Sliderفکرونظر

تاریخ ہمیں بتاتی ہے

قوموں کی زندگی میں عروج و زوال ٗنشیب و فراز دراصل یہ آج اور کل کی نٸی کہانی نہیں ہے بلکہ اس دھرتی کی چھاتی پر رونما ہونے والی صدیوں پرمحیط ایک بڑی تاریخی حقیقت ہے

تاریخ ہمیں بتاتی ہے

عمّارہ فردوس ،جالنہ

معلّمہ  انڈراسٹینڈ قران اکیڈمی

قوموں کی زندگی میں عروج و زوال ٗنشیب و فراز دراصل یہ آج اور کل کی نٸی کہانی نہیں ہے بلکہ اس دھرتی کی چھاتی پر رونما ہونے والی صدیوں پرمحیط ایک بڑی تاریخی حقیقت ہے

    یہ عروج دراصل قومیں ہی لاتی ہیں اور زوال کا سبب بھی قومیں ہی بنتی ہیں ہم جب صدیوں کی اسٹیڈی کرتے ہیں تو اس بات کا انکار کر ہی نہیں سکتے کہ عزیمت و ہزیمت سے دوچار ہوے بغیر کوٸ قوم نہ ہی آگے بڑھ سکی اور نہ ہی کسی قوم نے عیش و عشرت کی شاہانہ زندگی سے عروج حاصل کیا ہو لھذاصدیوں سے یہ صفحہ و قرطاس اس بات پر گواہ ھیکہ ہر دور میں قوموں کو تین قسم کے لوگوں سے سابقہ پیش آیا ہے یہ تین قسم کے لوگ دراصل تاریخ کے تین اہم کردار یا تین آٸینے رہے ہیں گویا ہماری یہ انسانی ہسٹری ہمیں یہ بتاتی ہیکہ زندگی کے اس سفر میں کن مسافروں نے سفر کی صعوبتوں کے باوجود اپنے رب کو خوش کرنے کیلیے ساری سختیاں خوشی خوشی جھیل کر اس سفر کو طے کیا اور کونسے مسافر راہِ پر خطر سے ڈر کر اپنے رب کاٸنات سے بےپرواہ ہوکر عافیت کوشی کی چادریں اوڑھے گہری نیند سوگیے یہ تین الگ الگ راستوں سے گذرنے والے مسافر ہیں

پہلی قسم: خار زاروں کی ڈگر !

اس راستےسے گذرنے والےمسافراپنی انتھک کوششوں سے زندگی کے اس سفر کوطے کررہے ہیں ٗہواٶں   کے تھپیڑے کھاتے ہوے.. آبلہ پاٸ کے مزے لیتے ہوۓ..سمندروں کو چیرتے ہوۓ…سنگلاخ چٹانوں کو ریزہ ریزہ کرتے ہوۓ …پسینے میں شرابور گنگناتے جارہے ہیں کہ دم کہیں لیں گے نہ تکمیلِ سفر ہونے تک

دوسری قسم:ڈر کے طوفان سے ساحل کے طلبگار ہیں جو!

اس راہ سے ایسے مسافر گذر رہے ہیں جوخارزارراستے دیکھ کر رک گیے جن کی ہمت جواب دے گٸ جو سفر کی صعو بتوں کو دیکھ کرسوچ میں پڑ گیے کہ آیا قدم بڑھایا جاۓ یا نہیں جو تذبذب میں مبتلا ہوگیے تیز و تند ہواٸیں ..پہاڑوں کی سختیاں ..سمندروں کی گہراٸیاں..جان لیوا گھاٹیاں تپتی ہوی ریت اس راہ پر خطر کا انھیں اندازہ ہواتو یہ الٹے پاٶں پیچھے پلٹ گیے ان کے دل کی کپکپاہٹ کہنے لگی کہ اف یہ جادہ کے جسے دیکھ کے جی ڈرتا ہے اور یہ مسافر پیچھے مڑتے وقت کلّما اضا۶ لَھم  مشوا فیہ واذا اظلم علیھم قاموا کے مصداق  اپنے ہمسفرں سے کہہ گیے ہم بھی ساتھ چلیں گے ذرا ہواییں تھم جانے دو راہ کچھ ہموار ہوجانے ایسے دشوار گذار راستے سے آگے جانا بے وقوفی ہے

تیسری قسم:شہادتوں کی رہگذر

یہ مسافر تو مردان جفاکش ہیں یہ وہ رہروان شوق ہیں جنکے خون آلودہ پیر اور نقوش پا قیامت تک اس زمین پر ثبت رہیں گے جنکے پاکیزہ لہو کے قطرے فرشتے اپنی پلکوں سے چنتے ہیں یہ ایسے مسافر ہیں جو راہوں کو خوشبوٶں سے معطر کردیتے ہیں جو کشاں کشاں اس راہ پر چلتے ہوۓ جنت کو اپنے سامنے دیکھنے کے منتظر ہوتےہیں کہ جو اپنے جنتی میزبان سیدالشھدا۶ امیرحمزہؓ ،غسیل الملاٸکہ حنظلہؓ ،اور نقیب اسلام مصعب بن عمیؓر سے ملنے کے مشتاق ہیں،

     کتنا مبارک ہے یہ سفر کتنا عظیم و محترم ہے اس راہ کا راہی کیسی شان ہے اس مسافر کی یہ تین کردار امت میں ہمیشہ سے رہے ہیں ١ عزیمت و جرات ،٢خوف و ہراس،٣ شہادت و سعادت ،یہ نہ صرف تین کردار ہیں بلکہ تین ایسے تاریخی آٸینے ہیں جسمیں جھانک کر ہم اپنی پوزیشن کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم کس سطح پر کھڑے ہیں آٸیے دیکھیں کہ تاریخ نے کن چہروں کو اپنے اندر قید کیااور وہ ہم سے کیا کہتے ہیں

پہلا آٸنہ:مورخین نے جن مبارک چہروں کو اس آٸنہ میں مقید کیا ہےوہ اپنے فرض کی پکار پر لبیک کہنے والے مسافر تھے جسمیں جری و بے باک ابو الاعلی مودودیؒ کی تصویر موجود ہے سید علی گیلانی اور امام حنبلؒ جیسے سخت کوشوں کے چہرےمحفوظ ہیں اس آینہ میں ہمیں وہ محترم بندگان خدانظر آۓجو بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی لیے پھرتے ہیں یہ آینہ تو اسیروں کا ہے قاٸد مرسی جیسے جانثاروں کا ہے اسمیں پہاڑوں سے ٹکرانے والی صنف نازک زینب الغزالی اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی بھی موجود ہے

دوسرا آٸنہ:

    اسمیں جھانکتے ہوۓہماری آنکھیں شرمسار ہوجاٸیں گی یہ وہ لوگ تھےجو راستے کی تکالیف سختیاں و خاردار جھاڑیاں دیکھ کر راستہ بدلنے پر مجبور تھے اسمیں ہمیں منافقوں کا سردار عبداللہ بن ابی اور شاہ عبداللہ نظر آۓپرویز مشرف اور شاہ سلمان جیسے چہرے بھی دیکھاٸ دیے

تیسرا آٸنہ:

      یہ خون سے رنگین آٸینہ ہے کٹے ہوۓ سر….پگھلتی چربی  ٗسینوں سے ابلتا لہو…زخموں کی سرخی ..اسمیں موجود گلوں کی طرح ترو تازہ چہرے دیکھ کر ہی محسوس ہوتا تھا کہ یہ اللہ رب العالمین کے پسندیدہ و منتخب کردہ نفوس کے چہرے ہیں ایک بڑا ہجوم ہمیں اسمیں نظر آیا قافلہ۶عشاق ہیں خباب بن ارتؓ  جعفر طیارؓ  ابو عبیدہ بن جراحؓ  برا۶ بن مالکؓ جیسےپاکیزہ و مقدس چہرے نظر آۓ اسمیں ہمیں شیخ احمد یاسین ٗ عبدالعزیز رینتیسی ٗسید قطب  حسن البنا اور سید احمد شہید ؒ کےچہرےبھی ہمارے جذبوں کو مہمیز کرگیے تب ہمارا یقین ہم سے کہنے لگا کہ؎

  قتل گاہوں کو لہو دیتے رہیں گے اہل دل

کارواں چلتے رہیں گے کربلا تا کربلا…

گویا یہ آٸینہ ہم سے کہتا ہے کیسی NRCکیسا CAA کیسے ڈیٹینشن کیمپ زندہ قوموں کو کوٸ ظالم وجابر نہ ڈرا سکتا ہے اور نہ  ہی اس کے قدموں کو لڑ کھڑا سکتا ہے شعب ابی طالب کے ڈیٹینشن کیمپ اس بات پر قیامت تک  گواہ ر ہیں گے یہ آٸینہ ان بہادروں کے چہرے ہمیں اسی لیے بتارہا ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی سخت ہو بہادر اور بے باک قومیں ظالموں کی گردنیں مروڑ کر اپنی  تاریخ کو روشن بناتی ہے

یہ آٸینہ ملت کو جگانے کیلیے ہیں یہ بہتے لہو کا پیغام ہے  کاش ہم بھی اس پاکیزہ رہگذر پر چل پڑیں کاش ہم بھی اس راہ کے راہرو بن جاٸیں ہم بھی اسوقت کے ظالم و جابر فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی تاریخ بتادیں کہ؎

      ہمکو اے ریت کے ذرات سمجھنے والو

غور سے دیکھو ذرا شمس و قمر ہے ہم لوگ

لھذا یہ ہماری غیر معمولی تاریخ جو ہر دور میں اپنے پہلو سے ایسے واقعات  پیش کرتی ہیں  جو آنے والی نسلوں کیلیے مشعل راہ ہوتے ہیں

    ہم سلام کرتے ہیں جامعہ ملیہ کے ان جانبازوں کو جو اس راستہ کے انتخاب میں سبقت لے گٸے جو آج ظالم و جابر حکومت کے سامنے سینہ سپر ہوکر ایک نٸ تاریخ رقم کررہے ہیں

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button