Uncategorizedاسلامیات

جالوں کو ڈھونڈو , سحر کو پکارو

 خان سعدیہ ندرت بنت امتیاز احمد خان

جماعت اسلامی ہند حلقہ مہاراشٹر کی جانب سے منائی جانے والی مہم اندھیروں سے اجالے کی طرف کی مناسبت سے دائیانہ زندگی کی اہمیت پر مضمون پیش خدمت ہے

اوَعِظۡهُمۡۡ وَقُلْ لَّهُمۡ فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَوۡلًاۢ بَلِيۡغًا
ترجمہ:
"انہیں سمجھاؤ اور ایسی نصیحت کرو جو ان کے دلوں میں دھنس (اتر ) جائے” (القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء،آیت 63)

ألالِیْبَلّغْ الشَاھَدَالغَائبْ (خطبہ حجةالودع،بخار6)
آپ نے فرمایا : ہر شخص حاضر غائب کو یہ دعوت پہنچا دے

اسلام ایک ابر کرم ہے جو مدتوں سے ساری دنیا پر برستا چلا آرہا ہے اور دنیا بھر کی اقوام اپنی بساط بھر اس سے سیراب ہو رہی ہیں "خیر القرون” کے دور میں اس کی تیز رفتاری نے ساری دنیا کو حیران کر دیا تھا حقیقت یہ ہے کہ خدائی منصوبہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمہ جہتہ قربانایاں،خصوصیات و امتیازات اور حق پر مبنی تعلیمات کا نتیجہ ہیں اس لحاظ سے تبلیغ دین اور اشاعت اسلام امت مسلمہ کا مقصد وجود اور اس کی دعوت ایک دینی فریضہ ہے اور یہی امت کا اصل مشن ہے۔
دعوت دین جس کو عالمی سطح پر انجام دینے کے لیے مسلمانوں کو مکلف کیا گیا اور نبوت کا سلسلہ بھی ختم کر دیا گیا اور اس پر آخری مہر ثبت کر دی گئی نبی آخرزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ دین کا حق ادا کیا۔ اپنی پوری زندگی اللہ کا پیغام انسانوں تک پہنچاتے رہے اسی طرح امت کی طرف سے بھی اس کا حق ادا کیا جائے اور پوری زندگی اس مشن کو زندہ اور قائم رکھا جائے کیونکہ تاریخ میں مسلمانوں کو جتنی کامرانیاں اور شادمانیاں ملتی رہی ہیں وہ صرف اور صرف اسی کام کی برکت سے ملتی رہیں اور جب اس منصبی ذمہ داری سے مسلمانوں نے خود کو عملی طور پر منحرف کردیا تو ہر طرف سے آفتیں اور مصیبتیں برسنے لگیں اور ذلت و نامرادی مقدر بن گئی لہذا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ گفتار و کردار سے شہادت حق کا فریضہ انجام دیں اس ملک میں ہمارا فریضہ یہ ہے کہ برادران وطن تک حق کا پیغام پہنچائے۔
دعوت دین کا کام محض فلسفہ یا نظریہ نہیں ہے بلکہ یہ بے تابی دل اور بے قراری روح کی کیفیت کا نام ہے۔ وہ کیفیت جو انسان کو سیرت کے راستے پر گامزن کر دیتی ہے جو حق کا پیغام دنیائے انسانیت تک پہنچانے کے لیے انسان کو مضطرب اور بے قرار کر دیتی ہے اور اس کے لیے توفیق الہی کی طلب اور عزم و ارادے کی ضرورت ہے۔

دعوت دین یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے کہ جس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا غمگین کر دیا تھا کہ دیکھنے والوں کو ایسا محسوس ہونے لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبل از وقت بوڑھے ہو گئے اور اس قبل از وقت بوڑھا ہونے کا سبب صرف ایک تھا اور وہ یہ احساس تھا کہ دعوت الی اللہ کا کام،اللہ رب العالمین کی نمائندگی کا کام ہے اور سورة ھود میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس ذمہ داری میں دیگر اہل ایمان کو بھی شامل کیا ہے اور اس بات کو انسانوں تک پہنچانا کسی پراسرار طریقہ پر نہیں ہوگا بلکہ وہ اسباب کے ذریعے ہوگا۔
وہ لوگ جو اس کے پیغام اور اس کے دین کی دعوت کو دوسروں تک پہنچانا اپنی زندگی کا مشن بنالیں جو سچائی اور حق کے راستہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کریں۔

اللہ تعالی نے ان لوگوں کے لئے اپنے فیصلے کا اعلان کر دیا ہے کہ "وہ اپنی راہ میں مشقت جھیلنے والوں کو اپنی راہ ضرور دکھائے گا”
دعوت دین کے سفر میں ہمیں اپنا بھروسہ صرف اس تنہا خدا پر رکھنا ہے جس کا سہارا اگر مل جائے تو انسان کو کسی اور سہارے کی ضرورت نہیں رہتی دین حق کے ابلاغ کا یہ کام ہمارا ذاتی کام نہیں خدا کا کام ہے۔جو لوگ اس کام میںآگےبڑھکردست و بازوبنیں گے وہ ہمارے نہی خدا کے مددگار ہوں گ ۔۔
آج پوری دنیا بدامنی کا شکار ہے اور مختلف آسمانی اور ارضی آفتوں سے دوچار ہیں انسانی زندگی کا دائرہ مختلف مصیبتوں اور مسائل کا عنوان بن کر رہ گیا ہے۔ ملک کےحالات کی تصویر اگر ہم دیکھیں تو ملک میں مسلمانوں سے نفرت اور غصہ بھرا ہوا نظر آتا ہے اور آئے دن ہونے والے واقعات اس کی گواہی دیتے ہیں۔ حکمت کا تقاضہ یہ کہ اس صورتحال کو بہتر بنانے کے مکانات ڈھونڈنے جائیں اور ان کی خوب نشاندہی کی جائے تاکہ ملک کے امن و انصاف پسندوں کے لیے روشنی کی کرن اور راہ عمل فراہم ہو سکے ور اگر ماحول کا اسی نقطہ نظر سے جائزہ لیا جائے تو نفرت انگیزی کی اس مہم کے باوجود انسانیت کی گنجائش اب بھی باقی ہے

۔ لہذا وقت کی سب سے اہم ضرورت یہی ہے کہ اندھیروں سے اجالے کی طرف اور ظلمتوں سے نور کی جانب اگر کوئی شخصیت ہماری رہنماء بن سکتی ہے تو وہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ہے لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیانہ زندگی کے پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے اس مہم کی منصوبہ بندی اور موقع کو استعمال کرتے ہوئے اللہ کے دین کو ہم ان شاءاللہ حلقہ کے ہر گوشے میں پہنچا دئیگے یہاں تک کہ کوئی عورت یا مرد اس سے بے خبر نہ رہے۔

اجالوں کو ڈھونڈو سحر کو پکارو
اندھیروں میں رونے سے کیا فائدہ ہے

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی پڑھیں

Close
Back to top button