اسلامیات

توبوا الی اللہ   :  اللہ سے توبہ کرو 

فرحت زید

 محمد علی روڈ

      آج covid 19 کہ زیر اثر پوری دنیا متاثر ہے گرتی ہوئی معیشت’ بڑھتی ہوئی بے روزگاری’  عوام شدید نفسیاتی مسائل سے دوچار’ ہر طرف افراتفری کا ماحول’  آج اس چھوٹے سے وائرس کے سامنے پوری دنیا بے بس ہے دنیا کے بڑے بڑے حکمران اور معالج اس کا علاج ڈھونڈنے سے  قاصر ہیں  لیکن بہرحال پوری دنیا اس کے آگے سرنگوں ہے اس چھوٹے سے وائرس نے پوری دنیا کو اپنے خالق کی موجودگی کا احساس   دلا دیا ہے  کے ہے
 کوئی زبردست طاقت’ ایک قادرمطلق ہستی جو پوری کائنات پر کنٹرول رکھتی ہے اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں ” کیا تم نے گمان کر رکھا تھا کہ ہم نے تم کو یوں ہی بےکار پیدا کر دیا اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں  جاؤ گے”  پوری دنیا کے لوگ موج مستی رنگ رلیوں میں مصروف تھے سینما  تھیٹر،  کلب،  تفریح گا ہیں،   مالز’ فحاشی اور عریانیت سے بھرے پڑے تھے زندگی اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی لوگ اپنی عیاشیوں میں غرق اپنے پیدا کرنے والے کو اور اپنے پیدا ہونے کے مقصد کو بھول چکے تھے کہ دفعتاً اس وائرس نے جانوروں سے انسانوں میں جمپ لگائی اور پوری دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا
 ہم جب دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو قوموں میں عروج وزوال کی داستانیں نظر آتی ہیں قوموں پر حالات دو وجہ سے آتے ہیں قرآن مجید میں ارشاد باری ہے” اور نہیں پہنچتی تم کو کوئی مصیبت مگر اللہ کے حکم سے”  اور دوسری جگہ ارشاد باری ہے” کہ جو کوئی بھی مصیبت تم کو پہنچتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہوتی ہے”  دونوں طرح کی مصیبتیں  انسان کو جھنجھوڑنے کے لیے ہوتی ہے کے انسان اپنے خالق و مالک کو پہچانے اور اپنے پیدائش کے مقصد کو جانے گناہوں سے توبہ کر کے اللہ کی طرف پلٹ جائے
 قرآن مجید میں ہمیں ایسی قوموں کی مثالیں ملتی ہیں  جو اپنے عروج کی طرف رواں دواں تھی اسی میں سے ایک مثال قوم سبا کی ہے جو اپنے زمانے کی متمدن قوم تھی اس کا زمانہ 2500  سال قبل مسیح سے ہے اس قوم کی ترقی کے دو اسباب تھے ایک زراعت دوسرا تجارت.  انہوں نے اپنے ملک میں جگہ جگہ ڈیم بنا کر نہریں نکالی تھی اور پورے ملک میں آپ پاشی کے نظام کو اس سے جوڑا تھا کہ ہر طرف ایک باغ  ہی باغ نظر آتا تھا اسی طرح تجارت کے لئے خدا نے اس قوم کو بہترین جغرافیائی مقام عطا کیا تھا جس سے اس نے خوب فائدہ اٹھایا ایک ہزار برس سے زیادہ یہ قوم مشرق اور مغرب کے درمیان تجارت کا واسطہ بنی رہی یہ لوگ سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا کھاتے تھے ان کے دروازے پر سونے چاندی کے تاروں اور  ہاتھی دانت  کا کام ہوا کرتا تھا کھانا پکانے کے لیے لکڑی جلانے کے لیے یہ لوگ صندل اور دارچینی کا استعمال کرتے تھے مگر جب اللہ کی نظر عنایت   پھری  توپانچویں صدی  عیسوی کے وسط میں ان کا عظیم الشان بند ٹوٹ گیا یہاں تک کے پورا آبپاشی کا نظام درہم برہم ہو گیا پھر کوئی اسے بحال نہ کر سکا اسی بند کو قرآن مجید نے سیل العرم کے نام سے  ذکر کیا ہے اسی طرح قوم عاد اور قوم ثمود یہ دونوں قومیں بھی بہت طاقت ور اور تنومند تھی قوم عاد کی طرح  تنو مند قوم دوسرے ملکوں میں پیدا ہی نہیں کی گئی تھی اور قوم ثمود پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے ان دونوں قوموں کے پاس مال و دولت کی فراوانی تھی پر جب انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی تو ان پر عذاب آیا اور یہ قوم عبرت کا نشان بن گئی
 ہمیں ایسے حالات میں ضرورت ہے کہ ہم اللہ کی طرف پلٹیں اور اپنے گناہوں سے توبہ کریں جب زمین پر گناہ بہت بڑھ جاتے ہیں تو اللہ کی طرف سے عذاب نازل ہوتا ہے خواہ  وہ آسمانی آفتوں کی شکل میں ہو یا وبائی صورت میں. نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو عذاب آنے سے پہلے تنبیہ کی  تھی سورہ نوح میں اس کا ذکر ہے” کہ تم اپنے رب سے استغفار کرو وہ تم پر آسمان سے لگاتار بارش  بھیجے گا اور وہ مدد کرے گا تمہاری مالوں سے اور بیٹوں سے.  اور وہ بنائے گا تمہارے لئے باغات اور بنائے گا تمہارے لئے نہریں”  ان آیات سے سمجھ  میں آتا ہے کہ توبہ   واستغفار سے مصیبتیں  ٹلتی ہیں  اور رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اور خدا کو اپنے بندے کا گناہ کر کے واپس پلٹنا بہت پسند آتا ہے اس کی مثال حدیث میں اس طرح پیش کی گئی ہے کہ ایک شخص صحرا میں اپنے اونٹ کے ساتھ سفر کر رہا ہے اور اس اونٹ پر اس کا تو شہ اور پانی ہے اور وہ کچھ دیر سستانے کے لیے ایک درخت کے نیچے  آرام کرنے کے لئے لیٹ جاتا ہے اور اس کی آنکھ لگ جاتی ہے جب وہ اٹھ کر دیکھتا ہے تو اس کا اونٹ  غائب ہو جاتا ہے اب وہ اؤنٹ ہی اس کی زندگی کا ضامن تھا کیوں کہ اسی پر اس کا پانی اور تو شہ تھا اور وہی اس کو منزل پرپہنچانے والا تھا اب وہ اپنی زندگی ہار کر مایوس اور پریشان بیٹھا ہوا ہے وہ سوچتا ہے کہ اب اس کے سامنے موت ہے  اتنے میں وہی اونٹ اس کو اپنی طرف آتا دکھائی دیتا ہے تب اس شخص کو اس اونٹ کے ملنے سے کتنی خوشی ہوتی ہوگی اتنی خوشی اللہ تعالی کو اپنے بندے کے گناہ کرکے واپس پلٹنے سے ہوتی ہے لہذا ہم خود بھی گناہوں سے توبہ کریں اور دوسروں کو بھی توبہ کی ترغیب دلائیں ہوسکتا ہے اجتماعی توبہ کی شکل میں اللہ تعالیٰ اس وائرس سے ہمیں نجات دے دے ہمیں اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button