اسلامیات

بہیمانہ قتل ۔ اسباب اور تدارک

محمد رضی الاسلام ندوی

[ ہفت روزہ دعوت نئی دہلی ، 8 تا 14 دسمبر 2019 ]

 

ریاست تلنگانہ میں حیدر آباد شہر کے نواح میں بدھ کے روز ستائیس (27) سالہ وٹرنری خاتون ڈاکٹر کی اجتماعی عصمت دری اور بہیمانہ قتل کا جو لرزہ خیز واقعہ پیش آیا ہے ، اس نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔ خبروں کے مطابق چار ملزمین نے ڈاکٹر کی اسکوٹی اس کے غائبانہ میں پنکچر کی ، وہ اسے لینے آئی تو اس سے ظاہری ہم دردی جتائی ، پھر اس کا اغوا کرکے پلازہ کے عقب میں ایک ویران مقام پر لے گئے ، جہاں اس کی اجتماعی عصمت دری کرنے کے بعد بے دردی سے اس کا قتل کر دیا، اس کے بعد نعش کو پچیس (25) کلومیٹر دور لے گئے اور شاد نگر انڈر پاس کے قریب ڈال کر نذر آتش کر دیا ۔ اس دل دوز واقعہ پر نہ صرف ریاست تلنگانہ میں ، بلکہ ملک کے دوسرے حصوں میں ، جن میں راج دھانی دہلی بھی شامل ہے ، زبردست احتجاج اور مظاہرے ہو رہے ہیں ۔ مظاہرین کا پُرزور مطالبہ ہے کہ خاطیوں کو قرار واقعی کی سزا دی جائے اور انھیں سر عام پھانسی پر لٹکایا جائے ، تاکہ مجرمانہ ذہن رکھنے والے دوسرے لوگوں کو اس سے عبرت ملے ۔

یوں تو عصمت دری اور قتل کے واقعات ملک میں آئے دن پیش آتے رہتے ہیں ۔ کسی دن کا اخبار اٹھا لیجیے ، ان کی متعدد خبریں اس میں موجود ہوتی ہیں ۔ لیکن ان کے درمیان جب انتہائی سفاکی اور بربریت کے ساتھ عصمت دری و قتل کی کوئی خبر عام ہوتی ہے تو عوام کے ضبط کا بندھن ٹوٹنے لگتا ہے اور ان کی طرف سے زبردست احتجاج سامنے آتا ہے ۔ دیکھا جائے تو ایسے بہیمانہ اور لرزہ خیز واقعات بھی اب کثرت سے اور تسلسل کے ساتھ پیش آنے لگے ہیں ۔ انہی دنوں ریاست جھارکھنڈ کی راج دھانی رانچی سے خبر آئی ہے کہ اسلحہ سے لیس بارہ (12) افراد نے لا یونی ورسٹی کی پچیس (25) سالہ طالبہ کی اجتماعی عصمت دری کی ۔ جس جگہ یہ واقعہ پیش آیا وہ وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ سے صرف آٹھ (8) کلو میٹر دور تھی اور ریاست میں اسمبلی انتخابات کی وجہ سے بھاری سیکورٹی لگی ہوئی تھی ۔ ان واقعات پر عوام کا غصہ ظاہر کرنا ، حکومتی مشنری کا سرگرم ہوجانا اور مجرموں کو قانون کی گرفت میں لانا اور ذمے داروں کا سزا کے نفاذ کا وعدہ کرنا تو ٹھیک ہے ، لیکن ضرورت ہے کہ ایسے بھیانک جرائم کے اسباب کا پتہ لگانے اور ان کا تدارک کرنے کی سنجیدہ کوششیں کی جائیں ۔ کسی درخت کی جڑ میں دیمک لگ جائے تو اس کی ٹہنیوں پر پانی کا چھڑکاؤ اس میں تازگی پیدا نہیں کر سکتا ۔ اسے اسی وقت ہرا بھرا رکھا جا سکتا ہے جب اس کی جڑ کا علاج کیا جائے ۔ پانی کی زیرِ زمین پائپ لائن کہیں سے پھٹ جائے تو اِدھر اُدھر مٹی ڈالنے سے لیکج کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا ۔ پانی بہنا اسی وقت رک سکتا ہے جب زمین کھود کر پائپ کو درست کیا جائے ۔ اسی طرح جب تک یہ جاننے کی کوشش نہ کی جائے کہ ایسے گھناؤنے اور نفرت انگیز جرائم کے حقیقی اسباب کیا ہیں؟ اور جب تک ان اسباب کا تدارک کرنے کی کوشش نہ کی جائے ، ان پر روک لگانا ممکن نہیں ہے ۔

کسی جرم پر آدمی اس وقت آمادہ ہوتا ہے جب اس کے دل میں اس کی شناعت کم ہوجاتی ہے ، وہ شیطان کے بہکاوے میں آجاتا ہے اور اس کے اندر یہ احساس پیدا ہوجاتا ہے کہ اس کی گرفت نہیں ہو سکے گی اور وہ سماج کی نظر میں نیک بنا رہے گا ۔ اس لیے ضروری ہے کہ عوام کی اخلاقی تربیت کی تدابیر اختیار کی جائیں ، ان کے مذہبی جذبات کو بیدار کیا جائے ، ان کے ضمیر کو زندہ اور توانا رکھنے کی کوشش کی جائے ، تاکہ جب بھی کوئی شخص نفس یا شیطان کے بہکاوے میں آکر کسی غلط کام کا ارتکاب کرنے کو سوچے تو اس کا ضمیر محتسب بن کر کھڑا ہوجائے اور اس کے پیروں میں بیڑیاں ڈال دے ۔

جرم کا دوسرا بڑا سبب یہ ہے کہ گناہ ، معصیت اور بدکاری کے محرکات سماج میں وافر مقدار میں فراہم کر دیے ہیں ۔ مردوں اور عورتوں کا آزادانہ اختلاط ہے ، عورتوں کے جسموں پر کم سے کم کپڑے ہونا موجودہ دور کا مقبول فیشن ہے ۔ مخلوط مقامات پر بھی وہ پورے بناؤ سنگھار کے ساتھ جاتی اور مردوں کو دعوتِ نظارہ دیتی ہیں ۔ عورتوں کے عریاں جسموں کی نمائش اشتہارات کا لازمی جز ہے ۔ چوراہوں اور پبلک مقامات پر بڑے بڑے ہورڈنگس عورتوں کی جاذبِ نظر تصویروں سے مزین رہتے ہیں ۔ رہی سہی کسر انٹر نیٹ نے پوری کر دی ہے ، جس کی بے ہودہ ، عریاں اور مخرّبِ اخلاق تصاویر اور ویڈیوز ملٹی میڈیا موبائلس کے ذریعے بہ آسانی ہر شخص کی دست رس میں ہیں ۔ شراب ، جسے ’پاپ جننی‘ کہا جاتا ہے ، کھلے عام فروخت ہورہی ہے ۔ حکومت اس پر پابندی کیوں لگائے ، جب کہ اس کے ذریعے اسے بھاری زرِ مبادلہ حاصل ہوتا ہے؟ جب معصیت اور بدکاری کے تمام اسباب سماج میں وافر طور پر موجود ہوں تو ایسے واقعات کا پیش آنا عین متوقع ہے ۔ تعجب تو اس وقت ہونا چاہیے جب ان محرّکات کے باوجود سماج کے افراد مہذب اور پاکیزہ بنے رہیں اور کوئی مجرمانہ واقعہ پیش نہ آئے ۔

جرم کا تیسرا اور اہم سبب یہ ہے کہ قانون کی گرفت ڈھیلی ہوتی ہے اور ارتکابِ جرم کے باوجود اس کی سزا سے بچے رہنے کی امید مجرم کو جرم پر آمادہ کرتی ہے ۔ اگر مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے افراد کے دل میں یہ بات بیٹھ جائے کہ ان کی چاہے جو بھی سماجی حیثیت ہو اور وہ چاہے جتنی طاقت و قوت ، مال و دولت اور جاہ و اقتدرار کے مالک ہوں ، لیکن وہ قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے اور ہر حال میں ان کو سزا مل کر رہے گی تو یہ چیز ان کو ارتکابِ جرم سے باز رہنے والی ہوگی ۔ مجرم پر قانون کا موثر نفاذ ، سزا کا اعلان اور مظاہرہ دوسرے بہت سے لوگوں کو جرم سے باز رکھے گا ۔

اسلام کی تعلیمات سماج کو جرائم سے پاک رکھنے میں بڑی مؤثر ثابت ہوئی ہیں اور دنیا نے عرصے تک اس کا مشاہدہ کیا ہے ۔ اسلام ہر شخص کے ضمیر کو بیدار کرتا ہے ۔ اس کے دل میں اللہ کا خوف اور آخرت میں جواب دہی کا احساس پیدا کرتا ہے ۔ وہ مردوں اور عورتوں کے آزادانہ اختلاط پر پابندی عائد کرتا ہے اور عورتوں کو کھلے عام اپنے محاسن ظاہر کرنے سے منع کرتا ہے ۔ وہ حیا کے جذبے کو فروغ دیتا اور بے حیائی اور بدکاری کے محرّکات پر پابندی عائد کرتا ہے ۔ چنانچہ اس نے شراب کو حرام قرار دیا ہے اور فحاشی کی اشاعت کے تمام روزنوں کو بند کیا ہے ۔ اس کے باوجود اگر کچھ بد خصلت افراد قتل ، عصمت دری یا کسی دوسرے سنگین جرم کا ارتکاب کرتے ہیں تو ان کے لیے ایسی عبرت ناک سزا تجویز کرتا ہے جو سماج کے دوسرے مجرمانہ ذہنیت کے حامل لوگوں کو دہشت میں مبتلا کر دیتی ہے ۔ ان تدابیر پر عمل کرکے پہلے سماج کو پاکیزہ بنایا جا چکا ہے اور اب بھی یہ تدابیر کارگر ہو سکتی ہیں ۔ بس شرط یہ ہے کہ ان پر عمل کیا جائے اور انھیں سماج میں نافذ کیا جائے ۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button