Sliderجہان کتب

جہاد اور روح جہاد: ایک تجزیاتی مطالعہ

اس کتاب میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جن پر اہل علم ضرور گفتگو کریں گے اور گفتگو ہونی بھی چاہیے، تاکہ بحث ومذاکرہ کے بعد جو بات منقح ہوکر سامنے آئے، اسی کو صحیح کہا جا سکے۔

مولانا نسیم ظہیر اصلاحی

(استاد حدیث، مدرسۃ الاصلاح، سرائے میر، اعظم گڑھ۔ یو پی)

جہاد عصر حاضر کا ایک اہم اور حساس موضوع ہے۔ اپنے اور پرائے دونوں اس کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہیں۔ مخالفین اسلام نے جہاد ہی کو بہانہ بنا کر کہنا شروع کر دیا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔ اس وقت اسلام دشمن طاقتیں مختلف حیلوں بہانوں سے مسلم علاقوں اور وہاں موجود قدرتی ذخائر پر مستقل قبضہ کرنے کی تاک میں ہیں اور اسلام اور اہل اسلام کو کم زور کرنے اور ان کو قصہئ پارینہ بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کے لیے ان کی ایک حکمت عملی یہ بھی ہے کہ ریشہ دوانیاں کرکے خود مسائل پیدا کرتی ہیں اور ظلم وبربریت اور دہشت گردی کی آگ بھڑکاتی ہیں، پھر نہایت ہوشیاری اور چابک دستی کے ساتھ سارا الزام اسلام اور مسلمانوں پر لگا کر، مسلمان علماء و مفکرین، داعیان دین، ان کے قائدین اور جماعتوں کو نشانہ بناتی اورمسلم ملکوں اور علاقوں میں اپنی دخل اندازی کی راہ ہموار کرتی ہیں۔ اس تکلیف دہ صورت حال سے تنگ آکر کچھ سر پھرے، اسلام اور مسلمانوں کے دفاع کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تو کچھ نام نہاد مسلمانوں کو انہی طاقتوں نے اسلام کے دفاع کے نام پر جہاد کے لیے مامور کردیا۔ یہ دونوں گروہ اپنی الٹی سیدھی حرکتوں اور غیر اسلامی کاروائیوں سے، اسلام، مسلمانوں اور جہاد، سب کو بدنام کررہے ہیں اور دشمنوں کا مقصد پورا کررہے ہیں۔

اس صورتِ حال نے مسلم مفکرین کو آمادہ کیا کہ جہاد کی حقیقت اور اس کی غرض وغایت کی وضاحت کریں۔ بالخصوص ان اسلام پسند نوجوانوں کی رہ نمائی کریں جو اسلام اور امتِ مسلمہ کے لیے کچھ کرنے کا واقعی اپنے اندر حوصلہ رکھتے ہیں۔ ان کو اور دنیا کو بتائیں کہ جہاد کی حقیقت اور اس کی روح کیا ہے؟ مسلح جہاد کب اور کن لوگوں سے ہوتا ہے؟ اس کے اسباب اور اس کی شرطیں اورآداب کیا ہیں؟ چنانچہ ماضی قریب میں اس موضوع پر متعدد اہم کتابیں، اردواورعربی دونوں زبانوں میں منصہ شہود پر آئیں۔ زیر نظر کتاب ’جہاد اور روح جہاد‘ بھی اسی سلسلۃ الذھب کی ایک اہم کڑی ہے، جس میں جہاد کے مفہوم، روح، مقصد، احکام، آداب اور عصر حاضر میں جہاد جیسے موضوعات پر  سیر حاصل بحث کی گئی ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ موضوع کا کوئی پہلو چھوٹنے پائے نہ تشنہ رہ جائے۔

اس کتاب کے مصنف مولانا محمد عنایت اللہ اسد سبحانی علمی دنیا کے معروف محقق اور متعدد علمی وتحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔ قرآن مجید ان کا خاص موضوع ہے۔ یہ کتاب موصوف کے علمی وتحقیقی اندازِ تصنیف کا عمدہ نمونہ اور اس کی جملہ خصوصیات کی جامع ہے۔ اس میں تفسیر، حدیث، فقہ، سیرت، تاریخ اوردیگر متعلقہ کتب کے علاوہ خاص اس موضوع پر لکھی گئیں قدیم و جدید عربی اور اردو کتابوں سے استفادہ کیا گیا ہے اور اس پر نقد واستدراک بھی۔ مصنف کی دیگر کتابوں کی طرح اس کتاب کا دامن بھی فکر وخیال کی تازگی اور تلاش و تحقیق کے نئے نئے نکات سے معمور ہے، جن سے اتفاق واختلاف کی بھر پور گنجائش موجود ہے۔

یہ کتاب انسانیت سے محبت ودل سوزی اور نصح وخیر خواہی کے جذبہ سے لکھی گئی ہے۔ ابتدا سے آخر تک انس ومحبت کا دریا بہتا ہوا نظر آتا ہے، جس کی روانی میں کہیں کمی نظر نہیں آتی۔ آغاز ِکلام اس طرح ہوتا ہے:

 ”خالقِ کائنات نے انسان کا نام رکھا ہے انسان۔ کیا راز ہے اس کا؟ اس کا راز یہ ہے کہ خالق کائنات نے انسان کا خمیر انس ومحبت اور الفت واخوت سے تیار کیا ہے۔ انس ومحبت ہی انسان کی فطرت ہے۔ تمام انسانوں سے انس ومحبت۔ اپنے ہوں یا پرائے، مسلم ہوں یا غیر مسلم، مشرق کے ہوں یا مغرب کے، ہر ایک سے الفت، ہر ایک سے محبت، ہر ایک سے ہمدردی، ہر ایک کی خیر خواہی“۔ (ص21)

اور خاتمہ کچھ اس طرح ہوتا ہے:

 ”الغرض یہ دین ِاسلام اللہ کی زبردست نعمت ہے۔ ساری نوع انسانی کے لیے رحمت ہے۔ جس زاویے سے بھی دیکھیے وہ رحمت ہی رحمت ہے، شفقت ہی شفقت ہے۔ جس حیثیت سے بھی دیکھیے وہ نعمت ہی نعمت ہے، برکت ہی برکت ہے۔ اس میں ظلم وزیادتی، ناانصافی، بے رحمی یاتشددنام کی کوئی چیز نہیں ہے“۔ (ص376۔377)

جہاد سے متعلق مصنف موصوف نے اپنا موقف تمہید ہی میں واضح کردیا ہے کہ اسلامی جہادجہالت یا کفر وشرک کے خلاف نہیں، بلکہ ظلم واستبداد کے خلاف تھا۔ ظلم واستبداد سے آزادی کی جنگ کا نام جہاد ہے۔ لکھتے ہیں :

”جہاد فی سبیل اللہ لوگوں کو زبردستی مسلمان بنانے کا نام نہیں ہے۔ غیر مسلم قوموں پر حملہ کرکے ان سے جزیہ وصول کرنے کا نام نہیں ہے۔ جہاد نام ہے ستائے ہوئے اور کچلے ہوئے مظلوموں کے آنسو پونچھنے اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کا۔ جہاد نام ہے تمام انسانوں کو ظالموں کے چنگل سے رہا کرانے کا، چاہے وہ کسی مذہب اور کسی رنگ ونسل سے تعلق رکھتے ہوں۔ “(ص31)

اسی بنیادی نقطہئ نظر کے گرد پوری کتاب گردش کرتی نظر آرہی ہے۔ کتاب تیرہ(13) ابواب اور حرف ِ آخر پر مشتمل ہے۔ ابتدائی دو(2)ابواب میں جہاد کا مفہوم اور اس کی روح کی وضاحت کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ جہاد نام ہے کسی بلند تر مقصد حاصل کرنے کے لیے انتھک جدوجہد کرنے اور اس کے لیے اپنی ساری توانائیاں نچوڑدینے کا۔ اس کی مختلف اور متعدد شکلیں اور نوعیتیں ہوتی ہیں۔ اس میں سختی ونرمی دونوں کے مواقع آتے ہیں اور دونوں سے ہی انسانیت کی بھلائی اور خیر خواہی مقصود ہوتی ہے۔ اس لیے کہ جہاد کی یہی روح ہوتی ہے، یعنی سارے انسانیت کی بہی خواہی اور غم خواری۔

تیسرے باب میں فاضل مصنف نے بتایا ہے کہ مسلح جہاد کے تعلق سے تین نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں :(1) ہر کافر سے جنگ (2)کافر حکومتوں کا خاتمہ (3)ظلم واستبداد کا خاتمہ۔ پہلے نقطہئ نظر کی تفصیل یہ ہے کہ لوگوں کو دین کی دعوت دی جائے۔ اگر وہ اسے قبول کرلیں تو ٹھیک، ورنہ ان سے جنگ کی جائے گی، خواہ وہ جنگ کریں یا نہ کریں۔ اس نقطہئ نظر کی بنیاد أمرت أن أقاتل الناس حتی یقولوا لا الہ الا اللہ جیسی احادیث اور سورہئ توبہ کی آیتِ کریمہ(نمبر 5) فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ  وَخُذْوْھُمْ…. الخ پر ہے۔ مولانا نے اس خیال پر نقد کرکے اس کی تردید کی ہے، مگر ساتھ ہی ان تمام حدیثوں کو بھی روایتاًودرایتاً رد کردیا ہے جن سے اس موقف کے حق میں استدلال کیا جاتا ہے۔ مولانا کا خیال ہے کہ قتل یا اسلام کا نظریہ ارشادِ خداوندی ” أَ فَاَئنْتَ تُکْرِہُ النَّاَسَ حَتیّٰ یَکُوْنُوا مُوْئ مِنِیْنَ "کے خلاف ہے۔ مولانا کا یہ موقف بالکل صحیح ہے، مگر اس کے لیے حدیثوں کو رد کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ان حدیثوں میں وارد لفظ ’الناس‘سے مراد محدثین کے نزدیک تمام مشرکین یا سارے غیر مسلم نہیں ہیں، کچھ مخصوص لوگ یا مخصوص گروہ مراد ہے۔ ان حدیثوں کی متعدد تاویلیں کی گئی ہیں، جن کے قرائن دوسری حدیثوں میں موجود ہیں۔

حدیثوں کو رد کرنے میں مولانا نے محدثین ہی کے اصول استعمال کیے ہیں اور پوری کتاب میں ان کے اصولوں کو برتا ہے، مگر ایسا لگتا ہے کہ بعض دفعہ ان اصولوں کو پورے طور پر ملحوظ نہیں رکھ پاتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی تنقید کا زور کم زور پڑگیا ہے۔ مذکورہ حدیثوں میں پہلی روایت کو چھوڑ کر بقیہ روایتیں متعدد مضبوط طرق سے مروی ہیں اور متعدد محدثین نے ان کی تخریج کی ہے۔ اس لیے ان کے کسی ایک طریق میں کسی متکلم فیہ راوی کے آجانے سے ان کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ تعدد طرق بھی محدثین کے نزدیک صحت کی دلیل ہوتا ہے۔

صحیح مسلم، کتاب الایمان میں أمرت أن أقاتل الناس والی مذکورہ حدیثیں موجود ہیں، مگر ان کے جن متکلم فیہ راویوں کا حوالہ دے کر مولانا نے ان کو رد کردیا ہے، ان میں سوائے ابوالزبیر مکی کے کوئی اور راوی صحیح مسلم کی سندوں میں موجود نہیں ہے اور ابوالزبیر مکی کے بارے میں جرح اورتعدیل دونوں پائی جاتی ہے۔ ان کو صالح، صدوق، ثقہ اور ثبت کہا گیا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ جب کسی راوی میں جرح اورتعدیل دونوں جمع ہوجائیں تو جرح کو تقدم حاصل ہوتا ہے۔ یہ اصول مولانانے اپنی کتاب میں نقل بھی کیا ہے، مگر اس کو تقدم اس وقت حاصل ہوگا جب جرح واضح اور متعین ہو۔ اس لیے کہ بعض دفعہ کسی ایسے سبب کی وجہ سے بھی جرح کردی جاتی ہے جو حقیقتاً وجہ ِ جرح نہیں ہوتا، یا جرح کا اعتبار اس وقت ہوگا جب جرح کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہو۔ اگرجرح کسی بدعقیدگی یا جرم وگناہ کی بنیاد پر ہو اور کوئی محقق اس کے تائب ہونے کی خبر دے تو جرح کا اعتبار نہیں ہوتا۔ راویوں کو مجروح قرار دیتے وقت مولانا سے اصول کا یہ حصہ بالعموم چھوٹ گیا ہے۔

ابوالزبیر مکی پر جو جرح کی گئی ہے وہ غیرواضح اور اشارہ وکنایہ کے ذریعہ کی گئی ہے۔ کأنہ یضعفکے الفاظ بھی آئے ہیں۔ صرف شعبہ کی جرح مفسر اور واضح ہے، مگر دوسرے ناقدین حدیث نے ان کی جرح کو تسلیم نہیں کیاہے اور کہا ہے کہ ایک معمولی وجہ سے شعبہ کی جرح نہیں کرنی چاہیے تھی۔ ابن حبان جیسے ناقد حدیث نے ان کو ثقہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے: لم ینصف من قدح فیہ۔ محدث ساجی کا کہنا ہے: صدوق حجۃ فی الأحکام، وروی عنہ أھل النقل وقبلوہ واحتجوابہ۔ ابن حجر عسقلانی کے مطابق ’خلق کثیر‘نے ان سے روایت لی ہے۔ ابن عدی کا بیان ہے: لا أعلم أحداً من الثقات تخلّف عن أبی الزبیر الاوکتب عنہ وھو فی نفسہ ثقۃ۔ (تہذیب التہذیب) مختصر یہ کہ ابوالزبیر پر جرح مبہم، غیر واضح اور اشارہ وکنایے کے اسلوب میں ہے، جب کہ تعدیل نہایت واضح اور زوردار ہے۔ اسی وجہ سے ان پر جرح کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیا گیا ہے۔ تعدیل کرنے والوں کی تعداد بھی زیادہ ہے۔ اس لیے ان کو مجروح اور غیر معتبر نہیں کہا جاسکتا۔ وہ محدثین کے درمیان ثقہ اور پسندیدہ راوی کی حیثیت سے معروف و مشہور ہیں۔ اس دراز نفسی کا مقصد یہ ہے کہ روایتوں کو سنداً رد کرنے میں مولانا کا رویہ غیرمتوازن اور نقد حدیث کے معیار پرکھرا نہ اترنے والا محسوس ہوتا ہے، البتہ ان کی درایتی تنقید بالعموم زوردار ہوتی ہے۔

ایک حدیث ہے: من قاتل لتکون کلمۃ اللہ ھی العلیا۔ اس سے بھی مذکورہ نقطہئ نظر پر استدلال کیا جاتا ہے۔ مولانا نے اس حدیث کو رد نہیں کیا، حالاں کہ اس کی بھی بعض سندوں میں بعض کم زور رواۃ موجود ہیں۔ اس کی بہت اچھی تاویل وتوجیہ مولانا نے کردی ہے۔ ایسی ہی کوئی عمدہ تاویل مذکورہ حدیثوں کی بھی ہوسکتی تھی۔

سورۂ توبہ کی مذکورہ بالا آیت سے یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ جزیرۃ العرب کی حد تک اہل کفر کے لیے صرف دوہی راستے ہیں :اسلام یا تلوار۔ مولانا نے اس آیت کریمہ پر بہت قیمتی اور مفصل گفتگو کرکے اس خیال کو رد کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ اس آیت کا تعلق صرف اور صرف ان مشرکینِ قریش سے تھا جو کفر کے سرغنہ تھے اور ظلم واستبداد کی تمام حدوں کو پار کرچکے تھے۔ (ص70) یہاں یہ کہنے کا جی چاہتا ہے کہ جس طرح آیتِ مذکورہ کے عام لفظ’مشرکین‘ سے مولانا نے کفر کے کچھ سرغنے اور قریش کے بعض فرعون مراد لیے ہیں، کیا أمرت أن اقاتل الناس میں الناس سے یہی لوگ مراد نہیں ہوسکتے؟اور کیا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ نبی کریمﷺ نے اسی حکم خداوندی کی تعبیر مذکورہ الفاظ سے کی ہے۔ مولاناامین احسن اصلاحیؒنے مذکورہ حدیثوں کی کچھ ایسی ہی تاویل کی ہے۔ اس طرح کی حدیثیں مختلف کتب حدیث میں بڑی کثرت سے ہیں، بعینہ یہی حدیث بخاری کتاب الجہاد والسیر میں بھی ہے۔

مصنف عبدالرزاق کی ایک روایت ہے: اغزوا باسم اللہ فی سبیل اللہ، فقاتلوا من کفر باللہ (5/218)خود مولانا نے اپنی کتاب ’البرھان فی نظام القرآن‘ میں حضرت عمر ؓکا ایک اثر نقل کیا ہے، جس میں یہ الفاظ بھی ہیں : فَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہ مَنْ کَفَرَ بِاللّٰہ وَلَا تَعْتَدُوْا(ص74)۔

مسلح جہاد کے سلسلہ میں دوسرا نقطہئ نظر یہ ہے کہ کافر حکومتوں کا خاتمہ اس کا مقصد ہے۔ جو لوگ اللہ پر ایمان نہ رکھتے ہوں، اس کی شریعت کو تسلیم نہ کرتے ہوں، انہیں یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی انسانی گروہ یا خطہئ ارض پر حکومت کریں۔ اگر طاقت ہو تو ایسی خدا بیزار حکومت کا خاتمہ کرکے انسانیت کو ان سے نجات دلائی جائے۔ یہ نقطہئ نظر بہت سے علماء کا ہے۔ لیکن مولانا کے نزدیک یہ خیال پہلے خیال کا ترمیم شدہ ایڈیشن ہے، جس کی کوئی علمی بنیاد نہیں۔ ان کے نزدیک یہ خیال اسلامی شفقت ومحبت، رحم ومروت اور خیر خواہی ودل سوزی کے خلاف ہے۔ قرآن وسنت میں ایسی کوئی صراحت نہیں ہے کہ کوئی غیر اسلامی حکومت قائم نہیں رہ سکتی، اس کا خاتمہ ضروری ہے۔ مولانا کہتے ہیں کہ ملک وحکومت کا تعلق مالک الملک سے ہے۔ چنانچہ انَّ الئَارْضَ لِلّٰہِ یُوْرِثُھَا مَنْ یَشَاءُ (الاعراف:128)اور اَلّٰھُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُوْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَاءُ(آل عمران:26) جیسی آیات بتاتی ہیں کہ حکومت کسے ملنی چاہیے اور کسے نہیں ؟یہ خالص شہنشاہ ِکائنات کا اختیار ہے، ہمارا نہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے متعدد حکم رانوں کو دین اسلام قبول کرنے کی دعوت تو دی، مگر کبھی کسی حکم راں یا بادشاہ کو کوئی دھمکی یا وارننگ نہیں دی۔

تیسرا نقطہئ نظر یہ ہے کہ اسلام میں مسلح جہاد یا قتال کا مقصد لوگوں کو اسلام پر مجبور کرنا ہے نہ غیر مسلم حکومتوں کے وجود یا ان کی قوت وشوکت کو چیلنج کرنا ہے۔ مسلح جہاد کا مقصد اس زمین سے ظلم واستبداد کو ختم کرنا ہے۔ مسلح جہاد کا مقصد ہے اس دھرتی پر مظلوم ولاچار انسان کی آزادی وعزت کی حفاظت کرنا۔ (ص86)

یہی مولانا کا موقف ہے۔ اس لیے انھوں نے اس کو بہت بسط وتفصیل سے بیان کیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔ اس کی رحمت بلا تفریق رنگ ونسل، ملک ووطن، قوم ومذہب سب کے لیے عام ہے۔ اس لیے وہ ہر طرح کے ظلم وفساد اور جبر واستبداد کو ناپسند کرتا ہے، جس سے انسانوں کے بنیادی حقوق سلب ہوں اور ان کی آزادی جاتی رہے۔ وہ اپنے بندوں کوآزاد دیکھنا چاہتا ہے، تاکہ وہ ہر دباؤ سے آزاد ہوکر، آزاد فضا میں اپنی زندگی اور اپنے حال و مستقبل کے بارے میں سوچیں اور اپنے مہربان رب کو تلاش کریں اور جو راہ بھی وہ اپنے لیے پسند کریں وہ ان کا اپنا اختیار وانتخاب ہو، جس کے لیے وہ مسؤل ہو سکیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ظلم وفساد کو بڑی شدت سے ممنوع قرار دیا ہے۔ اب اگر کوئی اس شدید ممانعت کے باوجود ظلم وجبرپر اصرار کرتا ہے تو وہ انتہائی بدترین مجرم ہے۔ وہ خداکی بنائی ہوئی زمین پر رہنے کے قابل نہیں ہے۔ انسانیت کے یہی بدترین مجرم ہیں، جن سے اللہ کے نبیوں نے مسلح جہاد کیا۔ جس نبی اور رسول نے بھی مسلح جہاد کیا، انہی ظالموں سے کیا۔ مولانا کے مطابق اگر کوئی حکومت کافر ومشرک ہونے کے باوجود صلح پسند ہے، اس کی رعایا اپنے فکر وخیال میں آزاد ہے، وہ ظلم وجارحیت کی خوگر نہیں ہے تو اسلام اس کی صلح پسندی کی قدر کرتا ہے اور اس سے اچھے تعلقات رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ (ص91)

قرآن میں جہاں کہیں جہاد و قتال کا حکم ہے اس کی علّت یہی ظلم واستبداد ہے۔ کفر وشرک پر اصرار، رسولوں کا انکار، اور آیات الٰہی کی تکذیب کبھی جہاد وقتال کاسبب نہیں رہے۔ جن قوموں پر اللہ کا عذاب آیا اور انہیں نیست ونابود کردیا گیا اس کا سبب بھی کفر وشرک نہیں، بلکہ ان کا شروفساد اور ظلم وجبر تھا۔ نبی ورسول کی طرف سے اتمام حجت بھی عذاب ِ الٰہی کاموجب نہیں، البتہ جن قوموں پر عذابِ الٰہی آیا وہ اتمام حجت کے بعد ہی آیا۔

کفر وشرک اور تکذیب ِ آیات کی سزا بس جہنم ہے، جو آخرت میں سامنے آئے گی۔ اس کو بنیاد بنا کر کسی قوم سے جنگ کرنا جائز نہیں ہے۔ جہاد ہمیشہ ان طاقتوں اور حکومتوں کے خلاف ہوتا ہے جو ظلم وجور کی خوگر ہوجاتی ہیں۔ رسول ِ خدا نے غلبہئ اسلام کو موضوع بنا کر کبھی فوج کشی نہیں کی۔ آپ کی ساری لڑائیاں ظالموں کا مقابلہ کرنے اور ان کے ظلم واستبداد کو توڑنے کے لیے ہوئیں۔ (ص61)

مولانانے اس ضمن میں متعدد آیات کریمہ کے ساتھ آیت وَقَاتِلِوْھُمْ حَتیّٰ لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہُ لِلّٰہِ فَاِنِ انْتَھَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلاَّ عَلیٰ الظَّالِمِیْنَ(البقرۃ: 193) سے بھی استدلال کیا ہے۔ اس آیت میں ’فتنہ‘ سے مراد مولانا کے نزدیک وہ ظالم وجابر اقتدار ہے جو اللہ ورسول کی دشمنی میں اندھا ہوجائے (ص91) اور’دین‘ سے مراد اصطلاحی دین کے بجائے لغوی دین مراد ہے، یعنی طاعت وفرماں برداری۔ (ص94)

مولانا کی یہ بات ناقابل ِفہم ہے کہ ’یہاں دین سے مراد لغوی دین ہے‘۔ جب لفظ’دین‘ کی نسبت اللہ کی طرف کردی گئی(وَیَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہ)تو پھر اصطلاحی اور  غیر اصطلاحی کا کیا مطلب؟ اگر اس کا لغوی معنیٰ ہی مراد لیا جائے تب بھی تو یہی مطلب ہوگا کہ ہر طرف سے کٹ کر تمام طاعت وفرماں برداری خالص اللہ کے لیے ہوجائے۔ اسی کانام غلبہئ دین ہے۔ آیت میں اسی کے قیا م کا حکم ہے اور یہی نبیﷺ کی ذمہ داری بھی تھی، جس کو بار بار قرآن میں بیان کیا گیا ہے : ھُوَ الَّذِیْ اَئْرسَلَ رَسُوْلَہُ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیَظْھَرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ۔ (التوبہ: 33، الفتح:28، الصف:9)

مولانا نے اپنے موقف کی تائید میں امام شافعیؒ، شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ، ان کے شاگرد علامہ ابن قیمؒ اور مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کے بیانات نقل کیے ہیں۔ علامہ ابن تیمیہؒ کی عبارت یہ ہے: الکفار انما یقاتلون بشرط الحراب، کماذھب الیہ جمھور العلماء وکمادلّ علیہ الکتاب والسنۃ۔ (ص94)عرض یہ ہے کہ مولانا فراہیؒ نے بھی ’في ملکوت اللہ‘ اور ’الرائع في أصول الشرائع‘ اور بعض حواشی میں یہی رائے ظاہر کی ہے۔ شاید مولاناسبحانی کا دھیان ادھر نہیں گیا۔

مولانا کے نزدیک یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ اتمام حجت کے بعد مدعو قوم اگر اپنے کفر پر اڑی رہے تو اللہ تعالی اس کو لازماً ہلاک کردیتا ہے، خواہ وہ قہر الٰہی کے ذریعہ ہلاک ہو یا اہل ایمان کی تلوار سے۔ مولانا کے نزدیک اتمام حجت کے بعد بھی توبہ وانابت اور قبولِ حق کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔ قوم یونس ؑ کا واقعہ اس کی مثال ہے۔ مولانا کے مطابق حضرت یونس ؑ اپنی قوم سے مایوس ہوکر ہجرت کرگئے تو ظاہر ہے، اتمام حجت کے بعد ہی وہ قوم سے مایوس ہوئے ہوں گے اور وہاں سے ہجرت کی ہوگی۔ (ص105)

بعض اقوال وآثار کے حوالہ سے مولانا لکھتے ہیں کہ اتمام حجت صرف نبی یا رسول کے ذریعہ نہیں ہوتا۔ یہ اتمام حجت صرف اہل عرب پر نہیں ہوا، اتمام حجت کتاب الٰہی سے بھی ہوتا ہے۔ اگر کسی قوم کے پاس کتاب ِ الٰہی اپنی اصلی حالت میں موجود ہو تو وہ اتمام ِحجت کے لیے کافی ہے۔ نبی کریمﷺ کے اس دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد اہل دنیا پر اتمام حجت کرنے والی چیز یہی کتاب ِالٰہی ہے۔ (ص106)

مولانا امین احسن اصلاحیؒ اور بعض دوسرے علماء نے بہت ہی وضاحت کے ساتھ لکھا ہے کہ اتمام حجت کے بعد مدعوقوم اگر ایمان نہیں لاتی تو وہ لازماً ہلاک ہوجاتی ہے، خواہ وہ عذابِ الٰہی کے ذریعہ ہلاک ہو یا اہل ایمان کی تلوار سے۔ نبی کی زندگی میں ہلاک ہو یا اس کی وفات کے بعد۔ اتمام حجت کی بحث چھیڑ کر مولانا سبحانی نے دراصل اسی خیال کی تردید کی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مولانا سبحانی کی طویل بحث سے بھی تشفی نہیں ہوتی، جب کہ مولانا امین احسن اصلاحیؒ کا بیان کافی وشافی معلوم ہوتا ہے۔ مولانا سبحانی نے اتمام حجت کے بعد عذاب نہ آنے کی مثال کے طور پر واقعہ یونس ؑکو پیش کیا ہے اور لکھا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے اتمام حجت کے بعد ہی وہاں سے ہجرت کی ہوگی۔ لیکن ان کی قوم پر عذاب نہیں آیا، اس کو توبہ وانابت کی توفیق ملی اور وہ ایمان لے آئی۔ مولانا کا یہ استدلال صحیح نہیں معلوم ہوتا۔ اپنی قوم کو چھوڑکر حضرت یونسؑ کے چلے جانے کو قرآن مجید نے لفظ      ’ابق‘سے تعبیر کیا ہے۔ یہ لفظ مفرور غلام کے لیے بولا جاتا ہے۔ عبد آبق اس غلام کو کہتے ہیں جو اپنے آقا کی مفوّضہ ڈیوٹی چھوڑکر بھاگ گیا ہو۔ گویا حضرت یونسؑ کی حیثیت مفر ورغلام کی سی تھی، یعنی اپنی ذمہ داری پوری کرنے سے پہلے اذن ِ خداوندی کے بغیر ہی ناراض ہوکر چل دیے اور اسی لیے آزمائش کا شکار ہوئے۔ اس لیے ان کے بارے میں کیسے کہاجاسکتا ہے کہ ”اتمام حجت کے بعد ہی وہ اپنی قوم سے مایوس ہوئے ہوں گے اور وہاں سے ہجرت کی ہوگی“۔ (ص205)(خرج ولم یؤذن لہ، فکان بذلک کالھارب من مولاہ۔ (تفسیر ابن الجوزی 6/311)

مولانا نے اتمام حجت کے تعلق سے اپنی تائید میں امام شافعیؒ کا ایک بیان نقل کیا ہے، لیکن راقم کے ناقص فہم کے مطابق امام شافعی ؒ کا وہ بیان مولانا کے خلاف ہے۔ امام شافعیؒ کے الفاظ یہ ہیں :

انّ الذین فرض اللّٰہ عزّوجلّ قتالھم حتّٰی یعطوا الجزیۃ، الذین قامت علیھم الحجّۃ بالبلوغ۔ (ص112)

(یعنی وہ لوگ جن سے جنگ کرنا اللہ تعالی نے فرض قرار دیا ہے، تا آں کہ وہ جزیہ دینے پر تیار ہو جائیں، یہ وہ لوگ ہیں جن پر حجت تمام ہوچکی ہے۔ )

چوتھے باب میں دوتین اشکالات کے جوابات دیے گئے ہیں۔ مثلاً یہ اشکال کہ جب اسلام میں جہاد ہمیشہ ظلم واستبداد کے خلاف ہوتا ہے تو ملکہئ سبا نے کیا ظلم کیا تھا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کا ہدیہ ٹھکرادیا، اس کے خلاف فوج کشی کی دھمکی دی اور اسلام قبول کرنے کا حکم دیا، یا یہ اشکال کہ اگر دین اسلام میں جہاد ظلم واستبداد کے خلاف ہے تو شرک وکفر کے خلاف جہاد کیوں نہیں، جس کو قرآن نے کہیں ظلم تو کہیں سب سے بڑا ظلم قرار دیا ہے۔

ملکہئ سبا کے بارے میں مولانا کی تحقیق یہ ہے کہ وہ پہلے حضرت سلیمان ؑکے ماتحت تھی۔ حضرت سلیمانؑ جب آزمائش کاشکار ہوئے تو ان کی کم زوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے بغاوت کردی اور ملک سبا کے عوام کو اپنے شکنجہ میں کس کر مطلق العنان بن گئی تھی۔ حضرت سلیمان ؑ نے اپنے پیغام میں اس سے اسلام میں داخل ہونے کا مطالبہ نہیں کیا تھا، بلکہ ظلم واستبداد اور مطلق العنانی چھوڑ کر خود کی اطاعت میں داخل ہونے اور اپنے خلاف سر نہ اٹھانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اَن لَا تَعْلَوْ عَلَیَّ وَآتُوْنِی مُسْلِمِیْن کا یہی مطلب ہے۔ یہاں لفظ ’مسلمین‘شرعی مفہوم میں نہیں، بلکہ لغوی معنی میں ہے۔ (ص130، 132)یہ نہیں معلوم کہ اس کا کوئی تاریخی ثبوت بھی ہے یا یہ محض قیاس آرائی ہے؟

پانچویں باب میں جہاد کے عناصر سے بحث کی گئی ہے جو کل پانچ ہیں : 1۔ بلند ایمانی کردار 2۔ مضبوط ومستحکم اجتماعیت 3۔ جان دار صالح قیادت 4۔ کامل منصوبہ بندی 5۔ آزاد اور مضبوط سلطنت۔ ان عناصر خمسہ کی تشریح کرتے ہوئے مولانا نے لکھا ہے کہ کسی بھی جہاد کے لیے بہ یک وقت ان پانچوں عناصر کا پایا جانا ضروری ہے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک عنصر بھی نہیں رہا تو جہاد ناکام اور انارکی وبدامنی کا سبب بن جائے گا۔ چوں کہ اس وقت ان عناصر کافقدان ہے اس لیے مولانا کامشورہ ہے کہ:

”آج بھی اس لٹی پٹی اور ٹوٹی پھوٹی حالت میں ہمارے لیے بہتر یہی ہے کہ ہم حالات سے جھنجھلانے اور جذبات کی رَو میں بہنے کے بجائے صبر وضبط سے کام لیں اور نہایت حکمت ودل سوزی کے ساتھ دعوت ِ دین کے دائرہ کو وسیع کریں۔ ہر طبقے میں دعوت دین کے چراغ روشن کریں۔ ہمارا کام بس مسلم عوام تک محدود نہ رہے، بلکہ مسلم اور غیرمسلم سب کو اپنا مخاطب بنائیں۔ نصح ومحبت کی زبان میں ان سے گفتگو کریں اور حسن اخلاق سے ان کے دل جیتنے کی کوشش کریں۔ اس راہ میں جو بھی مصیبتیں آئیں، انہیں برداشت کریں۔ جو بھی آزمائشیں آئیں پامردی سے ان کا مقابلہ کریں اور ہمیشہ صبر وتحمل سے کام لیں۔ وقت سے پہلے منزل پر پہنچنے کی جلدی نہ کریں “۔ (ص165)

 ”ہمارا کام اخلاص ِنیت کے ساتھ دین کے لیے جدو جہد کرنا ہے۔ نہایت صبر واستقلال کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ٓہونا ہے۔ آگے حالات کیسے ہوں گے؟ کام یابی کی راہیں کیسے کھلیں گی؟ اور کہاں سے کھلیں گی؟ یہ ہمارے سوچنے کا موضوع ہے ہی نہیں “۔ (ص167)

چھٹے باب کا عنوان ہے ’جہاد اور امن ِعالم۔ ‘اس میں ان علماء اور دانش وروں کی علمیت اور دانش وری کاکام یاب تعاقب کیا گیاہے جو اسلام کی ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جسے صرف وقت کا طاغوت ہی پسند کرسکتا ہے اوراسلامی تحریکات اور اسلام پسندوں کی مذمت کرنا، ان کے کاموں کیڑے نکالنا ہی جن کامشغلہ ہے۔

ساتواں باب ماقبل کا تتمہ ہے۔ اس کا موضوع ہے ’ظالم حکومتوں سے صلح‘۔ مولانا کے مطابق قرآن میں ظالم حکومتوں سے صلح کرنے کی کہیں ترغیب نہیں دی گئی ہے۔ (ص203) اس لیے ان سے خود صلح کی پیش کش نہیں کی جاسکتی، البتہ دشمن اگر خود صلح کی طرف مائل ہو تو مسلمان حاکم یا امام ان سے صلح کرسکتا ہے۔ (ص204)

آٹھویں باب کا تعلق ’دفاعی حالت‘سے ہے، جس میں جہاد کی دفاعی حکمت عملی پر اچھی گفتگو کی گئی ہے۔ اس ضمن میں یہ بات بھی آئی ہے کہ خود کش حملے صحیح نہیں ہیں (ص227)۔ اس زمانے میں جنگوں میں جتنی زہریلی گیسیں اور جتنے آتشی ہتھیار استعمال ہوتے ہیں وہ سب شرعی اعتبار سے ناجائز ہیں (ص246)۔ مولانا نے یہ بات بھی بہت دوٹوک انداز میں کہی ہے کہ خاتم الانبیاء اور ان کی تیار کردہ امت مسلمہ ہمیشہ سرخ رو اور فتح یاب رہی، کبھی شکست سے دوچار نہیں ہوئی۔ نہ جنگ احد میں، نہ جنگ موتہ میں، نہ کسی اور جنگ میں۔

نواں باب’آداب ِ جہاد‘ سے متعلق ہے۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ جنگ صر ف  ان لوگوں سے ہوگی جو جنگ کریں۔ جو جنگ نہ کریں ان سے جنگ کرنی جائز نہیں (ص231)۔ دوران جہاد نہ تخریبی کارروائی کی جاسکتی ہے نہ دھوکہ دیا جاسکتا ہے۔ نہ کسی کو دھوکہ سے مارا جاسکتا ہے۔ مولانا نے لکھا ہے کہ حدیث الحرب خدعۃ کا مطلب صحابہئ کرام کو دھوکہ دینے کی اجازت نہیں تھا، بلکہ ان کو دشمنوں سے ہوشیار کرنا تھا کہ جنگ میں دھوکہ بہت ہوتا ہے۔ (ص234)۔ مولانا کے نزدیک یہ بات غلط ہے کہ یہودی سردار کعب بن اشرف کو صحابہ نے دھوکہ سے مار ڈالاتھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کو خود یہودیوں نے ہی مارا تھا۔ (ص245)مولانا نے قتلِ کعب والی متعدد روایتوں پر مختلف جہتوں سے اشکال وارد کرکے انہیں ساقط الاعتبار قرار دیا گیا ہے۔ لیکن اگر بخاری ومسلم کی روایات پیش نظر ہوتیں تو بعض اشکالات خود بخودختم ہوجاتے۔ کعب کی بیوی کے الفاظ ’أسمع صوتا کأنہ یقطر منہ الدم‘ سے بھی ایک اشکال واردکیا گیا ہے، حالاں کہ اس جملے کی صحت مشکوک ہے۔ بعض مجہول راویوں کا اضافہ ہے۔ بخاری میں یہ روایت امام بخاری کے استاذ الاستاذ سفیان بن عیینہ ؒنے عمرو بن دینار ؒکے واسطہ سے نقل کی ہے۔ اس میں ہے: وقال غیر عمر وقالت أسمع صوتا کأنہ یقطر منہ الدم۔ ’غیر عمرو‘مجہول راوی ہے۔ اس کا نام لیا جانا چاہیے تھا۔ یہ ایک طرح کی تدلیس ہے، جو عیب ہے۔

قتلِ کعب کے جو اسباب روایتوں میں بیان ہوئے ہیں، رحمت عالم ؐکے معروف کریمانہ اخلاق اور دریائے عفو ودرگذر کے پیش نظر کافی نہیں معلوم ہوتے۔ رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی، جس نے اپنی شرارتوں، ریشہ دوانیوں، بلکہ کھلی ہوئی غداریوں سے آج کے اسلوب میں ناک میں دم کررکھا تھا۔ غزوہئ بنو مصطلق کے بعد تو لوگوں نے تقریباًیقین کرلیا تھا کہ اب اسے قتل ہی ہونا ہے، مگر آپ نے اس کے ساتھ درگزر کا معاملہ کیا۔ اس خبیث کے بالمقابل کعب بن اشرف کی کیا حیثیت تھی کہ آپ اپنے بلندمعیار اخلاق سے نیچے اتر آتے؟ مولاناکی یہ بات بالکل صحیح ہے کہ کعب بن اشرف کو جس طرح قتل کیا گیا، اس میں آپ کے خلقِ عظیم کی کوئی جھلک نہیں ہے۔ (ص243)صحت حدیث کی ایک شرط محدثین نے یہ بھی بتائی ہے کہ آپؐکے عام اخلاق ومزاج اور حالات کے موافق ہو۔

ایک نئی بات مولانا نے اس باب میں بہت تفصیل سے یہ کہی ہے کہ”جنگ سے پہلے دشمن کو اسلام کی دعوت دینے کی تمام رواتیں نہ صرف قرآن پاک اور سنت رسول کے خلاف ہیں، بلکہ سند کے اعتبار سے بھی کم زور اور ناقابل اعتبار ہیں۔ “ (ص253،254)۔ اس پر کچھ عرض کرنے کا جی چاہتا ہے.

مسند احمد ابن حنبلؒ میں حضرت ابن عباسؓ کی ایک روایت ہے: ماقاتل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلّم قوماً قطّ الّا دعا ھم(ص254)۔ مولانا نے اس حدیث کو صرف اس لیے رد کردیا ہے کہ اس کے ایک راوی ابن ابی نجیح کو ابن جوزی نے ضعفاء اور متروکین میں شمار کیا ہے اور وہ تقدیر کا منکر تھا۔ یہ صحیح ہے کہ ابن ابی نجیح پر قدری ہونے کا الزام ہے، لیکن اس کے علاوہ اور کوئی الزام ان پر نہیں ہے، مگر وہ اس سے تائب ہوگئے تھے۔ ارباب صحاح نے ان کی روایتیں قبول کی ہیں۔ علی بن مدینی کا قول ہے: احتجّ بہ أرباب الصحاح، ولعلّہ رجع عن البدعۃ۔ یہی بات امام ذہبیؒ نے بھی کہی ہے۔ جو زجا نیؒ نے ابن نجیح سمیت چند ایسے نام گنائے ہیں جو تقدیر کے منکر تھے، لیکن علامہ عقیلیؒ کا اس پر تبصرہ ہے:قلت في ھؤلاء:ثقات، ما ثبت عنھم القدر أو لعلّھم تابوا۔ عقیلی نے علی بن مدینی کا یہ قول بھی نقل کیا ہے: أما الحدیث فھو فیہ ثقۃ۔ (اعلام النبلاء، 6/345، 346)(عقیلی کا تبصرہ محشی نے حاشیہ میں نقل کیا ہے۔ )

جن حدیثوں پر مولانا نے نقد کیا ہے ان میں یہ شاید واحد حدیث ہے جس کا انھوں نے حوالہ دیاہے۔ یہ حدیث مسند احمد کی ہے۔ اس کے محقق علامہ شعیب الارنؤوط نے اس حدیث کے بارے میں لکھا ہے:اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ فاضل محقق کی یہ تحقیق یقینامولانا کی نظر سے گزری ہوگی۔

جب خیبر فتح نہیں ہورہا تھا تو آپ ؐنے حضرت علیؓ کو عَلَم دیا۔ حضرت علیؓ نے علم لینے کے بعد پوچھا: أقاتلھم حتی یکونوا مثلنا؟ اس کے جواب میں آپؐ نے فرمایا: تم اطمینان سے جاؤ، ان کے قریب پہنچ کر انہیں اسلام کی دعوت دو، انہیں بتاؤ کہ ان پر اللہ کے کیا حقوق ہیں ؟(ص257)

اس حدیث کامولانا نے کوئی حوالہ نہیں دیا ہے، تاہم یہ حدیث بخاری، کتاب المغازی، باب خیبر میں من وعن موجود ہے۔ مولانا کے مطابق اس کی سند کا ایک راوی عبد العزیز بن ابو حازم ہے۔ مگر بخاری کی اس روایت میں اس نام کا کوئی راوی نہیں ہے، البتہ ان کے والد ابو حازم ہیں۔ سند اس طرح ہے: حدثنا قتیبۃ بن سعید حدثنا یعقوب بن عبد الرحمن عن أبی حازم قال أخبرنی سھل بن سعید۔ یہ حدیث صحیح بخاری، کتاب الجہاد میں بھی ہے اور سند تقریباً وہی ہے۔ ان سندوں میں عبد العزیز کی جگہ یعقوب بن عبد الرحمن ہیں۔ مولانا نے عبدالعزیز پر نقد کیا ہے، حالاں کہ وہ اس کی سند میں ہیں ہی نہیں۔ اب اگر کسی دوسری کتاب میں وہ ہوں توکچھ نہیں کہا جاسکتا، مگر بخاری کی روایت کو اس پر ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔ عبد العزیز بن ابی حازم بڑے بزرگ معلوم ہوتے ہیں۔ امام مالکؒ ان کے بارے میں کہتے تھے:  قوم فیھم ابن ابی حازم لا تصبھم العذاب، امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں : وہ بہت بڑے فقیہ تھے۔ مدینہ میں امام مالک کے بعد ان سے بڑا کوئی فقیہ نہیں تھا۔ (تہذیب التہذیب) البتہ مولاناکے بعض درایتی اعتراضات بہت اہم ہیں۔ محدثین کی نظر بھی ان پر پڑی ہے، مگر ان سے بات نہیں بن رہی ہے۔ ان کے نزدیک ساری اہمیت سندوں کی ہوتی ہے، حالاں کہ صحت ِ حدیث کا یہ صرف ایک پہلو ہے۔ درایت اس کا دوسرا پہلو ہے اور اس کو بھی اتنی ہی اہمیت حاصل ہے، مگر اس کی طرف سے بالعموم چشم پوشی کی جاتی ہے۔ اس حدیث پر اعتراض یہ ہے کہ جنگ خیبر کا یہ پہلا دن نہ تھا، کئی دنوں سے جنگ کاسلسلہ جاری تھا۔ کیا ان کو جنگ شروع کرنے سے پہلے دعوت نہیں دی گئی تھی؟ اگر نہیں دی گئی تو کیوں ؟اور اگر دی گئی تو اب کیوں دعوت دی جارہی ہے؟ جب دوفوجیں میدان ِ کارزار میں ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہوں تو کیا وہ وقت دعوت وتبلیغ کا ہوتا ہے؟

جنگ سے پہلے دعوت ِ اسلام کی کئی حدیثیں مصنف عبدالرزاق میں بھی ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ حضرت علیؓ کسی مہم کے لیے نکل چکے تھے۔ آپؐنے آدمی بھیج کر ان کو رکوایا اور خود جاکر ان کوحکم دیا:  لا تقاتل قوماً حتی تدعوھم۔ مصنف کے محقق مولانا حبیب الرحمن اعظمیؒ کی اس پر یہ تعلیق ہے کہ یہ روایت تو یہاں معظل ہے، البتہ طبرانی کی اوسط میں بھی یہ حدیث ہے، ورجالہ رجال الصحیح۔ (مصنف 5/217) اس طرح کی روایتوں کے سلسلہ میں مولانا کی یہ توجیہ بہت اچھی لگتی ہے کہ جنگ سے پہلے دعوت دینے کا مقصد دراصل ظلم واستبداد سے باز آنے کی آخری وارننگ رہی ہوگی۔ (ص261، 262)

دسواں باب جزیہ کے موضوع پر ہے۔ دشمنان ِ اسلام نے جزیہ کے مسئلے پر  اسلام کے خلاف زبردست ہنگامہ آرائی کی اور اسلام اور اہل اسلام کی تصویر بگاڑنے کی کوشش کی ہے۔ مولانا نے اس موضوع کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مطلع صاف کرنے کی کام یاب کوشش کی ہے۔ مولانا کے مطابق جزیہ بس جنگ ہاری ہوئی ظالم حکومت سے لیا جائے گا۔ اس ہاری ہوئی حکومت میں رہنے والے عوام سے جزیہ کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ نہ اسلامی اقتدار کے تحت رہنے والے غیرمسلموں سے اس جزیہ کا تعلق ہے۔ (ص 274) عوام سے جزیہ وصول کرنے کا جو ذکر آتا ہے وہ حقیقت میں سرکاری ٹیکس تھا، جو حکومتیں اپنے عوام پر عائد کیا کرتی ہیں۔ (ص265)یہ ٹیکس تمام شہریوں پر عائد ہوتے تھے، خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم۔ (ص267)۔ مولانا کی یہ باتیں تو بہت اچھی ہیں، ان سے بہت سے اعتراضات سے نجات مل جائے گی، مگر ان کے لیے واقعاتی اور تاریخی ثبوت کی ضرورت معلوم ہوتی ہے۔

گیارہویں باب میں جنگی قیدیوں کے مسئلہ سے بحث کی گئی ہے۔ حاصل گفتگو یہ ہے کہ ”قرآن پاک ان کے سلسلہ میں بس دوہی باتوں کی اجازت دیتا ہے: یا تو ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے، یا ان پر احسان کیا جائے اور بغیر کچھ لیے انہیں آزاد کردیا جائے۔ ان کو غلام بنایا جاسکتا ہے نہ قتل کیا جاسکتا ہے۔ عہد رسالت میں جن چند قیدیوں کو قتل کرنے کا ذکر حدیث وسیرت کی کتابوں میں ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ داخلی اور خارجی شہادت ان روایات کے خلاف ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر جن چند لوگوں کو آپ نے ہر حال میں قتل کرنے کا حکم دیا تھا وہ مسلمانوں کی قید میں نہیں تھے۔ وہ لاپتہ تھے اور غالبا ً اسلام اور کاروان ِ اسلام کے خلاف کسی نئی سازش میں مصروف تھے۔ (ص282)بنوقریظہ کے چھ سات سو قیدیوں کے قتل کی بات بھی صحیح نہیں ہے۔ قرآن میں اس تعلق سے جس قتل کا ذکر ہے وہ جنگ کے دوران اہل ایمان کے ہاتھوں ان کے قتل کا ذکر ہے۔ جنہیں قید کرلیا گیا انہیں قتل نہیں کیا گیا۔ ان قیدیوں کے قتل کی روایتیں کم زور راویوں کی بیان کردہ ہیں اور حکم خداوندی فَاِمَّا مِنَّا بَعْدُ وَاِمَّا فِدَاءً کے خلاف ہیں۔ “

بنوقریظہ کے بارے میں آتا ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے ان کا محاصرہ کرلیاتو ان لوگوں نے آپؐ سے کہا کہ سعد بن معاذ ؓسردار ِ قبیلہئ اوس جو فیصلہ کردیں گے وہ ہمیں منظور ہوگا۔ چنانچہ سعد بن معاذ ؓبلائے گئے اور انہوں نے یہ فیصلہ سنایا کہ: ان کے لڑنے کے قابل لوگ قتل کردیے جائیں، عورتیں اور بچے قید کرلیے جائیں اور ان کا مال تقسیم کرلیا جائے۔ اس پر آپ نے فرمایا: قضیتَ بحکم اللہ۔ (تم نے حکم الٰہی کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ )

یہ حدیث صحیح بخاری، کتاب المغازی میں دوسندوں سے مذکور ہے: ایک میں دوراوی غندراور سعد بن ابراہیم ہیں، جن پر مولانانے نقد کیا ہے، حالاں کہ ان دونوں کا شمار مستند راویوں میں ہوتا ہے۔ دوسری سند اس سے بھی زیادہ بے غبار ہے۔ مولانانے اس پر کوئی کلام نہیں کیا ہے، البتہ ان دونوں حدیثوں میں نبی ﷺ کی طرف منسوب الفاظ ’قضیتَ بحکم اللہ‘ پر کلام کیا ہے، حالاں کہ اس روایت میں صرف فیصلے اور رسالت مآبﷺ کی طرف سے اس کی تصویب کا ذکر ہے۔ فیصلے میں آپؐ نے کوئی ترمیم وتخفیف نہیں فرمائی۔ وہ سب کے سب قتل کردیے گئے، اس کا کوئی ذکر ان حدیثوں میں نہیں ہے۔ نقد ان روایتوں پر ہونا چاہیے تھا جن میں ان کے قتل کا ذکر ہے۔ مولانا نے اس طرح کی ایک روایت، جو بخاری میں ہے، نقل کی ہے، مگراس کی سند پر کوئی کلام نہیں کیا، صرف اتناکہہ کر رہ گئے کہ ’قرآن کا بیان اس بیان سے مختلف ہے‘۔ یہ بیان وہی ہے جو ابھی چند سطروں قبل نقل کیا گیا(فَاِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَاِمَّا فِدَاء اً)۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان قیدیوں کو قتل نہیں کیا گیا تو ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟ اگر وہ سب رہا کردیے گئے تو اس کا ذکر کتب ِ حدیث وسیر وغیرہ میں کیوں نہیں ہے؟ اس کا ذکر تو بہت زور وشور سے ہونا چاہیے تھا۔ ویسے اتنا بڑا قتل عام اور سیکڑوں عورتوں اورمعصوم ننھے بچوں کو یک لخت بیوہ اور یتیم بنا دینا بڑی قسادت قلبی کاکام معلوم ہوتا ہے۔ شان رحمۃ للعالمینﷺ کے منافی اور آپ کے خلق عظیم کے خلاف لگتا ہے، واللہ اعلم بالصواب۔

قتل عام والی روایتوں کے باب میں مولانا کہتے ہیں کہ اس سلسلہ کی جتنی بھی روایتیں ہیں وہ سب ابن جریج کے طریق سے آئی ہیں۔ (ص287)اس لیے بعض ناقدین حدیث کے حوالہ سے مولانا نے ابن جریج کو اپنی سخت تنقید کانشانہ بنایا ہے، حالاں کہ ان کا شمارائمہ محدثین میں ہوتا ہے۔ عطاء بن یسار ؒ سے پوچھا گیا کہ آپ کے بعد آپ کی مسند حدیث کون سنبھالے گا؟ انہوں نے ابن جریجؒ کی طرف اشارہ کیا۔ امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں : ابن جریج صحیح الحدیث، لم یحدث بشیئ الا أتقنہ۔ نافعؒ کی شاگردی میں امام مالک ؒپر ان کولوگوں نے فوقیت دی ہے۔ تاریخ اسلام کے وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے تصنیف وتالیف کی بنا ڈالی۔ حدیث کی سب سے پہلی کتاب انہوں نے ہی مرتب کی۔ امام ابوزرعہ رازیؒ سے ان کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: بخ، من الائمۃ۔ ”خوب وہ توائمہ میں سے ہیں۔ “ (کتاب الجرح والتعدیل، ج 5)

’جہاد عصر حاضر میں ‘کتاب کا بارہواں باب ہے اور دراصل بعض ان علماء کے تعاقب پر مشتمل ہے جو کہتے ہیں کہ نو، دس افراد پر مشتمل کوئی جتھہ ہو تو اسے شرعاً قوت ِ دفاع کا حامل کہا جاسکتا ہے اور وہ جو اقدام بھی کرے گا اسے جہاد کہا جاسکتا ہے، اس کے سر براہ کو امیر یا سلطان کہا جاسکتا ہے اور اس کی سرکردگی میں جہاد کیا جاسکتا ہے۔ یہ تعاقب بہت اچھا اور علمی ہے، البتہ حدیثوں پر گفتگو محل نظر ہے۔

اس کے بعد آخری باب ہے، جس میں آج کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ آج کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ ہم اپنے ذہن ودماغ میں وسعت وآفاقیت پیدا کریں اور پورے ملک بلکہ پوری دنیا کو اپنا میدان عمل سمجھیں۔ دارالکفر اور دارالحرب کی فضول بحثوں میں پڑنے کے بجائے اپنے عظیم منصب کا احساس کریں اور اس کی ادائیگی کے لیے منصوبہ بند جد وجہد کریں، اسلام کا صحیح تعارف کرائیں اور اس کی اجنبیت دور کرنے کی کوشش کریں، ہر انسان کو اپنا سمجھیں اور اپنائیت کے ساتھ ان سے پیش آئیں، جھنجھلاکر چند جوشیلے نوجوانوں کا کوئی جتھا بناکر جہاد کے نام پر الٹی سیدھی حرکتیں نہ کریں، بلکہ وقت کی رفتار پر نظر رکھیں اور اس کے تقاضے کو سمجھیں اور ان تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے جن علوم کی ضرورت ہو ان سے اپنے آپ کو آراستہ کریں اور ان میں مہارت حاصل کریں۔ آج طاقت کی علامت اور پیمانہ علم ہے، سائنس ہے اور جدید ٹکنالوجی ہے، اس لیے ان میں بھی مہارت بہم پہنچانا ضروری ہے۔

مضامین ِ کتاب کے اس تجزیہ سے واضح ہے کہ یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک قیمتی اور منفرد کتاب ہے۔ اس میں مذکور بعض آراء وتحقیقات سے اختلاف تو کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس میں جہاد کی کوئی نئی تعبیر پیش کرکے نام نہاد دانش وروں کی طرح وقت کے طاغوت کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سے مخالفین اسلام کی پیشانیوں پر بل آئے گا اور ان کومایوسی ہوگی۔ اس کے برعکس داعیان اسلام کو اس سے زبردست حوصلہ ملے گا اور بہترین رہ نمائی حاصل ہوگی اور جہاد کے تعلق سے مسلمانوں کے ذہنوں میں پایا جانے والا ابہام وتردّد دور ہوگا۔ خود فاضل مصنف کے بہ قول:

”مقصد ِ جہاد کی یہ تشریح اسلام کے مزاج سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ اس تشریح میں وہ کم زوریاں نہیں ہیں جو پچھلی دونوں تشریحات میں موجود ہیں ………اس تشریح میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جسے قبول کرنے سے کوئی بھی انصاف پسند انسان انکار کرسکے۔ “(ص86)

مصنف موصوف کی دیگر کتابوں کی طرح اس کتاب میں بھی نئے نئے گوشے اور عجیب عجیب نکتے موجود ہیں، جن سے غور وفکر کے نئے زاویے اور نئی جہتیں سامنے آتی ہیں۔  کچھ اہم نکتے ملاحظہ ہوں :

٭  فتح مکہ ۸ھ نہیں، بلکہ ۹ھ کا واقعہ معلوم ہوتا ہے۔ (ص70)

٭ یہود ونصاری، اگرچہ کہنے کو اہل کتاب تھے، مگر اپنے شرک میں مشرکین سے بھی بدتر تھے۔ (ص.100)بعض آیات میں انہیں ’الکافرون‘ اور’المشرکون‘ کہا گیا ہے۔ (ص102، 103)

٭  اہل کتاب کا ذبیحہ اور ان کی عورتوں سے نکاح، کتاب وسنت کے مطابق، دونوں حرام ہیں۔ (ص104)

٭  رسالت مآب ﷺ کی ساری جنگیں اقدامی تھیں۔ (ص199)

٭  شرعی اعتبار سے اپنے ہی ملک وسلطنت کے خلاف جہاد ناجائز ہے۔ (ص 160)

٭  اسلام نے غلام تو آزاد کیے، مگر کسی کوغلام نہیں بنایا۔ (ص288)

٭  کوئی ملک دارالحرب اس وقت ہوتا ہے جب اس کے مقابل میں کوئی دارالاسلام ہو۔ (ص334)

٭ اگرکوئی مسلمان خاموشی سے مرتد ہوجاتا ہے تو اسلامی نظام اس کی مجبوریوں کوسمجھنے اور ان کودور کرنے کی کوشش توکرے گا، لیکن اسے کوئی سزا نہیں دے گا۔ (ص275)

کتاب کا علمی معیار اورخوب صورت انداز ِ بیان شروع سے آخر تک یکساں قائم ہے۔ تفہیم کی دل کشی، لب ولہجہ کی سنجیدگی، فکروخیال کی وسعت اور مصنف موصوف کے خلوص ودل سوزی نے کتاب کے معنوی حسن وجمال میں چار چاند لگا دیئے ہیں۔ زبان وبیان کی سلاست وشگفتگی اور حسن ورعنائی کا جواب نہیں۔

ابتدا میں عرض کیا گیا تھا کہ یہ کتاب انسانیت کے بارے میں بڑی محبت و  دل سوزی اور رأفت وخیر خواہی کے جذبہ سے لکھی گئی ہے۔ مولانا پر یہ جذبہ اس قدر حاوی نظر آتا ہے کہ اگر کوئی ذراسی بات بھی اس جذبہ کے خلاف محسوس ہوتی ہے تو فوراً اسے رد کردیتے ہیں۔ مولانا سبحانی سے تمام تر تعلق و الفت کے باوجود معذرت کے ساتھ یہ کہنے کو جی چاہتا ہے کہ حدیثوں کے معاملہ میں ان کا انداز غیرمعتدل اور جانب دارانہ ہے۔ جو روایت اپنے موقف کے خلاف ہو اور اس کی تاویل نہ بن سکے، اسے دشمنوں کی گھڑی ہوئی داستان قراردے دینا بے احتیاطی ہے۔

حدیثوں کے ردّوقبول کا معیار یکساں ہونا چاہیے۔ اپنے موقف کے خلاف پڑنے والی روایتیں جن بنیادوں پر ناقابل اعتبار قرار پائیں، انہی بنیادوں پر وہ روایتیں بھی ناقابل اعتبار ہونی چاہئیں جو اپنے موقف کے حق میں ہوں۔ اپنے موقف کی مخالف روایتوں کے باب میں مولانا کا رویہ تشدّد اور موافق حدیثوں کے باب میں تساہل کا ہے، جسے علمی انداز نہیں کہا جاسکتا۔

مولانا نے جن حدیثوں پر نقد کیا ہے، یا جن علماء کی عبارتیں نقل کرکے تعاقب یا رد کیا ہے، ان کا کوئی حوالہ نہیں دیا ہے۔ اس کا یہ فائدہ تو ہے کہ کتابوں کے تقدس اور علماء کی عظمت کے تصور سے آزاد ہوکر قاری کا ذہن ودماغ مصنف کاموقف سمجھنے کے لیے یکسو رہے گا اور ان کے محا کمہ کی روشنی میں خطا وصواب کا فیصلہ کرے گا، لیکن یہ انداز علمی روایت کے خلاف ہے۔ اس سے ان لوگوں کو سخت دقّت پیش آئے گی جو اس کتاب کی مدد سے مزید تحقیق وتدقیق کے خواہش مند ہوں گے۔ اس لیے اس روایت کی پاس داری ہونی چاہیے تھی۔

        مولانا کا ایک وصف یہ ہے کہ وہ اپنی بات پورے جزم کے ساتھ کہتے ہیں اور اسے حرف ِآخر سمجھتے ہیں۔ یہی اسلوب اس کتاب کابھی ہے۔ گو مولانا دلائل کے انبار لگا دیتے ہیں اور ان کی گفتگو بڑی قیمتی اور اپیل کرنے والی ہوتی ہے، لیکن پھر بھی اسے حرف آخرکہنامشکل ہے۔ اس پر نظر ثانی اور گفتگو کی گنجائش رہنی چاہیے۔ مولانا کی اس کتاب میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جن پر اہل علم ضرور گفتگو کریں گے اور گفتگو ہونی بھی چاہیے، تاکہ بحث ومذاکرہ کے بعد جو بات منقح ہوکر سامنے آئے، اسی کو صحیح کہا جا سکے۔

Tags
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button