Sliderمسلم دنیا

تحریکی لٹریچر کا مطالعہ کیوں اور کیسے؟

ہوشیاری اور فرزانگی ہمارے وجود میں پیوست ہوتی جارہی ہے اور دیوانگی جوہمارا تحریکی اثاثہ تھا، ہم سے رخصت ہوتی جارہی ہے۔

احمد علی اختر

(سابق امیر جماعت اسلامی ہند، حلقہ بہار)

اس موضوع پر غور وفکر سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ تحریکی لٹریچر کسے کہتے ہیں۔ لٹریچر کئی طرح کا ہوتاہے۔ علمی وادبی لٹریچر، تفریحی ومعلوماتی لٹریچر، تاریخی اور تحریکی لٹریچر وغیرہ۔ تحریکی لٹریچر کی دو خصوصیات ہوتی ہیں۔ ایک خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ اس تحریک کا پورا نقشہ اور خاکہ سامنے لاتاہے جس تحریک کا اصلاً وہ لٹریچر ہوتاہے۔ دوسرے الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس لٹریچر سے تحریک کے مقاصد، طریقۂ کار، نقشۂ انقلاب اور اصول اخلاقیات کے علاوہ تحریک کی ضرور ت و اہمیت پر روشنی پڑتی ہے اور یہ چیزیں قاری کے لیے محرک عمل بنتی ہیں۔  دوسری خصو صیت یہ ہوتی ہے کہ اس لٹریچر کا طرز خطاب  انسانی ذہن کے بند دریچوں کو کھولتا اور تاریک دماغوں کو روشن کرتا ہے، اس کی منجمد اور یخ بستہ سوچ میں گرمی اور توانائی پیدا کرکے اس کی زندگی کو ایک نئی جہت سے آشنا کرتاہے۔ اس  خوابیدہ جذبات کو جگاکر اس کے اندر ایک تازگی،جوش عمل اور ہل چل پیدا کردیتاہے۔ چنانچہ اس کی ویران اور خزاں رسیدہ زندگی ولولوں، امیدوں اور آرزوئوں سے معمور ہونے لگتی ہے۔ اس کے عزائم بلند ہونے لگتے ہیں، اس کے اندر خود اعتمادی کی قوت ابھرتی ہے اور وہ ایک نئی  آن بان اور قائدانہ شان کے ساتھ آگے بڑھنے لگتاہے۔ یوں تحریکی لٹریچر کی بدولت ایک معمولی انسان کے  بطن سے ایک طاقتور، متحرک اور باعمل انسان جنم لیتاہے۔

یہ بات واضح ہوگئی ہوگی کہ تحریکی لٹریچر کا مطالبہ کیوں ضروری ہے۔ اِس وقت تحریکی لٹریچر کا مطالعہ ہمارا کمزور پڑگیاہے اور اب ہمیں یہ بتانے اور سمجھانے کی ضرورت پیش آگئی ہے کہ تحریکی لٹریچر کا مطالعہ کیوں ضروری ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ تحریکی لٹریچر کے مطالعہ کی کمزوری کے منفی اثرات ہماری زندگیو ں پر ظاہر ہونے شروع ہوگئے ہیں۔ ہماری سوچ، ہمارے حوصلوں اور ولولوں اورہماری نقل وحرکت میں ان اثرات کا بخوبی مشاہدہ کیاجاسکتاہے۔ کل ہم اس لٹریچر کے گرویدہ تھے اور لٹریچر پڑھے بغیر ہمیں چین نہ آتا تھا،اس کا اندازہ لگانے کے لئے بہتر یہ ہے کہ ہم اپنے ایک دو رفیقوں کے تاثرات ملاحظہ فرما لیں :

نسیم احمد صاحب لکھتے ہیں :

’’ اب روزانہ دفتر جانا، پڑھی ہوئی کتابیں واپس کرکے دوسری کتابیں لینا معمول بن گیا۔ ہفتہ وار اجتماع میں شریک ہونے لگا۔ ذاتی مطالعہ کے ساتھ ساتھ دوسروں کو لٹریچر پڑھوانے، گفتگو کرنے، رپورٹ پیش کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

جماعت سے متاثرہونے والوں کی ایک فہرست پیش کرتے ہوئے موصوف فرماتے ہیں :

’’ یہ سب نمایاں شخصیتیں تھیں، یہ سب کے سب اخلاص کے مجسمے تھے، ایثار وقربانی ان کا مشترک وصف تھاکوئی مدرسہ چھوڑ کر آیا تھا، کوئی سرکاری نوکری چھوڑکر، کوئی تعلیم چھوڑکر، کوئی کاروبار اٹھا کر، کوئی ایسا نہیں تھا جو قربانی کا دریا پار کئے بغیر ادھر آیا ہو۔ ہر شخص اپنی پچھلی دنیا کو خیر آباد کہہ کر آیا تھا۔ آرام وآسائش کو، روشن مستقبل کو قربان کرکے آیا تھا۔ پرانے رشتوں کو کاٹ کر نئے رشتوں میں بندھا تھا۔۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

’’۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک آگ تھی جو سب کے سینے میں لگی ہوئی تھی۔ اس مقصد نے سب کو ایک لڑی میں پرو دیا تھا، سب کو ایک فوج کی شکل دے دی تھی۔ کوئی بڑا اجتماع ہوتا تو معلوم ہوتا ایک فوجی کیمپ ہے۔ فوجی ڈسپلن میں سب کسے ہوئے ہیں۔ گھڑی دیکھ کر وقت پر جمع ہونا، وقت پر اٹھنا، وقت پر اجتماع شروع ہونا، وقت پر ڈسپلن کے ساتھ منتشر ہوجانا۔ ہر طرف سے سلام سلام کی آواز، ہر شخص خود تکلیف اٹھا کر دوسروں کو آرام پہنچانے کی کوشش کررہا ہے۔ دوسرے کے بستر کو اپنے سر پر اٹھائے ہوئے ہے۔ دسترخوان پر اپنے پلیٹ میں کھانا لینے کے بجائے دوسروں کو لگانے کی کوشش کررہاہے۔ ‘‘(اقتباسات  — مضمون’’ڈاکٹر صاحبؒ میری نظر میں ‘‘ مطبوعہ یادگار مجلّہ’’ نذرضیاء الہدیٰ)

راقم کے تاثرات:

’’مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جماعت کے لٹریچر نے میرے دماغ کے تاریک گوشوں کو منور کرنا شروع کردیا اور سچی بات یہ ہے کہ اسلا م کے روایتی تصور کی جگہ پر اسلا م کا انقلابی تصور ابھرا۔ توحید، رسالت اور آخرت کا یقین میرے شعور میں اس طرح پیوست ہواکہ میری زندگی بدل گئی، میرے شب وروز بدل گئے۔ اس لٹریچر نے یقین واعتماد کی ایسی کیفیت پیدا کی کہ اہل باطل اور طاغوتی طاقتوں سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا حوصلہ پیدا ہوگیا۔ ذہنی افق اتنا وسیع ہوا کہ اسلام کے علاوہ دنیا کے دوسرے نظام اور نظریات بے حقیقت نظر آنے لگے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم اور قد آور شخصیت کے سامنے دنیا کی تمام شخصیتیں بونی نظر آنے لگیں۔ ‘‘(اقتباس ’’یادوں کا نگار خانہ‘‘ مطبوعہ سوونیر ایس آئی اوبہار زون،۲۰۰۴ء)

جو چیز ہمارے وجود سے از خود پھوٹتی تھی آج لٹریچر نہ پڑھنے کی وجہ سے اسے اگانے کے لیے ترکیبیں لگانی پڑتی ہیں۔ کل تک ہم قدرتی چشمہ کی طرح خلق خدا کو سیراب کرنے والے ایک تحریکی وجود تھے مگر آج ہمارا وجود کنویں کی طرح جامد ہوگیا ہے کہ اس سے پانی نکالنے کے لیے بڑی کوششیں کرنی پڑتی ہیں۔ کل ہم بہتی ہوئی ندی کی طرح رواں دواں تھے اور خلق خدا کو سیراب کررہے تھے اور آج تالاب کے کھڑے پانی کی طرح ہم اپنی جگہ پر کھڑ ے ہیں، ہم میں خود سے چلنے کا یارا نہیں البتہ کسی کے چلانے سے کچھ چل لیتے ہیں، کوئی مہم چھڑ جاتی ہے تو کچھ کر لیتے ہیں، کوئی منصوبہ بنا کر دے دیا جاتاہے تو خانہ پری کے لیے کچھ کرنا ہی پڑتاہے۔ نہ کریں تو یہ باربار کا جائزہ اور احتساب جان کا لاگو ہوجاتاہے۔ بالکل نہ کریں، تحریک چھوڑکر نکل ہی جائیں ایسا بھی جی نہیں چاہتا۔ کچھ بھی ہو تحریک سے ایک تعلق خاطر ہے، دلی محبت ہے مگر اس کے لیے جو قربانی دینی ہے، جووقت اورمال لگانا ہے، سچی بات یہ ہے کہ اس کے لیے دل اب بڑھتا نہیں ہے،مصروفیات بھی فرصت نہیں دیتیں، بقول شخصے  —’ ’افکار معیشت کے فرصت ہی نہیں دیتے‘‘اب پہلی سی دیوانگی نہیں، چلتے تو ہیں مگر اب اتنے تجربہ کار ہوچکے ہیں کہ سنبھل سنبھل کر فرزانوں کی چال چلتے ہیں، مصلحت اور حکمت کے ساتھ پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں  —حالانکہ اب پہلے کی سی دقتیں اور رکاوٹیں بھی نہیں ہیں، بہت کچھ سہولتیں میسر آگئی ہیں۔ مگر ہماری سوچ یہ ہے کہ جب سائے موجود ہیں تو دھوپ میں چلنے کی ضرورت کیاہے۔ تحفظات کے ساتھ جب تحریک   چل سکتی ہے تو خطرہ مول لینے کی کیا ضرورت ہے؟

کلیم عاجزؔنے کیا خوب کہاہے   ؎

ہمیشہ دھوپ میں جائے گا کاروانِ جنوں

جو ہوشیار ہیں وہ سائے سائے جائیں گے

 ہوشیاری اور فرزانگی ہمارے وجود میں پیوست ہوتی جارہی ہے اور دیوانگی جوہمارا تحریکی اثاثہ تھا، ہم سے رخصت ہوتی جارہی ہے۔ یہ ہمارے تحریکی وجود کے لیے کوئی اچھی علامت نہیں۔ اس کے اسبا ب میں ایک بڑا سبب تحریکی لٹریچر کے مطالعہ میں کمی ہے، اسے دورہونا چاہئے۔ تحریکی لٹریچر کا مطالعہ ہم کیوں کریں اسے سمجھنے کے لیے بہتر یہ ہے کہ ہم اُن دنوں کو یاد کریں جب تحریکی لٹریچرکو پڑھ کر ہم تحریک کے قریب آئے تھے۔ اس لٹریچر کو پڑھنے سے پہلے ہم کیا تھے اور لٹریچر کو پڑھنے کے بعد ہم کیا بنے؟ ہمارے خیالات میں کیا انقلاب آیا، ہمارے جذبے میں کیسی گرمی اور تازگی پیدا ہوئی، ہمارے دماغ میں کیسی روشنی اور وسعت آئی اور ہمارے دل میں یقین کا کیسا نور سمایا، یہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ ہماری دنیا ہی بدل گئی،ہمارا فکر و کردار بدل گیا۔ عزم میں ایسی بلندی پیدا ہوئی کہ ہم اکیلے ہی اس نظام کو الٹ پلٹ کر دینے کی بات سوچنے لگے۔ رسموں اور رواجوں کے باغی ہوکر ہم بالکل انقلابی بن گئے تھے۔ مگر اب کیاہے؟ اب تو جیسے ٹھیک بالکل ٹھاک ہے۔ اگر کچھ ہو بھی رہا ہے توہم محض اس کے مشاہداور تماشائی ہیں۔ ساحل سے طوفان کا نظارہ کرنے والے ہیں، طوفان سے ٹکرانے کی ہم میں ہمت نہیں۔ حالات کو بدلنے کے لیے نہ کوئی عز م ہے اور نہ کوئی جذبہ اور نہ قائدانہ رول۔ ہم محض پیچھے چلنے والے ہیں۔ بالکل آخری صف میں اپنے جگہ بنائے ہوئے، اپنی جگہ پر مطمئن اور شاداں کہ بفضلہ تعالیٰ ہم بھی تحریک اسلامی کے ایک فرد ہیں۔

جہاں تک فہم کا سوا ل ہے ہمارے تحریکی فہم میں کوئی خاص کمی نہیں ہوئی ہے۔ ہمارا یقین کمزور پڑاہے، ہمارے جذبے میں کمی آئی ہے،جبکہ یقین وایمان کے نور اور جذبے کی گرمی ہی سے تحریک کی گاڑی چلتی ہے۔ جس لٹریچر نے کل ہمارے اندر گرمی پیدا کی تھی وہ آج بھی ہمارے اندر گرمی پیدا کرسکتاہے بشرطیکہ ہم تسلسل سے اسے مطالعہ میں رکھیں اور منصوبہ بند انداز سے پڑھیں۔ مولانا مودودی علیہ الرحمہ نے خود اپنے بارے میں یہ لکھاہے کہ میں خود اپنی کتابیں پڑھتا رہتا ہوں۔ اس لیے آپ بھی جو کتابیں پہلے پڑھ چکے ہیں انہیں دوبارہ پڑھیں۔ یہ کتابیں ایک بار نہیں باربار پڑھنے کی ہیں۔ کیونکہ ان سے فکری مواد اور فہم دین ہی حاصل نہیں ہوتا بلکہ جذبہ عمل بھی ملتاہے۔ تفریحی لٹریچر کو ایک بار پڑھ لینا کافی ہے مگر تحریکی لٹریچر باربار پڑھنے کی چیز ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم تحریکی لٹریچر کیسے پڑھیں کہ اس کا فائدہ ہمیں زیادہ سے زیادہ ملے۔ اس کے لیے پہلی چیز دل کی آمادگی ہے۔ جو کچھ پڑھیں اپنے شوق اور اندرونی خواہش سے پڑھیں۔ جب پڑھیں تو ہمارے دل ودماغ، ہمارے حواس وتوجہات سب کچھ اس کی طرف مرکوزہوں۔ اس کے لیے سکون، یکسوئی اوردلچسپی بہت ضروری ہے۔ کچھ سمجھنے کے لیے اور کسی موضوع پر تیاری کے لیے ایک کتاب کو بار بار پڑھیں۔ پہلے از اوّل تا آخر سرسری مطالعہ کرلیں۔ پھر دوبارہ پڑھتے ہوئے نکات نوٹ کریں، پھر اُن نکات کی بنیا دپر اپناایک لکچر تیار کریں۔

ہماری ضرورت کے لحاظ سے اور ہماری موجودہ کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے بھی جماعت کے ارباب حل وعقد نے منصوبے میں جو کتابیں تحریر کر دی ہیں اگرچہ وہ ہماری پڑھی ہوئی ہیں مگر ہم ان کا بھی دوبارہ بالاستیعاب مطالعہ کریں۔ سب سے زیادہ اہم اور ضروری قرآن کا مطالعہ ہے۔ اگر عربی نہیں آتی ہے تو ترجمہ وتفسیر کی مدد سے مفہوم ومعنیٰ کی گہرائیوں میں اترنا اور علم وحکمت کے موتی تلاش کرنا ہماری علمی رفعت، روحانی بلندی اور ایمانی قوت کے لئے ضروری ہے۔ قرآن  سے ہمیں  رہنمائی ملتی ہے کہ آج تحریک اسلامی کو کامیابی سے آگے بڑھانے کے لئے کس مرحلہ میں کون سی حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے۔ صرف حکمت عملی اور طریق عمل کی رہنمائی ہی نہیں ملتی بلکہ ایمانی جذبہ، جوش عمل اور سخت ترین حالات میں کام کرنے کے لئے ولولہ بھی حاصل ہوتاہے۔ پس! اگرہم اپنی تحریکی زندگی کو حوصلوں اور ولولوں سے معمور رکھنا چاہتے ہیں اور اپنے وجود کو ایمان وعمل کا پیکر بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں تحریکی لٹریچر سے قبل قرآن کا مطالعہ کرنا چاہئے۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button