Sliderقرآنیات

تعلق بالقرآن کا عملی طریقہ کار

فرحت الفیہ

جالنہ

قرآن مجید اللہ سبحان تعالی کی آخری کتاب ہے ۔جو پوری نوع انسانی کے لیے نو شتہِ ھدایت ہے۔شفاء اور رحمت ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے۔

قل بفضل اللہ وبر حمتہ فبذالک فلیفرحوا ھوا خیرا ممایجمعون

(سورہ یونس آیت 58)
ترجمہ :کہہ دیجیے یہ (قرآن )اللہ کا فضل ہے ۔اور اس کی رحمت ہے پس چا ہیے کہ (اس کے ملنے سے) خوشیاں منا ئیں یہ ہر اس چیز سے بہتر ہے جسے لوگ جمع کر رہے ہیں۔۔
لیکن یہ کتاب اسی وقت رحمت اور فضل بن سکتی ہے جب اس کے حقوق کا ادراک اور ادایئگی کی فکر کی جائے۔۔
قرآن کے ہرمسلمان پر پانچ حقوق عائد ہو تے ہیں۔ تقریباً سبھی مفسرین نے قرآن کے حقوق کی یہی تعداد اور فطری ترتیب بتائی ہے ۔

1- ایمان

قرآن کا پہلا حق ہے کہ اس کتاب پر ایمان لایا جائے، پورے شعور اور شرح صدر کے ساتھ اسے کلام اللہ اور کتاب اللہ ما نا جائے۔مزید یہ کہ اس بات پر بھی ایمان ہو کہ چودہ صدیاں گزر جانے بعد بھی اس کتاب میں ذرہ بھر بھی کمی بیشی نہیں ہوئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ

ہم نے اس ذکر کو نازل کیا ہے، اور ہم ہی اس کی حفاظت کر نے والے ہیں۔(الحجر- 09)

با الفاظ دیگر زبان و دل سے اس کتاب کے من جا نب اللہ ہو نے کا اقرار کر نا، اور عمل سے اس کی تصدیق کر نا دراصل ایمان بالقرآن ہے۔

2: تلاوت:
قرآن مجید کو اللہ سبحان تعالی نے بارہا "الذکر”کہہ کے مخاطب کیا ہے ۔۔
ان نحن نزلنا الذکر ۔
۔مفسرین نے "الذکر ” کے معنی یادہانی کےبھی لیےہیں۔۔قران کی مسلسل تلاوت قاری کو اس کتاب کا مدعا یاد دلاتی ہے۔۔۔اور اس کے پڑھنے والے کے دل میں نور پیدا کر تی ہے ۔تلاوت کے لیے بہترین وقت مفسرین لکھتے ہیں کہ نماز تہجد اور فجر کے بعد قرآن کا پڑھنا ہے ” سورہ مزمل میں نبی صلی الله عليه وسلم کو نماز کے حکم کے ساتھ رہنمائی کی گئی ہے کہ

"اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو”

( سورہ المزمل04 )

اور فجر کی تلاوت کے بارے میں سورہ اسراء آیت 78 میں فرمایا گیا کہ

ان القران الفجر کان مشھودا

ترجمہ :
فجر کے وقت قران کا پڑھنا مشھود ہو تا ہے۔۔فرشتے اس کی گواہی دیتے ہیں۔۔

اللہ کے رسولؐ کی بعثت کے مقاصد میں سے یہ بھی ایک مقصد بیان اللہ تعالیٰ نے بیان کیا کہ،
” یتلواعلیکم آیتہ ”
یہ رسول تم پر قرآن کی آیت تلاوت کر تا ہے۔

قرآن کے ہرحرف پردس نیکیوں کی بشارت

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فر ما تے ہیں کہ : رسول اللہ ص نے فر ما یا۔۔۔”اس قرآن کریم کو سیکھو، تم کو اس کی تلاوت کے ہر حرف پر دس نیکیوں کا اجر دیا جائے گا، میں نہیں کہتا الم (ایک حرف ہے) بلکہ {الف لام ميم} تین حروف ہیں اور ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں ہیں۔
(تر مذی۔)

۔بعض مفسرین اس بات کے قائل ہیں کہ صرف تلاوت سے بھی اجروثواب ملے گا، بشرط یہ کہ قاری اجر کی نیت سے تلاوت کرے۔

3 – غورفکراور تدبر

قرآن مجید سب سے زیادہ اس بات کا حقدار ہےکہ اس میں غورفکر کیا جا ئے، اس کے معنی ومفہوم کا ادارک حاصل کیاجائے۔
امام ابن جری( تابعی) فر ما تے ہیں کہ،
"تعجب ہے اس شخص پر، جو قرآن تو پڑھے، لیکن اس کے معنی و مفہوم سے واقف نہ ہو! تو پھر وہ قرآن سے کیسے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔؟؟
سورۃالقمر میں چار بار یہ بات فرمائی گئی کہ
ولقدیسرنالقران للذکرفھل من المدکر
ترجمہ۔”تحقیق ہم نے اس قرآن کو آسان کردیا ہے۔کو ئی ہے، جو اس سے نصیحت حا صل کرے۔”
اللہ تعا لی نے یہ بات فر ما کر ہر انسان پرگو یا حجت قائم کر دی کہ وہ کتنا ہی معمولی صلاحیتوں کا حامل ہی کیوں نہ ہو، دنیاوی علوم سے وہ کتنا ہی نا بلد ہو وہ بھی قران سے فہم اور تذکر حاصل کر سکتا ہے۔
تذکروتدبر کو قرآن مجید میں مزید اس طرح واضح کیا گیا ہے کہ

اس طرح اللہ اپنے احکام تمہیں صاف صاف بتاتا ہے ۔ امید ہے کہ تم سمجھ بوجھ کر کام کرو گے ۔ (البقرہ 242)

مزید سورۃالنحل اور سورہ یونس میں فرمایا گیا کہ

"اور اتارا ہم نے تم پر ذکر،جو کچھ لوگوں کے لیے اتارا گیا ہے ،تم اس کی وضاحت کرو تا کہ وہ غورفکر کریں۔”(نحل، 77)

"اسی طرح ہم کھولتے ہیں آیات ،ان کے لیے جو غورفکر کر نے والے ہیں”(یونس 24)

یہ آیت اپنے پڑھنے والے سے براہ ِراست مخا طب ہے، کہ اس پر غورفکر کیا جا ئے۔ اس علم کے سمندر سے وہ گوہر نکا لے جائیں ، جس کے ذریعہ انسان دونوں جہا نوں کی کا میابی اور کامرانی سمیٹ سکتا ہے ۔

حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ۔۔نبی صلی الله عليه وسلم نے فرمایا کہ
"اللہ تعالی اس قرآن کے ذریعے بہت سوں کو سر فراز کرےگا ۔اور بہت سوں کواس کے ذریعے ذلیل کرےگا (مسلم)

یہ حدیث مسلمانوں کے عروج زوال کے حا لات پر استدلال کرتی ہے۔کہ جب مسلمانوں نے قرآن مجید کاحق اداکیا ،وہ بام عروج پر رہے۔اور جب اس کے ساتھ بے وفا ئی کی، تو ذلت ومسکنت ان پر مسلط ہو گئی۔

4 – عمل با القران

قرآن مجید کا چوتھا حق "عمل با القران "ہے۔مندرجہ با لا حقوق کے ادراک وادائیگی کے بعد ایک انسان (،بشرط یہ کہ وہ تعصب سے پاک ہو، اور ھدایت کا طالب ہو، ) اس کتاب کو "کتابِ انقلاب” کی حیثیت سے دیکھے گا ۔۔غورفکر کے نتیجے میں اس کی دل کی دنیا یکسر بدل چکی ہو گی، اب وہ اپنے رب کے حکم کو بے چوں وچرا قبول کرے گا ۔۔اور اس قبولیت میں بھی، لذت وسرشاری اس قلب میں پنہاں ہو گی۔۔

دو عالم سے کر تی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنا ئی

۔اپنے رب کے احکام کی بجا آوری اس کے لیے، آسان ہو جا یئگی ۔۔۔اور اس کی روح کو با لید گی نصیب ہو گی۔۔۔ایسا شخص، اپنے رب کی راہ میں جان، مال اور صلاحیتوں کا نذرانہ پیش کرے گا۔۔ ۔

5- قرآن کی تبلیغ

ابتدائی چاروں حقوق کی ادائیگی کے نتیجے میں جو کچھ اس کے پڑھنے والےمیں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، سوچ و فکر میں عمل اور زندگی میں لازمی ایک انقلاب بر پا ہوتا ہے۔ اسےاپنے رب کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور وہ اپنے رب کی عظمت کا قائل ہوجاتا ہے، تو اس کا دل اس بات پر ہر گز ہرگز راضی نہیں ہو سکتا کہ وہ تو اپنے رب کا فرما بر دار بنا رہے۔۔قرآن کی برکات اور انوار سے اس کے شب وروز منور ہو تے رہیں اوردنیا اپنے پر وردگارسے غافل رہے۔۔۔اس کی نا فر مانیاں، کر تی رہے۔۔۔۔جو انسان واقعی ہی قران کے ذریعے اپنے رب کو پا چکا ہو وہ لازماً غا فلوں کے لیے بیداری کے لیے اٹھ کھڑا ہوگا ۔ اس کے دل سے یہ صدا بلند ہو گی کہ

دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دکھلا دے

۔اور وہ اپنی مقدرت کے مطابق، دنیا وجہان کو اپنے رب کے پیغام سے روشناس کروا ئے بغیر چین سے نہیں بیٹھ پائے گا۔۔اللہ کے باغی بندوں کو اس کتاب حق کے ذریعے دعوت الی اللہ کا فریضہ کی انجام دہی کے لیے بے چین و بیقرار رہے گا۔۔اس کی اسی کیفیت قلب اور حرکت وعمل کی بدولت ۔۔۔

آسماں ہو گا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی، سیماب پا ہو. جا ئیگی
شب گریزاں ہوگی آخر جلوہ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمہ توحید سے۔۔

ان شاء الله

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button