Uncategorizedصحت

تنہائی پسندی – solitude

ڈاکٹر احمد عروج مدثر اکولہ

    تنہائی پسندی کو بنیادی طور پر دو اقسام میں تقسیم کرسکتے ہیں ۔
1) معاشرتی یا سماجی تنہائی پسند
2) جذباتی تنہائی پسند
اِن دونوں اقسام کی جزوی تقسیم مزید ہے
1) معاشرتی تنہائی پسند
(الف) مزاجی اعتبار سے تنہائی پسند
(ب)  موروثی اعتبار سے تنہائی پسند ۔
2) جذباتی تنہائی پسند
(الف)  عارضی طور پر تنہائی پسند
(ب) دائمی تنہائی پسند
انسان کی معاشرتی و سماجی زندگی اتار چڑھاؤ سے بھرپور ہوتی ہے کبھی کبھار حالات کی وجہ سے انسان تنہائی پسند ہوجاتا ہے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان میں کچھ تبدیلیاں وراثت سے آتی ہے تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ تنہائی پسندی  موروثی ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ گھر کے ہر فرد میں یہ کیفیت وراثت میں ملے کبھی کبھار ایک گھر کے چار یا پانچ بچوں میں سے کوئی ایک بچہ اس کیفیت میں مبتلا ہوسکتا ہے ۔ انسان جیسے جیسے سماجی زندگی کے نشیب وفراز جانتا ہے ویسے ویسے وہ اپنے مزاج کو تبدیل کرتا رہتا ہے بہت سے لوگ بچپن میں اجتماعی سرگرمیوں (activities) میں حصہ لیتے تھے لیکن عمر کے بڑھوتری کے ساتھ وہ خاموش مزاج اور تنہائی پسند بن جاتے ہیں کیونکہ انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ وہ جو کرنا چاہتے ہیں اس کے غور و فکر، observation ، تحقیق، وغیرہ ضروری ہے سو وہ اپنے مقصد اور مزاج کے مطابق تنہائی پسند بن جاتے ہیں ۔۔۔ یہ کوئی معیوب بات نہیں ہے بلکہ فرد کے لئے فائدہ مند ہے ۔
دوسری قسم جذباتی تنہائی پسندی میں پہلی جزوی تقسیم عارضی تنہائی پسندی ہے یہ حالات، واقعات اور تجربات کی روشنی میں انسان اختیار کرتا ہے جس سے فائدہ ہی ہوتا ہے ۔ کبھی کبھی مسائل کے سدباب کے لئے بھی عارضی طور پر تنہا رہنا فائدہ مند ہوتا ہے ۔ کسی ناگہانی واقعہ کی وجہ بھی انسان جذباتی طور پر solitude یا isolate ہوجاتا ہے جو فطری عمل ہے لیکن اگر ایسی صورتحال پیدا ہورہی ہے تو قریبی افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ پوری توجہ دیں ۔
دائمی تنہائی یا chronic loneliness بہت سے نفسیاتی امراض کی بنیادی وجہ ہوتی ہے اس کیفیت میں انسان اکثر بہت خاموش مزاج ہوجاتا ہے ساتھ ہی  منفی خیالات ذہن و فکر پر حاوی ہوجاتے ہیں جس کے سبب شدید ڈپریشن کے دورے آتے ہیں یا schizophrenia کے مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات بڑ جاتے ہیں یا پھر اقدام خودکشی کے رجحانات پیدا ہوجاتے ہیں ۔
تنہائی پسندی کے اسباب پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ۔۔۔ رشتوں کا ٹوٹ جانا ، ناکامیوں کو بیان نہ کرپانا ، لوگوں کے طعن و تبصروں کا خوف ، اپنے خیالات کو سمجھانے میں ناکامی ، مزمن بیماریوں نیزاسکی پیچیدگیوں کے سبب ،  اور ایسی مشغولیت جو نافع نہ ہو ساتھ ہی انٹرنیٹ کا بے جا استعمال تنہائی کے major cause ہیں ۔
ان اسباب میں خصوصی طور پر توجہ طلب غیر نافع مشغولیات اور انٹرنیٹ کا بے درگ استعمال ہے جو بالخصوص نوجوان نسل کو تنہائی پسند بنارہی ہے ۔۔۔۔ اکثر نوجوان موبائل یا لیپ ٹاپ پر گمیز میں مشغول دکھائی دیتے ہیں خاص طور پر آن لائن گمیز میں گھنٹوں وہ مشغول رہتے ہیں جس سے کسی قسم کا فائدہ تو نہیں ہوتا لیکن وہ سماج سے کٹتے ہوئے دھیرے دھیرے تنہائی کے دلدل میں پھنس جاتے ہیں ۔۔ گمیز کے علاوہ سوشل میڈیا کا غیر نافع استعمال بھی نوجوانوں کو تنہائی پسند بنارہا ہے ۔۔۔۔ عین ممکن ہے کہ فیس بک پر پانچ ہزار دوست رکھنے والا انسان (نوجوان)  سماجی زندگی میں حقیقی دوستوں سے محروم ہو ۔۔ بہت سے نوجوان گھنٹوں چیٹنگ کرکے وقت کو برباد کرنے کے بعد جب موبائل آف ہوتا ہے تو وہ خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں ۔۔۔۔ اور اسی تنہائی میں رہنا چاہتے ہیں کیونکہ دیر تک سماج سے کٹے رہنے کی وجہ انہیں اجنبیت محسوس ہوتی ہے ۔۔۔ اس طرز عمل سے وہ سماجی و معاشرتی زندگی سے کٹ جاتے ہیں اور انہیں تنہائی کی عادت ہوجاتی ہے ۔
ایسی کیفیت میں مبتلا انسانوں کو تنہائی سے نکال کر سماجی زندگی کی طرف لانا بہت ضروری ہے اگر ہم علاج پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسے انسانوں کے درد کو سمجھے کہ کون سی چیز انہیں تنہائی پسندی پر آمادہ کررہی ہے پھر اُن وجوہات یا مسائل کا سدباب تلاش کریں ۔ انہیں مخلصانہ کاؤنسلینگ کے ذریعے مقصد حیات سے واقف کروانا ضروری ہے ۔ سماجی زندگی کی اہمیت و افادیت بتانا لازمی ہے ۔ اگر ناکامی اور لوگوں کے طعن کا ڈر انہیں تنہائی کی طرف لے جا رہا ہے تو انہیں حوصلہ افزاء ماحول دینا ضروری ہے بعض دفعہ Antidepressants کا استعمال بھی ضروری ہوتا ہے ۔ ایسی سماجی سرگرمیوں social activities کو متعارف کرنا ضروری ہے جس سے زیادہ سے زیادہ افراد کے درمیان تعلقات استوار ہو اور جہاں ایک دوسرے کو سمجھنے کے مواقع ملے ۔۔۔ اگر مزاجی طور پر کوئی تنہائی پسند ہورہے ہیں تو انہیں اپنے خیالات، نظریات، تحقیق وغیرہ پر کام کرنے کے مواقع دینا چاہئے انکے ایسے مزاج پر ہرگز تبصرے نہ کرے بلکہ اُن کے خیالات، نظریات اور تحقیق کی عزت کریں ممکن ہوتو احسن طریقے سے اصلاح کریں ساتھ ہی انہیں ہلکی پھلکی سماجی سرگرمیاں جیسے خدمت خلق، شجرکاری، گھریلو جانوروں کا پالن، مچھلی پالن وغیرہ کے ٹاسک بھی دے سکتے ہیں ۔
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button