Sliderبچوں کی دنیا

تربیتِ اطفال میں اسلامی مکاتب اور ادباء کا کردار

حقیقت یہ ہے کہ تربیت اطفال کا جو نظام و نصاب آج پبلک ؍کانوینٹ؍سرکاری اسکولوں میں رائج ہے وہ روحانی اقدار سے عاری وخالی ہے۔

ڈاکٹر ضیاء الدین فلاحی

(شعبہ اسلامک اسٹڈیز اے ایم یو، علی گڑھ)

تربیت ِاطفال اکیسویں صدی کے گارجین کا Concernبن چکا ہے۔ اسے آج کی مہذب دنیا میں Parenting سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ تربیت اطفال کی بنیادی ضرورت نے تمام طرح کی عصبیتوں اور حد بندیوں کو اپنی گرفت میں لے کردنیا کے تمام سنجیدہ والدین کے لیے تربیت وتہذیب اطفال کے مسئلہ کو انتہائی سنجیدہ اور سنگین بنا دیا ہے۔ چنانچہ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مغرب کے تھِنک ٹینک نے ’کِنڈر گارٹن‘کا جو تصورپیش کیا، اس کے نتیجے میں آج ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے گارجین اپنے نونہالوں کے کیریَر کے لیے جنون کی حدتک فکر مندی کا مظاہرہ کرتے نظر آرہے ہیں۔ ان کی ترجیح کا حال یہ ہے کہ عروس البلاد کے نامور کانوینٹ؍ اعلی پبلک اور معروف سرکاری اسکولوں میں داخلوں کو یقینی بنانے کے منصوبے اسی وقت سے شروع کردیتے ہیں جبکہ رحم مادر میں انہیں تخلیقی عمل کی امید جاگتی ہوئی محسوس ہونے لگتی ہے۔

اسلامی تہذیب نے مغربی ثقافت سے بہت پہلے تربیت اطفال کے سلسلے میں عملی اقدامات دنیاکے سامنے پیش کیے ہیں۔ مثلاًساتویں صدی عیسوی میں تربیت ِاطفال پر مسلم تہذیب کی برکات کی جو مثالیں تاریخ میں محفوظ ہیں ان کی مختصر تفصیل یہ ہے کہ: اچھی اولاد کی خواہش جگائی جاتی تھی، اچھے رشتوں کو تلاش کرنے کی آزادی دی جاتی تھی، خاندان کے استحکام کے لیے مشترک خاندان کے بالمقابل Nuclearفیملی کو ترجیح حاصل تھی، بامعنی نام رکھا جاتا، رسم اقراء کرائی جاتی اور اتالیق واستاذ کی نگرانی سے بہت پہلے خود والدین تربیت وتہذیب کا حق اداکرتے تھے وغیرہ۔ مغرب ومشرق کی Parentingکی تاریخ کا موازنہ انسانی عمرانیات کے متعدد قابل رشک پہلوؤں کی نشاندہی کرے گا۔ مثلاً یہ کہ جس اخلاق وتہذیب کی بات مغرب کرتا ہے وہ کوکھلی مورالیٹی اور ایتھِکس کی خمیرکی پیداوار ہے۔ وہی مورالیٹی مشرق کے مکاتب اسلامیہ اور نرسری سے فارغ التحصیل طلبہ وطالبات کے اندر دنیاوی کارگزاریوں کے لئے معتدل، انصاف پسند، مستقبل شناس، بامعنی اور انسانیت نواز اقدار کی تخلیق کا باعث بن گئی۔ مدارس ومکاتب میں ماضی کی ان اعلیٰ اقدار کے احیاء کی شدید ضرورت ہے۔

 تربیتِ اطفال کا ایک دوسرا پہلو اسلامی ادب کی تیاری سے متعلق ہے۔ آج کی نام نہاد مہذب دنیانے اس موضوع پر دنیا کی ہر زبان میں بے شمار تحقیقاتی مقالات تیار کروائے ہیں اور جدیدیت اور مابعد جدیدیت کی سرپرستی میں مادہ پرستی کو پرستش وعبادت کا مقام عطا کرتے ہوئے لاکھوں کتب’’ شیرخوارذہنوں ‘‘ کی تربیت وپرداخت کے لیے تیار کردیا ہے۔ گوگل پر آپ کو اس ضمن میں درجنوں سائٹس سے روبرو ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔ مثلاً The Value of Children  Litreature,Nurturing Children Litrature, Nuturing emotional intelligence وغیرہ عنوانات کے ضمن میں جو علمی و تربیتی موادتیار کیا گیا ہے وہ دنیا کاری کے لئے ایسے کل پرزے تیار کررہا ہے جوعرفان ذات اور خالق کائنات کے تعارف وادراک سے یکسرعاری اورمستغنی ہے۔ ایسی صورت میں جب کہ روحانیت کو Pedagogy سے کھرچ کر نکال دیا گیا ہے،توازن واعتدال ہرگز پیدا نہیں ہوسکتا۔

 بلاشبہ تربیت اطفال کے موضوع پر بیسویں صدی میں امتیاز علی تاج، حفیظ جالندھری، خواجہ حسن نظامی، پریم چند، ڈاکٹر ذاکر حسین، عابد حسین، تلوک چند محروم، شفیع الدین عنبر، ظفر گورکھپوری،راجہ مہدی علی خان، قرۃ العین حیدر، فرحت عطیہ، صالحہ عابدہ حسین، عفت موہانی، صادقہ نواب سحر، مسعودہ حیات،شفیقہ فرحت وغیرہ نے بچوں کے لئے قیمتی ادب تخلیق کیا ہے لیکن یہ ادبی سرمایہ آزاد اور بے قیدہے۔ ان ادباء کے مقابلہ میں جو ادب اتالیق، المعلم، ادیب اطفال، نو نہال، ذکریٰ، الہلال، حجاب، نور، الحسنات، پیام تعلیم، اچھا ساتھی اور جنت کے پھول نامی رسالوں کے ذریعہ معرض وجود میں آیا یا آرہا ہے وہ اول الذکر ادباء کے مقابلہ میں اسلامی اقدار وروایت اور شریعت مطہرہ کا ترجمان ووکیل ہے۔

بیسویں صدی کے بھارت میں فکراسلامی کے ممتاز اسکالر سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ (م1979) نے تعلیم کو اسلامی قیادت سے جڑا ہوا مسئلہ قرار دیاہے۔ انہوں نے اپنے رسالہ ’تعلیمات‘کے اندر ابتدائی، ثانوی اور اعلیٰ تعلیم کے نصابات اور ترجیحات کا تذکرہ کیا ہے۔ مفکر اعلی گُہر کی سخت گیر تعلیمی فکر (جو بوجوہ بیسویں صدی میں ضروری تھا)کے بے شمار مثبت پہلو سامنے آچکے ہیں۔ مثلاً دربھنگہ (بہار)رامپور، بلریا گنج اورنیوتنی (یوپی) وغیرہ میں قائم کردہ مکاتب اسلامی؍ درسگاہوں کے ذریعہ جو نرسری تیار ہوئی اس نے رواں صدی میں دیگر علمی میدانوں کے علاوہ تربیت اطفال کے میدان میں بھی قابل تقلید مواد تیار کیا ہے۔ اس ضمن میں افضل حسینؒ(م1990)عرفان خلیلیؒ(م1996) اور مائل خیرآبادی ؒ(م1998)کے اسماء گرامی کا تذکرہ نہایت اہم ہے۔ اول الذکر کی کتاب ’فنِ تعلیم وتربیت‘ معاصر جامعات اوریونیورسٹیز کے بی۔ ایڈکے نصابات میں شامل کی گئی ہے۔ مائل چچامیاں نے رامپور کا ادبی مقام بلند کیا انہوں نے دونوں صنفوں کے لئے سینکڑوں ڈراموں، افسانوں اور ناولوں کے ذریعہ تاریخی کارنامہ انجام دیا۔ جب کہ استاذگرامی عرفان خلیلیؒ نے درسگاہ اسلامی رامپور میں اتالیقی اور مدرّسی کے علاوہ تربیت اطفال کو اپنی قلمی زندگی کا عنوان بنایا۔تربیت اطفال پر ان کی ایک درجن سے زائد کتابوں میں سب سے اہم کتاب’آپؐ کیسے تھے‘کے دو درجن سے زائد ایڈیشن ان کی مقبولیت کی دلیل ہے۔

          حقیقت یہ ہے کہ تربیت اطفال کا جو نظام و نصاب آج پبلک ؍کانوینٹ؍سرکاری اسکولوں میں رائج ہے وہ روحانی اقدار سے عاری وخالی ہے۔دوسری طرف غیر تدریسی مواد جو ڈراموں، ناولوں، کہانیوں اور اشعار کی شکل میں تیار کیا جارہا ہے اس کی حقیقت وماہیت بھی مایوس کن ہے۔ سوال یہ ہے کہ اپنے نونہالوں کی تربیت کے لیے آج کے اسلامی مدارس ومکاتب اور اسلامی ادباء کتنے فکر مند ہیں ؟ اطمینان کاایک پہلویہ ہے کہ جماعت اسلامی ہند نے تقسیم ملک کے بعدہی سے ملک گیر سطح پر ہر دو محاذ(تدریس اور تصنیف)میں ایک متبادل پیش کیا ہے۔ ضرورت ہے کہ نرسری وابتدائی درجات کے لئے اس کے نصاب اور تربیت اطفال پر لکھنے والوں کی تاریخ مرتب کی جائے اور ملک کی تمام معروف زبانوں میں اس کا تعارف کرایا جائے تاکہ چراغ سے چراغ روشن ہوسکیں۔ اس تجزیہ کے بعد ان قابل تقلید پہلوؤں کو شامل نظام کیاجائے جو نرسری اسکولوں کا طرہ امتیازہیں اورجو عوام و خواص کے لیے جذب وکشش کی معقول تاویل وتوجیہہ پیش کرنے والے ہیں۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button