اور زندگی کا سفر سبھی کو طۓ کرنا ہے ۔
زندگی کے اس مسافر کو بھی زادِ راہ ک ضرورت ہے ۔ اور زندگی کے اس سفر کا بہترین زادراہ ”تقوی“ ہے ۔
تقوی کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے حدود کو توڑنے ، والدین کی نافرمانی کرنے ، کفر و فحاشی کرنے اور تمام براٸیاں کرنے سے اس بنا پربچنا کہ ہمیں اس کے برے نتاٸج اور خدا کے غضب کا اندیشہ ہے ۔

تِلکَ الدَّرُالآ خِرَةُ نَجعَلھاَ لِلَّذیِنَ لاَ یُریِدوُنَ عُلُوّاً فیِالاَ رضِ وَلاَ فَساَداً وَالعاَقِبَةُ للِمُتَّقیِن ۔

                            (القصص : 83 )
” یہ دار آخرت ہم ان لوگوں کے لیۓ خاص کرینگے جو زمین میں تکبر نہیں کرتے اور فساد نہیں مچاتے اور انجام کار کی کامیابیاں متقیوں کے لیۓ ہے ۔ “
متقی وہ ہے جن کے دل میں خدا کی تعظیم اور اس کے غضب کا اندیشہ ہو اور وہ خدا کے قاٸم کیۓ ہوۓ حدود کو توڑنے ، امانت میں خیانت کرنے سے ڈرتا ہے ۔
متقی وہ ہے جنھیں شیطان کے اثر سے کوٸ برا خیال چھو بھی جاتا ہے تو وہ فوراً چوکنے ہوجاتے ہیں اور پھر انھیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ ان کے لیۓ صحیح طریق کار کیا ہے ۔
ایک شخص نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ کوٸ آدمی اللہ کا بہتر اور متقی بندہ کیسے بن سکتا ہے ؟
جواب میں فرمایا : ” حسن عمل اور حسن نیت کی دولت نہیں مل سکتی مگر  اس صورت میں کہ آدمی پر ہر وقت یہ تصور چھایا رہے کہ گویا وہ خدا کو دیکھ رہا ہے یا بہر حال خدا تو اسے دیکھ رہا ہے ۔ “
مطلب یہ کہ یا تو اپنے آپ کو خدا کے سامنے حاضر جانے یا خدا کو اپنے پاس موجود ہونے کا یقین حاصل ہو۔ اس کے بغیر کسی بھی کام میں حسن پیدا نہیں ہوسکتا ۔
دور حاضر کےمسلمانوں کا حال کچھ الگ ہے ۔ قلب مومن آج خدا کے خوف سے خالی ہے ۔ وہ خدا کے احکام کے خلاف ورزی کرتے ہیں ۔ وہ زندگی کے اس سفر میں زادراہ ساتھ نہیں لے رہے ہیں ۔ جو مسافر اپنے اخلاق درست نہیں رکھتا اور خدا سے بے خوف ہوکر برے اعمال کرتا ہے وہ خدا اور خلق دونوں کی نگاہ میں ذلیل ہوگا ۔
قران میں حکم دیا گیا ہے کہ رب سے ڈرو  ، رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرھیز کرو ، یتیموں کے مال ان کو واپس دو ، اچھے مال کو برے مال سے نا بدلو ۔لیکن آج وہ تمام کام سماج میں ہورہے ہیں جو ہمیں کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ لوگ بے خوف ہوکر نقب زنی کرتے ہیں ، کاروبار میں اونچا مقام حاصل کرنے کے لیۓ جھوٹ اور بے ایمانی کو سہارا بنالیا ہے ۔ خودکشی اور قتل کے معاملات عام ہوگۓ ہیں ۔
اور ان تمام کی وجہ بس یہی ہے کہ لوگوں کے دلوں میں خدا کا خوف نہیں رہا ۔ برے خیالات کو سوچتے وقت شیطان انھیں جکڑ لیتا ہے اور وہ کچھ دیر کے لیۓ خدا کو بھول جاتے ہیں ۔
کچھ لوگوں کا حال تو یہ ہے کہ انھوں نے قران و حدیث میں تفریق کردی ہے ۔ رسول کے اقوال و ارشادات میں سے کچھ کو اپنے عمل و استدلال کے لیۓ اختیار کرلی ہے اور کچھ کو نظر انداز کرلیا گیا ہے ۔ جبکہ ایسا کرنا اسلام میں حرام ہے ۔ انتہاٸ نا سمجھ ہے وہ مسلمان جو اس طرح کی تقسیم کرتا ہے ۔ لیکن افسوس کہ اس طرح کا رواج اب بھی عام ہے ۔
اس طرح کی تقسیم کا کرشمہ یہ ہے کہ بعض دعاٶں اور نفل جس کا اجر زیادہ ہے اسے لوگ اپنا لیتے ہیں اور خواندگی کے دوسرے شعبوں میں وہ قران و حدیث کے خلاف کام کرتے ہیں ۔ بعض لوگ کسی وظیفہ یا نفل کے پابند ہوتے ہیں جس کا اجر زیادہ ہے اور دوسری طرف ان کی کماٸ حرام کی ہوتی ہے ۔
ایسے کٸ مثالیں ہے جو لوگوں نے قبول کر رکھے ہیں ۔ جو لوگ رسول کی ہدایات سے کچھ باتیں منتخب کرتے ہیں اور بس ان پر عمل کرکے مطمٸین بیٹھے ہیں وہ سخت فتنہ میں مبتلا ہیں ۔ اس بات سے وہ بالکل بے خبر ہے کہ وہ شب میں تقوی کی عمارت جتنی اونچی کرتے ہیں اسے دن میں اپنے اعمال کے ہاتھوں سے ڈھا دیتے ہیں ۔
بعض لوگوں کا ماننا یہ ہوتا ہے کہ اصل تقوی صرف عبادت ہے ۔ آدمی کسی گوشے میں بیٹھ کر نمازیں پڑھیں ، روزہ رکھیں، نوافل میں مشغول رہیں ، بس یہی کام ان کی نظر میں تقوی ہے اور دنیاوی کام تقوی میں نہیں سمجھے جاتے ہیں ۔
کٸ لوگ ظاہر تقوی کو عین سمجھ بیٹھے ۔ ان کے خیال میں پاجامہ کا ٹخنوں سے اونچا ہونا ، داڑھی لمبی ہونا ، برقعہ کالا ہونا ۔۔۔ بس یہی تقوی ہے ۔ اور یہی چیزوں کو پیمانہ بنا کر وہ دوسروں کو ناپتے ہیں اور جن کے اندر وہ یہ باتیں نہیں پاتے انھیں اپنے سے حقیر سمجھنے لگتے ہیں ۔ حالانکہ اکثر جن لوگوں کووہ حقیر سمجھتے ہیں وہ حدود الہی کے احترام میں ان سے زیادہ بہتر پاۓ جاتے ہیں ۔
اوپر بتایا جاچکا ہے کہ حسن پیدا کرنے کے لیۓ اپنے آپ کو خدا کے سامنے حاضر جانے یا خدا کو اپنے پاس موجود ہونے کا یقین حاصل ہو ۔ اسی کو تقوی کہتے ہیں ۔ اور تقوی اختیار کرنے والے وہ لوگ ہیں جو نقصان یا مصیبت سے ہمت نہیں ہارتے ، کسی لالچ سے پھسل نہیں جاتے بلکہ ایسی حالت میں حق کا دامن مضبوطی سے تھامے رہتے ۔
تمام انبیا ایک ہی دعوت لے کر آۓ ہیں کہ خداٸ صرف اللہ کی ہے اور بس وہی اکیلا اس کا مستحق ہے کہ اسی سے تقوی کیا جاۓ کوٸ دوسرا اس لاٸق نہیں ہے ۔
تقوی کا اہم جزعبادت ہے ۔ جو شخص نمازوں کا پابند ہوگا اور خدا کو یاد کرتا رہے گا وہ تقوی حاصل کرنے میں بلند ترین ہوتا جاۓ گا ۔ تقوی ہی ہر شۓ کی زندگی اور اس کی ترقی کا محافظ ہے ۔ تقوی انسان کو غلط روی اور خطرات کی راہ سے بچا کر منزل مقصود تک پہنچاتا ہے ۔ اور زندگی کی مزاحمتوں سے حفاظت کرتا ہے ۔
قران میں فرمایا گیا ہے ۔ جو لوگ تقوی کی روش اختیار کرینگے ان کے لیۓ ان کے رب کے پاس باغ ہیں ۔
اور تقوی ہی سب سے بہترین زاد راہ ہے ۔
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button