Sliderفکرونظر

تدبیر محکم

عمارہ فردوس

جالنہ

   معلمہ انڈر اسٹینڈ قران اکیڈمی

حیدراباد میں  دوران طالب علمی ہمارے استاد محترم مولانا عبدالعلیم اصلاحی صاحب  دامت برکاتھم معمول کے مطابق ہماری کلاس  میں تشریف لاۓ اور تمام طالبات سے مخاطب ہوکر سوال کیا کہ آج صبح اخباردیکھا ہے؟ ۔۔مولانا اکثر اپنی تدریس سے پہلے یہ سوال ہم سے پوچھا کر تے پھر مولانا نے کہا کہ  آج صبح جب میں اخبار دیکھ رہا تھا تو ایک آرٹیکل کو پڑھ کر میری آنکھیں آبدیدہ ہوگٸیں  (جو کسی واقعہ پر تجزیاتی طور  پر لکھا ہواتھا )۔۔واقعہ یہ تھا کہ دو مدرسہ کے فارغین کرتا پاجامہ میں ملبوس پلیٹ فارم پر اپنی ٹرین کا انتظار کررہے تھے دونوں محو گفتگو تھے ۔۔دوران گفتگو ایک نے کہا کہ” ہمارے پاس تو بہت سے مساٸل ہیں یار بس سمجھ نہیں آتا کہ کیا کریں کیسے کریں ؟“انکی بغل میں بیٹھے ایک اجنبی شخص نے انھیں گھور کر دیکھا اور تھوڑی دوری پر جاکر کسی سے فون پر کچھ بات کی اور واپس اپنی نشست پر آکر بیٹھ گیا ۔۔۔۔بس کیا تھا کہ چند منٹوں کے بعد ہی پولس آکر ان دونوں کو پکڑ لے گٸ ۔۔دوران تفتیش پولس والے ان بے چاروں سے پوچھتے بتاٶ کہاں ہے میزاٸل ؟؟ کتنے ہیں کس کس سے تم دونوں کا تعلق ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔اب وہ بے چارے کیا جانے کہ انکی آپس کی گفتگو کے دوران لفظ ”مساٸل “انکے مسلمان ہونے کی وجہ سے” میزاٸل “بن چکا ہے ۔

    اسوقت جب تبلیغی جماعت کو نشانہ بناکر  گودی میڈیا اور شر پسندوں کی عیاری منظر عام پر آٸ تو مجھے اچانک اپنے بچپن کا یہ واقعہ یاد آگیا ۔

    موجودہ  دشواریاں اور ماضی کے حالات کا جاٸزہ لیں تو ہمیں ایک چیز  شر انگیزی میں یکساں نظر آتی ہیں وہ یہ کہ باطل کو اس بات سے کوٸ مطلب نہیں کہ کون کس جماعت سے ہیں ۔کسکا کیا نظریہ ہے ۔کون کس طریقہ کار پر گامزن ہے۔اسے مطلب ہے تو صرف کلمہ گو ہونے سے ۔ومانقموا منھم الا ان یومنوا باللہ العزیزالحمید ۔ترجمہ اسکے کے سوا انکا کوٸ قصور نہیں تھا کہ وہ ایک ربّ عزیز و حمید پر ایمان لاۓ تھے

    ہم میں سے کچھ بھولے و سیدھے مسلمانوں کا زاویہ فکر یہ ہوتا ھیکہ حکومت اور باطل کے منظور نظر بننے کیلے کیوں نہ دین کے جامع تصور کو پس پشت ڈال کرصرف اس بات پر اکتفا۶ کرلیں کہ گویا اک اجازتِ سجدہ ہی جو ہمیں اغیار کی جانب سے عطا ہوگیا یہ  انکی بڑی زرہ نوازی ہے

کیا خوب کہا تھا علامہ نے کہ

 ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
نادان سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

 

بحرحال اسے ہماری سادگی کہیں یا پھر کیا کہیں؟اسی طرح NRC اور CAA کی آفت کے وقت  یہی سادگی ہم میں سے بہت سوں پر  غالب رہی ۔لیکن اب اوروں کی عیاری نے شاید ایسے سادہ لوح حضرات کو یہ احساس تو دلا دیا ہو کہ معاملہ کچھ گڑ بڑ کا ہے اور شر پسند عناصر صرف اور صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے ہی الزام دھرتے ہیں ۔ویسے تو ایک بندہ مومن کو ایسی ریشہ دوانیاں نہ ہی خوفزدہ کرتی ہیں اور نہ ہی اس سے اسلام کو کوٸ نقصان پہنچتا ہے بلکہ یہی پیہم کشاکش اقوام کو زندہ رکھتی ہیں ۔اور ایسی ہی پر مشقت راہیں ملت عربی کے تب و تاب کا راز ہے۔اسکی تازہ مثال ہمارے سامنے ابھی ابھی گذری کہ کسطرح حکومت اور گودی میڈیا نے نظام الدین سے جڑے ہوۓ تاروں کوکورونا کے پھیلنے کاسبب بتاکرمسلمانوں کے لیے پھر ایک بار زمین تنگ کرنا چاہی لیکن انکی یہ گھٹیا چال تو ایسی ہے جسکا ذکر قران کرتا ہے  ومکروا و مکر اللہ واللہ خیرالماکرین وہ سب اپنی چالیں چل رہے ہیں اور اللہ اپنی چال چل رہا ہے اوراللہ کی چال ہی بہتر ہے لھذا اسی نظام الدین سے جڑے ہوۓ افراد جب صحت یاب ہوۓ تو یہی لوگ اپنا پلازمہ دینے کیلیے آگے آگیے تاکہ ہر مریض صحت یاب ہوجاۓ ۔۔۔اسے کہتے ہیں مکر اللہ ۔یعنی تدبیر محکم کہ اللہ نے کسطرح اغیار کی سازشوں کو انکے اوپر دے مارا ۔

    بحر حال اب حالات نے ہمیں سبق سکھا ہی دیا ہوگا کہ ہم اپنے انتشار کو ختم کرکے یک جٹ ہوکر حالات سے نبرد آزما ہوں ۔تنظیمیں اور جماعتیں چاہے الگ ہوں نظریات بھلے ہی مختلف ہوں لیکن اس سب کے باوجود ہم بنیان مرصوص بھی ہوں ۔دلوں کے جڑ جانے ہی سے یہ ممکن ہے کیونکہ دلوں کا انتشار مسلمان کا شیوہ نہیں قران خود اس کی طرف اشارہ کرتا ہے کی تحسبھم جمیعاً و قلوبھم شتاً۔تم ان سب کو ایک سمجھتے ہوجب کہ انکے دل پھٹے ہوۓہیں ۔یہ دلوں کا پھٹنا ہی دراصل  حقیقی انتشار ہے اسی لیے جمیعاً کی ضد میں قران نے یہ اصطلاح پیش کی ہے اور مومنین کی جماعت کو بنیان مّرصوص سے تعبیر کیا ہے لھذا جب ہم سب کے دل آپس میں ایک ہوں تب ہی ہم ملت واحدہ کے زمرے میں آٸیں گے۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button