تعلیم

تعلیمی معیارمسائل اور حل

علمم کو میراث کا درجہ دیا گیا ہے اور استاد اس میراث کا امانت دار ہوتا ہے اور اس امانت کو اس کے حق داروں تک پہنچانا استاد کی اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری ہوتی ہے

یاسمین بانو اچلپور

9370090295

ہم سبھی بھی جانتے ہیں کہ اسلام میں تعلیم کی بہت زیادہ اہمیت ہے _اسلام میں تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ تمام کائنات کے رب نے نے تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے جو کتاب نازل کی اس کی ابتداء ہی لفظ اقراء سے ہوئی اسی طرح متعدد احادیث سے بھی علم کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے ماضی کے روشن نقوش ہمارے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کس طرح ہمارے اسلاف نے علم کے حصول کے لیے جدوجہد کی اور علم وعرفاں کےقلعے سر کیے _ لیکن افسوس کہ جس مذہب میں تعلیم کی اتنی زیادہ اہمیت ہو اسی مذہب کے پیرو اس چیز کو نظر انداز کر دیں اور ذلت و خواری کا شکار ہوں اور غیر قومیں اس سے فائدہ اٹھا کر ترقی کی منزلیں طے کریں آج تعلیمی اعتبار سے مسلمان قوم پسماندگی کا شکار ہے سچر کمیٹی کی رپورٹ اس بات پر گواہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کا تناسب تعلیم کے اعتبار سے دوسری قوموں سے کم ہے اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا تعلیمی معیار گرتا جارہا ہے اور اس گرتے ہوئے تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے لئے بے شمار مسائل درپیش ہیں اور بحیثیتِ امت مسلمہ ہمیں ان مسائل کے سدباب کی کوشش کرنا ہے ورنہ اگر ہم شترمرغ کی طرح ریت میں سر گاڑیے رہیں گے تو ہمارے مسائل کا تدارک ناممکن ہے بقول علامہ اقبال خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا اس ضمن میں

ایک اہم مسئلہ ہے اساتذہ کا غیر موثر کردار:علم کو میراث کا درجہ دیا گیا ہے اور استاد اس میراث کا امانت دار ہوتا ہے اور اس امانت کو اس کے حق داروں تک پہنچانا استاد کی اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری ہوتی ہے اس کے باوجود دیکھنے میں آتا ہے کہ بعض اساتذہ انتہا درجے کی غفلت برت رہے ہیں اور ان کی اس غفلت نے مسلم قوم کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کر دیا ہے اساتذہ کی اسی غفلت کی وجہ سے کتنے ہی نوجوان بے روزگاری کا شکار ہیں اگر ہم اساتذہ کا باریکی سے جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ ایک ادارے میں دس فیصد اساتذہ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دیتے ہیں باقی نوے فیصد اساتذہ اپنے اس فریضہ میں ڈنڈی مار رہے ہیں اور تعلیمی ادارے کو تجارت کا مرکز سمجھ بیٹھے ہیں اساتذہ کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ جس پیشے سے سے ان کا تعلق ہے وہ صرف پیسہ بٹورنے کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ خدمت خلق کا ایک اہم جز ہے اگر کوئی استاد اس خدمت کو بحسن وخوبی انجام دیتا ہے تو یوں سمجھئے کہ یہ قوم کے لیے ایک بڑی خدمت اور ایک بہت بڑا اعزاز ہے گویا کہ تعلیم کے معیار کو بلند کرنے میں اساتذہ کا اہم کردار ہوتا ہے اہم بات تو یہ ہے کہ طلباء استاد کو اپنے لئے ایک نمونہ سمجھتے ہیں اس لیے اساتذہ کو چاہیے کہ وہ ایسی کوئی حرکت نہ کریں جس کا طلباء پر غلط اثر ہو دوسرے یہ وہ سرپرست یا ادارے کے دباؤ سے نہیں بلکہ خدا خوفی کے ساتھ اس ذمہ داری کو نبھائیں اور تعلیم برائے تعلیم نہیں بلکہ تعلیم برائے تعمیر کی فکر کریں اور ایسے بچے تیار کریں جو نہ صرف تعلیمی اعتبار سے عمدہ ہوں بلکہ شخصی اعتبار سے اور اخلاقی اعتبار سے بھی عمدہ ہوں اور ان کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو پروان چڑھائیں اور ان کو اس قابل بنائے کہ جہاں وہ خاندان کے لیے، علاقے کے لئے، سماج کے لیے، ملک و ملت کے لیے اور ان سب سے بڑھ کر عالمِ انسانیت کے لیے کارآمد بنے اور اپنے مالک حقیقی کو پہچانیں _تعلیم کے سلسلے میں اگر اساتذہ کوئی غفلت برتتے ہیں یا پھر یوں سمجھیے کہ اگر کوئی استاد صرف دولت بٹورنے کے لیے یہ پیشہ اختیار کرتا ہے تو اسے یاد رکھنا چاہئے کہ وہ دن دور نہیں جب اس سے اس کے ایک ایک لمحے کا حساب لیا جائے گا اور دوسرے یہ کہ اگر وہ دانستہ طور پر غفلت برتتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اس پیشے کو ترک کردے اور کہیں اور حلال روزی تلاش کرے اور بلاوجہ قوم کے نونہالوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ نہ کرے اگر کوئی استاد خدا نہ خواستہ اپنے پیشے سے اکتاہٹ محسوس کرتا ہے تو اسے چاہیے کہ اس کے لئے وہ خدا سے دعا کریں کہ اللہ اسے اس کے پیشے میں دلچسپی عطا کرے اور وہ خود بھی اس کے لئے کوشاں رہے _
دوسرا اہم مسئلہ ہے موجودہ تعلیمی ادارے:
ابتدا سے لے کر اعلی سطح تک اداروں کا مقصد تجارتی ہوگیا ہے تعلیمی ادارے دولت کے حصول کا ذریعہ بن گئے ہیں تعلیمی اداروں میں امیدواروں یعنی اساتذہ کی تقرری کے لیے پیمانہ صرف اور صرف روپیہ پیسہ ہی ہو گیا ہے جس کے پاس روپیہ پیسہ ہوگا وہی کسی ادارے کا حصہ بن کر اپنے تدریسی فرائض انجام دے سکتا ہے پھر بھلے ہی اس منتخب شدہ مدرس میں ان فرائض کو بخوبی ادا کرنے کی قابلیت و صلاحیت ہو یا نہ ہو ادارے کے منتظمین صرف اور صرف اپنی تجوریاں بھرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم نے جس نمائندہ candidate کو اپنے ادارے میں پڑھانے کے لئے منتخب کیا ہے آیا وہ قوم کے نونہالوں کی تعلیمی ترقی کے لئے مناسب ہے یا ہماری نسلوں کو جہالت کے گڑھے میں ڈھکیل رہا ہے یہی نہیں بلکہ کچھ تعلیمی اداروں کے منتظمین کے ظلم کا تو یہ حال ہے کہ وہ اساتذہ سے ان کی تنخواہ میں سے کچھ حصہ زبردستی ہڑپ کرجاتے ہیں اور ان اساتذہ کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا جو ان کو اس ظلم سے نجات دلا سکے اس کے علاوہ سرکاری طور پر طلباء کی امداد کے لیے جو رقم ان اداروں کو پہنچتی ہے اس میں سے ایک بڑا حصہ اداروں کے منتظمین کے نذر ہوجاتا ہے اور طلبا اس سے محروم رہ جاتے ہیں اس کے علاوہ کئی اسکولوں میں 80، 80 بچوں کی ایک جماعت بنائی جاتی ہے جس کی وجہ سے ایک استاد تمام طلباء پر خصوصی توجہ نہیں دے پاتا –
اسلام نے علم کے حصول کو فرض قرار دیا ہے لیکن مرد وزن کے باہمی اختلاط کو قطعی جائز قرار نہیں دیتا لیکن آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ مسلم تعلیمی اداروں میں بھی مخلوط تعلیم دی جارہی ہے جس کی وجہ سے مسلم تعلیمی ادارے بھی فحاشی و عریانیت
کا اڈا بن چکے ہیں اور اس قسم کی بے راہ روی میں ملوث ہونے کی وجہ سے طلباء کو تعلیمی اعتبار سے خسارہ اٹھانا پڑ رہا ہے اور اس کے ذمہ دار تعلیمی ادارے کے وہ منتظمین بھی ہیں جو اس سلسلے میں لاپرواہی کا کھلم کھلا مظاہرہ کر رہے ہیں اور وہ والدین و سرپرست حضرات بھی ہیں جو اس سلسلے میں کوئی اقدام کرنے کیلیے تیار نہیں ہیں اور خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں
اے قوم و ملت کے دردمند! ملت اسلامیہ کی فلاح و بہبود کے لیے، تعمیر و ترقی کے لئے اور اخروی نجات کے لئے تعلیم کے ان تاجروں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور ہر علاقے میں ایک ایسی تنظیم یا کمیٹی قائم کریں جو مندرجہ ذیل امور پر خصوصی توجہ دے سکیں
(1 )یہ دیکھیں گے کہ جماعت میں تیس سے زیادہ طلباء نہ ہوں تاکہ استاد ہر طالب علم پر خصوصی توجہ دے سکے
(2 ) اساتذہ پر خصوصی نظر رکھیں اور یہ دیکھیں کہ وہ سال کے اختتام تک اپنے کورس مکمل کر پا رہے ہیں یا نہیں اور اپنے اس فریضے کی انجام دہی میں غفلت تو نہیں برت رہے ہیں اور اگر غفلت نظر آئے تو احسن طریقے سے حکمت کے ساتھ انہیں متنبہ کریں اور انہیں اپنی ذمہ داری کا احساس کرائیں
(3) تعلیمی داروں میں رائج مخلوط تعلیم کو ختم کیا جائے اور طلبہ و طالبات کی الگ الگ جماعتیں بنائیں جائیں اور طالبات کے لیے اسکارف اور نقاب کو ضروری قرار دیا جائے
(4)ہر جماعت میں ایک period گھنٹہ اسلامی تعلیم پر مبنی ہو اس بات کی کوشش کی جائے
(5) تعلیمی اداروں کے منتظمین کہیں اساتذہ پر ظلم تو نہیں کر رہے ہیں اس سلسلے میں بھی توجہ دیں اور اس ظلم کو ختم کرنے کی کوشش کریں
(6) طلباء کی آئی ہوئی سرکاری امداد طلباء تک پہنچانے کی سعی کریں اب میں اپنے مضمون کا اختتام اس شعر کے ساتھ کرتی ہوں اور اللہ سے دعا گو ہوں کہ وہ ہماری مدد فرمائے (آمین)

یوں اہل توکل کی بسر ہوتی ہے

ہر لمحہ بلندی پر نظر ہوتی ہے

گھبرائے نہ ظلمت سے گزرنے والے

آغوش میں ہر شب کے سحر ہوتی ہے 

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button