تعلیم

جب اسکول  طویل عرصے تک بند رہیں گے۔۔

لاک ڈاون میں والدین بچوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دیں

   مریم

 

 ناقص نظامِ تعلیم کی وجہ سے اسکولوں، کالجوں سے پڑھ کر نکلنے والے بچے دنیا میں کچھ بھی نہیں کر سکتے۔۔
 نہ زبانیں جانتے ہیں، نہ دین کی تعلیم،  نہ ہاتھ کا ہنر، نہ ہی بزرگوں کا ادب اور نہ ہی مشکل حالات میں زندہ رہنے کا سلیقہ۔
اب بچوں نے طویل عرصے تک ماں باپ کی نگرانی میں گھروں میں ہی رہنا ہے۔۔
اپنے بچوں کو آنے والے دور کے لیے تیار کریں۔۔
جسمانی طور پر بھی ذہنی طور پر بھی اور روحانی طور پر بھی۔۔
ان کو اردو انگریزی اور عربی لازمی طور پر سکھائیں۔
اسلامی تاریخ تاریخ اور تہذیب کے بارے میں مکمل آگاہ کریں۔۔
اپنے بچوں کو لازماً ہنر سکھائیں۔۔
کوئی نہ کوئی ہاتھ کا کام جو ان کو مصروف بھی رکھے اور جس سے آنے والے وقت میں یہ کارامد ہو سکیں۔
سلطان عبدالحمید کارپینٹر تھے، لکڑی سے بنایا ہوا ان کا فرنیچر آج بھی محفوظ ہے۔
سلطان سلیمان زیورات بناتے تھے۔۔
اورنگزیب بادشاہ قرآن لکھتا تھا۔۔
اپنے بچوں کی کی جسمانی اور ذہنی طور پر لازم ایسی تربیت کریں کہ مشکل اور نامساعد حالات میں وہ برداشت کرنے کے قابل ہوں۔
جس طرح بواۓ سکاوٹ یا کیڈٹ کی تربیت ہوتی ہے، جنگل میں خیمہ لگانا، آگ جلانا، کھانے پکانا، شکار کرنا اور ہتھیار چلانا۔
آج کل ہمارے بچے بہت آرام طلب اور نازک ہیں۔ماضی میں ہمارا تمام تر تعلیمی نظام بچوں کو دین اور ادب کے ساتھ ہنر بھی سکھاتا تھا۔۔
تمام مسلمان اپنے ہاتھ میں مخصوص ہنر رکھتے تھے اور ہاتھ سے کام کرتے تھے۔۔
کوئی لوہے کا کام جانتا تو کوئی لکڑی کا، کوئی کپڑا بناتا تو کوئی چمڑے کا ۔
کوئی مرغبانی کرتا تو کوئی گلہ بانی یا کاشتکاری۔۔
آگے آنے والا دور مشکلات اور جنگوں کا دور ہے۔
اپنے بچوں کو اس کے لئے تیار کریں۔
اب  ڈگریاں ہاتھ میں لے کر کالج سے نکل کر نوکریاں تلاش کرنے کا دور ختم ہوگیا۔۔
بہت سے لوگ ابھی بھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ دنیا دوبارہ پرانی ڈگر پر واپس چلی جائے گی۔۔
آپ ہوش میں آ جائیں دنیا بدل گئی ہے۔۔
اب دنیا دوبارہ اس ڈگر پہ کبھی نہیں لوٹے گی۔۔۔اب ہم دجالی دنیا میں قدم رکھ چکے ہیں۔۔۔
ایک کرونا نے ہی کیسا گما دیا ہے۔۔آگے کے فتنے اس سے بھی مزید سخت ہونگے۔۔اور یہ کوئی فرضی بات نہیں ۔۔۔ایک تو آنکھوں کے سامنے ہیں اور دوسرا ان سب حالات کی خبر افضل الرسل سرکار دو عالم میرے پیارے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دی ہوئی۔۔۔کہ یہ سب ہو کے رہے گا۔۔اب بچے گا وہی جو چوکنا ہو گا۔۔۔دانشمندی اور ایمان   و عمل کو اختیار کرے گا۔۔
اس لیے ایمانی،،جسمانی ،،روحانی ،،اعصابی مضبوطی بہت ضروری ہے۔۔اگر زندہ رہنا ہے اور بچنا ہے ان تمام فتنوں سے تو اب ذرا جاگ جائیں۔۔۔!!
Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button