Sliderسیاستملی مسائل

تہوار کے موسم میں بابری مسجد کا فیصلہ

سچ تو یہ ہے کہ متنازعہ احاطے میں عدالت کی مرضی  کے بغیر ایودھیا کے ڈیویژنل کمشنر اور کورٹ  ریسیور بھی کچھ نہیں کرسکتے۔

ڈاکٹر سلیم خان

اس دنیا میں بہت کچھ توقع کے خلاف  بھی رونما ہوتا رہتا ہے لیکن  عام طور پر اس کی جانب  توجہ نہیں جاتی۔  کسے خبر تھی کہ بابری مسجد کو شہید کرنے کے لیے سب سے پہلے وسطی گنبد پر چڑھنے والا بلبیر سنگھ   ایک دن انڈین ٹوڈے کو انٹر ویو دیتے ہوے یہ   انکشاف کرے گا  کہ مسجد مسمار کرنے کے لیے  میرا استعمال کیا گیا  تھا۔ جس  وقت مجھے اس کا اندازہ ہوا تو میں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا۔  بلبیر سنگھ کا اسلامی  نام  محمد امیر ہے۔ایک ویڈیو میں وہ  اقرار کرتے ہیں کہ انہوں نے 90سے زائد مساجد تعمیر کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔محمدامیر نے ایک  مسلم خاتون سے شادی کر لی ہے۔ فی  الحال  وہ اسلام کی تبلیغ میں مصروف ہیں اور اسلامی تعلیمات کو فروغ دینے کے لیے اسکول  بھی چلا رہے ہیں۔ اس کے برعکس اس وقت کے وزیراعلیٰ کلیان سنگھ کو ایک مقدمہ کے چلتے گورنر کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا ہےاس طرح ان کی عیش وعشرت  کی زندگی اچانک  مشکلات میں گھرگئی  ہے۔

امیت شاہ کےزیر نگرانی   کام کرنے والی سی بی آئی نے بابری مسجد انہدام کیس معاملہ میں کلیان سنگھ کوسمن جاری کرنے کیلئے سی بی آئی کورٹ لکھنو کی عدالت میں درخواست داخل  کی۔ اس کے سبب انہیں  استعفیٰ دے کر دوبارہ سرگرم سیاست میں آنا پڑا۔ لکھنو میں  کلیان سنگھ نے  دوبارہ بی جے پی کی رکنیت تو اختیار کی  لیکن پریس کانفرنس میں صاف کیا کہ وہ الیکشن نہیں لڑیں گے۔ دراصل اپنے تحفظ کی خاطر وہ   پارٹی کے شرن میں آئے ہیں۔ رام مندر کے معاملہ کو انہوں نے  سیاست کے بجائے کروڑوں ہندوستانیوں کی آستھا سے جوڑ دیا  ہے۔ جیل میں  جانے سے خوفزدہ  کلیان سنگھ نے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے کاموں کی خوب  تعریف کی اور اپنی مدت کار کا یوگی حکومت سے موازنہ کرنے کی جرأت بھی نہیں کرسکے ۔ آگے چل کر انہیں   سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے سامنے خودسپردگی کرنی پڑی   اور وہ عدالت کے ذریعہ  2 لاکھ روپئے کے مچلکے ضمانت لے کر گھرلوٹے۔ یہ سب ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جبکہ مرکز اور ریاست یوپی میں بی جے پی کو بلاشرکت غیرے اقتدار حاصل ہے۔

یہ تو انفرادی مثال تھی لیکن اب ایک اجتماعی معاملہ دیکھیں۔  5 اگست  2019کو مرکزی حکومت نے کشمیر سے متعلق دستور کی دفع 370کا خاتمہ کردیا۔ وزیر اعظم کو امید تھی کہ ایک ہفتہ بعد عیدا لاضحیٰ تک حالات معمول پر آجائیں گے لیکن عید تو دور وادی میں کھلے عام  یوم آزادی بھی نہیں منائی  جاسکی  اور  ڈیڑھ ماہ بعد محرم کا جلوس بھی نہیں  نکلا۔ بی جے پی کی مرکزی حکومت اور اس کے کٹھ پتلی گورنر سے یہی  توقع تھی  لیکن  اتر پردیش میں تو یوگی جی حکومت ہے۔ انہوں نے پچھلے سال ایودھیا میں  تین لاکھ سے زیادہ دئیے جلا کر  گینیز بک میں اپنا نام درج کروایا تھا۔  وہاں پر رام  مندر کے بجائے رام کتھا پارک بناکر اس میں رام کا ایک زبردست مجسمہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔  راجہ دشرتھ کے نام سے اسپتال اور رام کے نام پر ہوائی اڈہ  بنانے کی بات کی تھی نیز فیض آباد ضلع کا نام بدل کر ایودھیا رکھ دیا تھا۔ ان  سارے بلند بانگ اعلانات میں سے آخری کے سوا کسی پر عمل نہیں ہوسکا اس لیے کہ نام کی تبدیلی کے لیے کاغذی ہیر پھیر کے سوا  کچھ کرنا نہیں تھا باقی کرنے کے کام دھرے رہ گئے۔ اخبارات میں ایودھیا قصبہ سےضلع  بن گیا لیکن آج بھی ایودھیا  نگر نگم کی ویب سائٹ پر فیض آباد پہلے کی طرح موجود ہے ۔  خیر اسے کہنے اور کرنے کا فرق کہتے ہیں۔

یوگی جی کے اتر پردیش میں اس سال  وی ایچ پی نے ایودھیا کے متنازع اراضی یعنی بابری مسجد کے  احاطے میں ديپ اتسو منانے کی منظوری مانگی  لیکن ایودھیا کے کمشنر نے واضح لفظوں میں کہہ دیا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق  متنازعہ مقام پر روایتی سرگرمیوں کے علاوہ کسی دیگر جشن کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس فیصلہ کے بعد وی ایچ پی کارکنان میں اسی طرح کی  مایوسی پھیل گئی جیسی کے عید اور عاشورہ کے موقع پر وادی کے مسلمانوں میں  تھی کیونکہ  اجازت  کے نہیں ملنے سے ان  کے ارمانوں کا دیپک بجھ گیا۔ مسلم فریق حاجی محبوب نے وی ایچ پی کےاس مطالبے  کی شدید نکتہ چینی کرتے ہوے کہا کہ وی ایچ پی چراغاں کی اجازت مانگ کر ہمیشہ کی طرح سیاست  کر رہی تھی۔ عدالت عظمیٰ میں    سماعت  کے دوران فیصلے سے قریب آگیا اس  کو سیاست سے باز رہنا چاہیے۔ حاجی محبوب نے واضح کیا  کہ  اگر وی ایچ پی کو چراغاں کرنے کی اجازت مل جاتیتو مسلم سماج بھی وہاں  نماز پڑھنے کا مطالبہ کرتا۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کا حوالہ دے کر وہ بولے مسلم سماج  نے ایک آواز میں سپریم کورٹ کا فیصلہ ماننے پر آمادگی ظاہر کی  ہے۔

 سچ تو یہ ہے کہ متنازعہ احاطے میں عدالت کی مرضی  کے بغیر ایودھیا کے ڈیویژنل کمشنر اور کورٹ  ریسیور بھی کچھ نہیں کرسکتے۔ ایودھیا کے  کمشنر منوج مشر نے بھی عملاً حاجی محبوب کی تائید کی ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر ضلع   کلکٹر انوج جھا نے  ایودھیا میں 10 دسمبر تک دفعہ 144 نافذ کردی  ہے۔ اس کے چلتے ایودھیا معاملے کے ممکنہ فیصلے کے پیش نظر  دیپ اتسو، چہلم اور کارتک میلے وغیرہ کا بھی احاطہ کرلیا گیا ہے۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ وادی کا لاک ڈاون بھی تقریباً دو ماہ چلا لیکن ایودھیا  کی پابندیوں پر قومی یا  عالمی سطح پر کوئی  احتجاج نہیں  ہوا۔ اس میں شک نہیں کہ کشمیر کی تالا بندی بہت سخت تھی اور وہاں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں بھی ہوئی تھیں لیکن ایودھیا کے اندر نافذ ہونے والی اس پابندی نے تہوار کامزہ کرکرا کردیا ہے۔ ایک ماہ قبل یوگی آدتیہ ناتھ نے ایودھیا تنازع میں جاری سماعت پر کہا تھا کہ فیصلہ حقائق اور ثبوت کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ ہم سب پر امید ہیں اور ہمیں یہ یقین ہے کہ عدالت جو فیصلہ کرے گی،  ہم اس کو نافذ کریں گے۔ ہم نے پہلے بھی عدالت کے فیصلہ کو نتیجہ کی پروا کئے بغیر نافذ کیا ہے۔ انہوں نے امید جتائی تھی کہ  عدالت کے فیصلے سے  یہ معاملہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے گا۔ لیکن اگر فیصلہ مسلمانوں کے حق میں آتا ہے تو  کیا وہ  غیر جانبداری کے ساتھ اسے  نافذ کرپائیں گے؟

یہ حسنِ  اتفاق  ہے کہ   لنکا ڈھانے کے بعد بن باس  سے  رام کی ایودھیا واپسی پر ساری دنیا میں    توجشن منایا جائے گا  لیکن ایودھیا  میں وہ    خوشی پابندیوں کا شکار رہے گی۔ضلع کلکٹر  انوج جھا کے مطابق ایودھیا میں ڈرون اڑانے کے علاوہ فلمبندی پر پابندی لگا دی گئی ہے مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر پٹاخے کی خریدو فروخت بھی ممنوع ہے۔ یہ بات کون نہیں جانتا کہ جتنے پٹاخے سال بھر میں نہیں پھوڑے جاتے اس سے زیادہ دیوالی کے تین دنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ چراغوں اور پٹاخوں کے بغیردیوالی کا تہوار  ادھورا ہے۔ انتظامیہ نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قانون  ونسق  بنائے رکھنے کے لیے بڑی تعداد میں  حفاظتی دستوں کو طلب کرلیا ہے۔ اس  سے معلوم ہوتا ہے کہ  سپریم کورٹ کے متوقع فیصلے سے جو تشویش  مسلمانوں کے اندر ہے اسی طرح کی بے یقینی ہندو سماج اور بی جے پی حکومت میں  بھی  ہے۔

 ویسے ریاستی  حکومت کی جانب سے ایودھیا معاملے میں  سپریم کورٹ فیصلے  کے پیش نظر تہوراوں کے موسم میں حفاظتی انتظامات کا جواز پیش کرکے ۳۰ نومبر تک فیلڈ ڈیوٹی پر تعینات سرکاری اہلکاروں کی تعطیلات  منسوخ کردی ہے۔خصوصی ہوم سکریٹری  آر پی سنگھ نے اس پابندی پر سختی کے ساتھ عمل  کرنے کی ہدایت  کی ہے۔    سپریم کورٹ میں سماعت  کے آخری دن اتر پردیش حکومت کا یہ فیصلہ  اس کی فکرمندی کا  منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس حکمنامہ میں پہلے صرف تہوار کا ذکر تھا لیکن پھر سپریم کورٹ کے فیصلے کا اضافہ کیا گیا  لیکن  سوال یہ ہے کہ کیا میدان عمل میں کام کرنے والے سرکاری افسران کو تہوار منانے کا حق نہیں ہے؟اتر پردیش کے فیلڈ اہلکاروں کی مانند کشمیر کی وادی میں تعینا ت لاکھوں  فوجی اور حفاظتی دستے بھی اپنے اہل خانہ  کے ساتھ دیوالی کا تہوار منانے سے محروم کردیئے گئے۔ یہ مشیت کا دلچسپ انتقام ہے۔

 (۰۰۰۰۰۰جاری)

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button