Sliderاسلامی تحقیقاتمعاشیات

تجارتی اشیاء کی پبلسٹی: اسلام کا نقطہ نظر

کسی پروڈکٹ کی پبلسٹی کے لیے ایسا مبالغہ جائز نہیں ہے جو حقیقت کے خلاف اورجھوٹ کے زمرے میں آتاہو اور خریداروں کو اس سے دھوکہ ہو سکتا ہو

ڈاکٹر کمال اشرف قاسمی

  (اسسٹنٹ پروفیسر و سابق صدر شعبۂ دینیات، عالیہ یونی ورسٹی کولکاتہ،مغربی بنگال)

عقائد و عبادات کی طرح معاملات بھی دین کا ایک اہم شعبہ ہے۔ جس طرح عقائداور عبادات کے بارے میں احکام و جزئیات بیان کیے گئے ہیں، اسی طرح شریعتِ اسلامی نے معاملات سے متعلق جزوی اور کلی تفصیلات فراہم کی ہیں اور ان کے حلال و حرام، مکروہ و غیر مکروہ اورجائز و طیبہونے کا ذکر قرآن و حدیث میں موجود ہے۔چند مثالیں درج ذیل ہیں :

وَأَحَلَّ اللّہُ الْبَیْْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا (البقرۃ:۲۷۵)

(اللہ نے خرید و فروخت کوحلال کیاہے اور سود کو حرام۔ )

دوسری جگہ ارشاد ہے:

فَإِذَا قُضِیَتِ الصَّلوٰۃُ فَانتَشِرُوا فِیْ الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِن فَضْلِ اللَّہِ وَاذْکُرُوا اللَّہَ کَثِیْراً لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُون (الجمعۃ:۱۰)

(پھر جب نماز ختم ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو، تاکہ تمہارا بھلا ہو۔)

طلب الحلال واجب علی کلّ مسلم۔۱؎

(حلال روزی تلاش کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔)

ایک دوسری حدیث میں مذکور ہے:

طلب کسب الحلال فریضۃ بعد الفریضۃ۔ ۲؎

(حلال رزق کمانا بھی دیگر فرض کی طرح فرض ہے۔ )

ایک حدیث حضرت مقدامؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

ماأکل أحد طعاماً قط خیراً من أن یأکل من عمل یدہ، وان نبی اللہ داؤد علیہ السلام کان یأکل من عمل یدہ۔۳؎

(آدمی کا اپنے ہاتھ کا کمایا ہوا کھانا سب سے بہتر ہے۔اللہ کے نبی دائود علیہ السلام بھی اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے۔)

تجارت کسبِ معاش کا بہترین ذریعہ ہے۔ اگرتجارت شرعی اصول کے مطابق کی جائے تووہ دنیوی اعتبار سے بھی نفع بخش ہوگی اور اخروی اعتبار سے بھی  بڑے اجر و ثواب کا موجب ہوگی۔ اللہ کے رسولﷺ کا ارشاد ہے:

التاجر الصدوق الامین مع النبیین و الصدیقین و الشہدائ۔۴؎

(سچا اور مانت دار تاجر [روز قیامت] انبیائ، صدقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا)

انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ وہ فائدے کی چیز کوترقی دینااور اس میں دوسروں سے آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ لہٰذا تاجرکی بھی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی تجارت بام عروج پر پہنچ جائے۔ اس کے لیے وہ اشتہار(Advertisement) کا سہارا  لیتا ہے، خواہش رکھتاہے کہ اپنی تجارت کو عوام الناس کے سامنے کیسے بہتر ڈھنگ سے پیش کرے کہ وہ اس کی مصنوعات(Products) خریدیں۔

اشتہار کا مطلب ہے کہ کسی بھی ذریعے سے لوگوں کو اپنی مصنوعات (Products) یا خدمات (Services) کے بارے میں مطلع کیاجائے تاکہ ان کی دل چسپی میں اضافہ ہو اوروہ زیادہ سے زیادہ ان چیزوں کو خریدیں یا ان خدمات کو حاصل کریں۔

اشتہاری ذرائع

اشتہارکے لیے عموما ًایسے ذرا ئع ابلاغ کو استعمال کیا جاتا ہے جن کے ذریعے جلد از جلد اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک مصنوعات کا تعارف ہوجائے۔ اس کے لیے ایسا اسلوب اور طریقہ اختیار کیا جاتا ہے جو مؤثرترین ہو، مثلاً پرنٹ میڈیا، جیسے اخبارات، جرائد و رسائل اور پمفلٹ وغیرہ میں اشتہارات دیے جاتے ہیں، جو ہر روز لاکھوں لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچتے ہیں۔ اسی طرح الکٹرانک میڈیا، جیسے ٹی وی، ریڈیو اور انٹر نیٹ وغیرہ پرمصنوعات کی تعریف کے لیے عبارت، مکالمہ یا کو ئی شارٹ فلم بنا کر پیش کی جاتی ہے، جسے کروڑوں لوگ دیکھتے اور سنتے ہیں – اس کے علاوہ اشتہار کے لیے سائن بورڈ (Sign Board) کا بھی استعمال کیا جاتا ہے، جسے کسی ایسی جگہ نصب کیا جاتا ہے جہاں سے کثیر تعداد میں لوگوں کا گزر ہو، جیسے سڑکوں کے کنارے، یا چوراہوں میں بڑی بڑی عمارتوں پر یا بازاروں میں۔ اس کے علاوہ دیگر واسطوں جیسے کیلنڈر اور ڈائری وغیرہ کو بھی پبلسٹی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اشتہارکے اقتصادی اثرات

مصنوعات کی پبلسٹی اور اقتصادی ترقی کے لیے اشتہار مؤ ثر ترین وسیلہ ہے، جو کمپنی کی مصنوعات کی مانگ بڑھانے، ان کو پھیلانے اور بیچنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح کبھی کبھار نئی مصنوعات پر ضخیم سرمایہ خرچ کیاجاتا ہے۔ انہیں متعارف کرانے اور صارفین کی نظر میں انہیں وقعت دینے میں تشہیر کا بڑا موثر کردار ہوتا ہے۔ بسا اوقات اشتہار کے بغیر نئی پروڈکٹ کو ترویج نہیں ملتی اور کمپنی خسارے کا شکار ہوجاتی ہے۔

 دوسری طرف اشتہار کا فائدہ اخبارات، رسائل اور میڈیا والوں کو بھی پہنچتا ہے، جن کی اکثر آمدنی اشتہارات کے معاوضہ کی صورت میں ہوتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اس میں عوام کا بھی فائدہ ہے، کیوں کہ اگر پرنٹ میڈیا یا الکٹرانک میڈیا والے اشتہار کا معاوضہ نہ لیتے تو اخبارات و رسائل اور دیگر ذ رائع ابلاغ اتنے سستے اور کم قیمت میں لوگوں تک نہ پہنچتے۔ اسی طرح مختلف انواع کی مصنوعات میں فرق اور ان کی دست یابی کے مقامات اور بنانے والوں کے بارے میں معلومات اشتہارات کے وسیلے ہی سے حاصل ہوتی ہیں اور ہر فرد کو اپنی وسعت کے مطابق ضرورت کی چیز وں تک رسائی ہو جاتی ہے۔ اگرچہ اشتہار کا ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ بعض ادارے اور کمپنیاں اشتہاروں پر حد سے زیادہ سرمایہ خرچ کر تی ہے اور اس سلسلے کے سارے اخراجات وہ پروڈکٹ کی قیمت میں شامل کر لیتی ہیں، جس کی وجہ سے چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں۔ اگر اس سلسلے میں میانہ روی سے کام لیا جاے تو یہ خرابی بہت حد تک کم ہو سکتی ہے۔

اشتہارکے شرعی حدود

مصنوعات(Products)کو فروخت کرنے اورخدمات (Services) کے لیے ان کی پبلسٹی کرنا، تا کہ وہ لوگوں کے علم میں آ جائیں اور اگر وہ ان کو فراہم کرنا چاہیں تو حاصل کر سکیں، بذات خود جائز، بلکہ مستحسن ہے۔متعدد احادیث سے اس کا جواز ثابت ہوتا ہے۔

حضرت انسؓ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ ایک صحابی، جن کا نام زاہر تھا، دیہات میں رہتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ سے ان کے روابط تھے۔ وہ آپؐ کے لیے دیہات سے ہدایا لایاکرتے اور جواب میں آپؐ بھی انہیں تحفے تحائف سے نوازتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ بازار میں کوئی سامان فروخت کررہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ ادھر سے گزرے تو انہیں پیچھے سے پکڑ لیا کہ وہ آپ کو دیکھ نہ سکیں۔ وہ کہنے لگے:مجھے چھوڑ و۔ کون ہے؟مڑ کر دیکھا تو نبی ﷺ تھے۔ تب وہ اپنی پیٹھ آپؐ کے سینے سے رگڑنے لگے۔ آپؐ نے انہیں پکڑ کر فرمایا:کون اس غلام کو خریدے گا؟انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول!میری زیادہ قیمت نہیں لگے گی۔رسول اللہ ؐ نے فرمایا: لیکن اللہ کے نزدیک تم بڑے قیمتی ہو۔۵؎

اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ حضرت علیؓنے ایک مرتبہ کوفہ کے بازار میں اپنی تلوار لہرا کر ا علان کیا:’’ کون ہے جو مجھ سے یہ تلوار خرید ے گا؟‘‘۶؎

شیخ یٰسین بن طہٰ نے پبلسٹی کے جواز پر یہ دلیل دی ہے:

الاعلان والدعایۃ فیہما شبہ بعمل الدلال، وھو من یعرف بمکان السلعۃ وصاحبہا، وینادی فی الأسواق علیہا، وقد أجاز اہل العلم عمل الدلال، جری علی ذلک عمل المسلمین، ولم ینقل انکارہ عن أحد من أہل العلم۔ وہذا یدّل علی أنہا أی الدلالۃ من الأعمال المشروعۃ الرائجۃ المتوارثۃ بلانکیر۔۷؎

(اعلان اور پبلسٹی کا کام ایک طرح سے ایجنٹ کے عمل کے مشابہ ہے، کیوں کہ ایجنٹ بھی مصنوعات (Products) کی صفات بیان کرتا ہے، گاہک کو ترغیب دے کر مصنوعات کے دست یاب ہونے کے مقامات کی طرف راہ نمائی کرتا ہے اور فروخت کنندہ کے لیے خریدار مہیا کرتا ہے۔ اشتہار کا بنیادی مقصد بھی تقریبا یہی ہے۔ ایجنٹ کے کام کے جائز ہونے پر تمام اہل علم کا اتفاق ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ اس کا شمار جائز کاموں میں ہوتا ہے۔ اس پر کبھی نکیر نہیں کی گئی۔)

مصنوعات کی خوبیاں اور خرابیاں

یہ بات تو اپنی جگہ درست ہے کہ اشتہارات دنیا میں مصنوعات اور خدمات وغیرہ کی ترویج کا اہم وسیلہ ہیں اوریہ چیز سماج کی ایک بنیادی ضرورت بن چکی ہے، لیکن اشتہارات کی ایک بڑی تعداد فحاشی، موسیقی اور اس جیسی دیگر شرعی خرابیوں پر مشتمل ہوتی ہے۔

اشتہار کے جواز کی سب سے پہلی اور بنیادی شرط یہ ہے کہ جن مصنوعات کی  پبلسٹی مقصود ہو وہ حلال ہوں، اشتہارکے وقت کسی چیز کی محض اطلاع دینا مقصود ہوتا ہے۔ اس صورت میں یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کے عیوب کا بھی ذکر کیا جائے، البتہ جب عملاً خریدوفروخت کا معاملہ ہو رہا ہو تو اس وقت خریدار کو اس کے عیوب کے بارے میں بتانا ضروری ہے۔

لیکن اگرپبلسٹی کے ذریعہ کسی چیز کا مکمل تعارف کرانا بھی مقصود ہو، جس میں اس چیز کی خصوصیات (Characteristics) اور فوائدکا ذکر کیاجا رہا ہو تو اس کی درست صفات (Original Qualities) کا تذکرہ ضروری ہے۔جھوٹ بول کر اس کی کسی ایسی کوالٹی کا ذکر کرنا جائز نہ ہوگا جو در حقیقت اس میں پائی ہی نہ جاتی ہو۔ اس وقت اس چیز کے اندر پائے جانے والے عیوب کا حقیقت پسندی سے تذکرہ کرنا از حد ضروری ہوگا۔ کیوں کہ اگر اس وقت اس کے عیوب نہ بتائے گئے تو خریدار اس کے صرف فوائد دیکھ کر اسے خرید لے گا، جس کی وجہ سے اس کو دھوکہ ہوگااورشریعت میں اس کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ ۸؎

اشتہارمیں تصاویر اور انسانی اعضاء کی نمائش

غیر جان دار چیز (جیسے درخت پہاڑ وغیرہ)کی تصویر دکھانا بلا شبہ جائز ہے۔ جہاں تک جان دار کی تصویر کے استعمال کا معاملہ ہے تو اس کا حکم جاننے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ذرا ئع ابلاغ دو قسم کے ہیں : ایک وہ ذرا ئع ہیں جن میں اشتہار کا کوئی پرنٹ نہیں نکالا جاتا، جیسے سی سی ٹی وی، کمپیوٹر وغیرہ۔ ذرا ئع کی دوسری قسم وہ ہے جس میں اشتہار کا باقاعدہ پرنٹ نکا ل کر شا ئع کیا جاتا ہے۔ مثلاً اخبارات ورسائل اور سائن بورڈ وغیرہ کے اشتہارات۔ دونوں قسموں کا حکم الگ الگ ہے۔

الکٹرانک میڈیا کے واسطے سے پبلسٹی کرتے وقت کسی جانور یا انسان کی تصویر دکھانا جائز ہے، بشرطے کہ انسان کا سترعریاں نہ ہو۔اب اگر مرد کی تصویر ہے تو  اس کی ناف سے لے کر گھٹنوں تک کا حصہ ستر میں شامل ہوگا۔ اگر عورت کی تصویر ہے تو اس کے جسم کا کوئی بھی حصہ دکھانا جائز نہیں ہے، البتہ ضرورت کے وقت اس کے ہاتھ اور پاؤں دکھایے جاسکتے ہیں۔ ۹؎

پرنٹ میڈیا اور سائن بورڈ کے اشتہارات کی تصویر کے بارے میں عو رت کی تصویر کا وہی حکم ہے جو پہلے گزر چکا۔ اس قسم کے اشتہارات میں مرد، بلکہ کسی بھی جان دارکے چہرے کی تصویر بنانا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ تصویر کا اصل مدار چہرے پر ہے، لہٰذا جو تصویر سر والی ہو، جس میں کان، ناک اور آنکھ وغیرہ اعضاء صاف بنے ہوئے ہوں، وہ حرام ہے۔ اگر تصویر میں سر نہ ہو، یا سر ہو، مگر اس میں آنکھ، کان، ناک صاف بنے ہوے نہ ہوں، بلکہ یہ ا عضا مٹے ہوے ہوں، یا سر کے اوپر کوئی چیز لگا کر اس کو چھپا یا گیا ہو، یا پوری تصویر نہ ہو، بلکہ تصویر کے ا عضا ء میں سے کوئی ایک عضو ہو، مثلاً صرف آنکھ، کہنی، ہاتھ، بازو، پیر، پیٹھ وغیرہ، یا پشت کی جانب سے لی گئی تصویر ہو، جس میں چہرہ سامنے نہ ہو تو ایسی تصویر شرعاً ممنوع نہیں ہے، بشرطے کہ مرد کی ہو۔۱۰؎

 شریعت کی پاس داری

اشتہارات کے سلسلے میں حکومت وقت نے جن قوانین کی پابندی کو لازم قرار دیا ہے، ان کی پاس داری ضروری ہے۔ کیوں کہ اگر حکومت عوامی مصلحت کے لیے کوئی جائز قانون بنائے، جس کے ساتھ مملکت کے عوام کی مصلحت وابستہ ہو تو عوام کے لیے شرعاً اس کی پابندی ضروری ہے اور اس کی خلاف ورزی جائز نہیں۔ خلاف ورزی کرنے والا گنہ گارہوگا۔۱۱؎

منکرات سے احتراز

پبلسٹی کے وقت جس طرح جھوٹ اور دھوکہ سے اجتناب کرنا لازم ہے۔ اسی طرح موسیقی اور گانوں سے بچنا بھی ضروری ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ پبلسٹی میں عورت کی آواز نہ ہو۔ اگرچہ عورت کی آواز فی نفسہ پردہ میں داخل نہیں ہے، لیکن شرعاً یہ بات ناپسند کی گئی ہے کہ عورتیں بلاضرورت اپنی آواز غیر محرم مردوں تک پہنچائیں۔

اشتہار میں مبالغہ آرائی

کسی پروڈکٹ کی پبلسٹی کے لیے ایسا مبالغہ جائز نہیں ہے جو حقیقت کے خلاف اورجھوٹ کے زمرے میں آتاہو اور خریداروں کو اس سے دھوکہ ہو سکتا ہو، مثلاًاگر کسی دوا سے درد ختم ہونے میں دو چار گھنٹے لگ جاتے ہوں، یا اس دوا کو دو چار دفعہ استعمال کرنا پڑتاہو تو اس کے بارے میں یہ کہنا کہ اس سے درد فوراًختم ہوجائے گا، درست نہیں ہے، البتہ اگر ایسے الفاظ استعمال کیے جائیں جو بہ ظاہر مبالغہ آمیزنظر آرہے ہوں، لیکن وہ جھوٹ کے زمرے میں نہ آتے ہوں تو اس کی گنجائش ہے۔ جیسے ایئر کنڈیشنز کے بارے میں یہ کہا جائے کہ ’گرمیوں میں سردی کا مزہ‘وغیرہ پبلسٹی کے لیے فرضی کہانی(ریلسٹک) بنانے کا بھی یہی حکم ہے کہ وہ جھوٹ پر مبنی نہ ہو اور کہانی میں جن فوائد و خصوصیات کو بیان کیاجائے وہ واقعی ان مصنوعات میں پائی جارہی ہوں تو ایسی کہانی بنانے کی گنجائش ہے۔۱۲؎

حواشی و مراجع

۱۔      المعجم الاوسط للطبرانی ۸۸۳۷؍ ۸۶۱۰، کنز العمال، ۵؍ ۴۔۴۰۲۰

۲۔      رواہ البیہقی عن ابن مسعود وا الطبرانی فی الاوسط من حدیث أنس

۳۔      صحیح بخاری، کتاب البیوع، باب کسب الرجل وعملہ بیدہ، ۱۹۸۸

۴۔      ترمذی، ۱۲۵۲

۵۔      مسند ابی یعلیٰ، ۶؍ ۱۷۳، حدیث نمبر، ۳۴۵۶، مسند احمد، ۳؍ ۱۶۱، حدیث نمبر ۱۲۶۶۹، البیہقی، ۱۰؍ ۲۴۸، الذہبی نے المہذب (۸؍ ۴۲۶۹) میں لکھا ہے کہ اس کے راوی ثقہ ہیں۔ علامہ ابن کثیر نے  البدایۃ والنہایۃ (۶؍۴۸) میں لکھا ہے: اس کے راوی صحیحین (بخاری مسلم) کی شرط پر ثقہ ہیں۔ ہیثمی نے مجمع الزوائد (۹؍ ۳۷۱) میں لکھا ہے: اس کے راوی صحیح کے راوی ہیں۔ علامہ البانی نے بھی تخریج مشکاۃ المصابیح (۴۸۱۵) میں اس کو شیخین کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے۔

۶۔      حلیۃ الاولیاء، ابو نعیم اصبہانی، علی بن ابی طالب، حدیث نمبر ۲۵۲، الامعجم الاوط، ۷۱۹۸

۷۔      المعاملات المالیۃ المعاصرۃ فی الفکر الاقتصادی الاسلامی ص: ۶۷

۸۔      تجارتی کمپنیوں کا لائحۂ عمل، ص ۲۳۹

۹۔      تکملۃ فتح الملہم، ۴؍ ۱۶۴

۱۰۔    جوھر الفقہ، ۷؍ ۲۳۱

۱۱۔    تکملۃ فتح الملہم، ۳؍ ۳۲۳

۱۲۔    تجارتی کمپنیوں کا لائحۂ عمل، ص ۲۴۲

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button